پولیس راج

(Prof Abdullah Bhatti, Lahore)

 میرے سامنے بیٹھا نوجوان ڈاکو پو لیس کے ہاتھوں ظلم و بربریت کی جو داستان سنا رہا تھا اُ س کا ہر لفظ خنجر کی طرح میرے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا تھا ظلم زدہ جوان آتش فشاں کی طرح پھٹ رہا تھا کہ مجھے کس قصور کی سزا دی گئی انسپکٹر نے میرے اکا ؤنٹ سے ساری رقم نکا ل لی میرے لاکھوں روپے ہضم کر نے کے بعد بھی اُس کی ہوس ختم نہ ہو ئی اب آکر اُس نے پھر مجھے اوردوسرے قیدیوں کو مارنا شروع کر دیا کہ اور پیسے دو اگر تم لوگ پیسے نہیں دو گے تو تمہیں زندہ جلا دوں گا وہ ایک ڈیرے سے دوسرے ڈیرے ہمیں جانوروں کی طرح منتقل کر تا رہا کبھی کسی پرا نی فیکٹری میں لے جاتا جگہوں کی تبدیلی وہ اِس لیے کر رہا تھا کہ کسی کو شک نہ ہو جا ئے دو یا تین دن کے بعد کھا نے کو کچھ دے دیتا وہ ہمیں اتنا ہی کھا نے کو دیتا جس سے ہم زندہ رہ سکتے تھے وہ ہماری سانسوں کے دھا گے کو تو ڑنا نہیں چاہتا تھارات کو کسی کو پکڑ تا اُس کو دور دراز جگہ پر لے جا کر اُس کے گھر والوں سے اُس کی با ت کرا تا فوری فون بند کر تا اور واپس لے آتا اِس طرح وہ اپنی لو کیشن نہیں دینا چاہتا تھا اِس طرح وہ چاروں قیدیوں کو نچوڑ رہا تھا اُس کے ما سڑ پلا ن میں یہی تھا کہ اِن سے پیسہ پیسہ لے کر اِن کو دہشت گر د قرار دے کر پولیس مقا بلے میں مار دوں گا اس طرح ایک تو اِن بیچاروں کی ڈھیر ساری دولت ڈکار لوں گا اور پھر حکومت اورDPOصاحب کی نظر وں میں بھی ہیروبن جا ؤں گا میرے اکا ؤنٹ سے لاکھوں روپے نکالنے کے بعد اب اُس نے یہ ضد کی کہ میں دوبئی سے کروڑوں روپے ادھا ر لے کر اُس کو دوں یا گھر والوں سے کروڑوں روپے منگواؤں میں نے کئی با ر اُس کے پا ؤں پکڑے کہ میرے پاس یہی پیسے تھے جو تم لے چکے ہو خدا کی قسم اب میرے پاس کچھ نہیں بچا اوپر سے 10دن ہو گئے تھے مجھے گھر سے نکلے ہوئے میں ساہیوال سے راولپنڈی کے لیے نکلا تھا جب میں راولپنڈی نہیں پہنچا ہوں گا تو میرے بہن بھا ئی گھر والے تو پا گلوں کی طرح مجھے ڈھونڈ رہے ہو ں گے نہ میرا پتہ او رنہ ہی میری گاڑی کا میرے گھر والے تو روز مرتے ہوں گے روز جیتے ہوں گے مجھے چھوڑ دو میں با ہر جا کر تمہا ری ہر بات پو ری کروں گا پیسوں کا بھی بندوبست کروں گا اِسی دوران ایک رات اُس نے مجھے خوب ما رتے ہو ئے لہو لہان کر دیا اور کہا آج رات میں تمہا ری مہنگی نئی کا ر کو روڈ کے اوپر جلا کر راکھ کردوں گا اور یہ کہوں گا کہ تم دہشت گر د تھے تمہا ری کار میں با رود بھرا ہوا تھا اِس لیے تمہا ری کا ر جل گئی اور جب وہ میری کا ر کو جلا نے کے لیے جا رہا تھا تو میں نے اُس کی بہت منتیں کیں کہ تم میری کار کو جلا دو لیکن میں جو یتیم بچیوں کی شادی کے لیے بہت سارے کپڑے اور دیگر تحائف دوبئی سے لایاہوں جس کو میں دینے راولپنڈی جا رہا تھا یہ مجھے نکالنے دو یا اُن یتیم لڑکیوں کے گھر پہنچا دو تو شیطان انسپکٹر بو لا تمہار ی یہ چیز کا رمیں ہی جل کر راکھ ہو گی اور پھر میری مہنگی کار کو پٹرول چھڑک کر اُس میں با رود رکھ کر شعلوں کے حوالے کر دیا اِس طرح میری کار راکھ کا ڈھیر بن گئی کو ئلہ بن گئی اور کُتے نے اعلان کیا کہ دہشت گردوں نے خود کو با رود سے اُڑا لیا ہے انسپکٹر کی دیدہ دلیری دیکھیں کس طرح وہ اپنا شیطانی کھیل کھیلے جا رہا تھا اِس طرح ہمیں اُس جلاد کی قید میں اٹھا رہ دن ہو گئے ان قیا مت کے دنوں میں جب یہ ہمیں ایک ڈیرے سے دوسرے ڈیرے لے جاتا تھا ان میں سے کسی نے پو لیس کو خبر کر دی DPOصاحب کو اس نے بتا یا ہوا تھا کہ مجرم دہشت گرد ہیں جو آپ کی بھی جان لینا چاہتے ہیں اِس لیے میں اُن کو تھا نے کی بجا ئے کسی اور جگہ رکھتا ہوں انسپکٹر کی دیدہ دلیری تھی کہ اپنے آفیسر کو بھی بے وقوف بنا رہا تھا اور پھر ہمیشہ کی طرح رحیم کریم خدا کو ہم پر ترس آگیا ۔ DPOصاحب کو اس پر شک ہو گیا کہ دال میں کچھ کا لا ضرور ہے انہوں نے سختی سے اِس کو حکم دیا کہ دہشت گرد مجرموں کو فوری طور پر تھا نے منتقل کرے اور تم نے تھا نے سے با ہر نجی جیل میں اِن کو رکھ کر قانون کو تجا وز کیا ہے اور پھر اٹھا رویں دن ہمیں تھانے لا کر بند کر دیا گیا انسپکٹر کو بھی مجرم کے طور پر ہمارے ساتھ بندکر دیا گیا اور پھر اگلے دن DPOصاحب خود جیل میں ہم سے ملنے آئے اُن کی نظروں میں ہم ابھی تک دہشت گرد مجرم تھے انسپکٹر نے ہمیں سختی سے کہا تھا کہ اگر تم لوگوں نے میرے خلا ف ایک لفظ بھی نکالا تو تمہیں زہر دے کر ہلاک کر دیا جائے گا تم نے چُپ رہنا ہے آخر کار DPOصاحب ہما رے پا س آئے ہمیں مجرم سمجھ کر ڈانٹ ڈپٹ کر نکل گئے ہم بے گنا ہ مجرم ابھی تک ملزم ہی تھے پھر ہمیشہ کی طرح رحیم خدا کو رحم آیا اُس کے جوش رحمت کا پیما نہ چھلکا DPOصاحب کا ڈرائیور ہما رے پاس آیا غور سے میری طرف دیکھنے لگا میرے قریب آیا تو میں دھا ڑیں ما رکر رونے لگا کہ میں بے قصور ہوں میری مدد کرو DPOصاحب واپسی کے لیے گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ڈرائیور گیا اور بو لا صاحب جی دال میں کچھ کالا ہے سچ وہ نہیں جو آپ کو بتا یا گیا ہے سچ کچھ اور ہے آپ ایک دفعہ دوبا رہ واپس جائیں اور جا کر خو د قیدیوں سے مل لیں ‘انسپکٹر خطرے کو بھا نپ چکا تھا میرے پا س بیٹھ کر سرگو شیوں میں مجھے کہنے لگا ایک لفظ بھی زبان سے نہ نکالنا ورنہ ساری عمر قید میں ایڑیاں رگڑتے مر جا ؤ گے ‘میں نے تمہارا انتظا م کر دیا ہے DPOصاحب کے واپس جاتے ہیں تم کو رہا کرکے دو بئی بھیج دوں گا وہ مجھ سے باتیں کر ر ہا تھا کہ DPOصاحب آگئے انہوں نے جب اِس کو مجھ سے با تیں کر تے دیکھا تو غصے سے میری طرف دیکھا اور بو لے اوئے تم اِس کے دوست ہو اِس کے ساتھ مل کر جرا ئم کر تے ہو DPOصاحب کا الزام سن کر میرے ضبط کا بند ٹوٹ گیا میں دھا ڑیں ما ر کر رونے لگا کہ میں تو دو بئی سے آیا ہو ں میں مجرم نہیں ہوں DPOصاحب کے حکم سے ہمیں با ہر نکالا گیا اور اُن کے سامنے پیش کر دیا گیا اب DPOصاحب نے شیطان انسپکٹر سے پو چھا بتا ؤ یہ کون ہے اِ سکا جرم کیا ہے انسپکٹر نے میرے خلا ف بو لنے کی کو شش کی لیکن خدا نے اُس کے منہ سے نکلوا دیا سر یہ بے گنا ہ اِ س کا کو ئی جرم نہیں اور پھر میں نے بلک بلک کے روکے اپنے اوپر پچھلے اٹھا رہ دنوں میں ہو نے والے مظالم بتا نے شروع کئے تو DPOصاحب نے اپنا سر پکڑ لیا اٹھے میرے پاس آئے اور ہا تھ جو ڑ کر مجھے کہا یا ر مجھے معا ف کر دو یہ میرے نیچے کون سا ظلم ہو رہا تھا کل روزمحشر میں کیسے جواب دیتا ، DPOصاحب اپنا سر پیٹ رہے تھے کہ یہ اتنا بڑ ا ظلم اور میں بے خبر اور میں پھو ٹ پھو ٹ کر رو رہا تھا اور پھر اگلے دن سینکڑوں شہریوں کے سامنے انسپکٹر کو ننگا کر کے خو ب ما را گیا پرا نے سے پرا نا پا پی پو لیس آفیسر بھی کا نوں کو ہاتھ لگا رہا تھا اِس دیدہ دلیری سے بندے اغوا کر نا اور ظلم کر نا ہم نے کبھی نہیں دیکھا ۔ محترم قارئین آپ اکثر سوا ل کر تے ہیں کہ یہ سچا واقعہ ہے تو ہا ں یہ سچا واقعہ ہے جو گجرات شہر میں چھ ماہ پہلے پیش آیا کالم کی تنگ دامنی کی وجہ سے بہت ساری تفصیلا ت نہیں لکھ سکا پھر یہ جوان دوبئی چلا گیا بقول دو بئی جانے کے بعد اُس خو ف سے آزاد ہوا لو گ اپنے وطن آکر آزادی محسوس کر تے ہیں میں نے دوبئی جا کر محسوس کیا کہ پو لیس کی غنڈہ گر دی سے آزاد ہوا اب 6ما ہ بعد یہ جوان میرے پاس آیا آج تک اِس کی کو ئلہ بنی گا ڑی یامتبا دل اِس کو نہیں دیا گیا اِس کے لاکھوں رو پے جو اِس کے اکا وئنٹ سے نکالے گئے نہیں دئیے گئے سپرداری کا ڈرامہ جاری ہے انسپکٹر کے گھروالے اور اُس کے پو لیس والے دوست اِس جوان کو دھمکی آمیز فون کر تے ہیں جیل میں شیطان انسپکٹر نے کسی کو کہا ہے کہ یہ میرے حق میں بیان نہیں دے رہا اس کو قتل کر دو یہ بیچارہ چھپتا چھپاتا میرے پاس آیا کہ کوئی دعا بتا ئیں میرے پیسے کار مجھے واپس مل جائے او رمیں پو لیس کے اعلی افسران عدالتوں کے ججوں کی پھرتیاں وزیر اعلی صاحب وزیر اعظم صاحب کی پھرتیاں دیکھ رہا ہوں جب یہ تمام لوگ منوں مٹی تلے ہوں گے کیڑے مکوڑے اِن کے نازک جسموں میں ہزاروں سوراخ کریں گے اِن کے پیٹ پھٹ جائیں گے سر پھٹ جا ئیں گے کو ئی اِن کو بچانے والا نہ ہو گا روز محشر ایسے ہی صاحب اقتدار ہو نگے جن کو کیڑے مکو ڑے بنا کر انسانوں کے قدموں میں کچلے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Abdullah Bhatti

Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 576 Articles with 295530 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jul, 2017 Views: 382

Comments

آپ کی رائے