اسلام میں نکاح کی اہمیت اور مقصد

(Sultan Mahmood Shaheen, )

حضور نبیء اکرم حضرت محمد ﷺ کی بعثت سے قبل صدیوں سے عرب معاشرے کی حالت کو تاریخ میں دور جہالت سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں ہر بد اخلاقی ، لوٹ مار، ظلم و جور، بے ایمانی، قتل و غارتگری، بے انصافی اور انسانوں کی خرید و فروخت رائج تھی بے شمار غیر انسانی اور غیر فطری برائیوں نے معاشرے کا حلیہ بگاڑ کر رکھدیا تھا۔لڑکیوں کو لونڈیاں بنا کر ان کی خریدو فروخت کرنا اور بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کرنے کی رسوم رواج پا چکی تھیں۔ اسلامی شریعت نے نہ صرف معاشرے سے تمام برائیوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا بلکہ عورت کو عزت کا ایسا بلندمقام عطأ کیا ہے جو انسانی تاریخ میں دنیا کا کوئی دوسرا معاشرہ اور مذہب نہیں دے سکا۔ لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم نے اﷲ تعالیٰ کے احکامات اور اس کے رسولﷺ کے طریقوں سے روگردانی کرکے عورت کو دور جہالت سے بھی زیادہ بدترین سلوک کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ آج کے مہذب اور ترقی یافتہ دور میں بھی زمین کے اکثر حصوں اور بالخصوص پاکستان کے کچھ علاقوں میں بدقسمتی سے جنگل کا قانون رائج ہے اور ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی اپنی انا، خود غرضی، لالچ ، ذات برادری، زرپرستی، ہوس، جھوٹی شان و شوکت اور سب سے بڑھ کرجہالت کی بنا پر اپنی بچیوں کو قرآن سے شادی، ونی، کاروکاری وغیرہ جیسی قبیح رسوم کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ یہ اندھا اور بے حس معاشرہ بھی اکثر اوقات مظلوم کی مدد کرنے کی بجائے ظالم کی پشت پناہی کرتا ہے۔ لڑکیوں کو جوان ہونے کے بعد اپنی مرضی سے اسلامی زندگی اور شریعت کے مطابق شریک حیات کے چناؤ کا کوئی حق نہیں دیا جاتا۔ ان کے حصے کی جائیداد پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ مردُوں کو ہر طرح کی آزادی اور تحفظ حاصل ہے جبکہ بچیاں جانوروں اور قیدیوں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں ملک کا قانون اور ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہم خود کوبہت بڑے مسلمان اور تہذیب یافتہ کہلانے کے باوجود معاشرے سے بے حیائی ، بے راہ روی اور زنا بالجبر جیسی خباثتوں کا خاتمہ تو کر نہیں سکے جس کی وجہ سے ان برائیوں کو دن بدن فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ اپنی انااور خود غرضی کے زعم میں انسان کی فطری شہوانی خواہشات کی جائز طریقوں سے تکمیل کے راستے میں رکاوٹوں کے پہاڑ کھڑے کر دیے جاتے ہیں ۔ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی جوانی کی دہلیز پار کرنے کے بعد اپنے حقیقی جائز ازدواجی تعلقات کی تکمیل اور حقوق کے حصول کے لئے شریک حیات کا چناؤ اپنی مرضی سے کرنا چاہتا ہے تو اسے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے ۔ اور اپنی ظاہری نام نمود کی خاطر اسے اپنے حق سے دستبردار کرایا جاتا ہے یا پھر قتل کر دیا جاتا ہے۔

آخرانسان اپنے بچوں اور بچیوں کے ساتھ یہ ظلم کب تک روا رکھے گا۔ کب تک اپنے من گھڑت غیر شرعی فیصلوں کو شرعی قرار دے کر دوسروں پر زبردستی مسلط کرتا رہے گا۔ آخر اسے ایک دن اﷲ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے اورپھر وہ اس سے ہر چیز کا حساب لے گا۔ اُس وقت ظالم کو کہیں کوئی جائے پناہ نہ ملے گی۔

اس وقت انسان اپنے ذاتی اعمال اوراخلاقیات کی طرف تو دھیان نہیں دیتا اور معاشرے میں اپنے بد کرتوتوں کی وجہ سے دوسروں کی زندگی اجیرن کرتارہتا ہے اس وقت دنیا میں اکثر بد امنی ، دہشت گردی ، اخلاقی بے راہ روی اور صنف نازک پر ظلم و ستم جنسی اسلامی تعلیمات سے دوری کاہی نتیجہ ہے ۔ آج کے اس مہذب اسلامی معاشرے کی حالت یہ ہے کہ لڑکے اور لڑکی کو جوان ہونے کے باوجود جنسی اور ازدواجی علوم سے محروم رکھا جاتاہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ اکثر جگہوں پر بچیوں کی عام تعلیم اور انتہائی ضرورت کے وقت بھی گھرسے باہر نکلنے پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ جس سے ہم اور ہمارے بچے ساری زندگی اپنے اصل حقوق و فرائض سے نابلد رہتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنسی اور ازدواجی موضوع پر کچھ لکھنا سخت جرم اور اس پر بات کرنا یا سننا اگر غیر انسانی فعل ہے ۔ تو پھر آخر یہ جائز جنسی ضروریات کیا ہیں ۔ کیا یہ انسانی حق نہیں کہ وہ ازدواجی رشتہ کے ذریعہ جنسی تسکین حاصل کرے۔ ضرورت کے درجے میں اسلامی طریقے پر جنسی تسکین ( سیکس ) حاصل کرنا جائز بلکہ نہایت ضروری ہے ۔ اوراسلام اسے دوسرے مذاہب کی طرح نیکی کا عمل قرار دیتا ہے ۔ گناہ یا جانوروں کا عمل قرار نہیں دیتا۔ شہوانی ضروریات کا باعزت طور پر پورا کرنا اور خواہش جماع کی تکمیل انسانی نسل کو قائم و دائم رکھتی ہے ۔ اور اس سے انسان کی زندگی میں ایک وقار اور اعتدال پیدا ہوتا ہے ۔ دور اندیش ، حلیم، بردبار اور کھلے ذہن کا انسان جنسی علوم کے حصول کوفطری عمل اور ضروری سمجھتا ہے ۔ اسلام بھی جنسی اور ازدواجی تعلقات کے علم کو لازمی قرار دیتا ہے ۔اسلام اس بات کا حکم دیتا ہے کہ نکاح کے ذریعہ اپنی شہوانی خواہشات کو پورا کیا جائے اور مجامعت سے جنسی تسکین حاصل کی جائے جو کہ نکاح یا عقد کا ایک حقیقی مقصد ہے ۔ عقد کے ذریعہ اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل سے انسان کی نسل کو نا صرف بقأ ملتی ہے بلکہ ایک اعلیٰ خاندان کی پرورش کے ذریعہ ایک خوبصورت معاشرہ بھی وجود میں آتا ہے ۔

اسلام کے اندر نکاح یا عقد کی عمر وہی ہے جب کوئی بچپن سے جوانی میں داخل ہو۔ جوانی میں داخل ہونے کے بعد شرعی ، قانونی اور اخلاقی طور پر نکاح جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے ۔اس لیے کسی صورت بھی اس موضوع کو غیر اہم اور فضول سمجھتے ہوئے اس سے صرف نظر نہ کیا جائے بلکہ اس کیلئے اپنے بچوں کی بہتر انداز میں تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جائے اور بالغ ہونے پر ان کے عقد کا بندوبست کیا جائے۔ تاکہ وہ ایک اہم اور ضروری خواہش کی تکمیل کے ساتھ اعلیٰ پیمانے پر معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔اس میں مذکرّو مؤنث کا کوئی امتیاز نہ برتا جائے ۔حکمت کا بھی یہ اصول ہے کہ جنسی خواہشات کی عدم تکمیل کی صورت میں انسان ایک خاص عمر کو پہنچ کر بہت سے موذی امراض کا شکار ہو جاتا ہے اور اکثر مرد و خواتین نفسیاتی مریض بن کر معاشرے کے نقصان کا سبب بنتے ہیں۔لڑکیوں کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے خاص طور پرحکم دیا ہے کہ ان کے جوڑ کا رشتہ ملتے ہی فوراـنکاح کر دیا جائے ۔ ورنہ دوسرا موقع نہ ملنے کی صورت میں اس کا گناہ ماں باپ کے سر پر رہے گا۔

مرد اور عورت کے باہمی جنسی اختلاط اور ایک دوسرے سے اپنی شہوانی خواہش کی تکمیل کے لئے نکاح کے ذریعہ ملاپ ہوتا ہے۔ یہ عمومی لغوی معنی کے اعتبار سے ہے۔ لیکن چونکہ تعلیمات اسلامی میں نکاح کا لفظ خصوصی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہے عورت اور مرد کا چند شرائط کے ساتھ آپس میں شادی کا معاہدہ کرنا۔ نکاح کے بارے میں قرآن حکیم میں متعدد سورتوں میں بیان کیا گیاہے اور کئی جگہوں پر لفظ نکاح کی بجائے مرد اور عورت کے ازدواجی بندھن کے لئے شادی کا مخصوص طریقہ بتایا گیا ہے۔ جس کو علماء اور دانشوروں نے نکاح کے لفظ سے معنون کیا ہے ۔ اسلام میں والدین کے ادب و احترام اور اخلاق کے لحاظ سے اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ شریک حیات کے چناؤ کے لئے اُن کی مشاورت کو شامل رکھا جائے لیکن اپنی جائز نفسانی خواہشات کی تکمیل اور معاشرے کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لئے شریک حیات کے چناؤ اور اس کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے دونوں میاں بیوی کو پسند و ناپسند کا اختیار دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں والدین کی مرضی زبردستی مسلط نہیں کی جاسکتی۔شریک حیات کے چناؤ میں بعض اہم باتوں کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ شادی کے لئے رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا عورت کا انتخاب چار باتوں میں سے کسی ایک کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ مال و دولت، حسن و صورت، حسب و نسب یا ایمان کی پختگی ۔ اور اگر تم ترقی کرنا اور بہتر زندگی چاہتے ہو تو اس لڑکی کا انتخاب کرو جس کا ایمان مضبوط ہو۔ یوں تو اچھی شخصیت ، ذہانت، تعلیم اور حسن و خوبصورتی ایسی خصوصیات ہیں جو ہر ایک کے لئے قابل ترجیح ہوسکتی ہیں۔ لیکن تمام تر خصوصیات کے لحاظ سے کوئی انسان بھی مکمل نہیں ہے اس لئے رسول اکرم ﷺ نے شریک حیات کے چناؤ کے لئے پختہ ایمان کی جو خصوصیت بتائی ہے ۔ والدین اور خود لڑکا و لڑکی اسے پیش نظر رکھیں گے تو ان کا انتخاب مستقبل کے نتائج کے اعتبار سے درست ثابت ہوگا۔ جہاں تک والدین کے کردار کا تعلق ہے تو جوان ہونے تک اولاد کی کفالت کرنااور انہیں سیکس کے فوائد و نقصانات کے بارے میں مکمل اسلامی تعلیم دینا والدین کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جوان ہونے کے بعد بیٹا اور بیٹی اپنے اچھے اور برے کے خود ذمہ دار ہوجاتے ہیں اس کے باوجود اگر والدین اپنی اولاد کے ساتھ معاونت اور مدد کرتے ہیں تو یہ ان کی مہربانی اور اولاد کے ساتھ احسان ہے لیکن اسلامی نقطہ نظر سے اس بنا پر وہ اولاد کو اپنا مشورہ تو دے سکتے ہیں ان پر اپنی مرضی مسّلط نہیں کر سکتے ۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری عقلوں پر پڑے ہوئے جہالت کے پردے ہٹائے اور ہمیں صیحح اسلام کی روشنی سے سرفراز فرمائے۔ آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sultan Mahmood Shaheen

Read More Articles by Sultan Mahmood Shaheen: 10 Articles with 4745 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jul, 2017 Views: 1007

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ