معاشرے میں اخلاقی بگاڑ کے اسباب پر ایک طائرانہ نظر

(Ata Ur Rehman Noori, India)
دنیا پرستی،منفی سوچ، ظاہر پرستی اوراجتماعی نصب العین کی غیر موجودگی کے سبب لوگ
قومی و ملی درد اور اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی اوراپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں

اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہوچکا ہے۔ امانت، دیانت، صدق، عدل ،ایفاے عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار کمزورپڑتی جارہی ہیں۔ کرپشن اور بدعنوانی ناسور کی طرح معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے۔ ظلم و ناانصافی کا دور دورہ ہے۔لوگ قومی و ملی درد اور اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی اوراپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں،یہ اور ان جیسے دیگر منفی رویے ہمارے مزاج میں داخل ہوچکے ہیں۔ایسے میں ضروری ہے کہ اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لے کر ان عناصر کی نشان دہی کی جائے جو ہمارے اجتماعی بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔

(ا)دنیا پرستی :اخلاقی بگاڑ کا بنیادی سبب دنیا پرستی کی وہ لہر ہے جس میں لوگ وقتی مفاد کے آگے ہر چیز کو ہیچ سمجھتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے مال چاہیے۔چنانچہ مال کمانا اور اس سے دنیا حاصل کرنا اب ہر شخص کا نصب العین بن چکاہے، مگر یہ مال آسانی سے نہیں ملتا، خاص طور پر اس شخص کو جو حلال و حرام، جائز و ناجائز ، عدل و ظلم ا ور خیر و شر کا امتیاز نہیں کرتا۔چنانچہ ایک انسان جس کا سب سے بڑا مسئلہ مال و دنیا بن جائے،وہ اپنے مفادات کی خاطر اخلاقی اقدار سے چشم پوشی شروع کردیتا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کا اخلاقی وجود کمزور ہوتا چلاجاتاہے اور ایک روزدم گھٹ کر مرجاتا ہے۔رشوت و بدعنوانی کا باعث یہی ہے، ظلم و ناانصافی اسی کی پیداوار ہے، خیانت و بددیانتی یہیں سے پھوٹتی ہے، ملاوٹ و جعل سازی اسی طرح جنم لیتی ہے،جھوٹ اور دروغ گوئی اسی کا نتیجہ ہے۔غرض دنیا پرستی اخلاقی زندگی کی عمارت کے ہر ستون کو دیمک کی طرح کھاجاتی ہے۔

(۲) منفی سوچ:اخلاقی انحطاط کی دوسری وجہ منفی سوچ کا فروغ ہے۔ہر کوئی یہ سوچتا ہے کہ اہل ثروت اور اربابِ سیاست ہی تمام مسائل کی جڑ ہیں۔ہر فتنہ و فساد انھی سے جنم لیتا ہے۔ ان کے خیال میں ان لوگوں سے ملک کو نجات دلادی جائے تو ہمارے سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔مسائل کی اس مقامی جڑ کے علاوہ انھیں ملک وملت کے ہر مسئلے کے پیچھے یہود ،نصاریٰ، ہنود اور امریکہ و روس کی سازشیں بھی نظر آتی ہیں۔ ان کے نزدیک ہمارے ساتھ دنیا بھر میں جو کچھ ہورہا ہے ، اس کا واحدسبب یہی ہے کہ یہ ’’کفار‘‘ ہمارے دشمن ہیں اور ہمیں ہر میدان میں نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔چنانچہ کرنے کا اگر کوئی کام ہے تو یہی ہے کہ ان دشمنوں کو ملیا میٹ کردیا جائے۔قطع نظر اس کے کہ اشرافیہ، مقتدر طبقات اور بیرونی طاقتیں کیا کررہی ہیں اور ان کے منفی طرز عمل سے نمٹنے کا درست طریقہ کیا ہے؟ جب یہ روش اختیار کی گئی تو عوام کی تربیت یہ ہوئی کہ ہر خرابی کی جڑ صرف دوسروں میں ہے۔اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ دوسرے ٹھیک ہوجائیں۔جب ایسا ہوگا توسب ٹھیک ہوجائے گا۔ اس سوچ کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ اپنی ذمہ داریاں فراموش کرنے لگے۔ ان کی توجہ اپنے دائرے میں عائد شدہ ذمہ داریوں سے زیادہ دوسروں کے اس دائرے پر ہوگئی جس پران کا کچھ اختیار نہیں۔ نتیجتاً لوگوں کے اپنے دائرۂ اختیار میں شر بڑھتا گیا مگر اسے روکنے کے بجائے ان کی توجہ صرف دوسروں کی طرف مبذو ل رہی۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک عام آدمی نہ ملک کے مالداروں اور اہلِ سیاست کی اصلاح کرسکتا ہے اور نہ بیرونی طاقتوں کے خلاف لڑکر حالات بدل سکتا ہے۔بے بسی کے اس احساس کے تحت اس کے ذہن میں مایوسی کاپیدا ہونا لازمی تھااور پھر منفی سوچ سے نہ بیرونی طاقتوں کی سازشیں ختم ہوئیں اورنہ ہی اشرافیہ اور مقتدر طبقات کی اصلاح ہوئی۔ صرف یہ ہوا کہ عوام الناس اپنے اوپر عائد اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کوتاہی کرنے لگے۔ دوسروں کا ہر عیب اپنی غلطی کا ایک عذر بنتا چلا گیا۔سسٹم کی وہ خرابی جو پہلے بالادست طبقات تک محدود تھی اب گھر گھر پھیل گئی۔ اب ہر شخص کا ذہن کچھ اس طرح بن گیا ہے کہ میری خواہش ہے کہ ملک سے رشوت و بدعنوانی ختم ہوجائے۔ تاہم جب تک ایسا نہیں ہوتا میرے لیے رشوت لینا جائز ہے۔ سب لوگوں کو ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرنی چاہیے، مگر جب تک ایسانہیں ہوتا مجھے قانون کی خلاف ورزی کا حق ہے۔ تمام شہریوں کو اجتماعی اخلاقیات کی پابندی کرنی چاہیے ، مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا تو میں اپنے مفاد کے لیے کوئی بھی حد توڑ سکتا ہوں۔لوگوں نے دیکھا کہ حکمران اور مقتدر طبقات کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں تو انھوں نے بھی جہاں موقع ملا بہتی گنگا سے ہاتھ دھونابلکہ غسل کرنا ضروری جانا۔ انھیں کہیں انصاف نہ ملا تو انھوں نے دوسروں پرظلم کرنے کو اپنے لیے جائز قرار دے دیا۔اب یہی سوچ کر ایک کلرک اور کانسٹیبل رشوت لیتا ہے کہ اسے تنخواہ کم مل رہی ہے۔یہی سوچ کر ایک دکان دار ملاوٹ کرتا اور کم تولتا ہے کہ اس کے بغیر گزارا نہیں ہوتا۔ اسی فکر کے پیش نظر ایک غریب دوسرے غریب کا حق اسی طرح مارتا ہے جس طرح کوئی طاقت ور کسی کم زورکے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔لوگوں کا حال یہ ہوگیا ہے کہ امریکہ ، برطانیہ اور اسرائیل کے ظلم کا رونا روتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے ہم قوم و ہم مذہب لوگوں کے حقوق پامال کرتے جاتے ہیں۔ تیز رفتار گاڑی چلاکر لوگوں کو مار ڈالنے والے ڈرائیور ، کھلے عام رشوت لینے والا ٹریفک کا سپاہی، بدعنوان سرکاری اہلکار، بددیانت تاجر اور ان جیسے دیگر جیتے جاگتے کردار امریکہ و اسرائیل کے بدترین ناقد بھی ہوتے ہیں اور منفی فکر کے سبب یہ سوچتے ہیں کہ اس حمام میں جہاں سب ننگے ہوچکے ہیں تو ہمارے لیے بھی اخلاقیات کا لباس اتارے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

(۳) ظاہر پرستی: اخلاقی اقدار کا شعور ہر انسان اپنے ساتھ ماں کے پیٹ سے لے کر آتا ہے۔دنیا میں آنے والا ہر انسان ، مدرسۂ فطرت سے اخلاقیات کے میدان میں فارغ التحصیل ہوکر آتاہے مگرانسان اپنی بعض کمزوریوں کے باعث انحراف کا شکار ہوتے رہے ہیں۔انسانوں میں پیدا ہونے والے اس بگاڑ کو دور کرنے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے انبیا اور رسول دنیا میں بھیجے ہیں جو لوگوں کوواپس فطرت کے راستے کی طرف بلاتے ہیں۔مگر افسوس ! لوگ داڑھی ٹوپی، نمازروزے اور حج و عمرے کو محض رسوم کے طور پر اختیار کرتے اور اس کے بعد اپنی دانست میں اخلاقی دنیا کی ہر پستی میں اترنے کا جواز قائم کر لیتے ہیں۔ اسی صورت حال کا نتیجہ ہے کہ معاشرے میں ایک نیک مسلمان کی حیثیت سے معروف شخص بھی آج اسی اخلاقی پستی کا شکار ہے جس کا گلہ ایک دنیا دار شخص سے کیا جاسکتا ہے۔

(۴)اجتماعی نصب العین کی غیر موجودگی:اخلاقی انحطاط کا چوتھا سبب قومی زندگی میں کسی اجتماعی نصب العین کی عدم موجودگی ہے۔اخلاقی زندگی اصلاً قربانی کی زندگی ہے۔ انسان عام حالات میں خود پرستانہ اور ذاتی مفادات پر مبنی زندگی گزارتے ہیں۔قربانی کی سب سے نمایاں مثال ایک خاندان اور بچوں کے لیے ماں اور باپ کی قربانیاں ہیں۔یہ دونوں اگر اپنے بہت سے حقوق سے دست بردار ہوکر اپنا مال ، وقت اور محبت بچوں کو نہ دیں اور ان کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کریں تو کبھی کوئی خاندان وجود میں نہیں آسکتا۔ٹھیک یہی معاملہ ایک معاشرے کا ہوتا ہے۔ایک مضبوط قوم اور مستحکم معاشرہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب افراد کسی دباؤ کے بغیر خود اپنے اوپر کچھ پابندیاں عائد کرلیں۔خاندان کے معاملے میں تو یہ چیز اس لیے باآسانی حاصل ہوجاتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کی جبلت میں اولاد کی بے پناہ محبت ڈال رکھی ہے ، مگر قوم کے معاملے میں لوگ ایسا صرف اس وقت کرتے ہیں جب ان کے سامنے اپنی ذات سے بلند ترکوئی اجتماعی مقصد اور نصب العین ہوتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 401341 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
26 Jul, 2017 Views: 731

Comments

آپ کی رائے