سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

(Zain Siddiqui, )

سپریم کورٹ آف پاکستان کے5 رکنی بینچ نے وزیر اعظم میں محمد نواز شریف کو تا حیات نااہل قراد دے دیا اور کہا ہے کہ نوازشریف صادق وامین نہیں رہے ، الیکشن کمیشن کو فوری نوٹی فکیشن جاری کر نے کا حکم دیا ہے ،اقامہ ان کی نا اہلی کی وجہ بنا جبکہ تمام ججز نے نااہلی کیلئے الگ الگ ریمارکس دیئے ہیں ،ساتھ ہی نوازشریف اور ان کے بچوں حسن نواز ،حسین نواز ،اسحاق ڈار،مریم اور کیپٹن صفدر کیخلاف نیب میں ریفرنس بھجنے اور ان پر مقدمات چلانے کا بھی حکم دیا ہے،پاناما کیس سے متعلق تحقیقات کے لیے 20 اپریل کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے دو ماہ کی تحقیقات کے بعد 10 جولائی کو اپنی حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی تھی، سپریم کورٹ کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد پانچ دن تک پاناما کیس کی سماعت کر کے 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔3 مئی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے تین رکنی خصوصی بینچ تشکیل دیا جو جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا،جبکہ دیگر دو فاضل ججز ،مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اپنے اپنے اختلافی نوٹ کے ذریعے وزیر اعظم نواز شریف کو عوامی عہدے کیلئے پہلے ہی نا اہل قرار دینے کی رائے رائے دے چکے تھے ،فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے نوازشریف اور ان کے خاندان پر ماضی میں بھی جو ریفرنسز تھے ان کیلئے اگر جے آئی ٹی کو حاصل مواد سے کو ئی مدد مل سکتی ہے تو لی جائے ۔

نوازشریف کی بطور وزیر اعظم نااہلی سے کابینہ تحلیل ہو گئی ۔نوازشریف اسمبلی رکنیت سے نااہلی کے بعد نوازشریف پارٹی صدر بھی نہیں رہ سکیں گے،پولیٹیکل پارٹیز آرڈر2002کے تحت اسمبلی رکنیت سے نااہل شخص پارٹی عہدہ بھی نہیں رکھ سکتا،صورتحال سے ن لیگ بحرانی کیفیت کا شکار ہوہے ،ن لیگ کا کہنا ہے کہ اس کے عدالتی فیصلے پر فوری عمل کیا اور اسی لیے وزیر اعظم اپنے عہدے سے سبکدوزش ہو گئے ہیں ،تحریک انصاف اورجماعت اسلامی پانا مالیکس کیس میں فریق تھے، لہٰذا انہوں نے نوازشریف کی اہلی کو سراہا ہے، تحریک انصاف کے کارکنان نے بھنگڑے ڈالے اور مٹھائیاں بھی تقسیم کی ہیں ۔شیخ رشید بھی شوشیاں منارہے ہیں ،سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کی تاریخ کا ایک بڑ ا فیصلہ اور اہم ترین فیصلہ ثابت ہو ا ہے ،اور اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ قانون سے کو ئی بالاتر نہیں ،قوم کیلئے یہ فیصلہ بہت تلخ ہے لیکن اسے یہ تلخ فیصلہ بھی منظور ہے ۔

مسلم لیگ ن وزیر اعظم کی نااہلی اور کابینہ تحلیل ہونے کے بعد اب اپنے نئے پارٹی صدرکا انتخاب کرے گی ،پاکستان کے قیام کو70سال ہوگئے تاہم اس مدت میں کوئی بھی وزیراعظم پانچ سالہ مدت پوری نہیں کرسکا۔ 1947ء کے بعد سے پاکستان میں سیاسی صورتحال نشیب وفراز سے دوچار رہی اور 4منتخب حکومتوں کو فوجی آمروں نے نکال باہرکیا۔ایک وزیراعظم کو قتل تو دوسرے کو عدلیہ کے ذریعے پھانسی ہوئی جبکہ کئی ایک وزرائے اعظم کو صدور نے گھر بھجوایا اور ایک کو سپریم کورٹ نے برطرف کیا۔ملک میں 70 سال سے جاری سیاسی صورتحال سے صرف ملک اور عوام کو نقصان پہنچا ہے لیکن کرپشن اوربد عنوانی کی بیل قیام پاکستان کے بعد سے ہی پھل پھول رہی ہے ۔

اب کس کا نمبر ہے یہ سب کو علم ہے، خوشیاں منانے والے اپنی خیرمنائیں ، عمران خان پر بھی نااہلی کیس میں تلوار لٹک رہی ہے ،زدراری صاحب پر بھی بڑے الزامات ہیں ،پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں کرپشن کے بہت سے کیسز سپریم کورٹ میں تھے ،این آرا وکے ذریعے سیاسی جماعتوں کے گناہ معاف کیے گئے ،جہانگیر ترین کی آف شور کمپنیوں سے متعلق کیس بھی عدالت عظمیٰ میں ہے ۔ان سب کا حساب ہو نا چاہیے ،سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا تھا کہ ملک میں کو ئی صادق وامین نہیں ہے ،یہ بات درست ہے تو ہر اس فرد کی صداقت اور امانت قوم کے سامنے آنی چاہیے جو عوامی نما ئندہ ہے ،کس کے بیرون ملک کتنے کاروبار ہیں یہ بھی معلوم ہو نا چاہئے۔

قوم کی دولت ملک میں آنی چاہیے،ارکان کی اسمبلی کے بیرون ملک کارروبار اور اقاموں کا بھی پتا چلنا چاہیے ،ان کی جائیداوں کی بھی تحقیقات ہو نی چاہیے، عدالتی احکامات پر نواشریف اوران کے خاندان کے خلاف نیب میں ریفرنس جائے گا ،مقدمات بھی چلیں گے لیکن اس کے میں اگر فیئر طریقے سے کارروائی ہوئی تو یہ آئندہ کیلئے بھی مثال ہوگی ،لیکن یہ مثال صرف شریف خاندان تک محدود نہیں رہنی چاہیے ،ان سیاستدانوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے ،جنہوں نے قومی دولت کو بے دردی سے لو ٹی اور قوم کو مسائل بدامنی،مہنگا ئی ،بے روزگاری اور کرپشن کے سوا کچھ نہیں دیا ،ایک کلرک کا احتساب ہونا چاہیے ایک پولیس افسرکا بھی ، قوم تب سمجھے گی کہ اس کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے ۔

صدر مملکت ممنون حسین قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے اور اسمبلی نئے قائد ایوان کا انتخاب کرے گی ،نیا وزیر اعظم نئی کابینہ تشکیل دے گا یوں حکو متی ٹرین ایک بار پھر پٹڑی پر آئے گی اور یہ اپنی مدت پوری کرے گی ،ان تمام مراحل سے قطع نظر احتساب کا ایسا موثر نظام ہو نا چاہیے کہ کوئی کرپٹ اور بد کردار فرد اسمبلی تک نہ پہنچ سکے اور قومی دولت پر بھی نقب نہ لگا سکے۔

ملک میں 70سال سے سیاست میں بلی چوہے اور کرپشن کا کھیل جاری ہے اسے ختم ہونا چاہیے ،سیاستدان ملک سے مخلص ہو ں اور اس کی ایک ایک پائی ملک کے ہر گلی کوچے پر ایمانداری سے خرچ کریں تو یہ ملک جنت نظیر بن جائے ،اسکی دنیا میں کہیں مثال نہ ملے مگر اس کیلئے سیاست میں موجود گند صاف کرنا ہو گا اورعوام کو ووٹ دیتے وقت دیانتدار اور ایماندار فرد کا انتخاب کرنا ہوگا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zain Siddiqui

Read More Articles by Zain Siddiqui: 27 Articles with 9943 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2017 Views: 364

Comments

آپ کی رائے