شادی خانہ آبادی یا خانہ بربادی

(Abdul Rehman Jalalpuri, )

کہا جاتا ہے کہ شادی وہ لڈو ہے جس نے کھایا وہ بھی پچھتائے اور جس نے نہ کھایا وہ بھی پچھتائے۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک ہر عمر میں شادی کو انجوائے کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ بچپن میں جب دوسروں کی شادی کو بچے دیکھتے ہیں تو وہ گڑیا کی شادی کرکے انجوائے کرتے ہیں اور کبھی بچپن میں کھیل کود میں شادی کرکے دل کو بہلاتے ہیں۔ لڑکپن میں بڑے بہن بھائی اور کزن کی شادی کو خوب انجوائے کرتے ہیں اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنی شادی کے خواب دیکھتے ہیں اور ہزاروں خواب سجاتے ہیں۔ شادی ہوجائے تو پھر گھر کی ضروریات میں اتنا مگن ہوتے ہیں کہ معاشرے میں کیا ہورہا ہے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے شریک حیات کا خیال رکھتے ہیں اور بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں بچے جوان ہوتے ہیں تو ان کی شادی کی فکر ستانے لگتی ہے۔ بڑھاپے میں پوتے ، پوتیاں اور نواسے نواسیاں ان سے دل بہلاتے ہیں اور ان کا خوشگوار گھر آباد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

میرے ایک عزیز از جان دوست عاقب (فرضی نام) سے جب دور طالب علمی میں ملاقات ہوئی تو پڑھائی کی فکر میں بہت مگن رہتے ہر وقت پڑھائی اور انتظامی امور کو سیکھنے میں مصروف نظر آتے پڑھائی پایہ تکمیل تک پہنچے تو شادی کی فکر لگ گئی۔ دور طالب علمی میں جب کوئی مناسب رشتہ نظر آتا تو اس لیے نہ کردیتے کہ پڑھائی میں خلل پیدا نہ ہو جب پڑھائی مکمل ہوئی تو مناسب رشتہ نظر نہ آئے گھر والوں کی بھی کوئی دلچسپی نظر نہ آئی کہ وہ اس جواں سالہ محنتی لڑکے کی شادی کریں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس نے اپنے آبائی گاؤں کو خیر باد کہہ کر لاہور کو اپنے مسکن بنا لیا۔ جب بھی ملاقات ہوتی تو اسی عنوان پر بات ہوتی کہ کوئی مناسب رشتہ نظر نہیں آرہا ہم مذاق میں اسے کہتے کہ جب تمہاری شادی ہوگی تو ہمیں آنکھ میں ڈالنے کو نہیں ملو گے ۔ جواباً کہتا دوست ہی تو زندگی ہوتے ہیں ان کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے۔ شادی کے بعد بھی ایسے ہی ملوں گا جیسے ابھی گھر میں کوئی انتظار کرنے والا نہیں۔ اس کے مطمئن کرنے والے انداز کو دیکھ کر ہم کہتے مان لیتے ہیں لیکن یہ بات ماننے والی نہیں۔

اﷲ اﷲ کرکے فروری 2017ء میں ہمارا دوست ہماری صف سے نکل کر شادی شدہ احباب کی صف میں شامل ہوگیا۔ ابتدائی چند ہفتے تک حسب معمول فون پہ لمبی لمبی باتیں اور ہر موضوع کو زیر بحث لگایا جاتا آہستہ آہستہ فون کا استعمال کم ہونے لگا ہر وقت فون پر مصروف رہنے والا، دوستوں کو اپنی ذات سے زیادہ وقت دینے والا گھر کے معمولات میں ایسا مگن ہوا کہ اسے دنیا ومافیہا کی کوئی فکر نہیں رہی۔ سیاست کو اپنا حقیقی موضوع سمجھنے والے سے جب چند دن پہلے ملاقات ہوئی تو اسے یہ بھی خبر نہ تھی کہ نواز شریف وزیر اعظم نہ رہے۔ لیڈر بننے کے خواب دیکھنے والا کسی جماعت میں بطور کارکن بھی نظر نہیں آتا۔ تب وہ مقولہ سچ ثابت ہوا کہ کوئی بھی دوست تب تک دوست ہے جب تک اس کی شادی نہیں ہوجاتی۔

معزز قارئین جس دور سے ہم آج گزر رہے ہیں اس دور کا اگر دو دہائی گذشتہ دور سے موازنہ کیا جائے تو بہت سی تبدیلیاں نظر آتی ہیں ان میں ایک تبدیلی شادی کا حسین بندھن بھی ہے۔ ہمارے بچپن میں لوّ میرج کو معیوب سمجھا جاتا تھا لڑکا لڑکی گھر والوں کی مرضی سے ہی شادی کرتے اور بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا کہ اپنے شریک حیات کو نکاح کے بعد کمرہ عروسی میں پہلی بار دیکھ رہے ہوتے تھے لیکن اس وقت ارینج میرج کو شائد معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ لڑکا لڑکی سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم شادی سے پہلے اپنے شریک حیات کو مکمل طور پر جانج نہ لیں اس سے لمبی لمبی باتیں نہ کرلیں تو شاید ہماری ازدواجی زندگی اچھی نہیں گزرے گی جب کہ حقیقت اس کے کچھ برعکس ہے۔

لڑکا لڑکی پڑھائی کی دور میں جہاں آسمانوں کو چھونے کے خواب دیکھتے تو وہیں ان تعلیمی اداروں میں جب کوئی لڑکا کہے کہ میری کوئی لڑکی دوست نہیں یا کوئی لڑکی کہے کہ میرا کوئی لڑکا دوست نہیں تو اس تعلیمی ادارے میں سننے والے اس کو ناقابل یقین بات سمجھتے ہیں۔ گھر والوں سے اس لیے موبائل فون کی اجازت لی جاتی ہے کہ دوستوں سے پڑھائی کے متعلق آگاہی اور رابطہ وقت کی ضرورت ہے لیکن وہیں بے شمار جوان شادی سے پہلے رات دیر تک بوائے فرئنڈ اور گرل فرئنڈ سے باتیں کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اپنے ان غیر محرم اور غیر سنجیدہ دوستوں سے ہر وہ بات موضوع سخن بنائی جاتی ہے جس کو شاید اپنے شریک حیات کے علاوہ کسی سے شیئر کرنا کوئی بھی نہیں چاہتا۔

ماضی میں ایک ایسا واقعہ میری نظر سے گزرا کہ ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی ایک مقامی کالج میں ریگولر پڑھتی رہی لیکن امتحان نہ دے سکی کہ گھر کے حالات اس قابل نہ تھے کہ وہ اپنی تعلیم کو مکمل کرسکے باقی سب دوستوں نے امتحانات دیئے اور اچھے نمبروں سے پاس کیے لیکن کلاس کی محنتی لڑکی اپنی تعلیم کو ادھورے چھوڑ کر گھر بیٹھ گئی۔ مقامی سکول میں پڑھانا شروع کردیا تاکہ اپنے باقی بہن بھائیوں کی تعلیم کو مکمل کروا سکے اپنے خواب ان کے حسین اور کامیاب مستقبل میں دیکھنے لگی۔ گھر سے فون کی اجازت مل گئی سوشل میڈیا پہ ایک دوست بھی مل گیا۔ جسے دیکھنے میں شائد وہ سمجھ گئی کہ اس کو میرے گھر والوں سے زیادہ اس کی فکر ہے۔ سکول میں پڑھائی کرکے اس نے اپنی تعلیم بھی مکمل کی اور اپنے بہن بھائیوں کو بھی پڑھایا۔ اسی ان دیکھے دوست سے شادی کے خواب بھی سجائے۔ ہاتھ میں مہنگا موبائل بھی مل گیا جس کے بارے کسی نے بتایا کہ اسے اسی دوست نے گفٹ کیا ہے۔ خدا کا کرنا کچھ ایسے ہوا کہ لڑکی کی شادی کہیں اور طے پاگئی اور نکاح ہوگیا۔ جسے لڑکی نے دل سے قبول بھی نہ کیا۔ بعداز نکاح بھی اسی دوست سے رابطہ بھی رہا۔

اس واقعہ کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ گھر والے جب اپنے بیٹے اور بیٹی کو آزادی دیتے ہیں جو کہ وہ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں جوان اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ اس غلط راستے پہ چلنا اس کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اسی آزادی کی وجہ سے ہمیں آئے روز اخبارات میں ایسے بے شمار واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں کہ لڑکی کی پسند کی شادی نہ ہونے پر اس نے خود کشی کرلی، آشنا سے بھاگ گئی۔ اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق ہر انسان کو ہے ایسا ہمیں آج کا میڈیا بتا رہا ہے جب کہ رسول اﷲﷺ نے کئی سو سال پہلے بتا دیا تھاکہ اﷲ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے تمہیں اپنی زندگی گزارنے کا حق ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں کہ ماں اور باپ کی رضا کو اپنی پسند پر مقدم سمجھا جائے۔ ماں اور باپ سے بہتر اولاد کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔

آج جو لڑکی اور لڑکا شادی کا حسین لڈو کھانے کے لیے ماں باپ کے خلاف چلتے ہیں یا ان کی آنکھوں سے چھپ کر قبل از شادی ہی شادی جیسی زندگی گزارتے ہیں ان کو یہ جاننا چاہیے کہ آج وہ اولاد ہیں تو کل کو وہ والدین ہوں گے کیا وہ یہ چاہیں گے کہ ان کی اولاد ان کی آنکھوں میں دھول ڈال کر منہ کالا کرتے رہیں۔

معزز قارئین……! شادی صرف ذوجین کے ملاپ کا نام نہیں بلکہ ایک دوسرے کے دکھ درد سمجھنے کا نام ہے۔ شادی سے دو فرد نہیں بلکہ دو خاندان ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں، خاندانی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ اگر شادی کے ان مقاصد کو پس پردہ ڈال دیا جائے اور ان کی اہمیت کو نہ سمجھا جائے تو پھر اشرف المخلوقات انسان اور جانور میں کیا فرق باقی رہا۔ وہ بھی تو انسان کی ہی طرح اپنی نسل کو بڑھاتے ہیں۔ انسان کی شادی کا ایک مقصد جو انسان کو جانوروں سے الگ کرتا ہے وہ یہی ہے کہ خاندان مضبوط ہوں، کوئی تو دکھ ددر میں مرہم کرنے والا اور خوشی میں شریک مسرت ہو۔

اگر شادی کے بعد ہی انسان اپنے ؍اپنی شریک حیات کو وہ محبت دے جس کا وہ حق دار ہے یا وہ احساس جس کو ہم قبل از شادی اپنے بوائے فرئنڈ یا گرل فرئنڈ سے اظہار کرتے ہیں اس سے مخلص رہیں تو شادی خانہ آبادی بن جاتی ہے۔ اس رشتہ سے حسین کوئی رشتہ نظر نہیں آتا۔ غلط فہمیاں جنم نہیں لیتیں، لڑائی جھگڑا میں ایک دوسرے کو منانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے لیکن اگر شادی سے قبل ہی شادی جیسی زندگی گزار لی ہو تو پھر بعد از شادی اپنے اسی دوست کے خیالات رہتے ہیں جس سے کئی برس ناجائز رابطہ رہا ہو۔ طرح طرح کی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں لڑائی جھگڑے میں انا کا مسئلہ بن جاتا ہے تو پھر یہ شادی خانہ آبادی بننے کی بجائے خانہ بربادی بن جاتی ہے۔ اس شادی سے جو دو خاندان ایک ہوئے ، دکھ درد کی ساتھی بنے ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں اور آنے والی نسلوں کا شادی جیسے حسین رشتے سے اعتماد اٹھ جاتا ہے کہ شادی کے بعد اگر گھر میں ایسے لڑائی جھگڑے ہونے ہیں تو پھر وہی دوست بہتر ہے جس سے لڑائی جھگڑا ہوبھی جائے تو وہ جلدی سے منا لیتا ہے۔

اﷲ اس قوم پر رحم فرمائے اور اس قوم کی بیٹیوں کو سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اﷲ علیہا کی حقیقی جانشین بنائے کہ وہ اپنے حسن وجمال کو اپنے شریک حیات کے لیے رکھیں اور دنیا کی غلیظ نظروں سے خود کو بچا کر رکھیں اور اس قوم کے بیٹوں کو سیدنا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کا حقیقی جانشین بنائے کہ جن کے بارے پیارے آقاﷺ نے فرمایا کہ فرشتے بھی عثمان سے حیاء کرتے ہیں۔ وہ اپنے شباب کو اپنی شریک حیات کے لیے محفوظ رکھیں کہ وہی اس کی حقیقی حقدار ہے۔ اگر ایسا ہوتو پھر ہر شادی خانہ آبادی ہوگی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: abdul rehman jalalpuri

Read More Articles by abdul rehman jalalpuri: 22 Articles with 15158 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Aug, 2017 Views: 433

Comments

آپ کی رائے