قائد اور کردار

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)

کردار کا انسان کی زندگی سے گہرا تعلق ہوتا ہے ۔قائد کاکردار خوبصورت ہو تو معاشرے کیلئے قابل رشک اورمشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے اگرخدانخواستہ کردار بدصورت،داغ دار اورقابل ستائش نہ ہو تو وہ زمین پر بدنما داغ بن کر رہ جاتا ہے ۔کردار سازی کے سلسلے میں اسلام نے اپنے ماننے والوں کوخصوصی احکامات دئیے ہیں کیونکہ ہرمسلمان تو اس دنیا میں جہاں بانی کیلئے آیا ہے ۔اسلام اور ایک کامل مسلمان کا بنیادی مشن لوگوں کو صالح کردار کا مالک بنانا ہی ہوتاہے ۔ہر نبی ورسول نے انسانوں کی کردار سازی پر توجہ دی ۔ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمدﷺ نے مکہ کی سنگلاخ زمین پر عرب کے بدوؤں کی کردارسازی اس انداز میں فرمائی کہ ان کی زندگیا ں ضرب المثل بن گئیں ،ان کے کردار کی مثالیں آج بھی کفر دے رہا ہے ۔تاریخ بہت سے نایاب واقعات اپنے دامن میں میں سمیٹے ہوئے ہے،چند ایک پیش خدمت ہیں۔ جب حاتم طائی کی قیدی بیٹی کونوجوان صحابہؓ کاایک دستہ چھوڑنے گیا تو حاتم طائی کی بیٹی سے اس کے بھائی نے سوال کیا کہ بہن تو ایک ایسے شخص کے دربار سے آئی ہو جو خود کو نبی کہتا ہے انھیں کیسا پایا ؟ حاتم طائی کی بیٹی نے جواب دیا جو سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے کہ" اے بھائی میں تمھیں نبی ﷺ کا حال بتاؤں یا اس کے ماننے والوں کا ؟بھائی نے کہا کیا مطلب ؟بہن نے کہا بھائی حضرت محمدﷺ نے اپنے ان نوجوان صحابہ ؓکے دستے کو حکم فرمایا کہ مجھے میرے والدین کے پاس چھوڑ کر آئے ،حضرت محمد ﷺ کے نوجوان صحابہؓ مجھے یہاں تک لیکر آئے راستے میں دن بھی آئے راتیں بھی آئیں ،تنہائیاں بھی آئیں مگر ان نوجوانوں نے میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ۔جس کے ماننے والوں کی شرم حیاء کا یہ عالم ہے اس کے قائد کا کیا عالم ہوگا ؟ایک روایت میں ہے کہ حاتم طائی کے بیٹے نے پوچھا کہ بہن !کیا ان نوجوانوں نے تیرے ساتھ کوئی غلط معاملہ تو نہیں کیا اس پر حاتم طائی کی بیٹی اپنے بھائی کے منہ پر تھپڑ رسید کر کے کہتی ہے کہ میری عزت کی حفاظت محمد ﷺ کے غلاموں نے جس طرح کی ہے ایسے تو تم بھی میری عزت کی حفاظت نہیں کر سکے " مسلمانو! یہ دیکھو محمد کا ایک صحابی ؓ زمانہ جاہلیت میں ایک عورت سے پیار کرتا تھا اس نے نبی ٔ پاک ﷺ کا دامن تھاما تو سب کچھ بھول گیاجلد ہی ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلا گیا ایک دن کسی کام کی غرض سے یہ صحابی ؓمدینہ منورہ تشریف لائے اس عورت کو پتا چلا کہ میرا چاہنے والا مکہ میں آیاہے اس عورت نے رات کے اندھیرے میں اسے آتے ہوئے دیکھا تو روک لیا اور گناہ کی دعوت دینے لگی۔ مگر محمد ﷺ کا غلام اس عورت کو کہتا ہے کہ اب میں ایسا نہیں کر سکتا ۔کیونکہ میرے دین میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں،میرے نبی ﷺ نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے لہٰذا میں ایسا ہرگز نہیں کر سکتا ۔وہ عورت مایوس ہو کر واپس چلی گئی۔آپ کہیں گے کہ قرون الیٰ کی مثالیں پیش کی جا رہی ہیں آج کی مثال پیش کرو۔ہاں ہاں ہمارے پاس بہت سی مثالیں دور حاضر کی بھی موجود ہیں جو نبی ٔ مہربانﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے عاشقوں نے رقم کیں ۔آئیے دورحاضر پر طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہیں ۔آپ امارات اسلامیہ افغانستان میں ہونے والے واقعات کو دیکھیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں۔ ان میں سے ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔ جب انگریز خاتون صحافی ریڈلی طالبان کی قید میں رہی،طالبان نے اس کی عزت وناموس کی حفاظت ایسے کی جیسے ریڈلی ان کی اپنی عزت وناموس کی جاتی ہے طالبان کی شرم حیاء سے ،متاثر ہوکرریڈلی رہائی کے بعد اسلام قبول کرنے پر مجبور ہو گئی اس کا کہنا تھا کہ جس طرح میری عزت وناموس کی حفاظت طالبان نے کی ہے ایسی حفاظت تو میرے بھائی بھی نہ کر سکے(لیکن آج ایسا مقدس نظام قائم کرنے والوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے جسے دین دشمن ہی کہا جا سکتاہے) ۔طوالت کے خوف سے اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔

قارئین کرام!مندرجہ بالا واقعات ہمارے آج کے معاشرے میں موجود قائدین کیلئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔مسلمانوں کی خواہش ہے کہ آج کے قائدین کاکردار بھی ایسا ہی ہو۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے آئے روز ایسے واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں جنھیں سن اور دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ یہ ہیں ہمارے قائدین ،انھوں نے ہمیں راہ راست پر لانا ہے؟انھوں نے جہاں بانی کا فریضہ سرانجام دیناہے؟چند روزقبل تحریک انصاف کے قائد عمران خان پر جو الزامات ان کی ایک ایم این اے عائشہ گلا لئی نے لگائے ہیں پاکستانی قوم کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے خاص کر تحریک انصاف والوں کیلئے جنھوں نے مادر پدرآزاد ماحول پیدا کیا ،قوم کی بیٹیوں کو سرعام ناچنے،گانے ،بے پردہ جلسوں میں آنے کیلئے راغب کیا جب اس طرح اسلام کشی ہوگی تو نتیجہ یہی نکلے گا جو گلالئی کے انکشافات کی صورت میں برآمد ہوا۔ اتنی بڑی جماعت کا لیڈر اور اس کی اہم ممبر کیاا نکشافات کر رہی ہے ؟اس پر تحقیق کی اشد ضرورت ہے ،سپریم کورٹ کو چاہیے کہ عمران خان کے الزامات کے سلسلے میں از خود نوٹس لیکرتحقیق کرے ،سپریم کورٹ صادق وامین کے معیار پر پورانہ اترنے والوں کے خلاف ننگی تلوار بن جائے قوم سپریم کورٹ کی پشت پر ہے۔عمران خان پر لگائے گئے الزمات کا سپریم کورٹ میں ہی فیصلہ ہو ناچاہیے آیا کیا سچ اور کیا جھوٹ ہے؟ گلا لئی جھوٹی ہے تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے اور اگر عمران خان ،جہانگیرترین یا دوسرے تحریک انصاف کے لوگ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں تو انھیں تاحیات نا اہل قرار دے کر گھر بھیج دینا چاہیے تاکہ پاکستان خس کم جہاں پاک کا مصداق بن جائے،اخلاقی طور پر لیس کریکٹر قائدین کو خوف خدا مدنظر رکھتے ہوئے ازخود قیادت سے کنارہ کش ہوکر اﷲ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لینی چاہیے تاکہ قوم پر مزید عذاب نازل نہ ہو ہم سمجھتے ہیں کرٹ ۔باطل نظام اور کرپٹ لیڈرز کی اﷲ ورسول ﷺ سے بغاوتوں کی وجہ سے عذاب الٰہی مسلمانوں پر نازل ہو رہا ہے ،مسلمانوں کیلئے دور حاضر کا سب سے بڑا چیلنج اﷲ کا نظام قائم کرنا اور صالح قیادت لانا ہے ۔تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 1300 کرپٹ افراد کی لسٹ تیار ہو چکی جن کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی نو منتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کا فیصلہ ہم نے مان لیا مگر قوم نے نہیں مانا ان کی خدمت میں گذارش ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قوم نے دل وجان سے تسلیم کرلیا ہے مگر ن لیگ کے درباریوں نے تسلیم نہیں کیا ،نو منتخب وزیراعظم کا یہ بیان بھی توہین عدالت نے زمرے میں آتا ہے کیوں کہ ن لیگ اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ کوئی فیصلے کی مخالفت نہیں کر رہاخدارا قوم کو توہین عدالت کا درس نہ دیں جو لوگ عدالتوں کا احترام نہیں کرتے وہ قانون،ریاست سے مخلص ہرگز نہیں ہو سکتے ۔ہماری گذارش یہ ہے کہ بدکردار قائدین کی لسٹ بھی بنائی جائے اور ان کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے جو قوم کی بیٹیوں کے عزت وناموس سے کھیل رہے ہیں(قوم کی بیٹیوں سے بھی دردمندانہ گذارش ہے کہ ایسے ماحول ،جماعت،گروپ،مجلس میں شامل نہ ہوں جو اسلام کے اصول محرم اور نا محرم کا کٰال نہ رکھیں ،اگر خواتین اس اصول کو مدنظر رکھیں تو بہت سے افسوس ناک واقعات نہیں ہوں گے ،آج بے حیائی اس لئے پھیلا رہی ہے کہ مسلمان خواتین شرعی پردے کااہتما نہیں کر رہیں )۔رہبر کے روپ میں رہزن کے چہروں کو اب بے نقاب ہی نہی بلکہ اپنے انجام کو پہنچ جا نا چاہیے۔قوم کی نظریں اس وقت سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں ۔ ٭٭٭
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 162628 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Aug, 2017 Views: 468

Comments

آپ کی رائے