مودی سرکار کا مکروہ چہرہ

(Zain Siddiqui, )

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز مظالم کو ئی نئی بات نہیں ہیں ،لیکن 18جولائی کو ہو نے والے واقعہ نے انسانیت ہی کوشرما کر رکھ دیا ،ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائر ہو ئی جس میں8سے10 کے قریب جنونی ہندوہاتھوں میں تلواریں،ڈنڈے اور ہاکیاں تھامے ایک شخص پر دکان میں حملہ آور ہوئے ،وہ شخص تلواروں کی ضربوں سے خون میں لت پت تھا،پھر یہ جنونی اسے گھسیٹے ہوئے اس دکان سے باہرلائے اور اس کی گرد ن اور جسم کے دیگر حصوں پر وحشی جنونیوں کی طرح پے در پے وار کررہے تھے، جیسے وہ کسی انسان نہیں جانور کو ختم کر رہے ہوں ،اس وحشیانہ عمل کے دوران سڑک پر ٹریفک بھی رواں دوں دیکھی جا سکتی تھی،جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان جنونیوں میں انسانیت نام کی کو ئی چیز نہیں ہے۔
شرمناک اور دل دہلا دینے والایہ واقعہ18 جولائی کی شام سوا چھ بجے بھارتی ریاست مہاراشٹرا پیش آیا،جہاں گینگ وار کے ہندو انتہا پسنداور جنونیوں نے دن دہاڑے مسلمان باڈی بلڈر نوید پٹھان کوتلواروں ،ڈنڈوں اور ہاکیوں کے پے در پے وار کر قتل کرکیا اوراطمینان سے فرار ہو گئے،واقعہ پاکستان میں 23 جولائی 2017 کے اخبارات میں رپورٹ ہوا،نوید پٹھان گولڈ میڈلسٹ اور مسلمان تھا،واقعہ کی اندوہناک ویڈیو وائرل ہو ئی تو روح کانپ گئی کہ ایک اور بے گناہ مسلمان کو بے دردی سے قتل کردیا گیا،پولیس نے 7جنونیوں کو حراست میں لے لیا ،باقی ملزمان کی تلاش جاری رکھنے کے بجائے اس بات کی تحقیقات شروع کر دی کہ واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو منظر عام پر کیسے آئی ،جس سے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سا منے عیاں ہو گیا ۔اس شرمناک واقعہ سے بھارتی مودی سرکار کا مکروہ چہرہ سامنے آتاہے۔مودی سرکار میں یہ واقعہ کو ئی نیا نہیں ہے ،ایسے بے شمار واقعات رونما ہوتے ہیں ،جن کی ویڈیو ہم تک نہیں پہنچتیں اور ان کے میڈیا کو ظلم کا نشانہ بننے والے فرد کے ساتھ مسلمان لکھنے کی بھی زحمت نہیں ہوتی۔یہ سب اسی لیے کیا جاتا ہے کہ دنیا میں بھارت کے خلاف ایشو نہ بنے اور اس کا مکروہ چہرہ سامنے نہ آئے ۔

دنیا نے اسی مودی کاچہرہ بھارتی گجرات میں فروری 2002 میں دیکھا جب مسلم کش فسادات کی آگ بھڑکا ئی گئی ،جس میں درجنوں مسلمانوں کو شہیدکر دیا گیا،ان کی املاک نذر آتش کی گئیں ،کاروبار تباہ ہو گئے ،وحشت ناک کھیل دنیا نے دیکھا،لیکن ریاست کے اس وقت کے وزیراعلیٰ مودی نے چہرے پر شکن تک نہ آئی،15سال گزر گئے ،مودی بھارت کا وزیراعظم بن گیا ،مسلمان غیر محفوظ ہو گئے ۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دنیا کے سامنے ہے ،مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وہاں بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ تیز ہو گیا اورجبکہ پاکستان کی سرحدی حدودکی بھی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔

مودی سرکار کی موجودگی میں اب سابقہ بھارتی فوجیوں کو بھی ملکی سالمیت اوروقار سے پر تحفظات ہیں اور انہوں نے اس تناظر میں بھارت میں مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے حملوں پر مایوسی وتشویش کا اظہار کیا ہے ،وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے کھلے خط میں فوجیوں نے ہندوتوا کی حفاظت کے لیے خود ساختہ محافظوں اور ان کی جانب سے وحشیانہ حملوں پر شدید تنقید کی ہے۔ خط میں ان فوجیوں نے کہا ہے کہ وہ اس بربریت کے خلاف 'ناٹ ان مائی نیم' مہم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ملک کی مسلح افواج اب بھی کثرت میں وحدت کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے۔ موجودہ صورتحال خوفزدہ کرنے والی، نفرت انگیز اور مشکوک ہے۔خط میں مسلح افواج یعنی ملٹری، بحریہ اور فضائیہ کے 114 ریٹائرڈ فوجیوں کے دستخط ہیں۔سابق فوجیوں نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے ،آج ہمارے ملک میں جو ہو رہا ہے ،اس سے ملک کی مسلح افواج اور آئین کو دھچکہ لگا ہے۔ہندوتوا کی حفاظت کے لیے خود ساختہ محافظوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔'ان حملوں کو ہم معاشرے میں غیر متوقع طور پر ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ ہم مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں اقلیتوں کے تحفظ کا قانون ہوتا ہے ،اقلیتوں کوقوانین اور اس ملک کے آئین کے مطابق حقوق دیئے جاتے ہیں لیکن بھارت میں خصوصاًمسلم اقلیت کو وہ حقوق حاصل نہیں جوانہیں دیئے جا نے چاہئیں ،وہاں کی اقلیت خصوصاًمسلمانوں کو بھیڑ، بکریاں سمجھا جاتا ہے جو سیکولربھارت کے ماتھے پر کالک کی مانند ہے ،بھارت میں نچلی ذات کے ہندؤں ،دلتوں کو بھی اپنے ہی ملک میں انسانیت سوز سلوک کا سامنا ہے تو پھر مسلمان وہا ں کیسے خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں،دنیا کے لیے اس سے بڑا مذاق کیا ہو گا کہ وہ انسان کی حیثیت اور اہمیت گائے کے مقابلے میں سے زیادہ نہیں ہے اور اسی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بھارتی حکومت نے وزارت گائے قائم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کا تحفظ ساری دنیا کے سامنے ہیں تاہم بعض مغرب کی پروردہ این جی اوزاندرون سندھ میں گھروں سے بھاک کر لومیرج کرنے اور اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے والی لڑکیوں کا الزام مسلمانوں پر تھوپنے کی کوشش کرتی ہیں اور یہ شوشہ چھوڑتی ہیں کی زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا ہے۔ جبکہ اسلام زبردستی مذہب کی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا۔

بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے اور پاکستان میں لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلا ف ورزی کررہا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان سرحدی حدود میں رہنے والے کئی پاکستانیوں کی قیمتی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں، کنٹرول لائن پر حملوں سے ثابت ہوتا ہے مودی سرکار آگ اور خون کے اس کھیل کا انتخاب کر نا چاہتی ہے جس سے نہ صرف بھارت خود کسی طو رمحفوظ نہیں رہ سکتا،مودی کی پالیساں بھارت کیلئے سیکیورٹی رسک ہیں ،اسے اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب دنیا کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جا سکتی ،مودی سرکار کو بھارتی مسلمانوں سے مذہب اور رنگ و نسل کے نام امتیاز ترک کرنا ہو گا،ورنہ مسلم دشمن پالیسیاں اسے تباہی وبربادی سے نہیں بچاسکتیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zain Siddiqui

Read More Articles by Zain Siddiqui: 27 Articles with 10001 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Aug, 2017 Views: 360

Comments

آپ کی رائے