مٹ جائے گی مخلوق تو جمہوریت بولے گی

(نذر حافی, اسلام آباد)
جمہوریت اگر ہر انسان کا پیدائشی حق ہے تو پھر عرب ممالک میں یہ برادر کشی، زبردستی، دہشت گردی، مار دھاڑ اور کشت و خون کیوں؟ اور اس کشت و خون پر جمہوریت کے ٹھیکداروں کی خاموشی کیسی!؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کھیل تو کھیل ہوتا ہے، تاہم کھیل میں بھی اصولوں کی رعایت کرنی پڑتی ہے، بے اصول کھلاڑی کو سزا اور جرمانہ دونوں ہو سکتے ہیں، البتہ آج کل انسانی سماج میں انسانی جانوں اور انسانی احساسات و جذبات کے ساتھ کھیلنے والوں کو خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ اسی طرح انسانی سروں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے والوں کو بھی ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

کئی سالوں سے افغانستان اور وزیرستان میں انسانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ، یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، کتنے ہزار انسانوں کا خون خاک میں مل گیا ہے اور کتنے لاکھ بے گھر ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک اس منطقے میں انسان کو انسان پر رحم نہیں آیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ روز ضلع صیاد کے علاقے مرزا اولانگ میں غیر انسانی طریقے سے لوگوں کے گھروں کو آگ لگا کر اور گردنیں کاٹ کر پچاس افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، اس سانحے پر عالمی انسانی برادری نے اسے ہزارہ کمیونٹی کا قتل کہہ کر اپنی طرف سے تعزیت کر دی ہے اور بس ۔۔۔

اس سے آپ اندازہ کر لیں کہ آج کی مہذب دنیا میں انسان کی کتنی سی اوقات رہ گئی ہے، یقین جانئیے اگر پچاس افراد کے قتل کے بجائے کہیں پر تیل کے پچاس کنووں کو آگ لگا دی جاتی تو ہماری اس سرمایہ دار برادری کی آہ و زاری قابل دید ہوتی۔

جب کسی کو جلانے کی بات ہوتی ہے تو بے ساختہ آرمی پبلک سکول پشاور کی ان خواتین اساتذہ پر کئے جانے والے ظلم کی یاد بھی تازہ ہو جاتی ہے جنہیں سکول کے بچوں کے سامنے آگ لگا دی گئی تھی۔

دوسری طرف ان دنوں العوامیہ میں شہری آبادی پر فائرنگ اور گھروں کو نذر آتش کرنے کے واقعات میں بھی عام شہریوں کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے، جبکہ یمن اور بحرین میں کشت و خون اپنی جگہ پر مسلسل ہو رہا ہے ۔

انسان کشی کا یہ دیو عراق اور شام سمیت کتنے ہی گھروں کو ویران کرچکا ہے، لیکن ہم میں یہ جرات نہیں کہ ہم اس انسان کشی کے خلاف آواز اٹھائیں۔

افغانستان میں سعودی سفارتخانے کے ناظم الامور شاری الحربی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی سربراہی کر رہا ہے۔ ثبوت سعودی عرب کے پاس موجود ہیں۔ اس طرح کے الزامات گزشتہ چند ماہ سے طرفین ایک دوسرے پر مسلسل لگا رہے ہیں لیکن چونکہ دہشت گرد انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں لہذا کوئی بھی عالمی ادارہ ان الزامات پر تحقیقات کی ضرورت محسوس نہیں کر رہا۔

اسلامی دنیا میں خصوصاً عرب ریاستوں میں انسانی جانیں مسلسل تلف ہو رہی ہیں کچھ لوگوں کو دہشت گردی کے ذریعے اور کچھ کو مقدمات کے ذریعے مارا جارہا ہے۔ ابھی گزشتہ روز بھی مصری عدالت نے اخوان المسلمین کے 12 ارکان کو سزائے موت اور 157 افراد کو عمر قید کی سزا بھی سنائی ہے۔

جمہوریت اگر ہر انسان کا پیدائشی حق ہے تو پھر عرب ممالک میں یہ برادر کشی، زبردستی، دہشت گردی، مار دھاڑ اور کشت و خون کیوں؟ اور اس کشت و خون پر جمہوریت کے ٹھیکداروں کی خاموشی کیسی!؟

جو حال بین الاقوامی سیاست کا ہے وہی ہماری مقامی سیاست کا بھی ہے۔ چونکہ ہمارے سیاستدان مجوعی طور پرامریکہ اور مغربی کلچر سے ہی متاثر ہیں لہذا ہمارے ہاں بھی مالی کرپشن اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی تحقیقات بھی ہوتی ہیں اور ایک منتخب وزیراعظم بھی نا اہل قرار پاتا ہے لیکن دوسری طرف انسانی جانوں سے کھیلنا ایک معمولی سی بات ہے، سانحہ ماڈل ٹاون ہو یا کوئی اور سانحہ کسی کی نااہلی تو دور کی بات ہے کوئی استعفی تک نہیں دیتا۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مغرب کے بے حس تمدن کی پروردہ جمہوریت بھی بے حس ہے، یہ بے حس جمہوریت بھی بین الاقوامی سرمایہ داروں کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے۔

اگر کسی تیل بردار جہاز میں سوراخ ہوجائے یا کہیں کسی تیل کے کنویں میں آگ لگ جائے اور یا پھر نیٹو فورسز کی سپلائی لائن کٹ جائے تو عالمی سطح پر کہرام مچ جاتا ہے لیکن اگر کہیں نہتے انسانوں کو جلاکر بھسم کردیا جائے،سول آبادیاں ہجرت پر مجبور ہوجائیں ، شہر لاشوں کی سڑاند سے بھر جائیں ، لوگوں کو جمہوریت کا نام لینے پر سولی پر لٹکایا جائے تو عالمی برادری اپنے حاشیہ برداروں سے اتنا بھی نہیں کہتی کہ جمہوریت قبرستانوں پر سجانے کے لئے نہیں ہے ، یہ عوام کا پیدائشی اور فطری حق ہے لہذا جمہوریت کا تقاضا کرنے پر کسی بھی قسم کی قتل و غارت ممنوع ہے۔

کاش ہمارے سمیت عالمی برادری جتنی دلچسبی ڈالر اور یورو کے اتار چڑھاو اور تیل کے کنووں میں لیتی ہے اگر اتنی دلچسبی انسانی اقدار اور انسانی حیات کی بقا میں لے تو بلا شبہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: nazar

Read More Articles by nazar: 114 Articles with 34208 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Aug, 2017 Views: 272

Comments

آپ کی رائے