روات میں چوہدری نثار کا طاقت کا مظاہرہ

(Muhammad Ashfaq, )

ایم این اے چوہدری نثار علی خان نے اپنے حلقہ میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے آئے روز افتتاحی تقاریب منعقد ہو رہی ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے روات کے مقام پر 300بیڈ کے ہسپتال کا افتتاح کیا یہ افتتاحی تقریب بہت دلچسپ بھی سمجھی جا رہی تھی کیونکہ پانامہ کے فیصلے کے بعد اُن کا اپنے حلقے کا یہ پہلا دورہ تھا اُن کی طرف سے یہ افتتاحی تقریب ایک بہت بڑے جلسے کی صورت اختیار کر گی جس میں حلقہ بھر سے منتخب چیرمینوں نے ریلیوں کی شکل میں شمولیت اختیار کی جس میں روات جی ٹی روڈ کافی دیر تک بند رہا تحصیل کلرسیداں سے بھی بڑی بڑی ریلیاں نکالی گئیں ۔ ان میں چیرمین یوسی بشنڈوٹ زبیر کیانی چیرمین یوسی گف راجہ فیصل منور اور چیرمین یوسی عزن آباد طارق یسن کیانی شامل ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی ریلی چیرمین یوسی بشنڈوٹ زبیر کیانی کی تھی ۔

چوہدری نثار علی خان اس سے قبل بھی اپنے حلقے میں جلسے کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس دفعہ ان کے جلسے کو بہت منظم طریقے سے مینج کیا گیا۔ جلسے سے چند روز قبل ان کے معاونین خصوصی نے حلقہ کے تمام چیرمینوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی جس میں جلسہ سے متعلق لائحہ عمل طے کیا گیا۔ تمام چیرمینوں کو ہدایات دی گئیں کہ وہ ریلیوں کی شکل میں جلسہ گاہ پہنچیں ۔ تاکہ جلسہ کو کامیاب بنایا جا سکے۔ اور جلسہ واقعی کامیاب بھی ہوا۔ ایک بڑا اور کامیاب جلسہ منعقد کروانے کا مقصد یہ بھی تھا کہ چوہدری نثار علی خان حکومت اور مخالفین کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد اب بھی ان کے ساتھ ہے اور وہ آئندہ الیکشن میں بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چوہدری نثار علی خان نے اس علاقہ کی ترقی کے لیے بہت کچھ کیا روات کے مقام پر 300بستروں کے ہسپتال کے قیام سے بہت سے علاقوں کو طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ اور جس کام کے لیے راولپنڈی جانا پڑتا ہے اس ہسپتال کی تکمیل کے بعد ادھر ہی تمام سہولتیں حاصل ہو سکیں گی۔ اور اس حلقہ کے عوام کا ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی پانامہ کے فیصلے کے بعد اس بات کا تصور کیا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ ن اور بالخصوص چوہدری نثار علی خان کی پوزیشن میں واضع کمی آچکی ہے لیکن بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا پوزیشن پہلے سے مزید بہتر ہو چکی ہے اور کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیے ان کو شکست سے دوچار کرنا محض خام خیالی ہے پبلک کو اکٹھا کرنے تک تو جلسہ کامیاب تھا مگر انتظامی امور میں بہت سی خامیاں موجود تھیں میڈیا کے لیے بنائے گیا اسٹیج دھوپ میں ہونے کی وجہ سے نمائندگان کو بہت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا پنڈال میں پانی کی عدم دستیابی نے کارکنان کا بھرکس نکال دیا بڑی تعداد میں پولیس کا عملہ پنڈال میں ہونے کے باوجود جلسے میں بڑے پیمانے پر بد نظمی دکھا ئی دی جلسہ کے اختتام پر ٹریفک ساگری موڑ تا ٹی چوک تک ٹریفک بلاک ہو گئی ٹریفک کا عملہ کم ہونے کی وجہ سے جلسہ میں دور دور سے آئے کارکنان اور عام شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑامتعدد ایمبولینسز ٹریفک جام میں پھنس گئیں غرض کہ انتظامی امور زیرو ہونے کی وجہ سے جلسہ کی کامیابی ماند پڑ گئی۔

پانامہ کا فیصلہ آنے کے فورا بعد تحصیل کلرسیداں میں فیصلہ کی خوشی میں پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز اور کارکنوں ایک بہت بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور نعرے بازی کی اس موقع پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اب کلرسیداں سے ن لیگ کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا

لیکن چند دن بعد مسلم لیگ ن کے زیر اہتمام بھی ایک بہت بڑی ریلی نکالی گئی جس کا مقصد مسلم لیگ ن اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے اظہار یکجہتی تھا کلرسیداں کی ہر یونین کونسل سے چیئرمین کی زیر قیادت ریلی نکلی تمام ریلیاں کلرسیداں میں اکٹھی ہوئیں جہاں پر ایک بہت بڑا اجتماع بن گیا کلرسیداں میں ایم سی کی وارڈز میں سب سے بڑی ریلی وارڈ نمبر دس سے نکالی گئی جس کی قیادت ممبر بلدیہ عابد زہدی کر رہے تھے جبکہ اس سلسلے میں ممبر پنجاب کونسل شیخ ندیم احمد بھی ان کے ہمراہ تھے وارڈ نمبر سے میں صبح سویرے ہی مسلم لیگ ن کا کیمپ لگایا گیا تھا جس میں عابد زہدی دن بھر اپنے ووٹرز کو ریلی کی افادیت و اہمیت بارے آگاہ کرتے رہے بہرحال ریلیوں نے ایک بڑے جلسے کی سورت اختیار کر لی جس میں چیئرمین ایم سی کلرسیداں شیخ عبدالقدوس سمیت تمام یونین کونسلز کے چیئرمینوں نے خطاب کیے اور پی ٹی آئی کے خلاف خوب بھڑاس نکالی شدید نعرے بازی کی گئی اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا گیا میں یہاں پر یہ بات بالکل واضح کرتا چلوں کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی ریلی بالکل غیر منظم تھی اور اس میں پی ٹی آئی کے بڑے عہدیدار نظر نہیں آرہے تھے لیکن جو ریلی مسلم لیگ ن کے ورکرز نے نکالی وہ نہایے ہی منظم طریقے سے تھی اوراس میں تمام منتخب چیئرمین شامل تھے اور ایم سی کلرسیداں کے تمام ممبران بھی خصوصی طور پر شریک تھے۔جس وجہ سے یہ ریلی کامیابی سے ہمکنا ر ہوئی تو ان تمام باتوں اور کاموں یہ صاف طور پر دکھائی دے رہاہے کہ این اے باون اور بالخصوص تحصیل کلرسیداں سے مسلم لیگ ن ہی کامیابی حاصل کرے گی اور ن لیگ پوزیشن سے پہلے زیادہ بہتر ہو گی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 143 Articles with 45236 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2017 Views: 234

Comments

آپ کی رائے