آل انڈیامسلم لیگ اوربھارت کے مسلمان

(Mir Afsar Aman, Islamabad)

ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے آل انڈیامسلم لیگ کے حق میں رائے دے کر پاکستان بنانے میں مدد کی تھی۔ تقسیم کے وقت بھارت میں تیرہ صوبے تھے جن میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی صوبہ میں مسلمانوں کی اکثرت تھی باقی صوبوں میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔ جن صوبوں میں ہندوؤں کی اکثریت تھی اس بات مسلمانوں کو ادراک تھا کہ ان صوبوں میں پاکستان نہیں بنے گا مگر آل انڈیا مسلم لیگ کے اس نعرے کہ پاکستان کا مطلب کیا’’ لا الہ الا اﷲ‘‘ پر لب بیک کہتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے دو قومی نظریہ کے مطابق ساتھ دے کر پاکستان بنایا تھا۔ اس کی وجہ صرف اور صرف ہندوستان کے مسلمانوں کی اسلام سے محبت تھی۔ اسی تناظر میں اسلامی تاریخ سے گہری واقفیت رکھنے والے قائد اعظمؒ کی پالیسی تھی کہ بھارت میں رہ جانے والوں مسلمانوں کی ایک مضبوط جذبہ جہاد رکھنے والی اسلامی پاکستان کی حکومت کے ذریعے حفاظت کی جائے گی۔ مگر قائد اعظم ؒ کی زندگی نے ان کاساتھ نہیں دیا اور وہ جلد ہی اﷲ کو پیارے ہو گئے۔ بعد میں آل انڈیا مسلم لیگ کی جانشین پاکستان میں مسلم لیگ اور اس کے تحت بننے والی حکومتوں کے حکمرانوں نے پاکستان کے اسلامی تشخص کو پنپنے نہیں دیا جس کی وجہ سے بھارت کے مسلمان ہندوؤں کی زیادتیوں کے شکار ہوئے اور ابھی تک ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے حکمران پاکستان کو ایک مضبوط اسلامی ریاست کیا بناتے بلکہ ان کی نادانیوں کی وجہ سے ہندوؤں کی خواہش کے مطابق پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ اور مسلمانوں کی دشمن اندرا گاندھی نے اپنے دل کی بڑاس یہ کہہ کر نکالی تھی کہ میں نے قائداعظمؒ کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے اور مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ دور حکمرانی کا بدلہ بھی لے لیا ہے۔ اس بیان کو ذہن میں رکھ کر سوچیں کہ قائد اعظم ؒ کو تاریخ سے اچھی طرح واقفیت تھی کہ مسلمانوں نے دنیا اور خود ہندوستان پر ایک ہزار سال شاندار حکومتکی تھی۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ بنو امیہ کے دور حکمرانی میں مسلمانوں نے رسول ؐ اﷲ کے بعد نناویں(۹۹)سال کے اندر اس وقت کی معلوم دنیا کے تین چوتھائی علاقہ پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ جس کو شاعرِ اسلام علامہ شیخ محمد اقبالؒ نے اس طرح بیان کیا تھا کہ’’ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے۔۔۔ نیل کے ساحل سے لے کے بہ خاکِ کاشغر‘‘ قائد اعظم ؒ اس بات بھی ادراک رکھتے تھے کہ مسلمانوں نے یہ علاقے روم کی عیسائی اور ایران کے مجوسی حکمرانوں سے چھینے تھے۔ قائد اعظم ؒ کو اس بات سے بخوبی آگاہی تھی کہ ہندوستان میں پہلی اسلامی حکومت محمد بن قاسم تقفی نے ایک ہندو راجہ داہر کو شکست دے کر قائم کی تھی جومغلوں کے کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر تک قائم رہی ۔ معلوم ہوا کہ قائد محترمؒ عیسائیوں، مجوسیوں اور ہندوؤں کی خواہشات سے آگاہ تھے کہ وہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی طرح شکست دے کو ان سے اپنے علاقے واپس لیں۔ صاحبو! آج تک سطحی نقطہ نظر رکھنے والے مسلمان تاریخ دان اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکے کہ جو ریاست رسولؐ اﷲ نے اﷲ تعالیٰ کے احکامات کے تحت مدینہ منورہ کے اندر قائم کی تھی اس ریاست(یعنی حکومت الییّہ) کو دنیا کے اندر اسی شان و شوکت کے تحت قائم ہونا تھا۔مگر رسولؐ اﷲ کے قرآنی احکامات کو خود مسلمانوں نے پس پشت ڈال دیا اور عام حکمرانوں کی طرح دنیا پر حکومت کرتے رہے۔ اس لیے یہ کام نہ ہو سکا۔ آج بھی اسی طرز کی حکومت الییّیہ کی مسلمانوں کوضرورت ہے۔ ہم آج کے کالم میں عیسایوں اور مجوسیوں کی خواہشات کو کسی اور وقت کے لیے ایک طرف رکھ کر صرف ہندوستان کے ہندوؤں کی خواہشات پر تجزیہ کریں گے کہ کس طرح انہوں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے دشمنی کی۔ ان کے مقابلے میں کس طرح قائد اعظمؒ نے پھر سے اسلام کو زندہ کر کے برصغیر کے مسلمانوں کو نظریہ پاکستان پر جمع کر کے ان کی سازشوں کو ناکام بنایا اور پھر سے مثل مدینہ ریاست پاکستان مظہر وجود میں آئی۔ اور ہندوستان میں باقی رہ جانے والے مسلمان آج تک تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں۔آپ غور کریں کی اگر اس سے قبل اسلامی حکومت ،ایک خلیفہ کے تحت ایک ہزار سال تک مشرق،مغرب، شمال اور جنوب میں مختلف زبانیں،ثقافت،تہذیب و تمدن رکھنے والی قوموں کو متحد رکھ سکتے تھے تو کیا یہ کام پاکستان میں ممکن نہیں تھا؟ یقینا ممکن تھا۔ مسلمانوں کی زبان عربی تھی مگر مفتوح علاقوں کی زبان تبدیل نہیں کی گئی۔ ان کی ثقافت،تہذیب و تمدن کو فوقیت دی گئی۔ان کو اپنے اپنے ملکوں کو اپنے رواج کے مطابق حکومت چلانے کی کھلی اجازت تھی۔ بس مرکزی حکومت کے مقتدر ہونے کے علاوہ ساری قوموں کو اپنے اپنے رسم رواج، زبان ،ثقافت اور تہذیب و تمدن کے مطابق مقامی اقتدار سونپا گیا تھا۔ پاکستان میں بھی ایسی ہی حکومت کی قائد اعظمؒ کی خواہش تھی۔ اسی سے پاکستان متحد ہو کر رہ سکتا تھا اور اب بھی رہ سکتا ہے۔ہم نے بنگالیوں کو اپنی زبان دینے کے بجائے ان پر بدیسی زبان ٹھوسنے کی کوشش کی۔ ہم نے ان کو قوت اور اقتدار دینے کے بجائے مغربی پاکستان سے دفاع کی سوچ دی۔ہم نے کہا کہ بنگالیوں کے قد چھوٹے ہیں لہٰذا فوج میں جانے کے لیے مناسب نہیں وغیرہ۔ صرف اور صرف اسلامی نظام حکومت کے تحت ہی پاکستان متحد رہ سکتا تھا اور ابھی رہ سکتا ہے۔ بھارت کے مسلمانوں پر ہندوؤں کے مظالم کا ذکر کریں تو بھارت کے ہندوؤں کہتے ہیں کہ قبرستان میں مردے نہ دفناؤ بلکہ جلا ڈالو اسے دنیاوی ترقی کے کیے لیے زمین مہیا ہو گی۔ تم پہلے ہندو تھے اب واپس اپنے مذہب پر آجائے۔ اس کی لیے بھارت میں گھر واپسی اسکیمیں جاری کی ہوئی ہیں جس میں لالچ، دھونس دھاندلی اور جبر سے مسلمانوں کو ہندو بنایا جاتا ہے۔ بھارت میں بظاہر سیکولر آئیں ہے جس میں ہرکسی کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے۔ مگر بھارت میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بھارت کے آئین میں مسلمانوں کے کوٹے کے مطابق نوکریاں نہیں دی جاتی۔ مسلمان چھاپڑی لگاتے ہیں۔ ترقی کر کے دکان اور کارخانہ بناتے ہیں۔ تومتعصب ہندوبلوے کے ذریعے مسلمانوں کے کاروبار کو آگ لگا دی جاتی ہیں اور مال لوٹ لیا جاتا ہے۔ جیسے دہشت گرد مودی کے صوبے میں دوہزار سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا تھا۔ہر مسجد کے نیچے مندر ڈھونڈنے کی مہم کے طور پر ظہیرالدین بابر مغل بادشاہ کی بنائی ہوئی بابری مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔فلموں میں کام کرنے والے مسلمان اداکاروں کو پیسے کی چمک دکھا کر ان کی شادیاں ہندو لڑکیوں سے کرانے کی مہم اور ان کے گھروں میں مورتیاں رکھنی کی مہم زور و شور سے بھارت میں جاری ہے۔مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کو ہندوانہ تہذیب میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔بھارت میں مسلمانوں کی زبان اُردو کو ہندی زبان میں بدل دیا گیا ہے۔ مسلمان اردو بولتے تو ہیں مگر لکھ پڑھ نہیں سکتے۔مسلمانوں کو پسماندہ رکھنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔گائے کا گوشت کھانے کی پادائش میں مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ سیکڑوں مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردی میں گرفتار کے سالوں جیلوں میں رکھاجاتا ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے دہشت گردی کے واقعات کر وا کر اس کا الزام مسلمانوں پر ڈال دیا جاتا ہے جیسے بمبئی ہوٹل، پارلیمنٹ پر حملہ، پٹھان کوٹ بیس پر حملہ وغیرہ۔ حتہ کہ پاکستان سے جانے والے غزل گو کو پروگرا م نہیں لہیں کرنے دیا۔پاکستانی کی کتاب کی روہنمائی کرنے والے بھارتی دانشور کے منہ پر کالک مل دی۔ کرکٹ کھیلنے والوں کے ساتھ تعصب برتا گیا۔ اصل میں مسلمانوں کے خلاف اُسی قسم کی پرانی برہمن ذہن کی مہم جاری کی ہوئی جس کے تحت ہندوستان کے اصلی باشندوں داراوڑوں کو برہنوں نے شودر بنا دیا تھا۔ ویسا ہی سلوک قوم پرست متعصب ہندوؤں نے مسلمانوں کے ساتھ شروع کیا ہوا ہے۔ اس پر ہندوستان کے مسلمان قائد اعظم ؒ کو یاد کر رہے ہیں اور پاکستان کے حکمرانوں سے فریاد کر رہے کہ پاکستان کوقائد اعظمؒ کا پاکستان بنا دو جو ہماری مدد کر سکے۔ اب تو پاکستان ایک ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی والا ایڈوانس ملک ہے۔ اس میں قاعد اعظم ؒ کے ویژن کے مطابق اسلام کا بابرکت جہاد فی سبیل اﷲ والا اسلامی نظام حکومت قائم کر دیں۔ جس میں خزانہ عوام کی امانت ہو حکمران اس میں کوئی بھی کرپشن نہ کرسکے اور اگر کرے تو قانون کے مطابق اسے سزا دی جائے۔ جیسے سابق وزیر اعظم پر کرپشن کا مقدمہ قائم ہوا ہے۔ باقی آف شور کمپنیوں رکھنے والوں کے بھی مقدمے کھولے جائیں اورسب سے ایک جیسا انصاف کیا جائے۔ عوام کا لوٹا ہوا پیسا واپس عوام کے خزانے میں داخل کیا جائے۔امیروں سے وسائل غریبوں کی طرف منتقل کریں۔کھانے پینے کی اشیاء پر سیلز ٹیکس نہ ہو۔ مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونے کی قیمت کے برابر ہو۔ سیاست دان ایک کروڑ الیکشن میں لگاؤاور جیتنے کی شکل میں اربوں کماؤ کی تجارت چھوڑ کر سیاست صرف عبادت سمجھ کر کریں۔حکمران سب سے پہلے نماز کا نظام قائم کریں۔پہلے سے قائم زکوٰۃ کے نظام میں کرپشن کو ختم کیا جائے۔ نواز شریف کی طرف سے شریعت کورسٹ کی سود کے خاتمے کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں داہر درخواست واپس لی جائے۔سودی نظام معیشت کو ختم کیا جائے۔حکمرانوں کے باہر ملکوں میں جمع کی گئی ر قوم اور پراپرٹیز کو واپس پاکستان منتقل کی جائیں۔ حکمرانوں کے باہر علاج پر پانبدی ہو۔ ملک کے عوام کے ساتھ ہی ان کا علاج بھی پاکستان میں ہو۔ امیر غریب کے لیے ایک جیسا انصاف ہو۔ پاکستان میں اپنی عوام کی خواہشات اور اسلامی جمہوری نظام ہو نہ کہ مغربی جمہوری نظام۔ اس کے لیے متناسب طریقہ انتخاب رائج کیا جائے تاکہ ملک کے سب لوگوں کو نمائندگی ملے۔ آزاد الیکشن کمیشن قائم ہو۔ پڑوسی ملک کی طرح الیکٹرونک مشینوں سے الیکشن ہوں تاکہ کوئی دھاندلی کا الزام نہ لگا سکے اور نظام حکومت تسلسل سے چلتا رہے۔پاکستان کی مسلح افواج اور عدلیہ آئین میں مقرر حقوق و فرائض پر عمل کریں۔ اس کے بعد ان پر تنقید پر پابندی لگائے۔ پاکستان میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جان نشین نون مسلم لیگ کی حکومت کے حکمران قاعد اعظمؒ کے ویژن کے مطابق جہاد فی سبیل اﷲ والی حکومت قائم کر دیں تو پاکستان کا ازلی دشمن بھارت میں رہنے والے مسلمانوں پر ظلم کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچے گا۔ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم بھی بند کر دے گا اور کشمیر آزاد ہو کر پاکستان میں شامل ہو جائے گا۔ پاکستان ایک پرامن ایٹمی اور میزائل سے لیس ملک ہے۔وہ اپنے پڑوسی ملکوں سے پر امن رہنے کی پالیسی پر گامزن ہے مگر وہ اپنے قومی مفادات پر کسی قسم کاکسی سے سمجھوتا کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا۔ اﷲ مملکت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mir Afsar Aman

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 927 Articles with 457926 views »
born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More
09 Aug, 2017 Views: 324

Comments

آپ کی رائے