علم سے ہے عزت

(Maryam Arif, Karachi)

 تحریر: ارم فاطمہ ( لاہور)
کامران پرنسپل سر جنید لغاری کا اکلوتا بیٹا تھا۔وہ چاہتے تھے کہ وہ بھی ان کی طرح پڑھائی میں پوزیشن لے کر ان کا نام روشن کرے مگر اس کا دھیان پڑھائی میں کم اور کھیل میں زیادہ رہتا تھا۔

اسکول میں امتحانات میں وہ پاس تو ہوجاتا تھا لیکن کوئی پوزیشن نہیں آتی تھی۔ اکثر اس کی شکائتیں بھی آتیں تھیں۔ وہ اپنے والد کے پرنسپل ہونے کی وجہ سے سب بچوں پر رعب جماتا، ان سے اپنا ہوم ورک کرواتا اور کبھی کبھی بہت لڑتا اور انہیں کہتامیرے ابو پرنسپل ہیں وہ مجھے کچھ نہیں کہتے۔سب بچے اس کا حکم مانتے اور جو وہ کہتا کرتے تھے۔ اس کا رزلٹ یہ تھا کہ وہ پڑھائی پر توجہ نہ دیتا اور بمشکل پاس ہوتا۔

ذیشان اس کا ہم جماعت تھا۔اس کے والد اسکول میں گارڈ کی نوکری کرتے تھے۔وہ بہت ذہین اور ہونہار طالب علم تھا۔اساتذہ کی عزت کرتا اور ساتھی دوستوں کی پڑھائی میں مدد کرتا تھا۔ساتھ اسکول کی غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتا تھا۔پرنسپل سر جنید اکثر کامران کو اس کی مثالیں دیتے کہ کیسے وہ پڑھائی میں بہت اچھا ہے اور سبھی استاد اسے پسند کرتے ہیں۔ کامران چڑ جاتا۔

کچھ نہ کہتا مگر ذیشان کو اکثر بچوں کے سامنے ڈانٹتا اور ذلیل کرتا کہ تمہارے والد تو چوکیدار ہیں اور تم لوگ غریب ہو۔غریب کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ذیشان خاموش ہوجاتا اور کچھ نہ کہتا۔ایک دن کلاس میں کچھ بچوں نے ٹیچر سے شکایت کی کہ ان کی چیزیں جیسے نئے پین، سکیل اور خریدی ہوئیں بچوں کی کہانیاں بیگ سے غائب ہوجاتیں ہیں۔اج بھی کئی بچوں کی چیزیں غائب ہیں اپ کچھ کیجیے۔ٹیچر نے دو بچوں سلمان اور رحمان کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ بچوں کے بیگ چیک کریں۔ جب انہوں نے چیک کیا تو کامران کے بیگ سے نیا قلم نکلا جسے دیکھتے ہی اجمل کہنے لگا " مس یہ میرا قلم ہے " کامران نے بہت کہا کہ اس نے یہ قلم نہیں چرایا مگر کسی نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا اور نہ اس کے حق میں بات کی۔

صرف ذیشان نے کہا ’’مس کامران ایسی حرکت نہیں کر سکتا‘‘ کامران اسے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اس نے ہمیشہ ذیشان کے ساتھ زیادتی کی اور وپی اس کا ساتھ دے رہا ہے۔اگلے دن ذیشان کلاس روم میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا سعید کامران کے بیگ میں کچھ ڈال رہا تھا۔وہ خاموشی سے باہر آگیا۔جب کلاس کا وقت ہوا سب بچے کلاس روم میں آگئے اور مس رابعہ آئیں تو ذیشان نے کھڑے ہو کر کہا "مس آج میں نے دیکھا سعید کامران کے بیگ میں چیزیں ڈال رہا تھا۔"

جب مس نے سختی سے پوچھا تو سعید گھبرا گیا اور کہنے لگا ’’مس کامران میری سب چیزیں لے لیتا تھا اور میں خاموش رہتا تھا کیونکہ اس کے ابو پرنسپل ہیں۔اس لیے میں نے یہ سب کیا تاکہ وہ سب کے سامنے ذلیل ہو‘‘ یہ کہہ کر اس نے سر جھکالیا۔ کامران بہت شر مندہ تھا۔اب اسے اندازہ ہوا کہ مس نے ذیشان کی بات پر اس لیے جلدی یقین کرلیا کہ وہ اپنے علم اور اساتذہ کی عزت کرنے کی وجہ سے ایک مقام بنا چکا تھا۔وہ کہتا رہا کہ اس نے چوری نہیں کی مگر کسی نے اس کا یقین نہیں کیا۔اس واقعے نے کامران کو بالکل بدل دیا۔اور پھر سکول ہے بچوں نے دیکھا کامران سب کے ساتھ اچھی طرح بات کرتا اساتذہ کی عزت کرتا اور پڑھائی پر توجہ دینے لگا۔وہ یہ بات سمجھ چکا تھا کہ عزت صرف علم سے اور دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرنے اور اچھا سلوک کرنے سے ملتی پے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1228 Articles with 502412 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Aug, 2017 Views: 813

Comments

آپ کی رائے