سادہ گیمز کھیلیں اور مسکرائیں!!

(Rehman Mehmood Khan, )
ایسی دلچسپ گیمز کھیلنے سے آپ کی ذہانت اور خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا

دوستو!آج کل موبائل،کمپیوٹر،لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ جیسی سہولیات میں سے کوئی ایک سہولتہر گھر میں موجود ہے،جس پر بچیہر وقت ٹیبلٹ پر ویڈیو گیمز کھیلتے رہتے ہیں، جس سے بچوں کے ماں باپ بھی خاصے پریشان رہتے ہیں۔دراصل مختلف کاموں میں مصروف والدین اپنے کمسن بچوں کو بہلانے کیلئے سمارٹ فون یا ٹیبلٹ دے دیتے ہیں، اس سے مسئلہ وقتی طورپر حل تو ہو جاتا ہے لیکن دوسری طرف بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی ایسی چیزوں کی عادت پڑ جاتی ہے اور بچے پڑھائی اور جسمانی ورزش جیسے کھیل کود سے دور ہوتے جاتے ہیں،بچو!میرا کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کوجدید ٹیکنالوجی سے دور رکھا جائے، مگر ہر کام میں اعتدال پسندی ضروری ہے۔

پیارے بچو!گزشتہ دنوں دورانِ سفر ہم نے چند چھوٹے بچوں کو دیکھا کہ ان کے پاس تفریح کا سامان نہیں تھا، بچے بور ہونے لگتے اور گھبراہٹ کا شکار ہوکر رونے لگتے، جس سے بچوں کے ماما باباکو بھی پبلک میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایئرپورٹ، ریلوے سٹیشن ، ہسپتال یا پھر ریستوران میں چھوٹے بچوں کے ساتھ انتظار کرنا کافی مشکل کام ہوتا ہے۔

ایسے حالات میں ہم آپ کو چند ایسی دلچسپ اور سادہ گیمز کے بارے میں بتائیں گے جنہیں نہ صرف آپ پسند کریں گے بلکہ اس سے آپ کی ذہانت میں بھی اضافہ ہوگا اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ایسی کھیلوں کیلئے کسی میدان یا ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت نہیں، آپ کہیں بھی اپنے ماما یا بابا کے ساتھ انہیں آسانی سے کھیل سکتے ہیں۔

کچھ گنگنانا!
دوستو! اگر آپ بور ہورہے تو یہ سب سے اچھی گیم ہے۔ کوئی مشہور گانا جیسے بچوں کی نظمیں ’’ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل سٹار‘‘،’’بابا بلیک شیپ‘‘ ، قومی ترانہ یا پھر ملی نغمہ جیسے ’’دل دل پاکستان‘‘ وغیرہ گنگنائیں اور اپنی ماما کو چیلنج کریں کہ وہ اسے پہچانے اور گا کر دکھائے۔

کتنے ذہین!
دوستو! گانے کے چیلنج سے دل بھر جائے تو ایک اور دلچسپ گیم بھی کھیلی جاسکتی ہے۔ اپنے باباکیجیب سے چند سکے، کارڈ، چابی اور قلم/پنسل وغیرہ نکال کر میز پر رکھیں اور اپنے بابا سے کہیں کہ ان چیزوں کو غور سے دیکھیں۔ پھر انہیں رومال یا ٹشو پیپر سے ڈھانپ دیں اور نیچے سے کوئی ایک چیز غائب کردیں۔ اب رومال ہٹائیں اوربابا سے پوچھیں کہ کون سی چیز غائب ہوئی ہے،ساتھیو !یہ گیم آپ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ بھی کھیل سکتے ہیں۔ اگرانھیں یہ گیم پسند آئے تو انھیں بھی ایک موقع دیں تاکہ وہ بھی آپ کی ذہانت کا امتحان لے سکیں!

کون سا جانور
دوستو! اپنے ذہن میں ایک جانور کا نام سوچ کر اپنی ننھی بہن یا ضدی بھائی سے اس طرح کا سوال کریں، ’’مَیں 4 ٹانگوں والا جنگلی جانور ہوں، تم میرا نام بتاسکتے ہو؟‘‘ اور پھر اسے اشارے دینے کیلئے سوال کرنے دیں۔ وہ آپ سے سوال پوچھ سکتا ہے، ’’کیا تم دھاڑتے ہو؟‘‘ (جیسے شیر) یا ’’کیا تم پانی کے تالاب میں رہتے ہو؟‘‘ (جیسے مگرمچھ)۔ہے نا دلچسپ گیم!!

رنگوں کی پہچان
پیارے دوستو!جن بچوں نے رنگوں کے نام سیکھ لئے ہیں، انہیں اپنے اردگرد موجود چیزوں کے رنگوں کی پہچان کرنے کو کہیں۔ مثلاً اگر آپ کو ریستوران میں نیلے رنگ کا پوسٹر نظر آتا ہے تو بچے سے پوچھیں، ’’یہاں نیلا رنگ موجود ہے، کیا تم بتا سکتے ہو کہ یہ کہاں پر ہے؟‘‘

جیومیٹری ٹیسٹ
رنگوں کی طرح جیومیٹری کی مختلف شکلوں کا امتحان نہ صرف بچے کا دل بہلانے میں کام آئے گا بلکہ اس کی تعلیمی قابلیت میں بھی اضافے کا باعث بنے گا۔ اپنی ننھی بہنا! کو کہیں کہ اپنے اردگرد گول دائرہ، چوکور ،مستطیل اور تکون (مثلث)وغیرہ کو ڈھونڈ کر دکھائے، مثلاً کھانے کا میز ، کھڑکیاں وغیرہ۔

بوجھو تو جانیں!
پیارے بچو!مختلف جانوروں کی پہچان کی طرح آپ اپنے امی ابویا بہن بھائیوں کا دل بہلانے کے لیے پہیلیاں بھی بچوں کا دل بہلانے کیلئے اچھا مشغلہ ہے۔ مثلاً ’’5 دوست کمرے میں بیٹھے ہیں، ان میں سے 2 باہر جانے کا سوچتے ہیں، اب کمرے میں کتنے لوگ بچے؟‘‘ (جواب: 5 ہی ہیں کیونکہ 2 نے باہر جانے کا سوچا ہے، جب کہ گیا کوئی بھی نہیں)۔میری مٹھی میں بند ہے کیا؟ یہ سب سے آسان کھیل ہے۔ ایک سکہ دونوں ہاتھوں میں لیں اور اسے بچے کی نظروں سے چھپا کر ایک مٹھی میں بند کردیں۔ پھر بچے سے کہیں کہ کس ہاتھ میں چیز ہے اور کون سا خالی ہے۔ ایسا باری باری کریں، ایک موقع بچے کو دیں تاکہ وہ اپنے ایک ہاتھ میں سکہ چھپا کر آپ کو چیلنج کر سکے۔

ٹاس کریں
دوستو!!ایک اور دلچسپ گیم یہ ہے کہ اپنے بابا سے 5روپے کا سکہ لیں اور اپنے بہن بھائیوں سے کہیں کہ وہ بتائیں کہ سکہ سیدھا آئے گا یا الٹا۔یعنی کہ ٹاس کرنے کے انداز میں اچھالیں اور اپنی مٹھی میں بند کرکے پوچھیں کہ کیا آیا۔

ایسی دلچسپ گیم سے جہاں آپ کا وقت خوشی خوشی گزرے گا وہاں آپ کے چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی بیٹھے بٹھائے کھیلنے کا مزہ آئے گا اور دوران ِ سفر آپ کے ماما،بابا بھی پریشان نہیں ہوں گے۔
٭٭٭
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rehman Mehmood Khan

Read More Articles by Rehman Mehmood Khan: 6 Articles with 4794 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Aug, 2017 Views: 711

Comments

آپ کی رائے