میں ننھا ہوں(آئی ایم آ کڈ)

(Hukhan, karachi)
مسکرانا مجبوری ہے لوگ سمجھتے کوئی غم نہیں
دل زار زار روتا ہے لوگ دیکھتے ہیں آنکھ ہے نم نہیں

عمر کے اس حصے میں جب جوانی اپنا آدھا سفر طے کر چکی ہوتی ہے،،،جب کوئی یہ کہے،،،
میں ابھی ننھا ہوں تو مراد اس بچے کی ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے،،،جو ہنستا ہے،،روتا ہے،،،
چلاتا ہے،،،بیڈ پر جمپ مارتا ہے،،،گدگدی کرتا ہے،،،اپنے ہر جذبے کو پر جوش طریقے سے اپناتا ہے،،،
ڈانس کرتا ہے،،،تکیے کو پنچ (مکے) مارتا ہے،،،اس کو کبھی دشمن کبھی دوست کی طرح،،،
ظاہر کرنا چاہتا ہے،،،جو چاکلیٹ،،آئس کریم کھانا چاہتا ہے مگر دوسروں کی پاکٹ سے،،،
جو سڑک پر مستی کرتا ہے،،،پارک کے درختوں پر چڑھنا چاہتا ہے،،،بندر کی طرح لٹکنا چاہتا ہے،،،
آنکھ مارنا چاہتا ہے،،،مستی بھری ہو ہر انگ میں جس کے،،ہے نا عجیب سی فیلنگز،،،
پھر وہ ننھا جب اکیلاہوتا ہے رات کی سیاہی اسے تنگ کرتی ہے،،،خوف زدہ کرتی ہے،،ماں نہیں ملتی،،،
بابا کے مضبوط ہاتھ نہیں ملتے،،،بچپن کے جان سے پیارے دوست کھو جاتے ہیں،،،آنکھ نم ہونا،،
شروع ہو جاتی ہے،،،کتنا نقصان ہے،،،تنہائی،،،نہ بھائی بہن،،،نہ ماں نہ بابا،،،بس خشک سی زندگی،،،
ننھا کبھی اس کے لیے تیارہی نہ تھا،،،بس چھوڑے گئےصرف اس لیے کہ ننھا بڑا ہو گیا،،،
ماں بھی نہیں،،بابا جان بھی نہیں،،،پھر کون ہے،،،بیٹا اب تو بڑا ہوگیا ہے،،،اس کا مطلب ماں چھوڑ
جاتی ہے،،،بڑا ہونے کا کیا فائدہ،،،ہاتھ ،،پاؤں،،جسم بڑاہوگیا‘‘،،،مگر دل چھوٹا ہوگیا،،،
ایسا تو نہ سوچا تھا،،،اب تو چہرہ بھی بھولنے لگا ہوں ماں،،،قبر کا رستہ بھی،،،جب تک میں نہ آتا تھا‘‘،،
نظریں دروازے پر،،،آنکھیں بند مگر کان آہٹ کے انتظار میں سونے کہاں دیتے تھے‘‘،،،پھر ننھا،،،
دبے پاؤں ہاتھ میں جوتے تھامے،،،آہستہ آہستہ بے آواز سا مگر اپنی خوشبو کو کیسے روکتا ہوں،،،،
وہی مانوس سی آواز،،،یہ ٹائم ہے آنے کا،،،ننھا خاموش،،،شاید اسے پتا نہیں تکا لگا رہی،،،پھربھی چلو،،
بلی کی آواز نکالتا ہوں،،،میاؤؤؤؤؤں‘‘،،،،ماں اٹھ کے تاک کے پاس رکھی جھاڑو سے وار کرتی ہے،،،
کیا ہے ماں،،،رات میں بھی جھاڑو،،،دن میں بھی جھاڑو،،،بندہ وقت کے ساتھ ہتھیار تو بدل لیتا ہے،،،
وہی دقیانو سی جھاڑو،،،ارے بیٹا! میں سمجھی بلی ہے،،،دیکھ اسی لیے پاؤں میں لگی جھاڑو،،،
پتا ہوتاتو ہے،،تو سرمیں مارتی،،،ننھا اک دم سے بڑا ہوگیا‘‘،،،اب خاموشی سے آنسو گال کو گرم کر کے،،،
تکیے کی نظر ہوگئے،،،اب ننھا زور سے نہیں روتا،،،کون سنےگا،،،ماں تو ہے ہی نہیں،،،بابا بھی نہیں،،،
کوئی بھی تو نہیں،،،میں کیوں بڑا ہوگیا،،،سب چھوڑ گئے،،،ہاں سب،،،چھوڑگئے۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 878481 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Aug, 2017 Views: 702

Comments

آپ کی رائے
v sad but so realistic every one story
By: sohail memon, karachi on Aug, 27 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Aug, 27 2017
0 Like
sach hy dost mgar koi kuch nhi kar sakta
By: rahi, karachi on Aug, 27 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Aug, 27 2017
0 Like