خاتم النبین ﷺ کے امتی جوق در جوق حجاز کی طرف رواں دواں

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

الحمد ﷲ حجاز مقدس میں ضیوف الرحمن کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ پندرہ لاکھ سے زائد مہمانانِ فریضہ حج و عمرہ کی ادائیگی کے لئے اپنے خالق و مالک ، رحمن و رحیم کے اس عظیم الشان حرمین شریفین آچکے ہیں اور کم و بیش اسی تعداد میں مزید عازمین حج و عمر ہ مناسک حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے ایامِ حج کے آغاز سے قبل پہنچ جائینگے ہر روز کم و بیش 40ہزار عازمین دنیا کے کونے کونے سے حجاز پہنچ رہے ہیں۔اس طرح دنیا کے کونے کونے سے محبوب رب العالمین ،فخر دوعالم ، خاتم النبیےن، رحمۃ للعالمین ، سرورکائنات صلی اﷲ علیہ و سلم کے امتی بڑی ہی خوشیوں اور سرشاری سے اپنے خالق و مالک کے حضور حاضر ہورہے ہیں۔ مملکت سعودی عربیہ کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو اس سال بھی عازمین حج و عمرہ کی خدمت کی سعادت کا اعزاز حاصل ہورہا ہے ۔اس عظیم الشان اعزاز کو کون کھونا چاہتا ہے ،دنیا کے دیگر معاملات میں سعودی عرب کے تعلقات بعض ممالک کے ساتھ کتنے ہی خراب کیوں نہ ہو وہ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے ان ممالک سے آنے والے عازمین حج کو روک نہیں سکتا،اگر سعودی عرب ان ممالک سے آنے والے عازمین حج کو روکتا ہے تو عالمی سطح پر اس کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے اور عازمین حج و عمرہ کو روکنے کی وجہ سے اس کے خلاف عالمی سطح پرآواز اٹھ سکتی ہے ۔ قطر اور ایران کیساتھ سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہیں ، قطر سے سعودی عرب اور دیگر ممالک نے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے ہیں اس کے باوجود شاہ سلمان اپنے خرچے پر قطر کے عازمین حج کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں ۔

یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے عازمین حج کی تعداد میں توسیع حرم مکی کے بعدبڑے پیمانے پراضافہ کیا گیا ہے اور سال گذشتہ کی بہ نسبت اس سال کم از کم25فیصد کوٹہ کا اضافہ کیا گیا ہے، ذرائع ابلاغ کے مطابق اس سال یعنی ۱۴۳۸ہجری میں 26لاکھ عازمین ،فریضہ حج کی سعادت حاصل کرینگے۔ توسیع مطاف کے بعد اب بیک وقت ایک لاکھ پانچ ہزارافراد خانہ کعبہ کا طواف کرسکیں گے جبکہ حرم شریف میں 30لاکھ افراد کے نماز پڑھنے گنجائش ہے۔ شاہی حکومت کی جانب سے حج کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں ، مرکزی امور حج کمیٹی کے نگراں اور مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل کے مطابق حجاج کرام کی خدمت پر مامور تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایاکہ منی اور عرفات سمیت تمام مقامات مقدسہ میں ضیوف الرحمن کیلئے پانی کی فراہمی، بیت الخلاؤں کی مرمت، خیموں کی تنصیب ، ایئرکنڈیشنزکی سہولت سمیت تمام امور مکمل کرلئے گئے ہیں۔ یوں تو گذشتہ چند برسوں سے مشرقِ وسطیٰ کے بگڑتے ہوئے حالات اور عالمی سطح پر دہشت گردی میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے سیکیوریٹی کے انتظامات سخت سے سخت کئے جارہے ہیں اس سال بھی سیکیوریٹی کے وسیع تر انتظامات کئے گئے ہیں۔ضیوف الرحمن کی حفاظت اورامن وامان کو یقینی بنائے رکھنے کے لئے مجموعی طور پر سوا لاکھ سیکیوریٹی عہدیدار تعینات کئے گئے ہیں جن میں چالیس ہزار اہلکار خصوصی تربیت یافتہ اداروں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ محکمہ شہری دفاع کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور دیگر مقامات مقدسہ پر ہزاروں سیکیورٹی آلات نصب کئے گئے ہیں جبکہ سعودی ایوی ایشن سیکیوریٹی کے سربراہ میجر جنرل محمد الحربی کے مطابق 16ہیلی کاپٹرس 24گھنٹے حجاج کی خدمت پر مامور ہونگے۔ جن کے ذریعہ بیماروں اور زخمیوں کو ہاسپتل پہنچایا جائے گا۔ دنیا کے اس بڑے اجتماع کے لئے صفائی و ستھرائی کا اہتمام بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے ۔ گورنر مکہ کے سکریٹری ڈاکٹر اسامہ البار کے مطابق حج کے دوران صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے کیلئے مقامات مقدسہ کو دس بلدیات میں تقسیم کرکے ۲۷ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ بلدیہ کے 23ہزار اہلکار صفائی پر مامور ہونگے جن میں سے 13ہزار مکہ مکرمہ میں اور باقی مشاعر مقدسہ میں خدمات انجام دینگے۔ ضیوف الرحمن کومشاعر مقدسہ تک پہنچنے کے لئے 20ہزار بسوں کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ پیدل راہگیر ضیوف الرحمن کے لئے الگ پل بنائے گئے ہیں ۔ بسوں کو بھی الیکٹرونک سسٹم سے لیس کردیا گیا تاکہ نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے اور کسی بھی قسم کا حادثہ پیش آنے کی صورت میں اس مقام تک آسانی سے پہنچا جاسکے۔ اسی طرح وسیع پیمانے پر طبی مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔مقامات مقدسہ کے ہاسپتلوں میں چار ہزار اضافہ بیڈز کا انتظامات کیا گیا ہے جبکہ مختلف مقامات پر 128طبی مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں جہاں ہمہ وقت طبی عملہ موجود رہیگا۔گشتی میڈیکل ٹیمیں اور ایمبولنس کا وسیع تر انتظام کے علاوہ ہلال احمر نے 1245مراکز قائم کئے ہیں جہاں دس ہزار افراد پر مشتمل طبی عملہ ہمہ وقت متعین رہے گا۔ ہلال احمر کے تین ایمبولنس طیارے بھی ضیوف الرحمن کی خدمت کے لئے تیار ہیں۔سعودی عرب کی شاہی حکومت دنیا کے کونے کونے سے آنے والے عازمین کے لئے انکی اپنی مادری زبانوں میں حج و عمرہ کی رہنمائی کے لئے لاکھوں کتب و پمفلٹس اور چھوٹی چھوٹی کتابیں طبع کرواکر مفت تقسیم کرتے ہیں یہ ذمہ داری وزارت مذہبی امور کے تفویض ہے۔گذشتہ چند برسوں کے دوران عالمِ اسلام میں جو کشیدگی پائی جارہی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اس سے نمٹنے کے لئے سعودی شاہی حکومت وسیع تر انتظامات روبہ عمل لائی ہے تاکہ کسی بھی ملک کے عوام کی جانب سے کسی قسم کا بھی احتجاج نہ کیاجائے۔شام ، یمن ، عراق اور افغانستان کے حالات انتہائی خراب ہے ایسی صورت میں دنیا بھر سے آنے والے عازمین کی حفاظت و سلامتی کی ذمہ داری سعودی حکومت پر عائد ہوتی ہے اسی کے پیشِ نظر سخت سیکیوریٹی کے انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ قطر سے سعودی عرب اور بعض عرب ممالک نے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے تھے ۔ قطر سے واحد زمینی راستہ سعودی عرب نکلتا ہے جسے سعودی حکومت نے بند کردیا تھا کیونکہ قطر پر الزام ہے کہ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے جبکہ قطر اس بات سے انکار کرتا رہا ہے۔عارضی طور پر سعودی عرب نے فضائی اور زمینی راستوں کو عازمین حج کی آمد کیلئے کھول دیا ہے ،شاہ سلمان اور قطری شہزادہ کی بات چیت کے بعدسعودی حکومت نے قطرکے عازمین حج کے لئے اپنی پروازوں کا آغاز کردیا ہے ۔سعودی عرب کی ایک پرواز کو قطرکی جانب سے روکنے کی خبریں عام ہوئیں تھیں لیکن قطر نے اس کی تردید کردی ہے ۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی سانحہ منیٰ کے بعد سالِ گذشتہ ایران سے حجاج کے قافلے روانہ نہیں کئے گئے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ تھے لیکن اس سال ایران کے عازمین حج کی سعادت حاصل کریں گے۔دشمنانِ اسلام ، عالمِ اسلام میں دہشت گردی کو مزید بڑھاوا دینا چاہتے ہیں اسی لئے اب قطر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب آمد کے بعد جس طرح سعودی عرب، عرب امارات، بحرین، مصر ، یمن اور لیبیاء نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرکے دشمنانِ اسلام کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق قطر قدرتی گیس کی وجہ سے عالمی سطح پر اپنا منفرد مقام حاصل کررہا تھا جبکہ امریکہ بھی قدرتی گیس کے ذریعہ عالمی مارکیٹ میں سب سے آگے رہنے کے خواب دیکھ رہا ہے ، یہی وجہ بتائی جارہی ہے کہ امریکہ اپنے مدّمقابل کسی کو دیکھنا پسند نہیں کرتا امریکہ نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ قطر کی وجہ سے اس کی معیشت پر اثر پڑے گا اور عالمی مارکیٹ میں ایک چھوٹے سے ملک کے سامنے اسکی ہتک ہوگی ۔ اس طرح قطر کو دہشت گردی کے حوالے سے عالمی سطح پر بدنام کرکے اس کی معیشت کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ قطر اور سعودی عرب و دیگر ممالک کے درمیان مستقبل قریب میں کس قسم کے حالات پیدا ہوتے ہیں فی الحال عارضی طور پر سعودی عرب نے حج کے ایام قطر سے اپنی ایرلائنزچلا رہا ہے تاکہ عازمین حج فریضہ حج ادا کریں اور اس نے واحد زمینی راستہ بھی کھول دیا ہے ۔ ادھر افغانستان میں خووکش حملے، بم دھماکوں میں پھر ایک مرتبہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ افغانستان کے حالات پر امریکی صدر کی نظر ہے اور عنقریب وہ افغانستان کے سلسلہ امریکی پالیسی کا اعلان کرنے والے ہیں۔

امریکہ کو عراق میں اپنی ناکامی کا احساس
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کے سلسلہ میں جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے سے اجتناب کررہے ہیں انکا کہنا ہیکہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے باعث یہاں پر دہشت گردوں کو دوبارہ جگہ مل جائے گی اور اس سلسلہ میں وہ (ٹرمپ) زمینی حقائق پر مبنی فیصلے کریں گے جس میں ڈیڈ لائن نہیں ہونگی۔صدر امریکہ کے مطابق انکا پہلے ارادہ تھا کہ وہ افغانستان سے فوجیں جلد واپس بلالیں گے لیکن وہ عراق میں کرنے والی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور اس وقت تک ملک میں موجود رہیں گے جب تک امریکہ کو جیت مل جائے۔ افغانستان میں امریکی فوج، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد سے موجودہ ہے البتہ امریکی فوج نے افغانستان میں براہ راست فوجی کارروائی کا سلسلہ 2014میں ختم کردیا تھا اور اس وقت افغانستان میں 8400امریکی اہلکار افغان فوج کی مدد کررہے ہیں۔ اب اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا یا نہیں اس سلسلہ میں صدر امریکہ نے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ صدر ٹرمپ فورٹ میئر آرلنگٹن میں صدارت پر فائز ہونے کے بعد جنوبی ایشیاء کے بارے میں اپنی پہلی تقریر میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔‘‘انہوں نے اپنی اس تقریر میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہے ں اور امریکہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار یان کی انکی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیاکہ پاکستان ماضی میں پاکستان ہمارا بہت اہم اتحادی رہا ہے اور ہماری فوجوں نے مل کر ہمارے مشترکہ دشمن کے خلاف لڑائی کی ہے۔ پاکستان کی امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لئے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کیلئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب انہی دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں۔ان دشمنوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے ملک سے ان تمام شرانگیزوں کا خاتمہ کرے جو وہاں پناہ لیتے ہیں اور امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔امریکی صدر کے مطابق پاکستان اور افغانستان میں 20غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں کام کررہی ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں۔ امریکہ ان تمام دہشت گرد تنظیموں کا صفایا چاہتا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہیکہ کیا پاکستان اور افغانستان میں امریکہ دہشت گردی کا خاتمہ کرپائے گا؟ اگر واقعی ان دہشت گرد تنظیموں کا صفایا ہوجاتا ہے تو پاکستان اور افغانستان کے ان معصوم اور بے قصور مسلمان جو دن کے اجالے میں گھر سے نکلتے ہیں تو خوف و ہراس کے ماحول میں رہتے ہیں انہیں گھر سے نکلتے ہوئے یہ خوف لگا رہتا ہے کہ وہ شام تلے گھر واپس ہو بھی پائیں گے یا نہیں۔ عالمِ اسلام کو ان نام نہاد جہادی تنظیموں اور دہشت گردوں کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا کہ انکے کس قسم کی کارروائی کی جائے ۔ کیا انکے ساتھ مذاکرات کا عمل بہتر ہوگا یا پھر انہیں صفہ ہستی سے مٹانے کے لئے خطرناک فضائی و زمینی حملے کئے جانے چاہئیے۔ امریکہ اور پاکستان و دیگر ممالک نے دیکھ لیا ہے کہ دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے انکی کارروائیاں ناکام ہوچکی ہیں اور مستقبل میں وہ کس قسم کی کارروائی کے ذریعہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں کیونکہ امریکی صدر نے خود عراق میں ناکامی کے حوالے سے افغانستان میں اپنی فوجیں رکھنے کی بات کی ہے اور امریکہ کی یہ فوج افغانستان میں اس وقت تک رہے گی جب تک کہ افغانستان میں امن و امان قائم نہ ہوجائے ۰۰۰
***
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 96317 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2017 Views: 499

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ