ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

(Ishrat Javed, )
پیشہ ور قصاب کی بکنگ ایک مشکل مرحلہ،جبکہ موسمی قصائی کم نرخ پرزیادہ جانور ذبح کرتے ہیں

 پلمبر، پینٹر، موٹرمکینک، رکشا وٹیکسی ڈرائیور،ٹائر پنکچر لگانے والے اور سبزی اور پھل فروخت کرنے والے افرادقصابوں کا بھیس بناکرعید کے تینوں دن دیہاڑیاں لگاتے ہیں،یہ نہ ہی جانور کو ذبح کرنے سے پہلے باندھنے کے ہنر سے آشنا ہوتے ہیں اور نہ ذبخ کرنے اور گوشت بنانے کے ہنر سے واقف ہوتے ہیں بلکہ ان کو تکبیر تک نہیں آتی اور بغیر تکبیر کے جانور ذبح کر دیتے ہیں، جس سے جانور حلال ہونے کے بجائے مردار ہوجاتا ہے

قرآن میں قربانی کے جانور کو اچھے طریقے سے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے ،اور یہاں تک حکم دیا گیا ہے کہ قربانی کے جانور کو ایذانہ دی جائے اور نہ ہی ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کیا جائے ۔بلکہ یہ حکم دیا گیا کہ تیز دھار آلے سے جانوروں کو ذبح کیا جائے تاکہ تکلیف کم سے کم ہو،جانوروں پر ظلم کرنے والے سے بروز قیامت باز پرس ہو گی۔مگر ہر سال عید الاضحی کے موقع پرآپ کو ایسے کئی مناظر دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ جانور ذبح کرتے ہوئے قصائی کی چھری تیز نہ ہونے کے باعث اسے بہت اذیت کا سامنا کرنا پڑا،اورچھری پھیرتے ہوئے گائے بھاگ گئی،قصاب جانور کو ذبح کرتے ہوئے ادھورا چھوڑ کر چلا گیا کہ میں آ کر اس کی کھال اتاروں گا اور گھر والے پھر اس کا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں اور جب اسے وقت ملتا ہے وہ واپس لوٹ کے آ ہی جاتا ہے تب تک شام کا اندھیرا چھا جاتا ہے،اور جو بات اکثر دیکھنے میں آتی ہے جانور کو بامشکل ذبح کر کے جیسے ہی وقت گوشت کی بوٹیاں بنانے کا آتاہے رہی سہی کسر وہ تب نکال لیتا ہے اور گوشت کو وہ حشر کرتا ہے کہ گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں کہ وہ اب کیا تقسیم کریں،اور جب خاتون خانہ اس گوشت کو پکانے لگتی ہے تو بھی مسائل سے دوچار ہو جاتی ہے۔ ایسا تب ہی ہو تا ہے جب جانور ذبح کرنے والا موسمی قصاب ہو۔دیہاڑی دار موسمی قصاب وہ ہوتے ہیں جونہ ہی جانور کو ذبح کرنے سے پہلے باندھنے کے ہنر سے آشنا ہوتے ہیں اور نہ ذبخ کرنے اور گوشت بنانے کے ہنر سے واقف ہوتے ہیں بلکہ پلمبر، پینٹر، موٹرمکینک، رکشا وٹیکسی ڈرائیور،ٹائر پنکچر لگانے والے اور سبزی اور پھل فروخت کرنے والے افرادقصابوں کا بھیس بناکرعید کے تینوں دن دیہاڑیاں لگاتے ہیں اوریہی وجہ ہے یہ لوگ بنیادی ہنر اور تیکنکوں سے نا واقفیت رکھتے ہوئے جانور کو ذبح کم ایذا زیادہ پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔جبکہ اس کے بر عکس پیشہ ور قصاب یہی کام نہایت مہارت سے کرتے ہیں کیونکہ وہ نسل در نسل اسی پیشے سے وابستہ ہوتے ہیں۔

عید الاضحٰی کی آمد آمد ہے۔ ہر سال اس موقع پر قربانی کے جانوروں کی بہار آتی ہے۔ ہر گھر میں اِسی بات کا تذکرہ ہوتا ہے کہ گائے خریدی جائے، بکرا لیا جائے یا کہیں حصہ ڈال دیا جائے۔ جہاں قربانی کے جانور آجاتے ہیں وہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں کہ کس کا جانور زیادہ اچھا اور قیمتی ہے۔ جو لوگ مہنگے جانور خرید کر لاتے ہیں وہ بڑے فخر سے اپنے جانوروں کی نمائش کرتے ہیں۔ جبکہ کمزور جانوروں کے مالک ان کی قیمت زیادہ بتا کر اپنا بھرم رکھتے ہیں۔ غرض مقابلہ بازی کی اک فضا ہر جگہ طاری ہوجاتی ہے۔جانوروں کی خریداری کے بعد گھر کے مردوں کی اگلی فکر قصائی کی تلاش اور قربانی کے دن اْس کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ جبکہ خواتین کے سامنے قربانی کے بعد گوشت کی جمع وتقسیم اور پھر اْس کے پکانے کے تھکا دینے والے مراحل ہوتے ہیں۔ پکانے اور تقسیم کا مرحلہ تب ہی آتا ہے جب اس گھر میں قصائی بروقت آ جائے۔مگرعید کے تینو ں دن جن گھرانوں نے قربانی کا فریضہ سر انجام دینا ہوتا ہے وہ اسی بات سے پریشان ہوتے ہیں کہ پیشہ ور قصاب بر وقت کہاں سے لایا جائے؟یعنی عیدالاضحی کی سب سے وی آئی پی شخصیت’’ پیشہ ور قصائی‘‘ سمجھی جاتی ہے اور عید کے دنوں میں پیشہ ور قصائیوں کا اپنا ہی ’’پروٹو کول‘‘ ہوتا ہے۔آپ ان کو منہ بولی قیمت بھی دینے کو تیار ہوں گے مگروہ آپ کے ہاتھ نہیں آتے ان کا رویہ بالکل اس مصرعہ کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے کہ
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں،ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

سب سے خوش قسمت گھرانہ وہ سمجھا جاتاہے جن کا قصائی بر وقت جانور ذبح کر دے اور پھر وہ خاندان گوشت تقسیم کرتے وقت فخر سے اس عظیم کارنامے کے بارے میں بتاتا ہے۔اور جب قصائی کی راہ تکتے تکتے سورج ڈھل جاتا ہے تو گھر کے تمام افراد کا حال بھی برا ہو جاتا ہے کیونکہ اب ان کے لیے دیہاڑی یا موسمی قصائی کی خدمات لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ،وہ ایک طرف تو موسمی قصائی کی تلاش میں سرکرداں ہو جاتے ہیں اور اسے راضی بھی کرلیتے ہیں مگر پھر بھی اداس اور غمگین نظر آتے ہیں کیونکہ وہ باخوبی جانتے ہوتے ہیں کہ اب ان کے جانور اور گوشت سے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔اور وہ یہ الفاظ گنگناکر اپنا وقت گزارتے ہیں
اے درد بتا کچھ تْو ہی بتا! اب تک یہ معمہ حل نہ ہوا

پیشہ ور قصاب کا نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ پھیلتے ہوئے بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی ہے اور اسی قلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جو اس پیشے سے وابستہ نہیں ہوتی ۔۔۔پیسے کمانے بلکہ عید لگانے کے لیے قصائی کا روپ دھار لیتے ہیں اور من مانے پیسے وصول کرنے کے ساتھ ساتھ گوشت کا ستیاناس بھی کر دیتے ہیں۔ جہاں تک بات ہے قصائیوں کی بکنگ کی تو وہ عید الاضحی سے قبل ہی شروع ہو جاتی ہے اور اس سلسلے میں اب قصائیوں نے باقاعدہ ٹوکن نمبرز جاری کرنا شروع کر دیئے ہیں،گلی محلوں اور پرانی آبادیوں میں قصائیوں کی ترجیح علاقے کے وہ ’’چوہدری‘‘ یا ایسے امیر افراد ہوتے ہیں جوتعداد میں زیادہ جانور ذبح کرتے ہیں اور عیدالاضحی کے علاوہ بھی سارا سال ان کی گوشت کی دکانوں سے گوشت خریدتے ہیں اور ان کے مستقل گاہک ہوتے ہیں۔کاروباری برادری اور بڑے صنعتکاروں کے فارم ہاؤسز جہاں درجنوں اوربیسیوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے جانور ذبح ہوتے ہیں ایسے افراد سے تو قصائی عید سے قبل خود ہی رابطہ کر کے اس امر کی یقین دہانی کرواتے ہیں کہ وہ عید پر صرف ان کے جانور ہی ذبح کریں گے۔لاہور سمیت بڑے شہروں کی اربن اور پوش آبادیاں اس حوالے سے زیادہ مسائل کا شکار ہیں۔ پرانے علاقوں کے روایتی لوگ تو قصائی نا ملنے کی صورت میں کزنوں اور بھائیوں کے ساتھ مل کر جانور ذبح کر لیتے ہیں اور باری باری اپنے خاندان کے مختلف گھروں میں خدمات فراہم کر دیتے ہیں تاہم پوش علاقوں کی برگر فیملیز جو بکرا ذبح کرنا تو دور کی بات اسے ذبح ہوتا ہوا بھی نہیں دیکھ سکتی وہ زیادہ مسائل سے دو چار ہیں۔ سارا سال گوشت بیچنے والے معروف برانڈز بھی قربانی کی سہولت فراہم کرتے ہیں اس حوالے سے پوش علاقوں کے لوگ ان کی سروسز سے فائدہ اٹھانے کی کوشش تو کرتے ہیں تاہم ہائی ڈیمانڈ کے باعث انہیں گوشت کے حصول اور اپنی باری کیلئے طویل انتظار کی زحمت سے گزرنا پڑتا ہے۔
رواں سال عید الاضحی پر قربانی کرنے والے لوگوں نے عید کے روزقصائیوں کے پیچھے بھاگنے سے بچنے کے لئے پیشگی رابطے کرکے بکنگ کرانا شروع کر دی ہے۔ قصائیوں کی طرف سے اس مرتبہ اجرت میں گزشتہ سال کی نسبت 500 روپے سے 1500 روپے تک اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں اناڑی قصائی میدان میں آ گئے اور قربانی کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیارہیں بعض قصائیوں کے گروپ کی طرف سے پمفلٹ بھی چھپا کر گھروں گھروں میں تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔رواں سال پیشہ ور قصابوں نے پہلے روزبکرے کی کٹائی کے نرخ3ہزارسے4ہزار، گائے بچھیا کی کٹائی کے نرخ 8ہزارسے 15 ہزار اور اونٹ کو نخر کرنے کے 15ہزارسے 20ہزارجبکہ دوسرے روزبکرے کے2ہزارسے3 ہزار،گائے کے 5ہزارسے 12ہزار اوراونٹ کے10ہزارسے 15ہزاراور تیسرے روزبکرے کے 15سوسے2ہزار،گائے کے 3ہزار سے 8ہزار روپے اور اونٹ کے 8ہزار سے10ہزارتک مقرر کئے ہیں۔ اس کے برعکس موسمی قصاب 50فیصد کم نرخ پر جانور ذبح کرنے پر تیار ہوتے ہیں،مہنگائی کے اس دور میں پہلے تو تگھڑا سا جانورخریدنا اور پھر اس کی قربانی کے لیے پیشہ ور قصاب کی خدمات لینا در حقیقت آسان نہیں ہے ،کیا بیتتی ہے اس پر جس کی عیدقربان پرجیب مسلسل خالی ہورہی ہو؟یہ تو وہی بہتر بتا سکتا ہے۔بہر حال جو اذیت اور حشر قصائی ان کا کرتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ غم و غصہ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگلے سال یا تو قربانی نہیں کی جائے گی اور اگر کرنی بھی ہوئی تو خودہی کر لی جائے گی،،ویسے بھی اگرقصائی غلط گوشت بنا سکتا ہے تو ہم خود کیو ں نہیں ۔قصائی کے حوالے سے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ درزی عید الفطر کا ’’قصائی‘‘ہوتا ہے اور قصائی عید الاضحی کا ’’درزی‘‘ہوتا ہے۔

چونکہ پیشہ ور قصائیوں کے نرخ زیادہ ہوتے ہیں اور اس کی نسبت کی موسمی قصائی کم نرخ اور نا تجربہ کار ہوتے ہوئے بھی عید پر کئی کئی جانور ذبح کرتے ہیں۔اور پیشہ ور قصائی کی قلت اور ان کی جانب سے بھاری معاوضوں سے تنگ آکر شہری موسمی قصائیوں کو قربانی کا کام سونپ دیتے ہیں،مگر غور طلب بات یہ ہے کہ موسمی قصائیوں کو تکبیر تک نہیں آتی وہ بغیر تکبیر کے جانور ذبح کر دیتے ہیں۔ جس سے جانور حلال ہونے کے بجائے مردار ہوجاتا ہے۔

عید کے تینوں دن اگرقصاب نہیں ملتا تو دوسری صور ت میں اپنے اندر کے قصائی کو باہر لانے کا تجربہ بھی کیا جاتا ہے اور اسی لیے عید سے پہلے ہی چند افرادایسی صورت حال پر قابو پانے اورخود قصاب بننے کے لیے چھری اور چاقو تیز کرنے والی دکانوں کا رخ کرلیتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ اب شہر کے مختلف مقامات پر چھری اور چاقو تیز کرنے کے عارضی اسٹال لگ گئے ہیں جبکہ سال کے 12ماہ دھار کا کام کرنے والی دکانوں پر قطاریں لگی ہوئی ہیں، پیشہ ور قصاب اپنے ’’اوزار‘‘ پتھر کی سرخ سل سے تیز کرتے ہیں اس کے برعکس شہر کے مختلف مقامات پر لگائے گئے گرینڈرز سے لوہے کو گھس کر دھار لگائی جارہی ہے،پیشہ ور قصابوں کے مطابق سرخ پتھر کی سل سے تیز کیے گئے اوزاروں کی کاٹ گرینڈر کی دھار سے کہیں زیادہ تیز ہوتی ہے۔چاقو تیز کرنے والی دکان کے سامنے کھڑے ایک شہری محمدماجدکا کہنا تھا کہ عیدالاضحی کے پہلے دو دن تو قربانی کے لئے قصائی کی دستیابی بہت مشکل سے ہوتی ہے۔ اس لئے وہ چھری ، چاقو اور ٹوکا تیز کروا رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی چھری تیز کرنے کے 80 روپے جبکہ بڑی چھری کے 100 روپے چارج کئے جا رہے ہیں۔جبکہ ٹوکا تیز کرنے کے 120 سے 150 روپے وصول کئے جا رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص محمد خان کا کہنا تھا کہ اسکے پاس روز کے 10سے 12گاہک ہو جاتے ہیں جبکہ انہوں نے چھری چاقو تیز کرنے کی قیمت صرف 30روپے رکھی ہوئی ہے۔

شہریوں نے قربانی کے جانوروں کی خریداری تو کر لی لیکن عید الاضحی کے موقعے پر قصاب کی مناسب پیسوں میں بکنگ انتہائی مشکل مرحلہ ہے اس حوالے سے ایک شہری کے قصاب کے حوالے سے تاثرات یہ ہیں کہ اس بار عید الاضحی کے موقع پر جہاں قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں وہیں ان جانوروں کو ذبح کروانے کا مرحلہ بھی انتہائی دشوار گذار ہو چکا ہے۔اس سلسلہ میں بہتر قصابوں کی بکنگ ایک ماہ قبل ہی ہو چکی ہے جبکہ چند ایک قصاب جن کو تعلقات اور بڑی سفارشوں کے عوض جانور ذبح کروانے کے لیے کہا جاتا ہے وہ گائے کو ذبح کرنے کے لیے پہلے روز 15سے 20 ہزار روپے اور بکرے کو ذبح کرنے کے عوض5سے10 ہزار روپے مانگ رہے ہیں جبکہ عید کے دوسرے روز ان کے ریٹ40 سے50 فیصد کم ہونگے جبکہ اس دوران دو نمبر قصائی جو کے دیہاڑی باز اور ان ٹرینڈ ہیں وہ بھی شہریوں کو اپنی خدمات پیش کرنے کے عوض ہزاروں روپے میں سودا طے کر کے بیانہ وصول کر کے ٹائم دے رہے ہیں یوں موجودہ صورتحال میں قربانی کا جانور کسی اچھے قصاب سے مناسب ریٹ میں ذبح کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے اور شہری قصابوں کی من مانیاں ماننے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو چکے ہیں۔ ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ عید الاضحٰی پر پیشہ ور قصائی ڈھونڈنا مشکل ہے اور اگر مل بھی جائے تو اس نے بکرا ذبح کرنے کے 3 سے چ4 ہزار جبکہ گائے ذبح کرنے کے10 ہزار روپے ریٹ رکھے ہوئے ہیں۔لاہور کے رہائشی جاوید اقبال نے انصاف کو بتایا کہ انہوں نے اپنے جانوروں کی قربانی کے لئے نہایت مشکل سے ایک قصائی کو منہ مانگی قیمت پر بروقت آنے کے لئے آمادہ کیا ہے۔قصائی نے فی بکر45 سو روپے اور بڑے جانور کی پہلے دن قربانی کے لئے 15 ہزار روپے اجرت طلب کی تھی لیکن بحث و مباحثے کے بعد بکرے کے لئے 4 ہزار روپے اور بڑے جانور کی عید دوسرے دن قربانی کا10 ہزار روپے معاوضہ طے ہوا ہے۔اس حوالے سے جب ایک پیشہ ور قصاب یوسف خان سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ شہر بھر میں تربیت یافتہ قصابوں کی تعداد کم ہے جس کے باعث ایسی صورتحال کا شہریوں کو سامان کرنا پڑتا ہے۔'لیکن انہی دنوں میں غیر تربیت یافتہ قصابوں کا کاروبار بھی خوب چمکتا ہے وہ ہمارے برابر کے ریٹ طے کر کے گاہکوں کی قربانی کا گوشت ٹھیک سے نہیں بناتے ہیں۔جاوید اقبال نے بتایا کہ قصابوں کے نرخ اور نخرے دونوں آسمان پر ہیں سبھی کی خواہش ہوتی ہے کہ عید کے دن جلد از جلد ان کے جانور کی قربانی ہو جائے جس کا قصاب زائد پیسے وصول کر کے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ishrat Javed

Read More Articles by Ishrat Javed: 69 Articles with 52623 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Aug, 2017 Views: 609

Comments

آپ کی رائے