توحید موت تک

(manhaj-as-salaf, Peshawar)

الشیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ نے توحید کے بارے میں ایک سوال جواب سیشن میں فرمایا۔ اوریجنل آوڈیو ضرور سنیں:

توحید کو لاگو کرنے کا مطلب ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے، شرک کے شر و بدعت وگناہوں سے بچتے ہوئے۔ اور اگر ایک شخص اس میں واقع ہو جائے تو سچی توبہ کی طرف جلدی پلٹے۔

تو اگر کسی نے ایسی ہی کیا تو اس نے توحید کو لاگو کیا۔ اور سب سے برتر پہلو اسکا یہ ہے کہ اس میں (توحید پر) صبر ہو۔ اور وہ اس پر استقامت سے رہے حتی کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملاقات کر لے، اس سے قبل کے وہ فتنہ میں آ پھنسے۔

یہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص میں اخلاص ہو، توحید کی قوت بھی ہو اور اس کو لاگو کرنے کا جذبہ بھی۔ لیکن وہ اس پر قائم نہ رہ سکے ۔ ولعیاذ باللہ ۔ اور اللہ کی پناہ طلب کی جاتی ہے ایسے حالات سے۔

اس لیے (ایک شخص کے) اعمال کا دارومدار خاتمے پر مرکوظ ہے۔ یہ مشروط ہے اس کے موت کے وقت تک۔ اس طرح کے وہ اس دنیا سے رخصت ہو اس پر (توحید پر) اس سے قبل کہ وہ اس پر قائم نہ رہ سکے یا فتنہ میں پڑ جائے۔

اور اسی لیے سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے:

اقتدوا بمن مات فإن الحي لا تؤمن عليه الفتنة

ان کی اقتدا کرو جو وفات پاگئے ہیں (علماء)، تقلید کرو ان کی جن کی وفات ہوگئ۔ اس لیے کہ اس بات کی کوئ ضمانت نہیں کہ جو زندہ ہے وہ فتنہ سے محفوظ رہے گا۔

جو انسان بھی ان میں سے ہیں۔ زندہ کی کوئ ضمانت نہیں ہے کہ وہ فتنہ (گمراہی) سے بچ جائیں گے۔

فتنہ کے (طرف) کئ دروازے ہوتے ہیں۔ ایک شخص فتنوں میں پڑ جاتا ہے شہوات کی وجہ سے، شبہات کی وجہ سے، قیادت کی کشش کی وجہ سے، اور زیادہ پیروکاروں کی وجہ سے۔

فتنہ مختلف انواع کا ہوتا ہے۔ تو جس کو اللہ نے ثابت قدمی سے اس کی موت کے وقت تک توحید کو لاگو کرنے والا بنایا، تو وہ داخل ہوگیا جنت میں بغیر حساب اور بغیر سزا کے۔

نوٹ: یاد رہے کہ یہاں سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ سنہ نے اقتدا سے مراد تقلید نہیں بلکہ اتباع ہے کیونکہ دوسری رویات میں فرمایا:
اغد عالما او متعلما ولا تغد امعتہ بین ذلک

ترجمہ: عالم بنو یا متعلم (سیکھنے والے،طالب علم) بنو، ان دونوں کے درمیان (ان کے علاوہ) مقلد نہ بنو۔
(جامع بیان العلم و فضلہ 1/ 71-72 ح 108 وسندہ حسن)

الشیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ کی اس قول کی عربی یہاں سنیں:
https://www.youtube.com/watch?v=xOQckgqLG2Y
Implement Tawheed until Death - Shaykh Muhammad Amaan al-Jaami Rahimahullah

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: manhaj-as-salaf

Read More Articles by manhaj-as-salaf: 287 Articles with 222600 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Sep, 2017 Views: 601

Comments

آپ کی رائے
ایک چیز جس کی الشیخ رحمہ اللہ نے وضاحت کی کوشش کی اور ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم امت میں مکمل طور پر قرآن کریم اور مستند سنت کو زندگی میں لاگو کرنا چھوڑ دیا ہے اور وہ ان کو نہیں سیکھ رہی ہے. بلکہ وہ امت اسے صرف برکت کے حصول کے لئے سیکھتی ہے. اور اسی لیے قرآن اور سنت نے ہماری زندگی میں اپنا رنگ نہیں دکھا رہا، کیونکہ ہم نے ان کو اصول کیفیت میں ترک کردیا ہے.

امت کی بحالی کا موقع بہت کم ہے. جب تک ہم قرآن اور سنۃ اور توحید کو واپس اپنی زندگی میں نہیں لائیں گے. اور شرک سے دوری کی دعوۃ کو عام نہیں کریں گے، افسوس یہ ہے کہ جس میں آج عومی طور پر امت مبتلا ہے (اس کے سوا کہ جو اللہ تعالی کی رحمت سے بچ گیا).
By: manhaj-as-salaf, Peshawar on Sep, 20 2017
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ