برما کے روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
یہ لوگ اب بنگلہ دیش اور برما کی سرحد کے درمیان سمندر کے کنارے دلدلی زمین والے علاقوں میں جھونپڑیاں بنا کر رہتے ہیں جہاں انہیں دنیا کی کوئی سہولت میسر نہیں۔
حکومت ان کے علاقوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کرتی بلکہ ان پر تو یہ پابندی بھی عائد ہے کہ یہ پیدل بھی ملک میں تو کجا، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک کا سفر نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ کوئی کاروبار نہیں کر سکتے، ان کے علاقوں میں کوئی اسکول نہیں یعنی ان کے بچے ہمیشہ ان پڑھ ہی رہتے ہیں اور ان کے تعلیم حاصل کرنے پر بھی پابندی ہے۔ برما کی حکومت نے تو ان کے پھل اور انڈے تک کھانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، مبادا کہیں یہ صحت مند ہو کر حکومت کیلئے خطرہ نہ بن جائیں۔ جون 2012ء میں ان پر اس حالت زار میں بھی بے پناہ مظالم ہوئے، ان کی بے شمار جھونپڑ بستیوں کو جلا دیا گیا اور بے شمار عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیا گیا۔

دنیا کی مظلوم ترین قومیت کہلانے والے روہنگیا مسلمانوں کی خبریں اس وقت ساری دنیا میں گردش کر رہی ہیں، کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ جمعہ سے بودھا کے پیروکار بودہسٹ دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ بودہسٹ ظالم افواج نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے مظلوم بے بس اور نہتے مسلمانوں پر قاتلانہ حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، فی الوقت سینکڑوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش اور برما کے سرحدی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ برما میں حکومتی مظالم سے تنگ آ کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں

تاکہ وہ زندگی کی چند سانسیں اطمینان و سکون سے گزار سکیں۔ لیکن لگتا ہے کہ سکون ان کے نصیب میں نہیں۔ یہ دنیا کی واحد ایسی قومیت ہے کہ جن کے پاس کسی ملک کی شہریت نہیں یعنی کاغذات کے اعتبار کے لحاظ سے یہ دنیا کے انسانوں میں شمار ہی نہیں ہوتے۔ رہنے والے تو یہ برما کے ہیں لیکن برما نے ان کی شہریت 1982ء میں یہ کہہ کر منسوخ کر دی کہ ان کا برما کی سرزمین سے کوئی تعلق نہیں۔ اس وقت سے ان مسلمانوں پر بے پناہ مظالم شروع ہوئے۔ برما کی حکومت نے ان پر پابندی لگائی کہ وہ پختہ مکان نہیں بنا سکتے، دو سے زائد بچے پیدا نہیں کر سکتے، شادی کیلئے رجسٹریشن ضروری ہے جو اس قدر مشکل ہے کہ کسی عذاب سے کم نہیں۔

یہ لوگ اب بنگلہ دیش اور برما کی سرحد کے درمیان سمندر کے کنارے دلدلی زمین والے علاقوں میں جھونپڑیاں بنا کر رہتے ہیں جہاں انہیں دنیا کی کوئی سہولت میسر نہیں۔

حکومت ان کے علاقوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کرتی بلکہ ان پر تو یہ پابندی بھی عائد ہے کہ یہ پیدل بھی ملک میں تو کجا، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک کا سفر نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ کوئی کاروبار نہیں کر سکتے، ان کے علاقوں میں کوئی اسکول نہیں یعنی ان کے بچے ہمیشہ ان پڑھ ہی رہتے ہیں اور ان کے تعلیم حاصل کرنے پر بھی پابندی ہے۔ برما کی حکومت نے تو ان کے پھل اور انڈے تک کھانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، مبادا کہیں یہ صحت مند ہو کر حکومت کیلئے خطرہ نہ بن جائیں۔ جون 2012ء میں ان پر اس حالت زار میں بھی بے پناہ مظالم ہوئے، ان کی بے شمار جھونپڑ بستیوں کو جلا دیا گیا اور بے شمار عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیا گیا۔

یہ لوگ فریاد بھی نہیں کر سکتے کیونکہ برما کی حکومت ان کی کوئی فریاد نہیں سنتی اور یہ پولیس کے پاس بھی نہیں جا سکتے۔

انہی حالات کے پیش نظر ان کی بڑی تعداد نے اپنا علاقہ چھوڑا، سعودی عرب نے چار لاکھ کو پناہ دی، ملائشیا میں ایک لاکھ سے زائد پناہ گزین ہیں تو پاکستان میں بھی دو لاکھ کے لگ بھگ رہائش پذیر ہیں۔ ان کے لئے سب سے آسان علاقہ بنگلہ دیش تھا جہاں اب بھی ان کی تین لاکھ آبادی برما کی سرحد کے کنارے انتہائی غیرانسانی ماحول میں انتہائی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرتے ہوئے زندگی بسر کر رہی ہے۔

یہ لوگ صرف زندگی کی ڈور کوٹوٹنے سے بچانے کیلئے اپنی واحد متاع بوسیدہ اور کمزور کشتی کو سہارا بناتے ہیں، اس میں چند دن کی خوراک رکھتے ہیں اور پھر سمندروں میں کود جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی ملک کے ساحل پر جا کر اتریں گے تو کم از کم جینا تو کچھ آسان ہو جائے گا۔ اب تک ہزاروں روہنگیا مسلمان اسی آس و امید میں سمندروں میں کمزور و بوسیدہ کشتیاں ہونے کی وجہ سے غرق ہو کر سمندری مخلوق کی خوراک بن چکے ہیں (ویسے تو ان کے جسم بھی ہڈیوں کے پنجرے ہی ہیں، سمندری مخلوق کو بھی ہڈیوں کے علاوہ کچھ میسر نہیں آتا ہو گا)۔

ان کے ساتھ سمندروں میں کودتے ہوئے ایک اور حادثہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی سمگلر انہیں جھانسہ دے کر پھانستے ہیں، ان کی تمام جمع پونجی ان سے چھین کر انہیں ملائشیا پہنچانے کے نام پر کشتیوں میں سوار کرتے ہیں اور پھر کھلے سمندر میں چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔

کچھ کو انسانی سمگلر قیدی بنا لیتے ہیں۔ ان کی رہائی کے لئے ان کے لواحقین سے تاوان طلب کرتے ہیں یا پھر انہیں آگے بیچ دیتے ہیں۔ ہزاروں روہنگیا مسلمان انہی چکروں میں تڑپ تڑپ کر جنگلوں، دلدلی علاقوں اور ویرانوں میں موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ سینکڑوں تو قید ہیں۔ گزشتہ سال مئی کے آخر میں ملائشیا اور تھائی لینڈ کی سرحد پر اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ یہ لوگ اگر تھائی لینڈ پہنچ جائیں تو بھی آسانی نہیں کہ وہاں ظلم پہلے سے کہیں بڑھ جاتا ہے۔

ان سب حالات کے باوجود دنیا کا انسانی حقوق کا کوئی ادارہ ان کے حق میں زبان کھولتا نظر نہیں آتا۔ وہی ادارے جنہیں ہمارے ملک میں ملالہ یوسف زئی اور مختاراں مائی جیسے کردار مل جاتے ہیں، انہیں یوں سسکتے، تڑپتے، مرتے روہنگیا مسلمان کبھی نظر نہیں آتے۔ اقوام متحدہ نے اگرچہ بار بار کہا ہے کہ یہ لوگ دنیا کی مظلوم ترین مخلوق ہیں لیکن اقوام متحدہ ہی نہیں، ساری دنیا کے سارے اعزازات و انعامات تو صرف ملالہ کیلئے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 85206 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Sep, 2017 Views: 562

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ