ناول’’لفظوں کا لہو ‘‘ کی نادیدہ فضا

(Salman Abdus Samad, India)

صدف اقبال

ناول نگار: سلمان عبدلصمد
صفحات:224
قیمت :100
اشاعت اول:2016
ْْٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓٓاشاعت دوم:2017
موبائل:9810318692
ناشر :دائمی پرواز ایجو کیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی ، لکھنو
یہ سچ ہے کہ ناول سماج کا رزمیہ ہے ،تاہم رزمیاتی سُروں میں فقط آہ وفغاں کی شمولیت ہو تو ناول، ناول نہ رہ کر ایک مرثیہ بن جائے گا یاپھر حد سے حد صحافتی سروکارکی وجہ سے موجودہ سماج کا عمومی تناظر میں تاریخی دستاویز ہو کر رہ جائے گا۔ ناول کی کامیابی اور ناکامی کے انکھوے یہیں سے پھوٹتے ہیں کہ وہ سماج کا رزمیہ بننے کے بعد اپنی شمولیت کس زمرہ میں کرواتا ہے ۔ آیا وہ فقط واقعات کا محض کھتونی بن کر رہ گیا ہے یا سماجی سرورکار اسے فقط صحافتی دستاویز بنا دیتا ہے یا پھر سماج کے موجودہ حالات کو ایک فنکار تخیلاتی دماغ اور تجزیاتی ذہن کے ساتھ ناول کو وہاں تک پہنچا دیتا ہے ، جہاں ناول آہ وفغاں کا بھی پتا دے ۔ رزمیاتی عناصر کی بھی عکاسی کرے اور ساتھ ہی ساتھ وہ سب کچھ بھی دکھانے اور سُجھانے کی کوشش کرے ، جسے دیکھنے سے عام آنکھیں قاصر ہیں۔ نوخیز ناول نگار سلمان عبدالصمد کا ناول’’لفظوں کا لہو‘‘ وہ بھی دکھاتا ہے ، جو ہم بآسانی نہیں دیکھ سکتے۔ گھنگھور گھٹاؤ ں میں وہ بھی سجھا دیتا ہے ، جسے دیکھ لینا آسان نہیں۔اس ناول میں فلسفہ فقط فلسفہ نہیں ، بلکہ اصولیات زندگی کا عام فہم حصہ بن جاتا ہے ۔
سلمان عبدلصمد نے ایک حساس انسان کے طور پر ملکی حالات و واقعات کا جائزہ لیا ہے اور پھر انہیں دلدوزی کے ساتھ صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔ اس ناول میں غم و اندوہ کی مثالیں آسانی سے ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ناول ایک ایسے پلاٹ پر تعمیر کیا گیا، جہاں گھر کے آنگن سے شروع ہونے والی کہانی سیاسی گلیارں میں عروج پہ پہنچتی ہے ۔ سلمان عبدالصمد نے اسی زمین سے جڑے عام کرداروں کو منتخب کیا اور ایک ایسی کہانی تشکیل دی جو اس وقت کے سیاسی حالات اور سماجی و معاشی مسائل کا احاطہ کرتی ہے ۔ سلمان عبدالصمد نے انہی مسائل کے گرد کچھ اہم سوالات بھی اٹھائے۔ناول کے کردار نئی قوم کے بنتے بگڑتے حالات اور سماجی و سیاسی مشکلات کی خاردار جھاڑیوں سے الجھتے ہوئے سیاست کے کھڑے کئے گئے ایوان میں سچائی کا علم بلند کئے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ناول کی قرات اور اس پر غور کرنے کے بعد زندگی کی عریاں حقیقتیں ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں ۔
ناول میں یہ کامیابی کے ساتھ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ میڈیا کا کردارکس قدر گھٹ گیا ہے ۔اعلیٰ اخلاقی اقدار ، مساوات اور معاشی انصاف کے کبھی اٹھائے ہوئے علم کب کے سرنگوں ہو چکے ہیں۔صحافت واقعتاََ ایک روایتی اور کمر شیل شعبہ کے طور پہ سامنے آ رہا ہے جہاں صحافتی آدرشوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ذات اور مالی منافع کو پیش نظر رکھا جاتا ہے ۔ ناول پڑھتے ہوئے ہمیں جا بجا سلمان عبدالصمد کے مشاہدے کی گہرائی ، انسانی نفسیات کے عمیق مطالعہ کا ادراک ہوتا ہے۔ اگر ناول کا پلاٹ اور موضوع کے ساتھ اسلوب بیان بھی دلچسپ اور موثر ہو تو ناول قاری کو بہت جلد اپنے حصار میں لے لیتا ہے ۔’’ لفظوں کے لہو‘‘ میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود ہے ۔ ناول میں اقدار کی لمحہ بہ لمحہ شکست وریخت ، ذات کابحران ، بے چہرگی کا المیہ ، ماحول سے بے چینی ، تنفر اور بے زاری ، انفرادی اور اجتمائی کوفت اور خوف و دہشت ، معاشی ناہمواری اور طبقاتی تضادات ، بے رحم سرمایہ دارانہ استحصال ، بے گانگی اور سیاسی جبر و استبداد وغیرہ کی کامیاب عکاسی کی گئی ہے ۔
ناول کے واقعات اور کرداروں میں ایک متوازن ربط موجودہے اوریہ ربط بڑے فطری انداز میں نمایاں ہے۔منظر نگاری کو بہت خوبصورتی سے ناول میں پینٹ کیا گیا ہے ۔ ہمیں کردار زندہ جاوید ہوکر اپنے گرد چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ سلمان عبدالصمد زبان کا شعور رکھتے ہیں اور مکالمے کے آہنگ سے خوب آشنا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول میں واقعیت اور شعریت کا ابتدا میں ہی احساس ہو جاتا ہے۔ ناول کا بیانیہ حد درجہ سلیس اور زبان عام فہم اور رواں ہے جو قاری کو قرأت کے درمیان رکنے نہیں دیتا ۔ا س کی سب سے بڑی وجہ اس کا خوبصورت طرز بیانیہ ہے ۔ ساتھ ہی ایک اخلاقی اور تعمیری پہلو بھی ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے ۔
ناول حالانکہ اپنے مرکزی کردار محسن سے شروع ہوتا ہے مگر اس کے تین نسائی کردار نائلہ ،زنیرا اور نیلا کے گرد کہانی زیادہ تر گھومتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ ذہنی انتشار ، تنہائی کا احساس ، فکر کی بھٹی میں جلتے رات دن ، رشتوں کی شکست و ریخت ، زندگی کے اندھیرے سے لڑنے کی کوشش کے ساتھ ہی عورتوں کی نفسیات، انکی چھوٹی چھوٹی خوشیاں، ان کی محرومیاں ان کے دخول کے کرب کو برتنے کی ناول نگار نے کامیاب کوشش کی ہے ۔ اس ناول میں ہمیں معاصر دنیا کا رنگ جگہ جگہ جھلکتا ہوا نظر آتا ہے۔ ساتھ سلمان عبدالصمد کے تجربے اور مشاہدے کی جھلکیاں اس میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اگر اس طرح کے ناول ذہن و دل کو جھنجھوڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اسے ہم بلاجھجھک ’’لفظوں کا لہو‘‘ کوایک کامیاب ناول تسلیم کر سکتے ہیں ۔
سلمان عبدالصمدنے اس ناول میں صرف صحافتی مشکلات وانسلاکات،اس کے گنجلک راستے، صحافت کے سیاہ چہروں سے نہ صرف پردہ اٹھایا ہے ،بلکہ نازک ترین رشتوں اور ان رشتوں سے پیدا ہونے والی کش مکش ، جذباتیت ، رنگا رنگی کو بھی ناول کے پلاٹ میں شامل کیا ہے ۔ اس ناول میں زندگی اپنی تمام تر قوت ، حسن اور روانی کے ساتھ موجود ہے ۔ عورتوں کی نفسیات کا اتنا گہرا مشاہدہ ہمیں حیران کر دیتا ہے۔ ناول کی ابتدا میں ہمیں دو سوتنوں کی آپسی چپقلش ایک دوسرے سے روایتی بغض ، نفرت ، حسد دکھائی دیتا ہے تو یہی نفرت اور حسد جب ان کا شوہر پردیس چلا جاتا ہے تو آپسی یگانگت، خلوص اور محبت میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ اور وہ دونوں آپسی معاملات میں جو کردار ادا کرتی ہیں ،وہ مثالی ہے ۔ عورتیں جب گھر کے اندر ہوتی ہیں تو کسی نازک ترین شیشے کی مانند ہوتی ہیں مگر جب یہی عورت گھر سے باہر نکل کر سماج کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو جاتی ہے تو ایک پہاڑ کی طرح مضبوط بن جاتی ہے ۔ آندھیوں کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ جب بہت سی عورتیں میڈیا گھرانے سے جڑتی ہیں تو اپنے ضمیر کی آواز کو عام صحافیوں کی طرح مصلحت کی لوری سنا کر دباتی نہیں بلکہ جو سچ ہے، حق ہے اسکا ساتھ دیتی ہیں۔معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں۔ انصاف کے لئے لڑتی ہیں اور بالآخر جیت انہی کی ہوتی ہے۔ نیلا کا کردار اس تناظر میں ہمیں متاثر کرتا ہے۔
اس ناول کے صفحات اور اس کے بین السطور سے مجھے یہ احساس ہوا کہ یہ ناول نہ صرف صحافتی دنیا کی سیاہی کو اجاگر تا ہے ، بلکہ عورتوں کی نفسیات ،ان کی مضبوط قوت ارادی اور عزائم کوبھی ظاہر کرتا ہے ۔ سلمان مجھے ہر جگہ نسائی آزادی کے حامی نظر آتے ہیں اور قومی بے حسی کا نوحہ گر بھی محسوس ہوتے ہیں۔ سلمان کی نسائی آواز نہ صرف مرد اساس معاشرہ سے جا ٹکڑاتی ہے ، بلکہ نسائی دنیا میں نسائی آواز کو وہ قوتِ گویائی دیتے ہیں ،جن سے ایک عورت دوسری عورت کی فلاح کے لیے غور وفکرپر مجبور ہو جاتی ہے ۔ ورنہ عموماً مرد اساس معاشرہ کے ضمن میں نسائی آواز بلند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، تاہم سلمان نے نائلہ ، زنیرا اورنیلا کے ارتباط سے خود عورتوں کے لیے عورتوں سے جو کڑیاں جوڑنے کی کوشش کی ، وہ شاید ہی کہیں اور نظر آئے۔
اس ناول میں جہاں زندگی کی تلخی ہمارے حلق مین کڑواہٹ بھر دیتی ہے وہیں ناول کی رومانی فضا ہمیں شرسار بھی کرتی ہے۔ رومان اور جنس سے ناول نگار کو اجتناب نہیں ہے بلکہ اس ناول میں جنس کو بڑی خوبصورتی سے برتا گیاہے کہ کہیں بھی ناول نگار خود لذّتی کا شکار نظر نہیں آتا۔ سلمان عبدالصمد فکر و خیال کی روندی ہوئی راہوں پر چلنے کے بجائے اپنی راہیں خود متعین کرتے ہیں اور پوی تمکنت اور اعتماد کے ساتھ اس پر گامزن رہتے ہیں بلکہ اپنی ذہن رسا سے تخلیق پر حاوی ہو جاتے ہیں ۔ یہ ناول نگار کی فکری اپچ کی ہی دین ہے کہ اس نے کسی مفکر کے قول میں کچھ اضافہ کرکے ایک نیا گوشہ پیدا کردیا ہے اور نئی بھوک کو معاشرہ سے مدغم کردیا ہے ۔ناول’’لفظوں کا لہو‘‘ ہمیں جا بہ جا سلمان عبدالصمد کی فکری گہرائی اور بالغ النظری کا احساس کراتا ہے۔ ہماری روح کی گہرائی میں سرایت کرکے انسانیت کا درد جگاتا ہے۔ ساتھ ہی ’’ صرف حق کا مطالبہ ہی نہیں ، حق پیدا کرنا اور حق کی پرورش کرنا بھی میرے لحاظ سے صحافیوں کا فریضہ ہے ۔ یہ کہنے سے صحافیوں کو چھٹکارا نہیں ملے گا کہ جو معاشرہ میں ہو رہا ہے ، اسے ہی دکھا دینا ہمارا فریضہ ہے ۔ جو ہو رہا ہے اسے دکھانے کی ضرورت ہی کیا ، وہ تو خود ہی دکھ رہا ہے ۔ انہیں یہ بھی دکھانا ہے ، جو ہو سکتا ہے ۔ ‘‘ جیسے جملے بھی ہمیں یہ ناول دے جاتا ہے۔
یہ ایک بھرپور ناول ہے جس کا ڈکشن ، پلاٹ ، منظر نگاری ، مکالمے ، بیانیہ ، کردار، جزیات نگاری ادبی ذوق کی پوری طرح تسکین کا سامان ہے۔بے شمار واقعات ،وضاحت کے باوجود کہیں بھی بیانیہ بوجھل پن کا شکار نہیں ہوا۔ یہی اس ناول کے کامیاب ہونے کی ضمانت ہے۔بلکہ اپنی عمر کی نوخیزی کے پراؤ میں ہی ناول نگار نے اپنے فلسفیانہ رنگ اور فکری جہت سے ناول میں رنگ بھرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ان کے حساس قلم نے ایک بہت ہی نازک موضوع کو چھوا اور نہایت کامیابی اور چابک دستی سے اس موضوع کا حق ادا کیا۔انہوں نے ناول میں فکر انگیز پہلو کو بہت کمال کے ساتھ قاری کے سامنے نکال کر رکھ دیا۔ناول میں ڈھیروں سوال ہیں ۔کہیں ان کا جواب بھی موجود ہے اور کہیں قاری کی سمجھ پہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ناول میں خوف و دہشت، بے چینی،بے سمتی،تعصب کی بہتی ہوئی زہریلی فضا، سڑی گلی انسانیت ،زوال آمادہ اقدار کا نوحہ بھی ہے ۔ ناول کے پورے بطن میں ایک گہرے اور کاٹ دار طنز کی آمیزش ہے ۔اس طنز میں راوی کی ذہنی الجھنیں اور پریشانیاں بھی ملتیں ہیں۔ بلا شبہ ناول میں فہم و ادراک کی ایک دنیا بسی ہوئی ہے ۔
لب لبا ب یہ ہے کہ چند اغلا ط سے قطع نظر اس ناول میں لسانی جدت کا احساس ہوتا ہے۔ کیوں کہ غیر اہم واقعات کو فلسفیانہ رنگ و آہنگ اور لسانی جدت سے اہم بنانے کی کوشش میں سلمان کو کامیابی ملی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناول نگار نے شعوری طورپر جزئیات نگاری میں غیراہم واقعات کو اہم بنادیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ناول کے ایوینٹس اور بکھرے ہوئے واقعات ہمارے سماج سے قریب تر نظر آتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ سلمان نے بند کمرے میں بیٹھ کر اپنے ناول کا ڈرافٹ تیار نہیں کیا ، بلکہ گرد وپیش کو انھوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ زندگی کی نشست وبرخاست کا محاکمہ شگفتہ انداز میں کیا ہے۔ بس کا سفر ہو کہ آٹو کا ، وہاں سے بھی ناول نگارنے فلسفیانہ اساس کشید کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے جابجا ایسے واقعات ناول کے وسیع کینوس کا حصہ بنتے ہیں ، جو انتہائی سرسری بلکہ سطحی معلومات ہوتے ، تاہم فلسفیانہ رنگ وآہنگ نے ایسے بے اعتنا جملوں کو بھی پرکشش بلکہ رازِ حیات سے قریب تر کر دیا ہے۔یہاں یہ کہنے میں بھی کوئی باک نہیں کہ ناول نگار کی نوخیزی لسانی سطح پر نوخیزیت کا احساس دلاتی ہے ۔ لسانی نوخیزی میں جہاں چونکانے والے فلسفیانہ جملوں کی شمولیت ہے ، وہیں بعضے مقامات پر تسامح کا بھی احساس ہوتا ہے ۔ اسی طرح ناول کا مربوط پلاٹ اور مختلف ایوینٹس بھی پرکشش ہیں۔ ناول کا تکنیک بھی قابل توجہ ہے، کیوں کہ مختلف صفحات پر ناول کو مختلف رنگوں سے سنوارنے کا کام کیا گیا ہے، جیسا کہ ابتدائی صفحات میں فلسفیانہ رنگ وآہنگ گہراہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فقط دو سوتنوں کے حالات وواقعات کے سہارے ہی ناول آگے بڑھے گا،تاہم جب ناول مزید آگے بڑھتا ہے تو واقعاتی سطح پر ناول کا رنگ بدلا ہوا محسوس ہوتا ہے ، جب اور آ گے بڑھتے ہیں تو بکھرے کینوس اور مختلف واقعات ایک تھیم کے ساتھ مربوط ہوجاتے ہیں۔ اس سطح پر ناول ہمیں سابقہ فضاؤں سے جوڑ دیتا اور تین ابواب میں منقسم یہ ناول آخر تک پہنچتے پہنچتے مربوط انداز میں کئی قابل قدر سوالات کوجنم اور متعدد سوالات کے جوابات دیتا ہوا ہمیں اپنے اندر مدغم کرلیتا ہے ۔
ََََََََََََـ




سوانحی کوائف
نام : عبدالصمد
قلمی نام : سلمان عبدالصمد
ولادت : 9 198
جائے پیدائش: دربھنگہ(بہار)
تعلیم : بی. اے 2011، لکھنو یونیورسٹی ، لکھنو(یوپی)
ایم. اے 2014دہلی یونیورسٹی ، دہلی
ایم فل2016 :جے این یو نئی دہلی (موضوع: اردو میں نفسیاتی کہانیوں کی روایت )
پی ایچ ڈی (جاری )جے این یو نئی دہلی (اردو ناولوں کا اسلوبیاتی مطالعہ )
مشغولیت : صحافت ، افسانہ نگاری ، تنقید
چند اچھے افسانے : نیا خدا ، بریانی ، دامودر داس، لاپتہ نوجوان ، بلی کا بکر ا،چوتھا ستون ،نتھ ، ٹکٹ ، صلیب
کتابیں : قرآن کا نظریہ سیاست ، دائمی پرواز ایجوکیشنل سوسائٹی ، لکھنو 2012۔
غضنفر کا فکشن ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ، دہلی ، 2014
لفظوں کا لہو ، دائمی پرواز ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی لکھنو ، 2016
لفظوں کا لہو ، دائمی پرواز ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی لکھنو ، 2017(اشاعت دوم)
اردو میں نفسیاتی کہانیوں کی روایت (زیر طبع )
متھلا میں اردو صحافت (زیر طبع )
عکس برعکس (مجموعہ مضامین ، زیر طبع )
مکان کے حدود وامکانات (مرتبہْ/زیر طبع)
(پیغام کے آفاقی ناول کا جائزہ )
سکونت اصلی : گجبور، پوسٹ بّرا ، تھانہ کوشیشور استھان، ضلع دربھنگہ(بہار)
سکونت عارضی : روم نمبر 29ماہی ، جے این یو نئی دہلی
موبائل : 9810318692
ای میل : [email protected]

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Abdus Samad

Read More Articles by Salman Abdus Samad: 90 Articles with 63076 views »
I am Salman Abdus samad .I completed the course of “Alimiyat” from Islamic University Darul Uloon Nadwatul Ulama Lucknow. Right now doing the course o.. View More
11 Sep, 2017 Views: 773

Comments

آپ کی رائے