تسّلیوں کے حروف

(Sultan Shaheen, )

تسّلیوں کے حروف مختلف النّوع کالموں کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے سرزمین ملتان کے عظیم فرزند ، ادبی ، ثقافتی، سماجی ، علمی، فکری اور تخلیقی سرگرمیوں اور تقریبات کی جان ، دانشور ، نامور کالم نگار، ہردل عزیزشخصیت عامر شہزاد صدیقی کے تجرباتی قلم کی تخلیق یہ کالموں کا مجموعہ قدرت کے سارے رنگوں کی ایک قوس قزح ہے۔ جو اس عظیم تخلیق کار نے کتابی شکل میں اپنے چاہنے والوں کو بڑی محبتوں اور خلوص کے ساتھ پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں۔
میرے حروف تہجی کی کیا مجال کہ وہ
تجھے شمار میں لائیں ترا حساب کریں

قارئین کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ کافی سوچ بیچار کے باوجود کچھ سمجھ نہ آیا کہ اس خوبصورت اور معلومات افزاء کتاب پر بات کہاں سے شروع کی جائے۔ صاحب کتاب کی یہ تیسری تخلیق ہے۔ان کی کالموں کی پہلی کتاب حرف یکتاکی تقریب رونمائی کے وقت ان سے شناسائی حاصل ہوئی جو گزشتہ کئی سالوں سے گہری دوستی اور قربت میں بدلتی چلی گئی۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ گزشتہ کئی سالوں کے اس تعلق کی وجہ سے ہماری کئی ملاقاتیں اسلام آباد، مری اور ملتان میں ہوئیں اور ہم نے کچھ وقت اکٹھے گزارا جس سے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کا اچھی طرح موقع ملا۔وقت کے ساتھ ساتھ ہماری قربتوں اور دوستی کے اس تعلق میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا۔ اور آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اﷲ کرے عامر شہزاد صدیقی جیسابے شمار خوبیوں کا حامل دوست سب کو میسر آئے کہ جس کے پاس بیٹھنے، باتیں کرنے اور اس کے ساتھ وقت گزارنے میں انسان کو خلوص ، محبت اور دوستی کی پرکیف خوشبومحسوس ہوتی ہے ایک بے لوث اپنائیت اور چاہت کا احساس ہوتا ہے۔صاحب کتاب کی شخصیت ہو یا ان کی تیسری تخلیق تسّلیوں کے حروف دونوں میں سے کسی پر بھی بات کی جائے دونوں ہی منفرد حیثیت کے حامل ، قابل تعریف ، قابل احترام اور اپنائے جانے کے قابل ہیں۔ان کے معلومات افزا، پرتاثیر کالم علم و عرفان کا ایک خزانہ ہیں ۔صاحب کتاب کی مقناطیسی شخصیت اور اس میں پائی جانے والی بے شمار خوبیوں کا یہ اعجاز ہے کہ ان کا حلقہء احباب اتنا وسیع تر ہے جتنا جھوٹ بولا جاسکے۔ان کی شخصیت کی طرح ان کی تخلیق تسّلیوں کے حروف بھی اپنی گونہ گوں خوبیوں اور خوبصورتیوں کے ہمہ جہت پہلوؤں سے مزّین ہے۔ عامر شہزاد صدیقی کے بعض کالموں کے ساتھ کچھ احباب نظریاتی ، سیاسی یا مذہبی اختلاف کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ انہوں نے اپنے خاص زاویہ نگاہ سے حالات کو دیکھا ، سمجھا اور اسے اپنے مخصوص انداز ، نقطہء نظر اور اسلوب تحریر کے مطابق پیش کیا ہے۔ ان کا فن کالم نگاری ، لفظوں کا چناؤ اور واقعات کو اپنی درست حالت میں بیان کرنے کا ملکہ اپنی مثال آپ ہے۔ عامر شہزاد صدیقی اپنے کالموں کے ذریعہ قاری کو جو پیغام دینا چاہتے ہیں اور جس معاشرتی ناہمواری سے پردہ اٹھانا چاہتے ہیں یہ فرض انہوں نے بہت خوبصورتی سے نبھایا ہے۔

یوں تو قارئین کی زیادہ دلچسپی شاعری، افسانہ نگاری اور ادب کی دیگر اصناف میں ہوتی ہے۔ لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ کالم نگاری ایک مشکل ترین فن ہے اور کالم نگار معاشرے کے اندر پائے جانے والے مسائل نہ صرف اجاگر کرتا ہے بلکہ ان مسائل کو حل کرنے میں اپنی حد تک تجاویز اور طریقے بھی پیش کرتا ہے۔ عامر شہزاد صدیقی نے کتاب کے پیش لفظ میں بھی ان ساری باتوں کا نچوڑ بیان کردیا ہے۔ انہوں نے اپنی بھرپور علمی اور تجرباتی صلاحیتوں کے باوجود حرف و لفظ سے محبت اور حرمت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی کم مائیگی کا اظہار کیا ہے۔ آپ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے قول کو پیش نظر رکھتے ہوئے لکھتے ہیں میں احباب کی بزم میں اپنے لئے زمین پر جگہ تلاش کرنا پسند کرتا ہوں کیونکہ زمین پر بیٹھنے والاکبھی گرتا نہیں ہے۔ ویسے بھی زمین اور عرش کا بہت مضبوط رشتہ ہے جب زمین پر سجدہ ریز ہوکر سرگوشی میں دعا کی جاتی ہے تو میری دعا عرش پر سنی جاتی ہے۔ عامر شہزاد صدیقی کی اس شوق اور ولولے کی سرگوشی کو علامہ اقبال کی زبان میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔
میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں۔
ایک غلغلہ ہائے الاماں بت کدہ صفات میں۔

عامر شہزاد صدیقی نے اپنے ایک کالم کن چراغوں کی بات کرتے ہومیں خود کش دھماکوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لکھا ہے پشاور کا واقعہ ضرب عضب کا رد عمل نہیں ہے بلکہ اس میں بیرونی قوتوں کا ہاتھ اور ہماری پالیسیوں کا نتیجہ ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو راولپنڈی میں میلاد مصطفی ﷺ کے جلوس پر خود کش حملہ کیوں کیا جاتاجس میں کتنے بے گناہ لوگ مارے گئے۔کیا یہ بھی ضرب عضب کا رد عمل ہے۔ اس بارے میں کالم نگار کا تجزیہ درست ہے بلکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ خود کش حملہ آورکو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیوں مارا گیا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قلم اٹھانے سے پہلے واقعہ کی مکمل تحقیق بے حد ضروری ہوتی ہے ۔ لیکن اکثر کالم نگار واقعے کا حقیقی پس منظر جانے اور سوچے بغیر لکھ دیتے ہیں۔ جس سے بعض کالم نگاروں کے کالموں میں جھوٹ اور سچ کی ملاوٹ ہو جاتی ہے۔ اور اس طرح معاشرے میں ایک غلط اطلاع اپنا وجود پکڑ لیتی ہے۔ تسلیوں کے حروف میں کالم نگار نے اپنے کالموں کے ذریعہ پوری ایمانداری سے تلخ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔تخلیق کا ر کی مکمل کتاب ہی ایک خاص فکر اور زاویے سے لکھی گئی ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ۔ عامر شہزاد صدیقی کی کتاب کے کچھ کالم مثلا ریشم دلان ملتان، سرائیکی وزیر آعظم کے بعد سرائیکی گورنر، ملتان ٹی ہاؤس سے وابستہ یادیں، تعلیمی ایمرجینسی اور آرڈیننس ، بلدیاتی الیکشن اور لاہور ہائی کورت کا فیصلہ ، ہمیں تتلیوں کے دیس جانا ہے ، وفاقی وزیر محمود علی سے وابستہ چند یادیں ، گورنر پنجاب کا دورہ ملتان، نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد، سادات گیلانی کی خدمات اور روزنامہ پاکستان میں آپ کا انٹرویوجیسے کالم نہائت معلومات افزاء، اہمیت کے حامل اور پرتاثیر ہیں۔یوں تو اس کتاب اور کالموں پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے اور صاحب کتاب اس کے حق دار ہیں کہ اس پر جتنا کچھ لکھا جائے کم ہے ۔ عامر شہزاد صدیقی اتنے خوبصورت اور معلوماتی کالم لکھنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے دن رات کی محنت اور اپنا خون جگر شامل کرکے کالم نگاری کو صنف ادب میں فخر کا مقام عطاء کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کالموں کے ذریعہ معاشرے کی اصلاح اور تعمیر و ترقی کا عزم کر رکھا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اسے قبولیت کا شرف عطاء فرمائے۔ آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sultan Shaheen

Read More Articles by Sultan Shaheen: 2 Articles with 955 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Sep, 2017 Views: 549

Comments

آپ کی رائے