شجر ممنوعہ ( صفحہ نمبر ٧)

(Kanwal Naveed, Karachi)

دل اسی چیز کے لیے کیوں تڑپتے ہیں جو ہمیں نہ مل سکنے کا اندیشہ ہو!

اوصاف سے بات کرنا ہی بے کار ہے ۔ اسے غزل سنانا چاہ رہی تھی ۔ میں بھی پاگل ہوں ۔شواف کی ڈائری کے صہحے پر غزل لیھ۔ ہوئی تھی ۔جس پر بڑے بڑے کراس کے نشان تھے۔مومنہ نے غزل کو محسوس کرتے ہوئے دھیرے دھیرے پڑھا۔
اتنا سا بتاو نا
بس اتنا سا بتاو نا
کیا میں پیار نںیک کرتا
کیسا اظہارچاہتی ہو
کیوں بدگمانی لیے نگاہوں میں
میرے پاس آتی ہو
میں فط تمہارا ہوں
میرا اقرار تم سن لو
وجود میں جذب کر لو نا
میرا اظہار تم سن لو
تمہاری دھڑکنوں میں رہتا ہوں
تمہاری سانسوں میں باتد ہوں
تم روتی ہو تو روتا ہوں
تم ہنستی ہو تو ہتا ش ہوں
بس اتنا سا کہا تم نے
پھر انکھ کھل گئی میری
میرا خواب سچ ہو گا کیا
اتنا سا بتاو نا
بس اتنا سا بتاو نا

بہت سے صاحہت آگے کے خالی تھے ۔پھر ایک جگہ مومنہ نے لکھا ہوا پڑھنا شروع کیا۔میرے پاس سب کچھ ہے مگر وہ نہیں جو میں چاہتی ہوں۔ شادی کے بعد بھی میری زندگی کی جو سب سے بڑی کمی تھی پوری نہیں ہو پائی۔ ایسے لگتا ہے جیسے کسی پر بوجھ کی طرح مجھے لاد دیا گیا ہے ۔پتہ نہیں اوصاف مجھ سے خوش بھی ہے یا نہیں ۔ عجیب بیزاری کی کیفیت ہم دونوں میں ہے۔ شادی کے ایک سال ہی میں ہم دونوں کو ہی ایک دوسرے سے بات کرنے کا بھی دل نہیں کرتا ۔پتہ نہیں آگے کیا ہو گا۔ امی کہتی ہیں ایک دو بچے ہو جائیں تو آدمی بدل جاتے ہیں ۔ میرے ہونے سے تو میرے والدین میں کوئی قربت نہیں پیدا ہوئی تھی۔ ان کی لڑائی تو ہر تیسرے دن ہوتی تھی۔ میری اور اوصاف کی لڑائی تو نہیں ہوتی لیکن کچھ ایسا بھی تو کچھ نہیں۔ جس سے قربت کا احساس ہو۔ پتہ نہیں میں کبھی اس سے اور وہ کبھی مجھ سے محبت کر سکیں گئے یا نہیں ۔ پتہ نہیں۔

بہت سے صفحات خالی ہی پڑے تھے ۔ سوہا کی چھوٹی ،چھوٹی سی تصاویر ڈائری کے ایک ورق پر چسپاں تھی۔ نیچے اس کی تاریخ پیدائش لکھی تھی۔باقی پوری ڈائری خالی تھی۔ عجیب عورت تھی شواف ۔مومنہ نے دل ہی دل میں سوچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شواف کے ماں باپ ،اوصاف سے بہت ناراض تھے ۔ انہیں اس کے شادی کر لینے پر شدید غصہ تھا۔ سوہا کی چوتھی سالگرہ پر شواف کی ماں سوہا کے لیے بہت سے تحائف لے کر آئی ۔ اوصاف کو ان سے ہمدردی تھی ۔ اس نے انہیں سوہا سے ملنے اور پیار کرنے سے نہ روکا ۔مومنہ نے انہیں عزت سے بیٹھایا اور سوہا کو لے کر آئی ۔ شواف کی ماں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے مومنہ سے تلخ سے لہجے میں کہا۔ میں عطیہ جبین ہوں ۔ شواف کی ماں اور اوصاف کی ساس ۔ میری بیٹی کو تو پتہ نہیں ۔چلو چھوڑو ۔ میری سوہا مجھے دو۔ مومنہ کے ہاتھوں سے گھسیٹ کر سوہا کو ۔نانی نے اپنی طرف کھینچا ۔ بلکل میری شواف کی کاپی ہے ۔ پھر رونے لگی۔ سوہا نے معصومیت سے پوچھا ۔ نانی آپ کیوں رو رہی ہو؟ عطیہ جبین نےافسردگی سے کہا۔ اپنی ماں کو بھول گئی ہو، سوہا میری بچی۔اوصاف ان کی بے بسی کو دیکھ رہا تھا ۔اس نے مایوسی سے مومنہ کی طرف دیکھا۔ مومنہ نے دھیرے سے کہا۔ آنٹی ہم شام کو سوہا کے لیے سالگرہ کی پارٹی کر رہے ہیں ۔ آپ آئیے گا۔ عطیہ جبین نے تلخ لہجے میں کہا۔ تم لوگ خوشیاں مناو۔ میر ے دنوں کا چین اور رات کی نیند حرام ہو چکی ہے۔ نہ جانے میری بچی کہاں ہے۔ کاش میں اس کی شادی اپنے خاندان میں کرتی۔ کاش۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ سوہا بڑی ہو رہی تھی۔ اس کا چھوٹا بھائی آفتاب اور چھوٹی بہن ماہ رُخ اس سے بہت پیار کرتے تھے، مومنہ تینوں بچوں میں فرق نہیں کرتی تھی۔سوہا باقی دو بچوں سے متنفر ہی رہی تھی۔ مومنہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ساری کوششوں کے باوجود سوہا کیوں کھوئی ہوئی رہتی ہے۔ اس کی ہر سالگرہ پر ہی اس کی نانی اس کے گھر آتی ،اس کے لیے تحائف لاتی تھی۔ اوصاف کا خیال تھا ، سوہا سے شواف کے بارے میں کچھ بھی چھپانا ٹھیک نہیں ہو گا۔سوہا کوشواف کے بارے میں صاف صاف بتا دیا گیا تھا۔ اگرچہ بارہ سال کی سوہا بہت سی باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھی لیکن اس کے دل و دماغ میں اس کی نانی کی باتیں گھر کر گئی تھی۔ سوہا اکثر اپنی نانی سے ملنے ان کے پاس چلی جاتی ۔ اوصاف نرم مزاج اور شفیق باپ تھا۔ اس نے سوہا کو کبھی نانی سے ملنے سے نہیں روکا تھا۔ نانی کی باتوں نے سوہا کے دل میں اپنے باپ کے لیے نفرت ڈال دی تھی ۔ جس کا وہ کبھی کھل کر اظہار نہ کرتی ۔ اپنے چھوٹے بہن بھائی سے بھی وہ کٹی کٹی رہتی ۔ وہ اکثر سوچتی ،ممکن ہے کہ پاپا ،کو مومنہ آنٹی پسند ہو ں ۔اس کی نانی جو بات کہتی وہ انکھیں بند کر کے ان پر یقین کرتی ۔ وہ ہمیشہ شواف کی گم شدگی کو اوصاف اور مومنہ کی ملی بھگت قرار دیتی تھی۔ انہو ں نے سوہا کے دل میں یہ ڈالا تھا کہ تمہارا باپ مومنہ سے شادی کر نا چاہتا تھا۔ اسی لیے تو شواف کے غائب ہونے کو ایک ماہ بھی نہیں ہوا تھا کہ شادی کر لی۔ وہ جو بھی کہانی گھڑتی سوہا دل سے اس پر ایمان لے آتی ۔ وہ دل و جان سے نانی جان پر فدا تھی ۔ شواف کے والد کی وفات کے بعد ،نانی نے اور بھی اکیلی ہو گئی۔انہوں نے اوصاف سے آکر بہت منت سے سوہا کو مانگا ۔ سوہا ان کے ساتھ جانا چاہتی تھی لیکن اوصاف نے منع کر دیا۔ اوصاف اور مومنہ نے انہیں اپنے ساتھ رہنے کی پیش کش کی۔ سوہا نے نانی کو اپنے ساتھ رہنے کا کہا تو وہ مان گئی۔ اب وہ ہر وقت سوہا کے ساتھ رہنے لگی۔
سوہا کو شواف کے بچبن کی باتیں بتاتیں ۔ اس کی شادی سے متعلق بتاتیں پھر باتیں کرتے کرتے رونے لگتی ۔سوہا انہیں تسلی دیتی ۔ دل ہی دل میں شادی کے رشتے کو منحوس قرار دیتی ۔ اپنے باپ کو کوستی اور نانی کو چپ کرواتے کرواتے خود رونے میں ان کی شریک ہو جاتی ۔ اس کا پڑھائی میں بلکل دل نہیں لگتا تھا۔ اوصاف اس کی پڑھائی کو لے کر پریشان تھا۔ اس نے مومنہ سے پریشانی کے لہجے میں کہا۔ باقی دو بچے تو پڑھائی میں اچھے ہیں ، تم سوہا کی طرف دھیان کیوں نہیں دیتی۔ اسے توجہ کی ضرورت ہے۔ مومنہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ اس کی نانی مجھے اس کے پاس بیٹھنے دے تب نا۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم نے عطیہ آنٹی کو گھر میں رکھ کر غلطی کی ۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ انہیں منفی باتوں کو کر کے کیا سکون ملتا ہے۔ سوہا بھی میری ایک نہیں سنتی ۔ میں کیا کروں۔

اوصاف نےافسردگی سے کہا۔ سوہا کو ہماری محبت پر یقین نہیں ۔ مومنہ نے اوصاف کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ انسان کس پر یقین کرتا ہے وہ خود طے کرتا ہے۔ سوہا اب بڑی ہو رہی ہے ، سگی ماں کا تصور ہی محسور کن ہوتا ہے ، خاص کر تب جب وہ ایک خواب و خیال ہو۔ دل ہر اس شے کے لیے ذیادہ تڑپتے ہیں ،جن کے نہ پاسکنے کا اندیشہ ہو۔سوہا میں تبدیلی کو میں محسوس کررہی ہوں ۔ وہ ہم سے دور ہو رہی ہے۔ اوصاف نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔ تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ میں شواف کی ماں کو گھر سے نکال دوں ۔ مومنہ نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا۔ میں یہ کہہ رہی ہوں کہ، اس سے پہلے ہمارے ہاتھوں سے ہمارے بچے نکل جائیں ۔ آنٹی سے بات کریں ۔ وہ ہمارے بچوں کے دلوں میں نفرت ڈالنا چھوڑ دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رشیدہ روتے ہوئے ہچکیاں لے رہی تھی، روتے ہوئے وہ کہہ رہی تھی۔ باجی مجھے اور میرے بچوں کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ میرے پاس تو رہنے کی کوئی جگہ ہے نہ ٹھکانا ۔ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر کہاں جاوں ۔ ایک سال کا بچہ اس کا گود میں تھا۔ جبکہ دو چھوٹی بچیاں منہ میں ہاتھ ڈالے اس سے چپک کر کھڑی تھیں ۔ مجھے ایک بھلی عورت نے یہاں کا پتہ دیا۔ آپ غریبوں کی مدد کرتی ہو تو، ہماری بھی مدد کر دو نا جی۔ وہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑ رہی تھی۔

شواف نے اسے خاموشی سے دیر تک سنا تھا۔ وہ ہر روز اس طرح کی کہانیاں سنتی تھی۔ اس کی این جی او۔ ایسی عورتوں اور غریب لوگوں کو امداد فراہم کرنے میں پیش پیش تھی۔جب وہ خاموش ہو گئی تو شواف نے آرام سے اسے پانی پینے کا کہا۔ دیکھو بی بی ۔ تمہاری مدد تو ہم ضرور کریں گئے ۔ اگر واقعی تم جو کہہ رہی ہو سچ ہوا تو۔

رشیدہ نے پانی پیتے ہوئے ایک اور ہچکی لی۔ باجی جی آپ کو میری بات پر یقین نہیں ۔ شواف نے پر وقارلہجے میں کہا۔ دیکھو بی بی یقین کوئی چیز نہیں کہ میں اُٹھا کر اُدھر سے اِدھر رکھ لوں ۔ تمہارے بچے اور تم ایک گھر میں جب اتنے عرصے سے رہتے رہے ہو تو اچانک ایسا کیا ہوا کہ تم سب کو باہر نکال دیا گیا۔ کیا تمہارے شوہر کو تم سے کوئی شکایت تھی۔ اگر تھی تو تم نے اسے دور کرنے کی کوشش کی یانہیں ۔ تمہارے شوہر سے بات کرنے کی کوشش کریں گئے ۔ اسے سمجھانے کی کوشش کریں گئے بچوں کو یوں یتیموں کی طرح پالوں گی کیا۔ اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ رشیدہ کی ہچکی رُک چکی تھی۔ باجی پیسے بلکل نہیں دیتا۔ کام کرتا نہیں ہے ۔

شواف نے اچھا کہا اور خاموش رہی۔ رشیدہ پھر بولی پہلے کرتا تھا۔ بچوں سے بھی پیار کرتا تھا۔ جب سے کام چھوٹا ہے۔ کبھی ایک کو مارتا ہے کبھی دوسرے کو۔بات بات پر کہتا ہے نکل جاو۔ شواف نے افسردگی سے کہا ، تو تم نکل آئی۔ رشیدہ نے روتے ہوئے کہا۔ نہیں جی بچے کو مار رہا تھا تو میں درمیان میں آ گئی۔ غصہ میں آ کر کہہ دیا۔ میرے ٹکڑے کھا کر مجھے مارتے ہو تو گھر سے دھکے دے کر باہر نکال دیا بچے میرے ساتھ نکل آئے ۔ شواف نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔تم کیا کام کرتی ہو۔ رشیدہ نے کہاباجی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہوں ۔ شواف نے پریشانی سے کہا۔ تم نے اس کے زخم کو کھرید ا اور کہتی ہو کہ وہ اُف تک نہ کرئے ۔ جب تک خود کو اس کی جگہ رکھ کر نہیں سوچوں گی تو اسے معاف نہیں کر پاو گی ۔ ذرا سوچو ۔ ایک آدمی جو پہلے سے بیزار ہے تم اسے اور طعنہ زنی کرو ۔ یہ کیا اچھی بات ہو گی۔ اس نے غصے میں آ کر تمہیں نکال دیا ہے۔ تم جا کر معافی مانگ لو۔ رشیدہ نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔ میں کیوں معافی مانگوں ۔ اس نے مجھے مارا میری بیٹی کو مارا۔

شواف نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ یہ بیٹی باہر نہ جانے کس کس کی مار کھائے گی ،اگر باپ کا سایہ سر پر نہیں ہو گا تو۔ ہمارے کچھ ورکر تمہارے گھر گئے تھے ۔ تمہارے شوہر سے ان کی بات ہوئی ہے۔ ہم تمہارے شوہر کے لیے کام کا بندوبست کر رہے ہیں ۔ تم گھر جا کر اس سے معافی مانگ لو۔درخت کو اُگ کر پیڑ بننے میں بہت وقت لگتا ہے ۔ جب کہ کاٹنے کے لیے کچھ لمحے درکار ہوتے ہیں ۔

رشیدہ خاموشی سے کچھ دیر بیٹھی رہی ۔ شواف نے اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا پھر اپنے پرس سے دو ہزار روپے نکال کر رشیدہ کو تھماتے ہوئے کہا۔ تمہارا شوہر بس حالات سے پریشان ہے۔ اصل میں رشتوں کی آزمائش ہی اسی وقت ہوتی ہے جب وہ دونوں طرف سے کھچاو کا شکار ہوتے ہیں ۔ کسی ایک طرف کو اپنا کھچاو چھوڑنا ہی ہوتا ہے تاکہ وہ ذیادہ مضبوطی سے ایک دوسرے سے جڑ جایں ۔ شواف نے انکھیں بند کرتے ہوئے ایک لمبی سانس لی ۔دھیمے لہجے میں کہا۔ توڑنے اور ٹوٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ہم لوگ موت کو سر کرنے کے لیے خود کشی کوترجیح دیتے ہیں ۔ دوسروں کو ہارانے کی چاہت انسان کو کبھی جیتنے نہیں دیتی ۔ کبھی جیتنے نہیں دیتی ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 185266 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
14 Sep, 2017 Views: 744

Comments

آپ کی رائے