بندر اور موبا ئل

(Hukhan, karachi)

بندر کیا جانے موبائل فون کا مزا،،،یہ محاورہ ہم نے کسی بندرانہ ذہن کے دانشور سے سنا تھا،،،
مگر رومانیہ کے چڑیا گھر میں اک لڑکی بندر کے پاس سیلفی بنا رہی تھی،،،کہ بندر نےاس کے
ہاتھ سے موبائل جھپٹ لیا،،،اور اس کی سکرین پر بالکل لڑکی کی طرح سکریچنک کرکر کے
موبائل فون یوز کرکے وہاں کے لوگوں کو حیران کر دیا،،،کہتے ہیں کہ یہ بندر کی ذہین ترین نسل
میکاکیو سے تعلق رکھتا ہے،،،
اب کون جانے بندر سے اسےکیسے یوز کیا یاکس نیت سے موبائل کو جھپٹا ہو گا،،،ہو سکتا ہے
وہ کسی بندریا کو مس کال دے رہا ہو،،،یا لڑکی کے ابو جی نے کہا ہوگا کہ جب میری بیٹی
گھر سے باہر نکلے تو وہ اس کےموبائل کی ایکٹیویٹز پر نظر رکھا کرے،،،
میں تو کہتا ہوں پاکستانی بہنوں کےبھائیوں کوبھی اس بندر سے کچھ سیکھنا چاہیے،،،
کم سے کم بہنوں کے موبائل پر ضرور نظر رکھنی چاہیے،،،
ویسے کوئی بھروسہ نہیں بندر نے کس کس سے بات کی ہو،،،پھر اپنی بہت سی سیلفیاں بنائی
ہوں،،،اب میرا بھی دل کرتا ہےبات کرنے کو،،،میری بھی اچھی سی گرل فرینڈ بندریا ہو،،،
اب پتا نہیں وہ موبائل اس ذہین نسل کےبندر نے واپس بھی کیا ہوگا یا نہیں کیا ہو گا،،،
اگر نہیں کیا ہو گا تو بیچارہ خود بھگت رہا ہو گا،،،ہر ٹائم بندریا اس کو کال کرکرکے تنگ کرتی
ہوگی،،،نائٹ پیکج کی وجہ سے بیچارہ پوری رات جاگتا ہو گا،،،عجیب عجیب سے کمرشل ایڈز کے
مسیج آتے ہوں گے،،،کبھی چارجر خراب،،،کبھی بیٹری ختم،،،پھر راہ چلتے ہوئے ہمیشہ
ڈھڑکا لگا رہتا ہو گا ابھی کوئی مسٹنڈا آئے گا موبائل لے جائے گا،،،بیچارہ ہر پل انسانی پریشانیوں
میں الجھ کر رہ گیا ہوگا،،،
ویسے چڑیا گھر کی ایڈ منسٹریشن بھی پریشان ہوگئی ہوگی،،،کہ یہ بندر کہیں پاکستان کے
چڑیا گھر سے تو نہیں لایا گیا،،،جو موبائل چھیننے کی بیماری میں مبتلا ہے،،،اب وہ اس کی
برین واشنگ کرنےکا سوچ رہے ہوں گے،،،ورنہ باقی جانوروں میں بھی یہ بری عادت پڑسکتی ہے،،،
چڑیاگھر والے شکر کررہے ہوں گےکہ بندر کو صرف موبائل پسندآیا،،،موبائل والی نہ آ گئی،،،
ورنہ کیس بن سکتا تھا،،،کیا خبر کل کیا ہو جائے،،،اب کے بندر حسینہ پر فدا ہو جائے،،،
دم والابھی انسانوں کی طرح گھوڑی پر بیٹھ کر برات نہ لےآئے۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 859458 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2017 Views: 588

Comments

آپ کی رائے
good one nice
By: sohail memon, karachi on Sep, 17 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 17 2017
0 Like