مسٹر اینڈ مسز لیلی مجنوں

(Hukhan, karachi)
جانے کب ہوں گے کم اس عاشق کے غم
رات بھر سونے نہیں دیتے لیلی کے دئیے ہوئے غم

جب سے مجنوں لیلی کو بیاہ کر لایا تھا اس کا حال برا تھا،،،حال تو لیلی کا بھی اچھا نہ تھا،،،
وہ مجنوں کو دھو دھو کر تھک گئی تھی،،،جب کہ مجنوں برتن دھو دھو کر تھک گیا تھا،،،
نہ برتن صاف ہو کر دیتے تھے،،،نہ ہی مجنوں کی بدبو جاتی تھی،،،لیمن مکس بارکے پیکٹ
ختم ہو گئے،،،مجنوں اس بات پر پریشان تھا کہ،،،فرہاد۔۔رومیو۔۔اور رانجھے کا کیا حال ہو گا،،،
وہ شاعری بھول چکا تھا،،،اسکی پوئٹری جس کا اک عالم دیوانہ تھا،،،بے سری ہو گئی تھی،،،
اس کے اونٹ اک اک کر کے لیلی کے بیوٹی پارلر کی نظر ہو چکے تھے،،،پھر بھی لیلی گوری
ہو کر نہ دے رہی تھی،،،مجنوں نے پنجابی میں مائیکل جیکسن کو بہت سی میلز بھی کیں کہ
بھائی آپ کیسے گورے ہوگئے ہو؟؟ مگر اب اسکی موت سے جواب کی رہی سہی کسر بھی
ختم ہو گئی تھی،،،
اب وہ سوچتا ہی رہ گیا کہ اریبک(عربی) میں میل کروں گا مگر جیکسن کی موت نے اسے یہ
مہلت ہی نہیں دی،،،پہلے وہ لیلی کے لیے پوئٹری کرتا تھا،،،اب صرف عشقیہ نوحے کہنے
لگا تھا،،،سر پرتیل ،،جسم میں خوشبو کی جگہ،،،تارا میرا کا کڑوا تیل ہی لگاتا تھا،،،جس سے
انسان تو انسان،،،اس کےآس پاس کے اونٹ بھی ناراض رہتے تھے،،،بے چارے اونٹ،،مجنوں کو
آتا دیکھ کر منہ اور ناک بھی ڈھانپ لیتے تھے،،،اس پر لیلی کے طعنوں نے اسےافسردہ کردیا تھا،،
اب تو گیت۔۔کوئی ماڈل۔۔کوئی حسینہ اس کو اچھی نہیں لگتی تھی،،،
اب وہ سنجیدگی سے دوسرے عشق کا سوچ رہا تھا،،،مگر عشق کس سے کیا جائے؟؟؟،،،،!
شیریں،،،ساسی،،،چولیٹ،،،صاحبہ سب کی سب بک تھیں،،،ان کے پاس دوسرے عشق کا ٹائم
نہیں تھا،،،لیلی روز کسی نہ کسی بھائی کو بلا کر مجنوں کو دھمکاتی رہتی تھی،،،مجنوں کو پہلے
اپنے سالوں کا پتا ہوتا،،،تو شادی تو دور کی بات،،،عشق پر بارہ لعنتیں بھیج دیتا،،،
اب سوائے پچھتاوے کے مجنوں کے پاس کچھ نہ بچا تھا،،،اب اس نے پوئٹری کی جگہ کتاب لکھنی
شروع کردی تھی،،،جو کہ نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہوتی،،،
کتاب کا نام تھا،،،،‘‘عشق کے سائیڈ ایفیکٹز،،،مگر لیلی کے ظلموں نے اسے یہ سب کرنے کاموقع نہ دیا،
پہلے وہ لیلی لیلی کرتا تھا،،،اب سرِشام اس کے گھر سے ہائے اللہ،،،ہائےاللہ کی آوازیں آتی تھیں،،،

جانے کب ہوں گے کم اس عاشق کے غم
رات بھر سونے نہیں دیتے لیلی کے دئیے ہوئے زخم
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 880873 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Sep, 2017 Views: 688

Comments

آپ کی رائے
so nice and worth full for fun time
By: khalid, karachi on Sep, 21 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 21 2017
0 Like
great nice
By: rahi, karachi on Sep, 19 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Sep, 20 2017
0 Like