آغاز1439ہجری اور محرم الحرام

(Muhammad Waseem Tariq, )

تمام مسلمانوں کو نیا اسلامی سال مبارک ہومحرم الحرام پہلا اسلامی مہینہ ہے آج یکم محرم 1439ہجری ہے گویا آج پندرہویں صدی کے 39ویں سال کا پہلا دن ہے لہذا سب سے پہلے تو میں اسلامی تقویم کے اعتبار سے اس نئے سال کی آمد پر آپ کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہ سال ہمارے لئے امن و سلامتی و اسلام کا سال ہو اس ماہ مقدس میں قتال حرام ہے اسی لئے یہ محرم کہلاتا ہے معزز قارئین یوں تو سال کے بارہ مہینے اور ہر ماہ کے تیس دن اﷲ تعالیٰ کے لئے پیدا ہوئے ہیں لیکن اﷲ تعالیٰ نے اپنے پورے سال کے بعض ایام کو خصوصی فضیلت عطاء کی ہے اور ان یام میں کچھ مخصوص یام مقرر فرمائے ہیں محرم کا مہینہ بھی ایسا مہینہ ہے جس کو اﷲ تعالیٰ نے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ چار مہینے حرمت والے ہیں جن میں سے ایک مہینہ محرم ہے محرم کی دسویں کو عاشورہ کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں ــ''دسواں دن ''یہ دن اﷲ تعالیٰ کی خصوسی برکت اور اہمیت کا حامل ہے جب تک رمضان کریم کے روزے فرض نہیں ہوئی تھے اس وقت تک عاشورہ کا روزہ مسلمانوں پر فرض قرار دیا گیا تھاجب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس وقت عاشورہ کے روزے کی فرضیت منسوخ ہو گئی لیکن نبی کریم ﷺ نے عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنے کو سنت اور مستحب قرار دیا ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اﷲ عز وجل کی رحمت سے امید ہے جو شخص عاشور کا روزہ رکھے گا تو اس کے پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا اس ماہ مقدس میں یوم عاشورہ کو بہت اہمیت حاصل ہے اس دن تاریخ انسانیت کے بہت سے واقعات رونما ہوئے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تو حضرت نوح علیہ السلام کشتی سے سلامتی سے اترے اور شکرانے کے طور پرروزہ رکھا اور دوسروں کو روزہ رکھنے کی تلقین کی جبکہ حضرت ابراہیم ؓ دنیا میں تشریف لائے اور اسی دن حضرت ابراہیم ؓ پر نار نمرودد گلزار ہوئی اسی دن میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی بھی واپس ہوئی حضرت امام حسین ؓ نے شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا بنی اسرائیل کے لئے دریا پھاڑا گیا حضرت یوسف علیہ السلام کو وید خانے سے رہائی ملی ،حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت عطا ہوئی ،حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے عاشرہ کے دن ہی اصحاب کہف نے کروٹیں بدلیں پہلی بارش آسمانوں سے نازل ہوئی آسمانوں ،پہاڑوں سمندروں کو پیدا کیا گیا قلم کو پیدا کیا گیا اور قیامت کا آنا بھی اسی دن طے پایا ۔مختصر یہ کہ اس ماہ مقدس پر لکھنا شروع کیا جائے تو دن ختم ہو جائیں راتیں ختم ہو جائیں ،تمام دریاؤں کا پانی سیاہی کی صورت میں بھی ہو تو وہ بھی ختم ہو جائے لیکن اس ماہ مقدس کا باب کبھی ختم نہ ہو ۔۔۔۔ سانحہ کربلا تاریخ کا سب سے المناک اور اندوہناک واقعہ ہے ۔واقع کربلا تاریخ اسلام کا ایک اہم موڑ ہے حضرت امام حسین ؓ نے دین کی سربلندی اور تحفظ انسانیت کے لئے اپنی جان کی قربانی پیش کی اور ایسی تاریخ رقم کی جس پر بنی نو ع انسان ہمیشہ فخر کرتی رہے گی واقع کربلا میں جہاں بہت سے رموز آشکار ہوئے وہاں ''الوفا بالعہد ''وعدا وفا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کربلا کیا ہے کیوں رونما ہوئی ہدف کربلا کیا ہے ،پیام کربلا کیا ہے ،فلسفہ قیام امام کیا ہے کربلا ہم سے کیا چاہتی ہے واقع کربلا کا ہم سے کیا تقاضا ہے ۔ہم دس دن صرف روئیں مجالسیں کریں،سینہ زنی کریں علم نکالیں ،جلوس نکالیں نہیں بلکہ کربلا ہم سے اس سے زیادہ تقاضا کرتی ہے اور پکار کر کہتی ہے ۔اے عباس عملدار کا پرچم اٹھانے والو ! اے علی اکبر کی جوانی کو رونے والو سنو !اور اسے اپنے ذہن میں بٹھا لو کہ کربلا ایک حسینی اور صالح معاشرہ کی خواہاں ہے کربلا جمود سے تحرک کی طرف نکل آنے کا پیغام ہے ۔پیام کربلا یہ ہے کہ اے مسلمانو!آج پھر حسین کی طرح اٹھو اپنی قلت پر توجہ کئے بغیر خدا کی طاقت پر بھروسہ رکھو جس طرح ہر زمانے میں حسینیوں نے ثابت کیا کہ جو بھی انسان اﷲ کے توکل پر ڈٹ جائے تو یزید تو کیا دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کو شکست نہیں دے سکتی ۔کربلا تاریخ ایک منفرد درسگاہ ہے اس کا پیغام ٓفاقی نوعیت کا ہے اس درسگاہ میں درس لینے کے لئے سن،وسائل،زبان ومکان،رنگ و نسل کی قید نہیں بلکہ با شعور انسان شجاح اور حر انسان اس سے درس لے سکتا ہے اپنی تشنہ روح کو سیراب کر سکتا ہے کیا کربلا یک دن کی جنگ کا نام ہے ؟ نہیں کربلا یک تحریک انبیاء کا تسلسل ہے کربلا حق و باطل کے معرکہ کا نام ہے کربلا دین کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کا نام ہے کربلا اپنے جوان بیٹے کو قربان اور ایک ننھے پھول کو راہ خدا میں دینے کا نام ہے کربلا حق کی خاطر سر کٹوا دینے کا نام ہے کربلا حق کی خاطر عزت و ناموس کی سیری کا نام ہے کربلا نے دنیا کو سکھایا کہ کس طرح سر کٹا کر سر بلند ہو جاتا ہے اور کس طرح اپنی جان دے کر بھی باطل کو اس کے ارادوں میں ناکام بنا دیا جاتا ہے ہاں اگر واقعہ کربلا سے درس لینا ہے تو آؤ ہر ملک ،شہر شہر ،گلی گلی کربلا حسینی برپا کریں دشت کربلا سے جلتے خیام اور اٹھتا دھواں آج بھی ہمیں یہ کہہ رہا ہے کہ اے مسلمانوں۔۔۔۔۔۔کیا تم نے فلسفہ کربلا سمجھا کیا تم نے صدائے ھل من ناصر پہ لبیک کہا کیا ہم نے عشق حسین ؓ میں شہید ہونیو الوں کو بھلا تو نہیں دیا کیا ہم نے سیرت حسین کو بیان کیا اور کیا ہم نے سیرت سجاد ،سیرت عباس ،زینب کیا ۔آخر ایسا کیوں !محرم الحرام کو ایثار ،قربانی ،اتحاد امت ،باہمی رواداری اورپر امن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے مدینہ طیبہ سے کربلا تک اسلام کے لئے عظیم قربانیوں کی تاریخ اسی ماہ مابرک سے وابستہ ہے اﷲ تعالیٰ نے ماہ محرم کو اس دن سے عزت و احتراماور حرمت کا مہینہ قرار دیا ہے کہ جس سے قرآن مجید کے الفاظ میں ''جس دن اﷲ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا''اور سال کے بارہ مہینوں میں سے جن چار مہینوں کو محترم قرار دیا گیا اس میں تو محرم ہی سر فہسرت ہے ۔زمانہ جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کیا جاتا تھا ۔اسلام نے قران مجید کی تصدیق اور شہادت سے اس ازلی حرمت کو ابدی حرمت بنا دیا اسلامی تقویم کا پہلا اور رسول کریمﷺ کی ہجرت مدینہ کے فیصلوں اور تیاریوں کے لئے اہم مہینہ ہونے کی وجہ سے محرم الحرام ممتاز ہے ۔جس طرح قبل از اسلام تاریخ کے ایسے عظیم واقعات اس ماہ مبارک میں پیش آئے جنہوں نے انسانیت کو اپنی طرف متوجہ کیا اس طرح دور نبوت و رسالت اور اسلام کے دور اول میں ایسے واقعات پیش آئے کہ امت مسلمہ انہیں فراموش نہیں کر سکتی ۔خاص طور پر یکم محرم الحرام کو خلیفہ دوئم ،مراد رسولﷺ سیدنا عمر فاروق ؓ اور دس محرم الحرام کو نواسہ ء رسول ﷺسیدنا حضرت امام حسین ؓکی اپنے قافلے اور خاندان نبوت کے افراد کے ساتھ شہادت جیسے واقعات سے نا صرف مسلمان بلکہ انسانیت اور تاریخ انسانیت ان سے متاثر ہہوئے بغیر نہ رہ سکی ان اہم واقعات کی وجہ سے امت نے اسلام کی سر بلندی کی جد جہد کے سفر کو مدینہ اور کربلا سے وابستہ کر لیا کہ خون شہادت سے اسلامی تاریخ سرخرو ہے اور مسلمانوں کا ایمانی جذبہ اس سے جدو جہد کا درس اور حرارت محسوس کرتا ہے ایک طرف اسلام کی عدل اجتماعی ہے اور اس کے لئے حضرت سید نا فاروق اعظم ؓ کا اسوہ قابل تقلید ہے تو دوسری طرف اس کے لئے اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا ہے خاندان نبوت ﷺ اور سیدنا حضرت امام حسین کا صبر و رضا ،اعلائے کلمتہ اﷲ ،جرات او استقامت اور حق کے لئے ہر قوت سے ٹکرا جانا ،ایسا کردار ہے جس نے تاریخ کو ،کربلا کو ،امت مسلمہ اور ایمانی جذبوں کو زندہ جاوید کر دیا ہے ان قربانیوں کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ ذاتی جذبات و خواہشات کو کسی بھی عظیم مقصد کے حصول کے لئے قربان کردیا جائے ۔آج کے حالات میں جب پاکستان بیرونی دباؤ کا شکار ہے اور چاروں طرف سے دشمنوں کے نرغے میں ہے ان حالات میں ہمارا فرض ہے کہ رواداری اور پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کیا جائے اور امن میں انتشار کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جائے یہی وقت کی ضرورت اور محرم الحرام کا پیغام ہے اور امت رفتہ کو بحال کرنے کی سب سے بڑی تدبیر بھی ہے ۔اﷲ تعالیٰ ملک پاکستان اورہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہم میں اتحاد و اتفاق پیدا فرمائے اور ملک پاکستان کو نواسہ رسول ﷺ کی شہادت کے صدقے دشمنوں سے محفوظ رکھے۔۔۔۔۔۔۔امین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Waseem Tariq

Read More Articles by Muhammad Waseem Tariq: 2 Articles with 1155 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2017 Views: 741

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ