لازوال قسط 21

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

انمول اور عندلیب کے درمیان فاصلے بڑھتے ہی جا رہے تھے۔انمول نے کئی بار کوشش کی کہ وہ ان فاصلوں کو مٹائے مگر عندلیب ہر بار کچھ ایسی بات کر دیتی کہ فاصلے مٹنے کی بجائے بڑھتے گئے۔وہ اس قدر اپنی زندگی میں الجھ چکا تھا کہ وجیہہ کی بپھری زندگی کی طرف دیکھنے کا خیال اس کے ذہن میں آیا ہی نہیں۔صبح سے شام تک وہ صرف اپنے بارے میں سوچتا اپنے اورعندلیب کی الجھی ہوئی ڈوری کو سلجھانے کی کوشش میں رہتا
’’کاش! ایک بار تم سمجھ جاؤ عندلیب۔۔‘‘آنکھ کھلی تو آج بھی عندلیب کو بستر پر نہ پایا۔ ادھر ادھر دیکھا مگر وہ نظر نہ آئی۔ اس کے چہرے پر ایک تاسف چھا گیا۔ماضی کی محبت اس کی آنکھوں کے فرد منڈلانے لگی
’’ وہ وقت ایک بار پھر آجائے۔۔‘‘لحاف کو سرکا کر اٹھا اور وارڈ روب سے سوٹ نکا ل کر واش روم کی طرف بڑھا۔ اس کا جسم تو یہاں تھا مگر اس کا ذہن کہیں اور ہی تھا۔
’’ آہ۔۔‘‘ ایک چیخ ابھری۔درد سے کراہنے کی آواز واش روم سے آنے لگی مگر کمرے میں کوئی نہ تھا۔ حجاب کو آنے میں بھی کچھ وقت لگا۔ جلدی سے وا ش روم کا دروازہ کھولا تو جو دیکھا، وہ دیکھ کر اس کے حواس بکھر گئے۔ اس کے سامنے انمول زمین پر گرا پڑا تھا۔ اس کا پورا وجود تیزاب سے جل چکا تھا۔وہ چہرہ جس پر کبھی وہ غرور کیا کرتا تھا آج تیزاب میں جھلس رہا تھا۔ہاتھ پاؤں پر بھی تیزاب تھا
’’انمول۔۔۔‘‘اس نے اپنے قدموں کو بچاتے ہوئے انمول کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ہاتھ پاؤں چہرے ہر حصے پر تیزاب کے نشانات تھے۔ پورا جسم ایسے کانپ رہا تھا جیسے کوئی مچھلی پانی کے بنا تڑپتی ہے۔آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ لبوں سے کراہنے کی آواز جاری تھی۔
’’ انمول۔۔۔‘‘ ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو ایک درد بھری آہ نکلی۔اس کی آنکھیں بھی آنسو بہانے لگی۔
* * * * *
’’اے تو نیا آیا ہے ادھر؟‘‘ ایک ادھیڑ عمر شخص سنگلوں کے پاس آکر ضرغا م سے محو گفتگو تھا۔
’’سنتا نہیں ہے کیا؟‘‘زمین پر دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے وہ اپنے ہی خیالوں میں غرق تھا۔ کون کیا کہہ رہا تھا ، اسے کچھ علم نہ تھا
’’ بھائی! سنا ہے اس چھوکڑے نے کسی چھوکڑی کے ساتھ لپھڑا کیا ہے۔۔‘‘اس کے پیچھے سے ایک آدمی اپنے دانتوں میں انگلی پھیرتا ہواباہر کی طرف آیا۔
’’ ابھے۔۔ کیا کہہ رہا ہے تو؟اس نے کسی چھوکڑی کے ساتھ۔۔کیا بات کر رہا ہے۔۔‘‘ وہ جیسے اس کی باتوں سے محظوظ ہورہا تھا۔ کھلے گریبان کو مزید پیچھے کیاتو اتنی ور سے ہی بدبو کے پھپوکےآنے لگے۔ ضرغام نے حقارت آمیز نگاہ ان دونوں پر دوڑائی
’’ اے۔۔ کیا دیکھتا ہے۔ پہلے تو چھوکڑی کے ستاھ چھیڑ چھاڑ کرتا ہے اور پھر اپن کو آنکھیں دیکھاتا ہے‘ ‘ غصے میں آنکھیں دیکھاتے ہوئے وہ غرایا
’’ نہیں بھائی۔۔ صرف چھیرا چھیری ہی نہیں بلکہ معاملہ اس سے بھی آگے تک ہے۔۔‘‘ان کو تو جیسے ایک نیا موضوع مل گیا تھا۔ دونوں ضرغام کی زندگی کو کرید کرید بیان کر رہے تھے۔اس کے زخموں کو ہرا کر رہے تھے۔
’’کیا بات کر رہا ہے۔۔‘‘مصنوعی انداز میں چوکتے ہوئے اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا۔ضرغام اپنی مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا
’’ہاں بھائی! سنا ہے پوری آئیٹم تھی وہ چھوکری جس کے ساتھ اس نے۔۔۔‘‘خیالوں میں وہ مزے اڑا رہے تھے
’’ اے۔۔ جب سچائی کو تمہیں کوئی علم نہیں ناں۔۔ تو تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کسی پر بھی کیچڑ اچھالنے کا۔۔‘‘ جب ضرغام کے لئے ناقابل برداشت ہوگیا تو وہ برق رفتاری سے اٹھااور سلاخوں کے پاس پہنچ کر جبڑے بھینچتے ہوئے غرایا
’’اے چھوکرے۔۔ اپنی اس زبان کو لگام دے۔۔ تو جانتا بھی ہے کس سے با ت کر رہا ہے۔۔‘‘ضرغام کا جواب دینا انہیں پسند نہ آیا اور تیوری چڑھا کر وہ لڑنے کے لئے تیار ہوگئے مگر سلاخوں کے درمیان میں ہونے کے باعث وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے
’’ اوئے۔۔ اپنی اپنی جگہ پر جا کر بیٹھو۔۔ چلو۔۔‘‘حوالدار نے آکر سب کو حکم دیا اور معاملے کو رفع دفع کروایا
’’لگتا امیر زادہ ہے مگر کام تو دیکھو۔۔۔ہنہ‘‘ پان کی پیک کو اس نے ضرغام کی سلاخوں کی طرف تھوکا۔آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے۔
’’ وجیہہ میرا یقین کرو۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔‘‘ وہ زمین بوس ہوتا گیا۔ رف مخمل پر سونے والا آج دھول مٹی سے اٹے ہوئے فرش پر بیٹھا ہوا تھا۔دن میں چار چار بار اپنے آپ کو آئینے میں دیکھنے والے نے آج پچھلے پانچ دنوں سے اپنا عکس تک نہیں دیکھا تھا۔ عکس دیکھتا بھی تو کیسے ؟ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔پرچھائی کو بننے کے لئے بھی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس کی زندگی سے روشنی نکل چکی تھی۔خاموشی سے نفرت کرنے والا آج خود خاموشی کے سمندر میں دھکیلا جا چکا تھا۔ عروج تک پہنچنے کی تمنا دل میں لئے گھر سے نکلنے والا آج زوال کے گڑھوں میں دھنستا جا رہا تھا۔
’’میرا یقین کرو۔۔۔‘‘اس کا لہجہ روہانسا تھا۔کپڑے گرد سے اٹے ہوئے۔بال بکھرے ہوئے۔آنکھیں یادوں میں سوجھی ہوئیں۔دل غم سے لبریز۔
’’میں بدل چکا ہوں۔۔۔‘‘دل ہی دل میں وہ پکار رہا تھا مگر سننے والا کوئی نہیں تھا سوائے رب۔
’’ جب انسان کو مصیبتیں چاروں اطراف سے گھیر لیں تو صرف ایک ہی ذات اس کو ان مشکلوں سے چھٹکارا دلا سکتی ہے اور وہ ذات صرف اللہ رب العزت کی ذات ہے۔‘‘شگفتہ بی بی کی نصیحت اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔کسی نے ابھی تک کوئی خبر اس تک نہیں پہنچائی تھی۔
’’امی۔۔آپ تو ماں ہی ناں۔۔ ایک ماں تو اپنے بیٹے کی ہر ہر خصلت سے واقف ہوتی ہے۔ آپ تو میری آنکھوں میں سچائی کو پڑھ لیتیں۔۔‘‘ وہ اپنا دکھ اپنے آپ سے بیان کر رہا تھا۔ اپنے دل میں اپنی ماں کو یاد کر رہا تھا
’’ امی۔۔ آپ نے تو ہمیشہ اپنی دعاؤں کا سایہ کئے رکھا تو آج کہاں گئی آپ کی دعا؟ آج کیوں آ پ کی دعا نے مجھے یہاں سے نکالا؟کیا آپ بھی مجھے غلط سمجھتی ہیں؟ کیا آپ کو بھی ایسا لگتا ہے کہ آپ کا بیٹا۔۔۔ آپ کا ضرغام ۔۔ ایسا گھناؤنا فعل سرانجام دے سکتا ہے۔۔ بتائیں امی۔۔۔ ‘‘دل روتا جا رہا تھا ۔ آنکھیں بہتی جا رہی تھیں مگر امید کی سب کرنیں دم توڑتی چلی جا رہی تھیں
* * * *
’’آپ کے شوہر نہیں آئے آپ کے ساتھ؟‘‘لیڈ ی ڈاکٹر اپنے ہاتھ میں ایک فائل لے کر اپنی چئیرپر آبیٹھی۔
’’جی۔۔ وہ یہاں نہیں ہیں۔۔‘‘ نہ ہی وہ سچ بتا سکتی تھی اور نہ ہی جھوٹ بول سکتی تھی۔ اُس نے درمیان کی راہ لی مگر چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی تھی جو وہ چاہ کر بھی چھپا نہیں سکتی تھی
’’اگر وہ بھی آپ کے ساتھ آتے تو یہ خبر سناتے وقت مجھے اور بھی خوشی ہوتی۔۔‘‘اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔جو وجیہہ کے نزدیک بے معنی تھی
’’ کیا مطلب ہے آپ کا؟‘‘کوئی تاثر دیئے بغیر اس نے پوچھا تھا
’’ مطلب یہ ہے کہ اب آپ صرف دو نہیں رہے بلکہ آپ کی زندگی میں اب ایک تیسرا آنے والا ہے۔۔‘‘ چہرے پر ہلکی سی کسک کے ساتھ اس نے یہ خوشخبری سنائی تھی۔
’’ اب آپ کو پہلے سے زیادہ اپنی صحت کا خیال رکھنا ہوگا۔ کسی بھی قسم کی سٹریس سے تو خاص طور پر دور رہنا ہوگا کیونکہ یہ آپ کے لئے اور نئی زندگی کے لئے بہت ضروری ہے۔۔‘‘وہ اسے نصیحتیں کرتی جارہی تھی اور یہ خاموشی کے ساتھ اس کے ہلتے لبوں کو دیکھ رہی تھی۔ ا س کے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ ا س خبر کو سن کر خوش ہو یا پھر غم کا اظہار کرے۔یقیناًایک عورت کے لئے پہلی بار ماں بننا کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا اور اس کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہوتا اور وہ اس کے لئے کہ اس کی دنیا اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس کا شوہر اس کے ساتھ ہوتا ہے لیکن وجیہہ کے ساتھ تو کوئی نہیں تھا۔ حد سے زیادہ شفیق ساس اس دنیا سے کوچ کر چکی تھیں۔سپنوں کو تعبیر بخشنے والا شوہر جیل کی کالی کوٹھری میں تھا۔وہ ڈھیلے قدموں کے ساتھ کار تک آئی تھی۔اپنے جسم کی پوری طاقت لگا کر اس نے دروازہ کھولا تھا۔
’’اے خدا! یہ کیسا امتحان ہے۔۔‘‘ آنکھیں بند کر کے اس نے ٹیک کے ساتھ سر ٹکا لیا۔ کچھ دیر یونہی سوچتی رہی۔ آنکھوں سے آنسو اشک بن کر بہتے رہے۔
’’وعدہ کرو۔۔۔ وجیہہ۔۔۔ وعدہ کرو۔۔۔‘‘ شگفتہ بی بی کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے۔ اس نے فوراً آنکھیں کھولی اور پیشانی سٹئیرنگ پر رکھی
’’بدکردار مرد سوائے بدکار عورت یا مشرک عورت کے (کسی پاکیزہ عورت سے )نکاح ( کرنا پسند )نہیں کرتااور بدکردار عورت سے (بھی) سوائے بدکردار مرد یا مشرک کے کوئی (صالح شخص) نکاح(کرنا پسند) نہیں کرتا‘‘اس کا ہاتھ لاشعوری طور پر موبائل سے ٹچ ہوا تو سورہ النور کی تلاوت کی آواز اس کے کانوں میں شہد گھولنے لگی۔صرف تیسری ہی آیت پر اسے اپنے سوالوں کا جواب ملنا شروع ہوگیا۔ اس نے اپنی پیشانی سٹئیرنگ سے اٹھائی اور دلجمعی سے تلاوت سننے لگی
’’ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے (مخصوص ) ہیں اور پلید مرد پلید عورتوں کے لئے ہیں اور(اسی طرح)پاک و طیب عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے (مخصوص ) ہیں اور پاک و طیب مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں۔۔‘‘بس چھبیسویں آیت تک ہی اس نے تلاوت سنی تھی کہ ا س کو اپنے ہر سوال کا جواب مل گیا۔ آنسو ؤں کو پونچھتے ہوئے اس نے کارسٹارٹ کی
’’ اب مجھے کسی سے کچھ پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔مجھے ہر سوا ل کا جواب مل چکا ہے۔‘‘ وہ سیدھا ضرغام سے ملنے جیل گئی تھی۔ ضرغام وجیہہ کو وہاں دیکھ کر ایک پل کے لئے چونکا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر آگے بڑھا۔ پولیس سے معاملات طے کرنے کے بعد اس نے ایک نظر حوالات کی طرف اٹھائی تو ضرغام کی نظروں کو اپنے اوپر مرکوز پایا۔ وہ خراماں خراماں اس کے پاس گئی مگر اس سے پہلے وہ کچھ کہتا ۔ وجیہہ کے اس جملے نے اسے تسکین پہنچائی
’’میں یہ تو نہیں جانتی کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ میں نے آج تک کبھی کوئی ایسا کام سرزد نہیں کیاجو اسلام کے احکام کے منافی ہو۔ہمیشہ اپنے آپ کو ہر اس برائی سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے جس کا قرآن نے حکم دیا ہے۔‘‘ وہ خاموشی سے اس کی باتوں کو سنتا جا رہا تھا
’’جب میں نے کبھی ایسا کام نہیں کیا پھر بھلا کوئی ایسا مرد کیونکر میرا شوہر بن سکتا ہے جس کا کردار داغدار ہو؟‘‘ اس نے معنی خیز لہجے میں کہا تھا۔
’’وجیہہ میں بتا نہیں سکتا مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے اس وقت کہ تم نے میری سچائی پر یقین کیا۔۔‘‘
’’ میں نے آپ کی سچائی پر نہیں بلکہ خدا کے قانون پر عمل کیا ہے۔مجھے یقین ہے میرا خدا میرے لئے کسی ایسے مرد کو منتخب نہیں کر سکتاجس کا کردار داغدار ہو۔ جس کا جسم ناپاک ہو۔‘‘ وہ یہ کہہ کر پلٹی ہی تھی کہ ضرغام نے اس کے ہاتھوں کے سلاخوں کے پیچھے سے پکڑ لیا
’’شکریہ! ‘‘ اس کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے
’’جس خدا نے تمہیں مجھ پر یقین کرنے کو کہا ہے دیکھنا وہی خدا تمہارے سامنے میری بے گناہی بھی ثابت کرے گا۔۔‘‘ پہلی باراس کی آنکھوں میں عجیب سے چمک وجیہہ نے دیکھی تھی۔ چند دنوں میں ضرغام کی شخصیت کتنی بدل گئی تھی۔ وہ یک ٹک اس کی طرف دیکھتی جا رہی تھی۔
’’پرسوں سے آپ کی شنوائی ہے۔۔دعا کیجئے گا۔۔‘‘اپنی جذبات کو ضبط کرتے ہوئے وہ پلٹی تھی
’’ مجھے دعا کرنے کی ضرورت نہیں۔۔ میرے لئے دعا کرنے والی میری ماں ہے‘‘ اس کا لہجہ انتہا کا شیریں تھا۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ وجیہہ اپنی آنکھوں سے ضبط کھو بیٹھی۔آنکھوں سے اشک خوش بخود جاری ہوگئے
’’اگر اس وقت وہ دعا کرنے والے ہاتھ ہوتے توآپ یہاں نہ ہوتے۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ بھاگتی ہوئی باہر چلی گئی۔ وجیہہ کے ایک جملے نے اس کے حواس گم کر دئیے۔ وہ بے سود کھڑا اس کو جاتا دیکھتا رہا۔ کافی دیر تک صرف وجیہہ کے یہ الفاظ ہی اس کے کانوں میں گونجتے رہے
’’اگر اس وقت وہ دعا کرنے والے ہاتھ ہوتے توآپ یہاں نہ ہوتے۔۔‘‘
’’اگر اس وقت وہ دعا کرنے والے ہاتھ ہوتے توآپ یہاں نہ ہوتے۔۔‘‘ایک کے بعد ایک ضرب لگتی جا رہی تھی۔
’’ نہیں۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔۔‘‘وہ دیوار کے ساتھ جا لگا۔ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ ایسا لگا جیسے کسی نے آسمان اس کے سر پر لاکھڑا کیا ہو اور وہ زمین میں دھنستا ہی جا رہا ہو۔
’’ امی ۔۔ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتیں۔۔۔ نہیں جا سکتیں۔۔۔‘‘وہ بڑبڑاتا جا رہا تھا۔دیوار کے ساتھ اپنے پشت کو گھسیٹتا ہوا وہ زمین بوس ہوتا جا رہا تھا۔ممتا کے کھو جانے کا خوف ایک پل میں اسے ہراساں کر گیا
’’امی۔۔۔۔۔‘‘ آنکھوں سے اشک خوبخود جاری ہوگئے۔
’’اگر اس وقت وہ دعا کرنے والے ہاتھ ہوتے توآپ یہاں نہ ہوتے۔۔‘‘اس کی سمجھ میں اب آیا کہ کیوں وہ اب تک یہاں سے باہر نہیں نکل سکا؟ کیوں اب تک اس کی بے گناہی ثابت نہ ہوسکی؟ کیونکہ آج اس کی ماں نہیں تھی۔ بچپن سے آج تک جب بھی کوئی مشکل پیش آتی۔ اس کی ماں راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس کے لئے دعائیں کرتی۔ صبح تک وہ مشکل دور ہوجاتی لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔چھ دن چھ راتیں گزر گئیں مگر ماں کی دعا نے اثر نہیں کیا۔ وہ انتظار میں رہا مگر انتظار بس انتظار ہی رہا۔دعا کے لئے اٹھنے والے ہاتھ آج منوں مٹی تلے دفن ہوچکے تھے۔اس کی ماں اس کو چھوڑ کر جا چکی تھی
’’جس د ن میں مر گئی ناں۔۔ اس دن یاد کرو گے تم کہ ایک ماں ہوتی تھی جو میرے لئے رات رات بھر جاگتی تھی‘‘
’’ امی! آپ۔۔ ایسے کیوں چھوڑ کر چلی گئی مجھے۔۔۔‘‘ گلوگیر لہجے میں وہ اپنی ماں سے مخاطب تھا۔
’’ آپ کے ضرغام کو آج آپ کی ضرورت ہے۔ پلز واپس آجائیں۔۔ دیکھیں ناں میں سدھر گیا ہوں۔آپ مجھ سے ہمیشہ یہی کہتی تھی ناں کہ میں اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزاروں۔ پانچوں وقت نماز پڑھوں۔۔سارے روزے رکھوں۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں آج کے بعد ہمیشہ نماز پڑھوں گا۔ کبھی کوئی روزہ نہیں چھوڑوں گا۔ کبھی آ پ کو شکایت کا موقع نہیں دونگا مگر پلز آپ واپس آجائیں۔۔ یوں چھوڑ کر مت جائیں مجھے۔۔ امی۔۔‘‘ وہ روتے ہوئے پکار رہا تھا مگر اس کی پکار کالی کوٹھری سے باہر جانے سے بھی قاصر تھی۔صرف اندھیرا تھاجو اس کو چاروں اطراف سے گھیرے ہوئے تھا
’’میں ہمیشہ آپ کا کہا مانوں گا۔۔۔ جیسا آپ کہیں گی میں ویسا ہی کرونگا مگر پلز واپس آجائیں ۔۔ اپنے ضرغام کے پاس واپس آجائیں۔دیکھیں آپ مجھے مارئیے گا۔مجھے سز ا دیجیے گا ۔۔ چاہے تو کچھ دن تک مجھ سے ناراض بھی رہئیے گا مگر اس طرح سے تو خفا مت ہوں آپ۔۔‘‘ ہاتھ اٹھا کر وہ اپنی ماں کے فریاد کر رہا تھا
’’ کوئی ماں اپنے بیٹے سے ایسے خفا ہوتی ہے کیا کہ اس کو چھوڑ کر ہی چلی جائے۔۔‘‘روتے روتے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں مگرآنسو ؤں پر بن نہیں بندھا۔ یہ بہتے ہی جا رہے تھے۔ ایسے میں کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ اسے علم بھی نہ ہوا
* * * *
رضیہ بیگم اور حجاب سٹول پر بیٹھی اشک بہا رہی تھیں۔ علی عظمت کے چہرے سے بھی پریشانی عیاں تھی بس فرق صرف اتنا تھا وہ اپنا دکھ اپنے سینے میں دبائے ہوئے تھے
’’پتا نہیں کس کی نظر لگ گئی ہے میرے بچوں کو۔۔۔‘‘رضیہ بیگم بین کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں
’’ پھپو۔۔ پلز۔۔ روتے نہیں ہیں۔۔ دیکھنا ۔۔ انمول جلد ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔۔د یکھنا۔۔‘‘حجاب مسلسل رضیہ بیگم کو حوصلہ دے رہی تھی مگر اشک تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
’’پہلے وجیہہ کے ساتھ اتنا کچھ ہوگیا اور اب انمول۔۔‘‘ وہ مسلسل قسمت کو کوس رہی تھیں۔تبھی چرچراہٹ کی آوازآئی۔ سب کی نظریں آپریشن تھیٹر کے دروازے پر جا ٹھہریں
’’ ڈاکٹر صاحب۔۔ اب ٹھیک تو ہے ناں میرا بیٹا؟‘‘رضیہ بیگم نے روہنسا ہوکر پوچھا تھا
’’دیکھئے ابھی کچھ بھی کہنا ناممکن ہے۔۔‘‘مضبوط قدم اٹھاتے ہوئے وہ مسلسل آگے بڑھ رہے تھے۔ علی عظمت مسلسل ان کا پیچھا کرتے رہے
’’لیکن پھر بھی کچھ تو بتائیں انمول ٹھیک تو ہوجائے گا ناں۔۔ اس کی اب حالت کیسی ہے ؟ خطرے سے تو باہر ہے ناں؟‘‘ان کی نگاہیں بس ڈاکٹر کے ہونٹوں ہر مرتکز تھیں کہ لب ہلیں اور انمول کی صحت یابی کی خبر سنائیں
’’دیکھیں۔۔ مریض کے جسم کا پچاس فیصد سے زائد حصہ جھلس چکا ہے۔جس بنا پرابھی کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔۔ بس آپ دعا کیجیے۔۔‘‘علی عظمت کی تو جیسے ہمت ہی ٹوٹ گئی۔
’’ مریض کے جسم کا پچاس فیصد سے زائد حصہ جھلس چکا ہے۔‘‘یہ الفاظ ہتھوڑی کی طرح ان کے سر پر ضرب لگا رہے تھے۔ انہوں نے شکست خوردہ نظروں سے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو ہمت مزید جواب دے گئی
’’انمول۔۔‘‘رضیہ بیگم روتے ہوئے زمین بو س ہو گئیں۔ حجاب بمشکل انہیں سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔مگر اس کی ہمت خود جواب دے چکی تھی ۔عندلیب کو تو جیسے کوئی فکر ہی نہیں تھی۔ حجاب پچھلے تین گھنٹوں سے اس کا فون ٹرائے کر رہی تھی مگروہ مسلسل بند جا رہا تھا۔وجیہہ وہ تو جیسے اپنی ہی زندگی میں ایسے الجھ چکی تھی کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ اسے علم ہی نہ تھا۔ شگفتہ بی بی کے گزر جانے کے بعدرضیہ بیگم اور علی عظمت نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ واپس آجائے۔وہاں اکیلے نہ رہے۔ ضرغام بھی نہیں ہے جو اس کا خیال رکھے مگر وہ نہ مانی
’’ لڑکی کا اصل گھر اس کا سسرال ہی ہوتا ہے۔اس کا جینا مرنا صرف اس کا سسرال ہوتا ہے اور مجھے اپنے سسرال سے کوئی گلہ نہیں جو میں اسے چھوڑ کر میکے میں آؤں۔جب تک میں ضرغام اور میری شادی قائم ہے میری شناخت صرف میرا سسرا ل ہے۔‘‘ اس لئے ابھی تک اس کے پاس انمول کی خبر بھی نہیں پہنچی تھی
* * * *

******
ناول کے بارے میں اپنی رائے ضرور دیں
۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 64980 views »
I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More
30 Sep, 2017 Views: 651

Comments

آپ کی رائے
bohoth umda ... MashaAllah
By: farah ejaz, Karachi on Oct, 01 2017
Reply Reply
1 Like
thank u
By: Muhammad Shoaib, Faisalabad on Oct, 03 2017
0 Like