میں سلمان ہوں(٩٢)

(Hukhan, karachi)
نہ کوئی خواب نہ کوئی دعا
خالی سی ویران آنکھیں خالی سے ہاتھ
آخر کو ہم جائیں کہاں
نہ کوئی منزل نہ کوئی رستہ
نہ ہم سفر نہ ہی کوئی ہم نوا

پھر بھی آشنا نہ ہوئے غم و رنج سے
کیا ہے تقدیر کوئی توپوچھے ہم سے
ہار بھی جاؤں گر خودسے
پھر بھی زمانہ پوچھتا ہے ہم سے
کھیلتے ہی کیوں ہوں ،،ڈر نہیں لگتا ہارسے
ہر کوئی جیتا ہارے ہوئےسے

سلمان بمشکل چل کر اپنے ایک کمرے کے محل میں بیڈپرگر گیا،،،ہر آہٹ پہ اسے خوف
ساہونے لگتا جیسے ابھی کوئی اسے لاک اپ سے نکال کر پیٹ ڈالے گا،،،
شراب کے نشے میں وردی کی تذلیل کرتے انسان درندے بن جاتے تھے،،،رسی سے جکڑے
بے گناہ جسم،،،گناہگار ہاتھوں سے وہ ذلت اٹھاتے تھے،،،کہ کائنات بھی شرمندہ ہوجاتی تھی
سمجھ نہیں آتی تھی کہ انسان کا یہ کونسا روپ تھا،،،

آج بھی سوسائٹی کا چہرہ داغ دار تھا،،،سیاہ سی انسانیت ہر سوسیاہی بکھیرتی تھی،،،

سلمان نے اسلم کوتشکر آمیز آنکھوں سے دیکھا،،،یار اسلم! کسی سے نہ کہنا ،،،
کیا ہوا ہے،،،بس کہہ دینا ایکسیڈینٹ ہوگیا چھوٹا موٹا،،،میں جلد ہی ٹھیک ہوجاؤں گا
وکیل صاحب کو کتنےپیسے دئیے؟؟ اسلم نےآگے بڑھ کر سلمان کا ہاتھ تھام لیا،،،
یار ابھی انسانیت باقی ہے،،،اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے،،،آج نہیں تو کل،،،کریم صاحب کو
حساب دینا ہو گا،،،

ندا گھبرائی ہوئی کمرے میں آئی،،،کیا ہوا؟؟،،،کیا ہوا؟؟،،،سلمان مسکرا دیا،،،بس
بس سےٹکرا گیا،،،وہ طاقتور تھی جیت گئی،،،میں مکینک کے پاس تھا،،،
ندا زورسے بولی،،،مکینک،،،اسلم جھٹ سے بولا‘‘ڈاکٹر‘‘،،،موصوف سرکاری ہسپتال میں
موٹی موٹی نرسوں کے نرغے میں تھے،،،آنے کا دل ہی نہیں تھا،،،
وہ تو کھٹملوں نے کہا،،،بھائی اس کا خون ختم ہو گیا،،،نیا مریض لاؤ،،،کڑواخون ہے اسکا،،
ڈسچارج کروا کر لایا ہوں،،،

مفت کی روٹیاں کسے بری لگتیں ہیں،،،سلمان نے آہستہ سے کہا،،،

ندا اس کے لیےچکن سوپ بن سکتا ہے کیا؟؟،،،کمزوری بہت ہے اسے،،،ندا نے
ابھی لائی کہا اور کمرے سے نکل گئی،،،اسے سلمان کاپتاچلا،،،تو ڈوپٹہ تک سر
پہ نہیں رکھا،،،دوڑی چلی آئی،،،اسلم کی بیوی چائے اور بریڈ کے سلائس لےکر آ گئی،،،
دکھی نظروں سے سلمان کو دیکھنے لگی،،،اس کے آنسو نکلے جارہے تھے،،،اسے
سب پتا تھا،،،خدا ان کا ستیا ناس کرے۔۔۔

اسلم نےکہا،،،بیگم تم جاؤ تمہاری پہلے ہی طبیعت ٹھیک نہیں،،،یار تیرا سن کر دو
راتوں سے نہیں سوئی ہے،،،کہتی رہی میرا ویر سختی میں ہے،،،میں کیسےکھا پی کر
سو جاؤں،،،نوالہ کیا پانی بھی نہیں اترتا،،،ایسا لگتا ہے میرا سگا بھائی ظالموں کی
قید میں ہے،،،

سلمان نے مسکرا کے اسلم کا ہاتھ تھام لیا،،،مجھ سےلوگ اتنا پیارکرتے ہیں۔۔۔۔(جاری)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 881380 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Oct, 2017 Views: 920

Comments

آپ کی رائے
ANKHEN NM MKKRDIN ISS TEHRIR NY AJ PHIR
By: uzma, Lahore on Oct, 01 2017
Reply Reply
0 Like
am sorry but its not my words its your sensitive nature who makes you on cry
By: hukhan, karachi on Oct, 02 2017
0 Like
good brother
By: sohail memon, karachi on Oct, 01 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Oct, 02 2017
0 Like
heart touching story some time it feels we all are part of it
By: khalid, karachi on Oct, 01 2017
Reply Reply
0 Like
thx bro for your love for humanity
By: hukhan, karachi on Oct, 02 2017
0 Like