ناقابل قبول افغان پالیسی

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

افغانستان کا مسئلہ پاکستان کی مدد کے بغیر حل کرنا ناممکن ہے ماضی میں بھی پاکستان کے افغانستان کی ہر حکومت کے ساتھ مثالی تعلقات رہے ہیں طالبان دور سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی پاکستان کے افغانستان سے ملنے والے علاقے میں بسنے والے لوگوں کے آپس میں ایسے گہرے روابط ہیں جن کو کسی بھی طور پر ختم یا کم نہیں کیا جا سکتا اس حوالے سے جب بھی افغانستان میں کوئی بھی اقتدار میں آیا ہے پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات ہمیشہ سے ہی رہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ کھبی یہ تعلقات اچھے کھبی بہت اچھے اور کھبی برے بھی ہوتے رہے ہیں اور جتنی بار یہ اچھے ہوئے ہیں وہ یہاں کی حکومتوں کی وجہ سے ہوا ہے اور اگر برے ہوئے ہیں تو وہ پاکستان کے دشمنوں کے کہنے پر ہوئے ہیں چونکہ افغانستان کی تمام درامدات و برامدات کا گزر پاکستان سے ہوتا ہے اس لئے افغانستان کو اپنی تمام تر معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے پاکستان کی ضرورت رہتی ہے یہی وجہ ہے پاکستان کا افغانستان کی تجارت پر کسی حد تک اثرسوخ ہوتا ہے ۔نائن الیون کے بعد جب وہاں امریکہ آیا ہے ا سنے اپنے طریقے سے بہت کوشش کی کہ وہ افغانستان کو کسی طرح اپنے زیر اثر لائے اس کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے کے بعد بھی وہ کسی مقام تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جب اس نے دیکھا کہ یہ اسکے بس کا کام نہیں تو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کے سر یہ جنگ ڈال کر خود جان خلاصی کروالی ایسے میں انڈیا کے اپنے مفادات تھے وہ بھی اس مسئلے میں کود پڑا اب افغانستان میں ایک ایسی گیم شروع ہو گئی جس میں ان ممالک کے اپنے اپنے مفادات تھے امریکہ کئی بلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی ان کو ریفنڈنہیں کرا سکا اور انڈیا وہ تو اس جنگ میں پاکستان کی شکست کو دیکھ رہا تھا وہ بھی ممکن نہ ہو سکی تو انھوں نے افغان حکمرانوں کے ذریعے سے پاکستان کے خلاف زہر اگلوایا یہ بات الگ ہے کہ افغانستان کی عوام ہمیشہ پاکستان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس طرح بے سرو سامانی کے عالم میں پاکستان نے ان کی مدد کی تھی ۔اب حال ہی میں امریکہ میں آنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو امریکہ سے زیادہ بھارتی مفادات کا خیال رکھ رہے ہیں انھوں نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کردیا ہے اگر اس پالیسی کا حقیقی تجزیہ کیا جائے تو یہ افغانستان سے معدنیات کی لوٹ کھسوٹ خطے کی محاذ آرائی میں اضافے اور بھارت کو علاقے میں اس کے جارحانہ رویوں میں شہ دینے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے لئے اس میں کوئی چونکا دینے والی بات نہیں ہے کیونکہ اس میں امریکہ کی طرف سے ان بے بنیاد الزامات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ مخصوص دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کررہا ہے اور اب امریکہ اس صورتحال پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا دہشتگرد ہمارے خلاف ایٹمی ہتھیارں استعمال کرسکے ہیں چنانچہ ہم افغانستان میں غیر معینہ مدت تک موجود رہیں گے وہاں موجود فوجیوں کی تعداد میں اضافہ اور کارروائیوں میں شدت لائی جائے گی ہم نے آپریشن کب اور کہاں کرنا ہے یہ نہیں بتائیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ سے شراکت داری اسلام آباد کیلئے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشتگردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن شاید یہ اب ممکن نہیں اب اگر امریکہ نے پاکستان میں کسی قسم کی مداخلت کی تو شاید اس کے لئے بچ جانا ممکن نہ ہو سکے ۔ امریکہ کی طرف سے افغان پالیسی کے اعلان اور پاکستان پر بے بنیاد الزامات کے تناظر میں چین نے سخت موقف اختیار کیا ہے اور امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشگردی کے خاتمے کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں عالمی برادری دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرے جبکہ روس نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی نئی حکمت عملی سے افغانستان میں کوئی نئی معنی خیز مثبت تبدیلی نہیں ہوگی ۔ساتھ ہی ساتھ پاکستان کو لولی پاپ دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان ماضی میں ہمارا بہت اہم اتحادی رہا ہے ہماری فوجوں نے مل کر ہمارے مشترکہ دشمن کے خلاف لڑائی لڑی ہے پاکستان کے عوام نے دہشتگردی کی اس جنگ میں بہت نقصان اٹھایا ہے ہم ان کی قربانیوں اور خدمات کو فراموش نہیں کرسکتے جبکہ ایسی ناقابل قبول پالیسی کے بعد پاکستان نے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری سرزمین پر کوئی منظم دہشتگرد گروپ موجود نہیں ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مالی اور جانی قربانیاں دی ہیں ۔اگر باریکی سے جائزہ لیا جائے تو امریکی خفیہ ایجنسیوں اور وزارت دفاع نے افغانستان میں اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے یہ طریقہ تلاش کیا ہے پاکستان پر بے بنیاد الزام عائد کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے کہ امریکی ناکامیوں کے راستے میں یہی رکاوٹ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح پاکستان نے شمالی وزیر ستان سمیت اپنے تمام قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے ذریعے دہشگردوں کے انفراسٹرکچر اور ان کے مضبوط ٹھکانوں کا خاتمہ کیا ہے افغانستان میں امریکہ ، نیٹو یا افغان حکومت اس نوعیت کی کامیابی حاصل نہیں کرسکیں یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کو ڈی گریٹ کر کے اس کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور حاصل کی جانے والے کامیابیوں کو اپنی ناکامیوں میں چھپا کر پاکستان پر مذید بوجھ ڈالنے کی کوشش میں ہے جس کو پاکستان اپنے عالمی دنیا اور بلخصوص دوست ممالک کو دکھا کر اور بتا کر اچھے طریقے سے دفاع کر سکتا ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 133373 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
02 Oct, 2017 Views: 408

Comments

آپ کی رائے