سی پیک کو ناکام بنانے کی کوشش۔۔۔۔رجوع الی القرآن

(Attique Ur Rehman, Islamabad)

 پاکستان موجودہ عالمی پس منظر میں نشانہ پر ہے کہ اس کی سیاسی و اقتصادی پالیسیوں کا عالمی دنیا باریک بینی سے دیکھ رہی ہے ۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان میں جمہوری قیادتیں سیاسی اختلافات کے باوجود مستحکم و متحد ہوکر ملک پاکستان کی ترقی کیلئے جامع اقتصادی پالیسی تیار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جس کی ایک بڑی کوشش پاک چین دوستی کے تعوان و اشتراک سے سی پیک منصوبہ پر تیزی سے عملداری شروع ہوچکی ہے کی وجہ سے عالمی دنیا متذبذب اور ہیجانی کیفیت سے دوچار ہوکر منصوبہ بندی کررہی ہے کہ ملک پاکستان کو اندرونی و بیرونی سازشوں اور مسائل میں اس قدر جکڑ دیا جائے کہ وہ اس منصوبہ کی تکمیل سے جہاں خود عدم توجہی کے موجب ہوں اور اس کے ساتھ اضطراری صورتحال کی وجہ سے چین دستبرداری کرجائے۔امریکہ ہو یا انڈیا اور ملک دشمن عناصر اس سلسلے اور ناپاک عزم کی تکمیل کیلئے آخری حد تک جانے کو تیار ہیں ۔امریکی صدر ٹرمپ کا بیان ہو یا ششماسوراج کا اقوام متحدہ کا خطاب یہ سب کڑیاں پاکتسان دشمنی پر دال ہیں اور اس ناپاک خواہش کو عملی تعبیر دینے کیلئے داخلی و خارجی طورپر سازشوں کا جال بنا جارہاہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک و قوم کے ساتھ ہمدردی کرنے والے محبان وطن سیاسی و سماجی اور مذہبی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ سی پیک ایک قومی منصوبہ ہے ،یہ علاقائی تجارت و تعلقات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرے گا ،سی پیک کی تکمیل سے پاکستان کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا ،نئے کارخانے لگیں گے جس سے بیروزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی ۔ چیمبرز اور تاجر برادری خاص طور پر نجی شعبے کو آگے آنا ہو گا اور سی پیک کی تکمیل میں اپنا مرکزی کردار ادا کرنا ہو گا۔ سی پیک کے صنعتی زونز میں چینی کمپنیوں کے ساتھ ملکر منصوبے اور کارخانے لگانے پڑیں گے تاکہ مقامی صنعت کو تحفط مل سکے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کا میڈیا بھی ملک و قوم کی بہتری و فلاح کیلئے سی پیک منصوبہ کی تکمیل کیلئے راہ ہموار کریں اور اس کے ساتھ تاجر برادری بھی اپنی ذاتی منافع خوری کو مدنظر رکھنے کی بجائے عالمی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اس عظیم منصوبہ کی تکمیل کریں۔دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کا وجود عالم غرب کی آنکھوں میں اس لئے کٹھکتاہے کہ اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی جس کیلئے لاکھوں انسانوں نے قربانیاں پیش کی ہیں ۔آج بھی ارض پاک کو سینچنے والی ہستیاں جو باقی ماندہ ہیں اپنے خون جگر سے ملک و ملت کو تعمیرو ترقی کے زینہ پر چڑھانے کی سعی کررہے ہیں۔ انہی شخصیات میں سے ایک خواجہ محمد اسلم ہیں۔جنہوں نے اپنی حیات جاوداں کو ملک و ملت کو نظریاتی و فکری بنیادوں پر محفوظ بنانے کے ساتھ معاشی طورپر مستحکم کرنے کی سعی بھی کی ہے۔خواجہ محمد علمی و فکری ،نظریاتی و اصلاحی اور اسلامی و قرآنی فکر کے امین ہیں۔ان کے ساتھ میری چند ملاقاتیں سیاسی و سماجی سرگرم کارکن اور چیف ایڈیٹر روزنامہ اعلان سحرو متعدد کتابوں کے مصنف اورمیرے استاد محترم جناب عامر شہباز ہاشمی صاحب جو خواجہ محمد اسلم صاحب کو اپنا استاذ سمجھتے ہیں کی وساطت سے ان کے دفتر و رہائش گاہ پر ہوئیں جہاں پر تحریک رحمت کے سیکرٹری جناب منشا قاضی صاحب کی دانشوارانہ اور ادبی گفتگوسے استفادہ کا بھی موقع ملا۔خواجہ محمد اسلم صاحب طویل العمر ہونے کے باوجود قرآن کریم کی دعوت و پیغام کو ہرخاص و عام تک پہنچانے کیلئے بلاناغہ دفتر میں حاضر ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ہفتہ وار درس قرآن کا بھی اہتمام کرتے ہیں جس سے سیکڑوں اصحاب علم فکر روحانی تسکین حاصل کرتے ہیں۔تحریک رحمت کا جب ذکر آیا ہے تو کچھ اس کے بارے میں بھی بات ہوجائے کہ اس تحریک کا یک نکاتی منشور یہ ہے کہ انسانیت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لانا۔جیساکہ جنگ قادسیہ کے موقع پر رستم کے دربار میں حضرت ربعی ابن عامرؓ نے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے اور اپنی آمد کا مشن بتاتے ہوئے عرض کیا تھا کہـ’’اﷲ نے ہمیں بھیجا ہے ،بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر ایک خداواحد کی بندگی میں لانے کیلئے،انسانیت کو ادیان و مذہب کی تنگی و ظلم سے نکال کراسلام کے عدل و انصاف کی طرف لانے کیلئے اور نوع بشر کو دنیا کی تنگی و تہی دامنی سے دنیاکی وسعت و کشادگی کی طرف لانے کیلئے‘‘۔بالکل اسی ہی طرز پر تحریک رحمت خالصتاً ﷲ و فی اﷲ اسلام و قرآن و حدیث کا پیغام ہر خاص و عام تک پہنچانے میں بغیر کی طمع و لالچ کے مصروف عمل ہے۔خواجہ محمد اسلم کا مختصر تعارف یہاں درج کرنا ضروری ہے کہ انسان کی جہد مسلسل اس وقت تک قابل رشک نہیں سمجھی جاتی تاوقتیکہ ان کے پس منظر و تہہ منظر اور پیش منظر کا ادراک و معرفت حاصل نہ ہو۔خواجہ صاحب تقسیم ہند سے قبل امرتسر میں رہائش پذیر تھے جہاں پر ایم اے او کالج امرتسر میں زیر تعلیم رہے۔اسی دوران قیام پاکستان کی نوید ملنے پر مسلمانوں کے آزاد وطن میں قیام پذیر ہونے کیلئے ہجرت کی ۔پاکستان پہنچنے کے بعد سلسلہ تعلیم منقطع ہونے پر شعبہ تجارت میں قدم رکھا اور قلیل مدت میں کاروبار میں اقبال حاصل کرچکے،اور اسی دوران کئی ممالک کے اسفار بھی کیے مرورزمانہ کے نتیجہ میں سب کچھ ہونے کے باوجود ایک چیز کی کمی محسوس ہونے لگی کہ دنیا کی زرق و برق موجود ہے عیش و عشرت کا سامان بھی وافر مگر جو فطرتی طورپر اﷲ جل شانہ نے انسان کو روحانیت و تسکین کی نعمت اپنی رضا سے عطا کر رکھی ہے کی ضرورت محسوس ہوئی تو حسن اتفاق سے ان کی ملاقات عظیم دانشور،فلسفی و حکیم، مفکر و محقق،سیرت نگار و مفسر قرٓن ڈاکٹر نصیر احمد ناصرؒ ایم اے ڈی لٹ،سابق صدر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ہوئے۔نگاہ مردمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں کی مصداق بنے ڈاکٹر صاحب کی نظر کرم و شفقت نے خواجہ محمد اسلم صاحب کے دل کی دنیا کو بینا کردیا ۔جس کے سبب وہ علم کے سمندر میں غوطہ زن ہوکر مزید موتی چننے کیلئے تیار ہوگئے ۔کاروبار زندگی کو اولاد کے سپرد کرنے کے بعد زنوائے تلمذ طے کرنے لگے۔سولہ سال تک علمی استفادہ کا شرف خواجہ صاحب کو ملا اور اسی دوران 1984میں ڈاکٹر نصیر احمد ناصر صاحب اور خوادہ محمد اسلم صاحب نے علم کی نشرواشاعت جو کہ انبیاء کے بعد امت کے ذمہ فریضہ اعظم ہے کی تکمیل کیلئے تحریک رحمت اللعالمین کی بنیادرکھی۔1997میں ڈاکٹر نصیر صاحبؒ کی رحلت کے بعد تحریک کے عہدیدران نے ذمہ داریوں کا بوجھ خواجہ محمد اسلم کے کندھوں پر ڈال دیا۔ان ذمہ داریوں کو آج بھی خواجہ صاحب تندہی سے اداکررہے ہیں۔خواجہ صاحب اس وقت عمرکی 87ویں منزل پر ہیں تاہم ان کے جذبے اور ولوے نوجوانوں کی طرح جوان ہونے کی وجہ سے وہ پرامید ہیں کہ ملک پاکستان میں ظلم و تاریک کے چھائے بادل ضرور جھٹ جائیں گے۔اﷲ اور اﷲ کے محبوب پیغمبر کا نظام اس ملک و قوم کی سربلندی اور مغرب پر غلبہ ہوکررہے گا۔خواجہ صاحب درجنوں کتابوں کے مصنف بھی ہیں تقریر و تحریر کے ساتھ دعوت دین و قرآن نوعاانسانیت تک پہنچارہے ہیں ۔محبان اسلام و دین اور محبان قرآن پر لازمی ہے کہ وہ خواجہ صاحب کی حیات سعید سے روشنی حاصل کرنے کے ساتھ ان کی تحریر و تقریر سے استفادہ حاصل کرکے دنیا ومافیھاکی خیر وبھلائی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔جب تک خواجہ محمد اسلم صاحب جیسے صلحاء و اتقیاء اور درویش صفت دنیامیں موجود ہیں تب تک اﷲ تعالیٰ امت مسلمہ کی مدد ونصرت کرتارہے گا۔اﷲ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کاتابع اور اسلاف واخلاف بزرگوں کا خادم بننے کی توفیق عنایت کرے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: atiq ur rehman

Read More Articles by atiq ur rehman: 120 Articles with 70560 views »
BA HONOUR ISLAMIC STUDIES FROM INTERNATIONAL ISLAMIC UNIVERSITY ISLAMABAD,
WRITING ARTICLES IN NEWSPAPERS SOCIAL,EDUCATIONAL,CULTURAL IN THE LIGHT O
.. View More
04 Oct, 2017 Views: 376

Comments

آپ کی رائے