29ستمبر - دل کے امراض سے بچاؤ کا عالمی دن

(Azeem Hasalpuri, )

 بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کے امراض سے بچاؤ کا عالمی دن 29 ستمبر کو منایا جاتا ہے غالبا یہ پہلی مرتبہ 2002کو منایا گیا۔ جس کو منانے کا مقصد لوگوں میں دل کی بیماریوں کے متعلق مکمل آگاہی اور ان سے بچاؤ کا شعور پیدا کرنا ہے۔
دل حیاتیاتی نظام کو چلانے میں سب سے بڑا کردار اداکرتا ہےصاف شفاف بلڈجسم کو غذا کی صورت میں مہیا کرنا اسی کا کام ہے جس کے بغیر انسانی زندگی ناممکن ہے اسی لیے تو دل کو جسم کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔اگر انسان کا دل درست ہوتو سارا بدن درست رہتا ہے اگر اس کے برعکس ہوتو سارا جسم بیمار لگتا ہے ۔ صحیح مسلم(۵۲)میں ہے رسول اللہؐے فرمایا:
((أَلَا وَإِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ أَلَا وَہِیَ الْقَلْبُ))
’’جسم کے اندر ایک ٹکڑا ہے اگر وہ تندرست ہوتو سارا بدن تندرست ہوتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے،بیمارہو جائے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے خبردار وہ ٹکڑا دل ہے۔‘‘
دل دو طرح کے امراض کا شکار ہوتاہے ایک جسمانی مرض اور دوسرا روحانی مرض ،آج ہم مختصر دونوں امراض کا ذکر کریں گے۔
دل کے جسمانی امراض
ماہرین کے مطابق دنیا میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی جسمانی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور گلوکوز کا بڑھنا، تمباکو نوشی، خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کا ناکافی استعمال، موٹاپا ، جسمانی مشقت کا فقدان دل،آرام پسندی، موٹاپا، بسیار خوری اور باقاعدگی کے ساتھ ورزش نہ کرنا دل کی امراض میں مبتلا ہونے کی بڑی وجوہات ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال سترہ لاکھ افراد امراض قلب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوجاتے ہیں، جب کہ پاکستان میں دل کے عارضے میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ہر سال دو لاکھ افراد امراض قلب میں مبتلا ہوکر جان سے جاتے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق دل کے امراض سے بچاؤ کے لئے روزانہ کی بنیادوں پر ورزش کرنا، صحت مند غذا کو ترجیح، ذہنی دباؤ اور پریشانی سے دور رہنے، تمباکو اور پریشانی سے دور رہنے، سے دل کے امراض سے کافی حد تک بچاجا سکتا ہے۔
دل کےروحانی امراض
دل کے روحانی امراض میں نمایاں گناہوں کی سیاہی ،برائی سے محبت ،سختیِ دل،حسد وبغض سے لبریز دل ،کینہ وعنادکی بھرمار،تکبروغیرہ ہیں ان بیمایوں کا علاج سچے دل سے توبہ سے ممکن ہے اور پھر ساری زندگی ان بیماریوں کو اپنے پاس نہ آنے دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کو صرف وہی دل پسند ہے جو ان سب بیماریوں سے پاک صاف ہو۔روز قیامت اگر کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ بیمار دل کا نہیں بلکہ صاف شفاف قلب سلیم کا ہو سکتا ہےسورت الشعراء:۸۸،۸۹)میںاللہ تعالی کا ارشاد ہوتا ہے:
’’ جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکے گا اور نہ بیٹے ۔ہاں جو شخص اللہ کے پاس پاک دل لے کر آیا (وہ بچ جائے گا) ۔‘‘
مزید( مسند أحمد : ۳/۱۹۸)میںنبی کریمؐ نے بھی فرمایا ہے:
((لَا یَسْتَقِیمُ إیْمَانُ عَبْدٍ حَتَّی یَسْتَقِیمَ قَلْبُہُ وَلَا یَسْتَقِیمُ قَلْبُہُ حَتَّی یَسْتَقِیمَ لِسَانُہُ))
’’کسی بندے کا ایمان سیدھا( صحیح) نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل سیدھا (مستقیم) نہ ہو اور آدمی کا دل مستقیم نہیں ہو سکتا حتی کہ آدمی کی زبان سیدھی ہے۔‘‘
دل اللہ کی محبت کا مقام ہے ،دل ایمان کا مقام ہے دل ہی ہر اک کی محبت کامحل ہے بلھے شاہ کی یہ بات یقینا سچ ہے کہ ’’پر بندے دا دل نا ٹھاویں ۔۔رب دلاں وچ رہندا‘‘
سلسلہ احادیث الصحیحہ (۱۶۱۹)میںرسول اکرمؐ کا فرمان بھی اسی کی عکسی کرتا ہےآپؐ نے فرمایا:
((إنَّ لِلّٰہِ اٰنِیَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَاٰنِیَۃُ رَبِّکُمْ قُلُوبُ عِبَادِہِ الصَّالِحِینَ وَأَحَبُّ إلَیْہِ وَأَلْیَنُھَا وَأَرَقُّھَا))
’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے لیے زمین میں برتن میں اور تمھارے رب کے برتن اس کے نیک بندوں کے دل ہیں اور ان میں سے اسے سب سے زیادہ محبوب دل وہ ہیں جو سب سے زیادہ نرم اور سب سے زیادہ رقت والے ہیں۔‘‘
اپنے دلوں کو گناہوں کی گندگی سے پاک صاف کریں، کیونکہ اللہ کو وہی دل پسند ہے جو ہر طرح کے گناہ سے پاک ہو۔ سنن ابن ماجہ(۴۲۱۶)میں ہےسیدناعبداللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے آپؐسے دریافت کیا لوگوں میں سے افضل کون ہے تو آپؐنے فرمایا:جو مخموم القلب اور صدوق اللسان ہو ۔ صحابہ ؓ نے کہا : زبان سچ والا تو سمجھ آگیا مگر مخموم القلب کیا ہے؟ توآپؐنے فرمایا:
((ہُوَ التَّقِیُّ النَّقِیُّ لاَ إثْمَ فِیْہِ وَلَا بَغْیَ وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ))
’’یہ وہ ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو جس کا دل صاف ہواس میں نہ گناہ ہو اور نہ ظلم اور نہ خیانت ہو اور نہ حسد۔‘‘
آئیے! ہم اپنے دلوں کی حفاظت کریں اسے جسمانی وروحانی بیمایوں سے محفوظ کرکے اہنی دنیاوی اور اکروی زندگی کو بہتر بنائیں۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azeem Hasalpuri

Read More Articles by Azeem Hasalpuri: 29 Articles with 22486 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Oct, 2017 Views: 689

Comments

آپ کی رائے