لازوال قسط 22

(Muhammad Shoaib, Faisalabad)

دعائیں انسان کو موت کے منہ سے بھی نکال لاتی ہیں ۔ یہی حال انمو ل کے ساتھ ہوا۔کہنے کو تو اس کا پورا جسم جھلس چکا تھا۔ چہرے پر مختلف جگہ پر داغ بن چکے تھے مگر دعاؤں نے اس کے چہرے کو مسخ ہونے سے بچا لیا۔ اس کی روح کو اس کا جسم چھوڑنے نہیں دیا۔ایک دن کے مختصر سے وقت میں ہی اس نے تیزی سے ری کور کرنا شروع کر دیا۔
’’ انمول۔۔‘‘ وارڈ کا درواہ کھلا تو وہ پلٹی اور وجیہہ کو دروازے کے ساتھ پایا
’’آپی! آپ۔۔۔‘‘حجاب انمول کے بازو میں بیٹھی اس کے ہاتھوں پر لیپ لگا رہی تھی مگر وجیہہ کو دیکھ کر اس کے ہاتھ رک گئے اور وہ دروازے کی طرف بڑھی
’’اتنا کچھ ہوگیا اور تم نے مجھے اب بتایا؟‘‘ اس نے معمولی سی خفگی کا اظہار کیا اور انمول کی طرف بڑھی۔ اس کے چہرے کے ایک ایک حصے کو بغور دیکھا۔ آنکھوں سے خودبخود اشک بہنے لگ گئے۔ لبوں کو دیکھا ، جو کل تک گلابی تھے آج جھلس کر سیاہ ہوچکے تھے۔بھنوؤں کو دیکھا جو کل تک ایک ادا سے اچکتی تھیں آج بے جان تھیں۔آنکھوں کو دیکھا جہاں کل تک ایک رعنائی جنم لیتی تھی آج یاس و حسرت کا شکار تھیں۔بند آنکھوں کے پیچھے چھپے غم کو وہ بآسانی پڑھ سکتی تھی
’’آپی! گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ انمول جلد ٹھیک ہوجائیں گے‘‘حجاب نے کندھے پر اپنے ہاتھوں کی پشت رکھی تھی۔
’’ انمول۔۔۔ تم ٹھیک تو ہو۔۔‘‘ نرم ہاتھوں سے اس نے جیسے ہی اس کے بالوں کو چھوا تو وہ ہلکا سا کراہا تھا
’’ آپی! ڈاکٹر نے ابھی کسی بھی حصے کوچھونے سے منع کیا ہے ۔۔ میں بھی اتنی دیر سے لیپ ہی لگانے کی کوشش کر رہی تھی‘‘
’’لیکن کیسے ہوا یہ سب کچھ؟‘‘حسرت کے ساتھ اس نے پوچھا تھا
’’ پتا نہیں آپی۔۔‘‘ حجاب کی آواز بھر آئی تھی
’’پتا نہیں سے کیا مطلب؟ تم سب گھر نہیں تھے کیا؟‘‘ استفہامیہ انداز میں حجاب کی طر ف دیکھا
’’ آپی گھر تو تھے لیکن انمول عندلیب کے کمرے میں تھا اور جب میں نے انمول کی کراہنے کی آواز سنی تو کمرے کی طرف لپکی مگر وہاں جا کر دیکھا تو۔۔۔‘‘ اس دل بھر آیا تھا ۔ اس نے حسرت کے ساتھ انمول کی طرف دیکھا جو آنکھیں بند کئے لیٹا ہوا تھا
’’اور عندلیب ۔۔ وہ کہاں تھی؟‘‘
’’ پتا نہیں آپی۔۔۔ کہاں جاتی ہے؟ کب جاتی ہے ؟ کسی کو کوئی خبر نہیں۔۔‘‘
’’ اس کا مطلب ابھی تک اسے کچھ نہیں معلوم ؟‘‘وجیہہ کے پوچھنے پر اس نے منفی میں سر ہلادیا
’’اللہ۔۔۔جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔۔۔‘‘ وہ زیر لب بڑبڑاتی ہوئی انمول کے پاس آبیٹھی
’’ کتنی بار سمجھایا تھا ناں تمہیں۔۔ کتنی بار مگر تم نے ایک نہیں سنی۔ ہمیشہ حسن کے پیچھے بھاگتے رہے اور اپنے حسن پر فخر کرتے رہے ۔ دیکھا آج یہ حسن تمہیں بھی دھدکار کر چلا گیا۔۔‘‘ دردبھرے لہجے میں وہ اسے سمجھا رہی تھی۔ وہ اچھی طرح جانتی کہ وہ اگرچہ آنکھیں بند کئے ہوئے ہے مگر سن سب کچھ رہا ہے۔
’’ دیکھو! آنکھیں بند کرنے سچائی چھپ نہیں جاتی۔۔ابھی بھی وقت ہے ۔ واپس آجاؤ۔ دیکھو تمہارے سامنے کتنی زندگیاں ہیں۔۔ سب تم سے کتنا پیار کرتے ہیں۔کتنا چاہتے ہیں تمہیں۔۔‘‘ وہ اسے سمجھا رہی تھی۔ ہلکا ہلکا اس کے بالوں کو سہلا رہی تھی
’’ دیکھو انمول۔۔ خوبصورتی چہرے کی ہی نہیں ہوتی بلکہ اصل خوبصورتی تو د ل کی خوبصورتی ہے۔ جس کا من دوسروں کے کینوں سے پاک ہے۔ اصل خوبصورت تو وہ ہے۔ چہرے کے حسن پر کیا جانا؟ یہ سب عارضی ہے۔انمول۔۔ چہرے کے حسن کو تو زوال ہوسکتا ہے مگر کردار کے حسن کو نہیں۔۔‘‘یہ سنتے ہی اس کے جسم میں معمولی سی جنبش ہوئی تھی۔شاید اس کی باتیں انمول پر اثر کر رہی تھیں
’’دیکھو انمول۔۔ تمہیں تو زندگی کا سامنا کرنا اچھا لگتا تھا ناں! تم نے تو ہمیشہ زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی تھی پھر آج کیوں سچ سے دور بھاگ رہے ہو۔ میں جانتی ہوں تم جان بوجھ کر آنکھیں بند کئے ہو لیکن کب تک؟ کبھی نہ کبھی تو تمہیں سچائی قبول کرنی ہی ہوگی تو پھر آج کیوں نہیں؟‘‘اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولنا شروع کیں تو حجاب کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھر آئی
’’مم مم۔۔‘‘اس نے بولنا چاہا تھامگر اس سے بولانہ گیا
’’ نہیں۔۔ تمہیں اتنے جتن اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے ابھی۔۔‘‘ اس نے پیار سے ا س کے ماتھے کو بوسہ دیا تو اُس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اپنے نرم ہاتھو ں سے ا س نے انمول کے آنسو صاف کیے
’’یہ کیا تمہاری آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں۔ اتنے کمزور تم کب سے ہوگئے بھلا۔۔!!‘‘اس کو زندگی کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
’’انمول آپ کو پتا ہے پھپو اور پھپاآپ کے لئے کتنا پریشان تھے؟اب بھی اتنی مشکل سے دونوں کو یہ کہ کر گھر بھیجا ہے کہ وہ صبح کو آجائیں۔۔۔ تکلیف آپ پر آئی تھی مگر تڑپے وہ دونوں تھے۔ آپ جانتے ہیں جب تک ڈاکٹر کے منہ سے یہ نہیں سن لیا کہ آپ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے دونوں نے صحیح سے سانس بھی نہیں لی تھی۔ایک سانس خودلیتے اور دوسری کے لئے دعا کرتے کہ وہ آپ کے نصیب میں ہو۔۔‘‘حجاب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
’’دیکھا انمول! سب تم سے کتنا پیار کرتے ہیں۔امی ابو اور حجاب۔۔۔ تم جانتے ہو حجاب جب تمہیں لیپ لگا رہی تھی تو اس کی آنکھوں میں کتنا درد تھا تمہارے لئے۔ میں نے آتے ہی جب تمہیں چھوا تھا تو کراہے تم تھے مگر تکلیف حجاب کو ہوئی تھی۔انمول یہ مت سمجھنا کہ میں تمہیں عندلیب کے خلاف بھڑکا رہی ہوں ۔ میں صرف جو سچ ہے وہی کہہ رہی ہوں۔۔ ‘‘ ایک پل کے لئے اس نے توقف کیا
’’ محبت وہ ہوتی ہے جو آپ کے دکھ میں بھی آپ کے ساتھ ہو۔۔ یہی محبت کی نشانی ہے اور یہی ایک بیوی کی صفت۔‘‘ پیار سے اس کے بالوں کو چھوا تو اس نے اثبات میں گردن ہلائی اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
* * * *
بھری عدالت میں وہ کال کوٹ پہنے کرسی پر بیٹھی تھی۔اس کے سامنے کچھ فائلیں تھیں۔ اس کے سامنے پروسیکیوٹر وکیل بھی ایک عورت تھی۔ بڑے بڑے نین نقش کی مالک ۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھی۔ وجیہہ نے اپنے پیچھے دیکھا تو پانچ چھ لوگ بھی کمرہ عدالت میں جمع تھے۔آپس میں بات چیت ہو رہی تھی۔ اس نے دوبارہ نظریں اپنے سامنے موجود فائلوں پر مرکوز کیں۔ کچھ سوچتے ہوئے اس نے ایک نیلے رنک کی فائل اٹھائی اور اس کے ساتھ رکھا ہوا پین بھی اٹھایا۔سرورق کو پلٹا اور پھر پڑھتے کچھ لفظوں کو انڈر لائن کیا۔اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو ابھی دس بجنے میں پانچ منٹ بقایا تھا۔ شنوائی کا ٹائم دس بجے کا تھا۔ اتنے میں مضبوط قدموں سے پولیس کے دوجوان ضرغام کو ہتھکڑیاں لگائے کمرہ عدالت میں آئے۔ ضرغام کے آنے کے احساس نے اسے پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجبور کیا۔ضرغام کی نظریں وجیہہ پر جا کر ٹھہر سی گئیں۔سفید لباس پر سیاہ کوٹ اور پھر کھلے سیاہ بال اس کی شخصیت کو سب سے ممتاز کر رہے تھے۔ اس کا دل چاہا کہ آگے بڑھ کر کہے کہ اپنے سر کو ڈھانپے مگر اپنے ہی الفاظ اس کے ذہن میں ضرب لگانے لگے
’’ آج کے بعد میرے سامنے کبھی اپنے سر کو مت ڈھانپنا۔۔۔‘‘
’’ کیوں کہے تھے اس نے یہ الفاظ۔۔۔؟ آخر کیوں؟‘‘وہ اپنے آپ کو کوستا رہا۔ اسے کٹگھرے کی طرف لے جایا گیا۔ وجیہہ نے ایک نظر اُس پر ڈالی اور خاموش نگاہو ں سے کئی باتیں کر لیں۔دل نے چاہا کہ اٹھ کر اس کے پاس چلی جائے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنا ارادہ پایہ تکمیل تک پہنچاتی کمرہ عدالت میں جج صاحب داخل ہوئے۔سب اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور جج صاحب کے بیٹھنے پر سب اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ۔ نیچے بیٹھے گئے ایک آدمی نے ایک فائل ان کے سامنے پیش کی۔ انہوں نے فائل کو اٹھایا اور ایک سرسری نگاہ فائل پر دوڑائی اور پھر کمرہ عدالت میں موجود لوگوں کی طرف دیکھا
’’ کاروائی شروع کی جائے۔۔‘‘جج کی طرف سے اجازت ملتے ہی پروسیکیوٹر صاحبہ برق رفتاری سے اٹھیں
’’یور آنر! میرا نام تبسم ہے اور میں مس عنایہ کی طرف سے یہ کیس لڑ رہی ہوں۔یور آنر! یہ کیس جتنا سادہ ہے اتنا ہی گھناؤنا بھی ہے۔ یہ شخص جو آپ کے سامنے اس کٹگھڑے میں کھڑا ہے ۔ دیکھنے میں جتنا خوبصورت نظر آتا ہے کردار کے لحاظ سے اتنا ہی بدصورت اور گھٹیا ہے۔سامنے موجود اس شخص نے نہ صرف میری موکل کے ساتھ پیار کا جھوٹا ناٹک کیا بلکہ ایک بیوی کے ہوتے ہوئے بھی جب اس کی خواہش پوری نہیں ہوئی تو اس نے اپنی حوس کا نشانہ میری معصوم موکل مس عنایہ کو بنایا۔۔‘‘ اس نے ایک کے بعد ایک الزام ضرغام پر لگانا شروع کردیئے
’’ یہ سب جھوٹ ہے جج صاحب!‘‘اپنے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے وہ زور سے بولی تھی۔پہلی بار اس کی آواز کی گرج ضرغام نے دیکھی تھی۔
’’ اوبجیکشن سسپینڈڈ۔۔‘‘جج صاحب نے وجیہہ کو خاموش کروادیا
’’ تھینک یو یور آنر! جی میں کہہ رہی تھی کہ اس ضرغام عباسی نے پہلے میری موکل کو اپنے پیار کے جھوٹے جال میں پھانسا اور پیار ہی پیار میں ا سے اتنے قریب چلاگیا کہ اپنی حدوں کو ہی بھول گیا اور یہاں تک کہ یہ شخص یہ تک بھول گیا کہ آ ج وہ جو کچھ بھی ہے وہ صرف اور صرف میری موکل کی وجہ سے ہے۔۔‘‘ اس نے ایک پل کے لئے توقف کیا اور پھر دوبارہ اپنا موقف پیش کیا
’’میری موکل نے نہ صرف اس شخص کو شوبز کی دنیا میں انٹر ڈیوس کروایا بلکہ اس کو ایک پہنچان حاصل کرنے میں بھی مدد کی مگر اس شخص نے ان سب احسانوں کا بدلہ ایسے دیا ۔۔۔ کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی۔۔ میری عدالت سے استدعا ہے کہ اس ملزم کو جلد سے جلد مجرم قرار دیا جائے اور ایسی سزا دی جائے جو دوسروں کے لئے نشان عبرت ہو۔‘‘پروسیکیوٹر اپنے لب و لہجے کا استعمال اتنے بارعب انداز میں کر رہی تھی کہ ایک لمحہ کے لئے وجیہہ بھی ٹھٹک کر رہ گئی
’’ جی آپ کہیں۔۔‘‘
’’شکریہ جج صاحب! میں اپنی بہن سے بس یہی پوچھنا چاہوں گی کہ اب تک جو بھی انہوں نے الزام میرے موکل پر لگائے۔ کیا اُن کے پاس کوئی ثبوت ہے؟ کوئی گواہ ہے؟ جو وہ عدالت کے سامنے پیش کر سکیں؟‘‘وجیہہ نے نہایت شائستگی سے استفسار کیا تھا
’’ جی یورآنر۔۔۔ میری پہلی گواہ میری موکل خود ہیں اور جہاں تک ثبوت کی بات ہے تو ثبوت بھی ہے۔‘‘وہ جھٹ پلٹی اور ٹیبل سے ایک فائل اٹھائی اور اس میں سے ایک سی ڈی نکالی
’’ یہ ہے ثبوت۔۔‘‘ عدالت میں اس سی ڈی کی نمائش کرتے ہوئے مزید کہا
’’اس سی ڈی میں اس آدمی کی تمام حرکتیں ریکارڈ ہیں جو اس نے میری موکل کے ساتھ نہایت بے دردی کے ساتھ کیں‘‘سی ڈی آگے بڑھائی گئی او ر اسے پلے کیا گیا
’’ نہیں۔۔۔ ضرغام۔۔ پلز مت کرو۔۔۔ میرے پاس مت آؤ۔۔۔۔ پلز۔۔‘‘ ہر طرف اندھیرا تھا۔ صرف دو عکس دیکھائی دے رہا تھا۔ایک لڑکی کا تھا اور دوسرا لڑکے کا۔لڑکی کے کا دھندلا رہا تھا مگر نین نقش دیکھ کر اس کی شناخت کی جا سکتی تھی۔ سی ڈی کو ایک لمحے کے لئے پاز کیا گیا
’’ یہ لڑکی جو آپ کو نظر آرہی ہے یہ عنایہ ہے۔‘‘تبسم نے نشاندہی کروائی اور سی ڈی کو دوبارہ پلے کر دیا گیا
’’نہیں۔۔۔ ‘‘ ایک آدمی اس کی طرف بڑھا اور اس کے شانوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے پکڑ اور اپنی طر ف مائل کرنا چاہا
’’ضرغام چھوڑا مجھے۔۔‘‘ عنایہ بے دردی سے چلا رہی تھی۔ سی ڈی کو ایک بار پھر پاز کر دیا گیا
’’ یہ عکس جو آپ سیاہ شرٹ میں دیکھ رہے ہیں یہ وہ آدمی ہے جو اس وقت اس کٹگھڑے میں کھڑا ہے۔۔‘‘ضرغام کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ یک ٹک سی ڈی کو دیکھتا جا رہا تھا اور اپنی گردن نفی میں ہلاتا جا رہا تھا
’’اندھیرے کی بنا پر اس کاچہرہ تو ریکارڈ نہ ہوسکا مگر اس کی شرٹ ، اس کے جسم کا خدوخال ہوبہوضرغام جیسا ہے اور سب سے بڑھ کر اس کے ہاتھ میں موجود انگوٹھی دیکھیے اور سی ڈی میں موجود عکس کے ہاتھو ں کی طرف دیکھیے۔۔ دونوں کی انگوٹھی بالکل ایک سی ہیں۔۔‘‘ وجیہہ نے ایک نظر ضرغام کے ہاتھوں کی طرف دوڑائی اور پھر سی ڈی کی طرف۔۔۔ دونوں کو دیکھ کر ایک ہی شخص کا گمان ہو رہا تھا۔وجیہہ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی مگر اس سے پہلے وہ اپنا موقف دیتی عدالت کا وقت ختم ہوگیا
’’ یہ عدالت اگلی شنوائی تک ملتوی کی جاتی ہے۔۔‘‘
* * * *
’’ اے خدا! کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ؟ ‘‘ سرد آہ بھرتے ہوئے اس نے اپنے بالوں کو سمیٹا تھا۔ پورے ٹی وی لاؤنج میں اندھیرے کا بول بالا تھا۔آٹھوں پہر خاموشی تھی اور وہ اسی خاموشی میں اپنے آپ سے سوال و جواب کر رہی تھی۔جب سے تعلیم مکمل کی ۔ اس دن سے آج تک کبھی عدالت کامنہ بھی نہیں دیکھا تھا ۔وہاں کیسے معاملات پاتے ہیں، اس کو الف ب بھی نہیں معلوم تھا۔ بس ایک آس تھی جو اس کے قدم خوبخود اس طرف کھینچ رہے تھے۔اس نے ایک نگاہ سامنے ٹیبل پر بکھری ہوئی فائلوں پر دوڑای۔ تقریباً ہر رنگ کی فائل تھی۔ کسی میں ایک پیپر تھا کسی میں۔ اس نے سب کو سرسری طور پر دیکھا اور پھر سوچتے ہوئے ان میں سے نیلے رنگ کی فائل کو اٹھایا اور لاشعوری طور پر اس کے ورق الٹنے لگی
’’یہ رپورٹ بھی ضرغام کے خلاف ہے۔‘‘آنکھوں میں مایوسی کے بادل منڈلانے لگے۔ کمرہ عدالت میں ضرغام کی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی تھی۔وہ رپورٹ بھی ضرغا م کے خلاف گواہی دے رہی تھی۔ایک کے بعد ایک ثبوت عدالت میں پیش کئے گئے اور وہ خاموشی کے ساتھ بیٹھی ان کو دیکھتی رہی۔ کچھ نہ بول سکی اور نہ ہی ان کو رد کر سکی۔ سی ڈی سے لے کر میڈیکل رپورٹ ، یہاں تک کے اس کے گھر کے سامنے بیٹھا چوکیدار بھی ضرغام کے اس وقت وہاں ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بظاہر میڈیکل رپورٹ پر تھیں مگر نظریں ضرغام کے چہرے پر جو ہر ثبوت کے منافی گردن ہلا رہا تھا
’’ضرغام۔۔۔کیا کروں میں؟‘‘ زیر لب کہتے ہوئے اس نے فائل کو ٹیبل پر اچھال دیا۔سارے ورق ایسے بکھر گئے جیسے اس کے سپنے بکھر چکے تھے۔
’’خوشیوں کی عمر بہت کم ہوتی ہے لیکن یہ بات یاد رکھنا کہ ہرمشکل کے بعد آسانی ہے۔ ہر رنج کے بعد راحت ہے۔ ہر دکھ کے بعد سکھ ہے۔‘‘ایک سرگوشی اس کے کانوں میں ہوئی تھی۔وہ اٹھ کر کچن کی طرف بڑھی تو اسے ایسا لگا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہو۔ اس نے جھٹ پلٹ کر دیکھا تو خاموشی اور تنہائی کے علاوہ کسی کو پایا۔ہر طرف سناٹا تھا۔ یہ دیکھ کر ایک پل کے لئے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’اچھے لوگوں کا دنیا اکثر امتحان لیا کرتی ہے اور بعض اوقات تو انہیں اس امتحان سے اکیلے ہی گزرنا پڑتا ہے۔‘‘کچھ سرگوشیاں مسلسل اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔ اس نے شیلف سے ایک گلاس اٹھایا جس پر گرد کی چادر اٹی ہوئی تھی۔ ایک وقت تھا جب ان کا کچن چمکتا رہتا تھا اور ایک آج تھا کہ ہر طرف گرد تھی۔سنک کر طرف بڑھ کر اس نے گلاس کو دھویا تو نہ جانے کتنے وقت تک نل کھلا رہا۔ پانی بہتا رہا۔آنکھوں کی روشنی رات کے اندھیرے میں مزید ماند پر گئی تھی۔اس نے دوپٹے سے آنسو صاف کرنا چاہے مگر یہ دیکھ کر اس کا دل بھر آیا کہ اس کے شانوں پر تو دوپٹہ ہے ہی نہیں۔۔
’’ضرغام ! آپ نے میری سب سے بڑی دولت چھین لی‘‘ آنکھوں سے اشک بہتے گئے۔پلٹ کر اس نے فریج سے پانی نکالا اور گلاس میں ڈال کر پانی پیا
’’ اوہ۔۔ میں یہ کیسے بھول گئی۔‘‘پانی پیتے ہوئے اس کی نظرسامنے دیوار پرلٹکے کلینڈر پر گئی
’’ آج تو ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔۔۔‘‘ہاتھ پیشانی پر رکھتے ہوئے اس نے افسوس کا اظہار کیا تھا ۔ گلاس رکھ کر وہ دوبارہ ڈھیلے قدموں کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں آگئی اور صوفے پر بیٹھ کر ساتھ رکھی ٹیبل سے شگفتہ بی بی کی تصویر اٹھا کر اسے صاف کرنے لگی۔ صرف چند دنوں میں ہی اس پر مٹی کی چادر چڑھ گئی تھی۔
’’ امی۔۔۔ اگر آپ یہ خبر سنتیں تو بہت خوش ہوتیں۔میرے تو پاؤں بھی زمین پر نہ لگنے دیتیں مگر۔۔۔‘‘ آنکھوں سے آنسو چھلک کر تصویر کو بوسہ دینے لگے
’’ یہ خبر میں سب سے پہلے آپ کو سنانا چاہتی تھی لیکن شاید قسمت میں یہی لکھا تھا ۔۔‘‘ اس نے حسرت کے ساتھ تصویر کو اپنے سے سینے سے لگا لیا۔
* * * *
حجاب کی بدولت انمول تیزی سے اپنے آپ کو ری کو ر کر رہا تھا۔اگرچہ خاموشی سے لیٹا حجاب کو دیکھتا رہتا مگر اس کی خاموشی کو پس پشت ڈال کر وہ اس سے باتیں کرتی رہتی۔ کبھی بچپن کے قصے سناتی تو کبھی ادھر ادھر کی باتیں کرتی۔وہ خاموشی سے اس کے چہرے کو دیکھتا رہتا اور جب نیند کی چادر اوڑھ کر سو جاتا تو پھر آنسو بہاناشروع کردیتی۔ صبح سے شام اور شام سے صبح تک صرف انمول اس کی زبان سے جاری رہتا۔ رضیہ بیگم اور علی عظمت اسے سمجھاتے تب بھی یہ پیچھے نہ ہٹتی
’’بیٹا! کچھ دیر کے لئے گھر جاکر آرام کرلو۔۔ تھک جاؤ گی۔ اتنے دن ہوگئے تمہیں ہسپتال میں۔۔ انمول کے پاس ہم ہیں‘‘
’’ نہیں پھپا جان! میں ٹھیک ہوں! آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔‘‘
’’ ہم تو آرام کر رہی رہے ہیں ۔۔ تم ہمیں رکھنے کی کہاں دیتی ہو؟دن میں دو گھنٹے کے لئے تو آتے ہیں تبھی دو گھڑی آرام کر لیتی ہو ورنہ تمہارا بس چلے توچوبیس گھنٹے جاگتی رہو۔۔‘‘ علی عظمت نے دھیمے لہجے میں سرزنش کی
’’بیٹا! اپنی صحت کا بھی خیال رکھا کرو اگر تمہاری صحت اچھی ہوگی توہی انمول کا خیال رکھ سکو گی۔۔ یوں جاگتے رہنے سے تو تمہاری ہی صحت خراب ہوجائے گی‘‘رضیہ بیگم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی
’’ پھپو۔۔ مجھے نیند ہی نہیں آتی ہر وقت ذہن میں انمول کا خیال رہتا ہے۔۔‘‘
’’خیال رکھنا اچھی بات ہے لیکن اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا فرض ہے۔۔‘‘
’’ پھپو۔۔ میں تو خود بخود ٹھیک ہوجاؤں گی جب انمول صحیح و سالم گھر لوٹیں گے۔۔ بس صبح شام اللہ سے یہی دعا کرتی ہوں کہ وہ انمول کو جلدی سے ٹھیک کردے۔ ‘‘ انمول کے خاموش چہرے کو دیکھتے ہوئے حسرت کے ساتھ کہا تھا
’’دیکھ لینا ! تمہاری دعا جلد ہی قبول ہوگی۔۔‘‘ رضیہ بیگم نے حسرت سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا
’’ ویسے ڈاکٹر سے بات کی؟ کیا کہتے ہیں وہ کب لے جا سکتے ہیں ہم انمول کو گھر؟‘‘علی عظمت سے آس وامید کے ساتھ انمو ل کے چہرے پر نگاہ دوڑائی
’’ڈاکٹر تو یہی کہتے ہیں کہ جیسے ہی ری کور ہو ، گھر لے جاسکتے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ دو ہفتوں میں انمول کی طبیعت میں مزید سدھار آجائے گا‘‘
’’ خداکرے۔۔۔‘‘رضیہ بیگم نے کہا

******

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Shoaib

Read More Articles by Muhammad Shoaib: 64 Articles with 63925 views »
I'm a student of Software Engineering but i also like to write something new. You can give me your precious feedback at my fb page www.facebook.com/Mu.. View More
07 Oct, 2017 Views: 474

Comments

آپ کی رائے