انتقاضہ تحاریک اوراسیر فلسطینی خواتین

(Tanveer Awan, Islamabad)

انتقاضہ کا معنی ہلچل اور اٹھ کھڑے ہونا ہے جب کہ سرزمین فلسطین کے تناظر میںیہ ایک ایسی تحریک کانام ہے جو3دہائیاں پہلے جدید ترین اسلحہ سے لیس اور ٹیکنالوجی سے بہرہ مند ممالک کی حمایت یافتہ ناجائز ریاست اسرائیل کے خلاف نہتے فلسطینیوں نے غلیلوں اور پتھروں سے شروع کی تھی ،یاد رہے کہ 80 کی دہائی میں غزہ کی پٹی میں واقع خیمہ بستی ’’جالیا‘‘میں دانستہ طور پر ایک اسرائیلی ٹرک تلے کچلے جانے والے 4فلسطینی مزدوروں کی شہادت سے شروع ہونے والے سلسلے نے بہت ہی کم عرصہ میں عوامی احتجاجی تحریک کا روپ دھار لیا اور اسی اسلامی مزاحمتی تحریک کو انتقاضہ اولیٰ کا نام دیاگیا،بلاشبہ ایک عشرہ بھر چلنے والی یہ تحریک بہت مؤثر ثابت ہوئی اور جبر وتشدداور عیاری ومکاری کی ناکامی کے بعد اسرائیل اور اس کے حواریوں نے اس تحریک کے دوررس نتائج بھانپ کے بعد فلسطینی قوم سے مذاکرات میں ہی عافیت جانی ،ایک رپورٹ کے مطابق 1991ء کی میڈریڈ امن کانفرنس، امریکی بھاگ دوڑ کے نتیجے میں اوسلو مذاکرات،1993ء میں یاسر عرفات کااسحاق رابن سے تاریخی مصافحہ اور غزہ کی ایک بلدیہ نما ’’فلسطینی اتھارٹی‘‘کاقیام اسی انتقاضہ اولیٰ کی مرہون منت ہیں ۔انتقاضہ اولیٰ کے دورا ن تقریبا 1,50,000فلسطینی گرفتار ،1500کے قریب فلسطینی شہید اور 200سے زائد اسرائیلی جہنم رسید ہوئے تھے۔

جب کہ سنہ 2000ء میں اسرائیلی اپوزیشن پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ایریل شیرون نے اسرائیل کاہیرو اور وزیراعظم بننے کے لئے یہ شر انگیزاعلان کیاکہ وہ احاطہ مسجداقصیٰ میں گھس کر’’مزعومہ ہیکل‘‘ کا سنگ بنیادرکھےمطلوبہ جگہ تک پہنچنے کے لیے فلسطینیوں کی لاشوں سے گزرنا ہوگا،اس نے اپنی کوشش کی اور مسجد اقصیٰ کے محافظ اپنا فرض ادا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکا اور یوں "انتقاضہ دوم کی بنیاد پڑ گئی جس نے پورے فلسطین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔

اب ایک بار پھر فلسطین میں تحریک انتقاضہ سوم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ،مرکز اطلاعات فلسطین اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض صہیونی انتظامیہ، فوج اور پولیس نے تحریک انتقاضہ القدس کو کچلنےکےلیےبڑےپیمانےپرفلسطینیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کرکے انہیں جیلوں میں ڈال رہی ہے،جب کہ گذشتہ دو سال کے دوران اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہروں میں گھر گھرچھاپوں،مظاہرین پر حملوں اور دیگر کارروائیوں میں 14 ہزارفلسطینیوں کو حراست میں لے کر جیلوں میں ڈالا ہے ۔ انمیںسے 3100 کم عمر بچے، 437 خواتین شامل ہیں،جب کہ 450 فلسطینیوں کو سوشل میڈیا پراسرائیلی فوج کے خلاف سرگرمیوں کےالزام میں گرفتارکیاگیا۔ان اسیران میں خواتین اور بچیوں کا اتنی بڑی تعداد میں ہونا یقینا لمحہ فکریہ ہے،مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ اسیران کے غزہ کے پٹی کےامور کے نگران عبدالناصر فروانہ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ صہیونی فوج مرد اورخواتین، بچوں اور بڑوں میں کوئی فرق نہیں روا رکھتی ہے ،جب کہ دوران حراست فلسطینی خواتین کو انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،گرفتار کی گئی خواتین پر وحشیانہ تشدد، ان کےساتھ توہین آمیز سلوک اور ظالمانہ حربوں کا استعمال، جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد، قیدتنہائی اور انتہائی تنگ، غلیظ اور تکلیف دہ مقامات پر انہیں رکھنا معمول کا سلسلہ ہے۔

بلاشبہ بدیہی طور پر کہ پوری فلسطینی قوم،عرب اورعالم اسلام قبلہ اول،بیت المقدس کیمحافظ اور رکھوالا ہے ،جس انداز میں اسرائیلی مظالم اور شر انگیزی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسی طرح فلسطینیوں سمیت دنیا بھر کے مسلمان میں بیت المقدس کے ساتھ محبت اور جانثاری بڑھتی جا رہی ہے ،ضرورت اس امر کی ہے انتقاضہ کی مزاحمتی تحاریک ہوں یا عالمی فورمز پر مسئلہ فلسطین کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت ،اسلامی برادری سمیت اقوام عالم کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 136980 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
13 Oct, 2017 Views: 504

Comments

آپ کی رائے