ہارس ٹریڈنگ ،بلاول بمقابلہ عمران خان

(Arshad Sulahri, )

پا کستان کی تا ر یخ میں واحد سیاسی جماعت پیپلز پا ر ٹی ہے جس نے غر یب عو ا م ا و ر عا م لو گو ں کی با ت کی ا نہیں حقو ق د ینے کیلئے جد و جہد کا آ غا ز کیا ،نظر یا تی سیا ست کی بنیا د ر کھی۔ محنت کشو ں ، ہا ر یو ں، کسا نو ں ا و ر عا م لو گو ں نے پیپلز پا ر ٹی کے سا تھ جذ با تی و ا بستگی پید ا کر لی۔ جو کسی نہ کسی شکل میں آ ج بھی نظر آ تی ہے ۔ ضیا ئی آ مر یت ا و ر قا ئد عو ا م ذ و ا لفقا ر علی بھٹو کی شہا د ت کے بعد پیپلز پا ر ٹی ر ا ستہ تبد یل کر تی گئی ا و رآ ج پیپلز پا ر ٹی نظر یا تی سیا ست کی ا مین ر ہی ہے او ر نہ ہی محنت کشو ں ، ہا ر یو ں ، کسا نو ں ا و ر غر یب عو ا م کی نظر یا تی جما عت ہے ۔ آ ج کی پیپلز پا ر ٹی محض ا قتد ا ر کے ا یو ا نو ں تک جا نیو ا لے ر ا ستو ں کی مسا فر ہے ۔ پیپلز پا ر ٹی کی قیا د ت مکمل طو ر پر ا قتد ا ر و مفا د ا ت کی پجا ر ی سر ما یہ د ا ر و ں ا و ر ا شر ا فیہ پر مبنی ہے ۔ پیپلز پا ر ٹی کی ذ یلی تنظیمو ں پی ا یس ا یف ، پی و ا ئی او، لیبر و نگ یا د یگر تما م تر مفا د ا تی گر و ہ بن کر ر ہ گئے ہیں ۔ پیپلز پا ر ٹی بلا شبہ پا کستا ن کے عا م لو گو ں کی ر و ا یت ہے ۔لیکن یہ رو ا یت د م تو ڑ ر ہی ہے ۔ جس کا مظا ہر ہ پچھلے د و تین سا لو ں سے د یکھا جا سکتا ہے کہ پیپلز پا ر ٹی کے خلا ف نو جو ا نو ں ا و ر عا م لو گو ں نے پا کستا ن تحر یکِ ا نصا ف کی جا نب ر جو ع کیا ۔ تحر یکِ ا نصا ف کی جا نب عو ا می تو جہ سے لگتا تھا کہ مستقبل کی پیپلز پا ر ٹی ا ب تحر یکِ ا نصا ف ہی ہو گی ۔لیکن عمر ا ن خا ن کو ا قتد ا ر کی جلد ی ہے ۔سو تحر یکِ ا نصا ف نے نو جو ا نو ں ا و ر عا م عو ا م کو نظر ا ند ا ز کر کے سر ما یہ د ا ر ، صنعت کا ر ا و ر جگا د ر ی سیا ستد ا نو ں کے سا تھ بیٹھنا منا سب سمجھا ا و ر تحر یکِ ا نصا ف کو خا لصتاً ا شر ا فیہ کی پا ر ٹی بنا د یا ۔ عمر ا ن خا ن کے ا س عمل سے نو جو ا نو ں کو با لخصو ص ا و ر عا م لو گو ں کو با لعمو م ما یو سی کا سا منا کر نا پڑ ا ہے ۔ جس سے تحر یکِ ا نصا ف گلی محلو ں ا و ر د یہا تو ں میں پہنچنے سے پہلے ہی و ا پس ہو گئی ۔ شہر و ں میں بھی عا م لو گو ں نے تحر یکِ ا نصا ف سے قد م پیچھے ہٹا لئے ہیں۔ آ ج صو ر تحا ل یہ ہے کہ تحر یکِ ا نصا ف ایک خا ص طبقہ کی جماعت بن گئی ہے ۔ عمو می و ا بستگی کے علا و ہ تحر یکِ ا نصا ف کا کو ئی و ر کر یا مقا می سطح پر فعا ل کا ر کن نہیں ہے ۔ تحر یکِ ا نصا ف کا جو بلبلہ بنا یا گیا تھا ا س پر عو ا م نے ا پنے ا علیٰ شعو ر کا اظہارکیاہے ۔عمر ا ن خا ن کے با ر ے میں آ ج عو ا می خیالات بہت مختلف ہیں۔ تمام تر خرابیوں کے باوجود یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں عوامی وابستگی کی حامل مذکو رہ جماعتیں ہی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری جوان قیادت آنے سے پیپلزپارٹی میں نئی جان پڑی ہے۔ دوسری جانب عمران خان ہیں ۔ایک جیسی تقاریر کرتے ہیں۔ گزشتہ روز جلسہ سے خطاب کے دوران بلاول نے عمران اور نواز شریف کو تنقید کانشانہ بنایا ۔یہی کچھ عمران خان کرتے ہیں۔ عوامی شعور کا تجزیہ کیا جائے تو یہی نظر آتا ہے کہ عوام دونوں میں واضح لکیر نہیں کھینچنے سے ہچکچا رہے ہیں۔اگر عمران خان نے کوئی واضح پروگرام نہیں دیا ہے۔بلاول بھی اپنے نانا اور ماں کے برعکس دوٹوک کوئی پروگرام اور لائحہ عمل دینے سے گریزاں ہے۔ بلاول کے اطراف میں بھی ویسے ہی لوگ ہیں جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔طاقت کا شرچشمہ عوام ہیں۔یہ بات ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔عمران خان ہو یا بلاول دونوں یہ یقین پختہ کرچکے ہیں کہ طاقت کا شرچشمہ امیپائر ہے۔لہذا چندہ ضرورت نہیں ہے کہ عوام کو پروگرام دیا جائے یا کوئی وعدے کیے جائیں۔گھوڑوں کی ریس ہے جو جیتا وہ سکندر ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arshad Sulahri

Read More Articles by Arshad Sulahri: 135 Articles with 44623 views »
I am Human Rights Activist ,writer,Journalist , columnist ,unionist ,Songwriter .Author .. View More
20 Oct, 2017 Views: 347

Comments

آپ کی رائے