صبح ازل سے شام ء ابد تک

(محمد اُسامہ عارف, واہ کینٹ)

عادل کبھی باہر آکر سب کے ساتھ بھی بیٹھ جایا کرو۔ نور نے اندر آتے ہی اپنی فل سپیڈ بولنا شروع کر دیا۔ نور جاؤ یہاں سے کبھی تو دستک دے کر آیا کرو میرے کمرے میں کوئی ادب و آداب سیکھ لو اب تو۔ نور نے گھور کر عادل کو دیکھا اور زیر لب بہت آہستا سے بولی جیسے تم دستک دے کر آے دل میں میرے مگر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی۔ عادل جیسے آپنے ہی خیالوں میں گم تھا وہ نور کی بات سن ہی نہ پایا تھا۔ عادل نیچے سب بلا رہے ہیں اور اب تم نہ آئے تو تمھیں لینے کو بابا ہی آیئں گے۔ اتنا کہ کر پیر پٹختی ہوئی نور نیچے چلی گئی۔ بڑے بابا اوہ نہیں ان کو یہاں نہیں آنا چاہئے یہ ہی سوچ کر عادل نے بستر سے چھلانگ لگا دی اور منہ ہاتھ دھو کر نیچے چلا آیا ۔ عادل ایک بائیس سال کا لڑکا تھا جس کے والد کا انتقال عادل کی پیدائش کے دن ہی ہو گیا تھا۔ تب سے لے کر وہ اپنے ماموں کے ساتھ ہی رہ رہا تھا عادل کی ماں کے نام عادل کے ابا نے شادی کے بعد شہر کے پوش علاقے میں دو دکانیں خرید کر اپنی پیاری بیوی کے نام کر دی تھی تا کہ بیوی کو کبھی بھی کسی سےبھی مانگنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ چاہئے یہ مںگنا ایک بیوی کا شوہر سے ہی کیوں نہ ہو۔

گھر کے جس حصہ میں عادل اور اس کی امی رہتے تھے وہیں ان کے ساتھ عادل کی نانی بھی رہتی تھیں،اپنی بیٹی اور نواسے کی تنھائی میں ایک بہت اہم ہستی جو ہمیشہ سے دونوں ماں بیٹے کی دلجوئی کرتی تھی۔
آج ان کے چہلم کی دعا تھی،نور اس لیے ہی تو عادل کو بلانے کو نہ چاہتے ہوئے بھی چلی آئی تھی۔
پھلوں سے بھری ٹرے کو دونوں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے کچن سے برامدے تک آتے جاتے عادل نور سے دو مرتبہ ٹکرانے سے بچا تھا
اور ادھر نور کے پائوں جیسے زمین پہ ٹک نہیں پا رہے تھے۔۔۔
عادل اور نور کی یوں تو بہت دوستی تھی مگر بس ایک کزن کی طرح سے مگر نور کے لیے عادل کچھ خاص تھا اور ہمیشہ ہی سے رہا بھی تھا۔
عادل یوں تو سب کو ہی پیارا تھا مگر اس کی خاموشی کسی کو بھی اچھی نہیں لگتی تھی۔
وہ جب بھی خاموش ہوتا گھر بھر میں جیسے قبرستان کا سا گماں ہونے لگتا تھا۔
عادل میں بھی مارکیٹ جاؤں گی پلیز رکنا,
نور ‎سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی نیچے آرہی تھی وہ نیلے جوڑے میں کوہ قاف کی پریوں جیسی لگ رہی تھی نیلا رنگ عادل کی کمزوری تھا,نیلا جیسے آسمانوں کی وسعت جیسے اجلا ذہن جیسے پاکیزگی۔
ایک لمحہ کو عادل کی سانس اور دھڑکن جیسے دونوں ہی تھم چکی تھی,وہ ہوش میں واپس اپنی ماں کی آواز سن کر آیا جو بار بار سامان کی لسٹ میں کسی نہ کسی چیز کا اصافہ ہی کر رہی تھی۔
عادل: امی ایک ہی بار کیوں نہیں بتاتی آپ,منہ بسورتے ہوئے دہپ سے صوفہ پہ بیٹھ گیا۔
اتنے میں نور بھی آچکی تھی اور اپنی پھوپھی کی وکالت کرتے ہوئے کاغذ اور قلم عادل کے ہاتھوں سے لے کر بولی,
نور:زرینہ پھوپھی آپ ان ماھراج کو کام ہی کیوں کہتی ہیں میں ہوں نا!
آپ بس مجھے ایک آواز دیں میں نہ آئی تو نام بدل دیں ہاں نہیں تو اور ڈائنگ ٹیبل پہ رکھے خشک میواجات کو کھانے لگی۔
عادل: جی جی شیطان کو یاد کریں وہ فوراً سے آجاتا ایسے ہی تم بھی, اس سے پہلے کے عادل کی بات مکمل ہوتی کچن سے زرینہ بیگم کی غصہ سے بھری آواز سنائی دی۔
اب جاؤ دونوں دیر مت کرنا اور گاڑی آہستہ چلانا اور عادل میرا بچہ نور کو تنگ بھی نہیں کرنا,
زرینہ بیگم جتنی دیر میں یہ سب باتیں کرتی اور دوپٹہ کے پلو سے ہاتھ صاف کرتی کرتی باہر آئیں تو دیکھتی ہی رہ گئی,ارے یہ کہاں چلے گئے اففف خدایا یہ دونو بھی نا۔۔
عادل کو اپنی ماں کی گاڑی کے معاملے میں روک ٹوک کبھی بھی اثر نہیں کرتی تھی,وہ ڈرئیونگ کرتے ہوئے گاڑی کو جہاز سمجھ کرچلاتا تھا ۔
اور ایک تھی نور جسے چلتے پنکھے کے پڑوں کو دیکھ کر بھی چکڑ آنے لگتے تھے۔
عادل تم کو کبھی کسی سے دوستی کرنے کی خواہش ہوئی ہے? نور نے جہجکتے ہوئے آخر سوال کر ہی دیا۔
ہوں مجھے,,,,,,,,نہ نہیں نو کبھی بھی نہیں۔
مختصر سے جواب کے بعد عادل گاڑی سے باہر دیکھنے لگا اور اشارہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا اور دل ہی دل میں وہ یہ دعا بھی کر رہا تھا ( اللہ جی پلیز اب یہ کوئی بات نہ کرے میں اسکو دیکھتا نہ جانے کیا ہو رہا ہے آج پلیز بچا لیں نا,,,,,
نور اس روکھے سے جواب کے بعد بھلا کب خاموش رہنے والی تھی. غصہ سے جل بھن کر رہ گئی اور بولی,,,, ہاں ہاں بہت سپر ہیومن ہو نا تم! جو دوستی نہیں کی کسی سے, قسم سے کر لیتے نا تو کریلے جیسے تو نہ ہوتے نا کم از کم۔۔۔۔
کیا کیا کیا کہا تم نے م ممم نیں اور کریلا پھر سے کہنا ذرا ایک بر بس, وہ اپنی تمام تر کوشش کر کے غصہ چھپانے کی کی تگدو کر رہا تھا اور کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کر چکا تھا ...
ہاں تو وہ ہی تو ہو آنکھیں نچاتے ہوئے بچوں کی سی معصومیت کے ساتھ بولی.
اس سے پہلے کے نور کا یہ وار پورا ہوتا گاڑی کو جیسے کسی نے حوا کے دوش پہ سوار کر دیا تھا
ایک زار دار جھٹکا اور نور کی چیخ,,,,,,,, عادل آہستی پلیز وہ جیسے رو دینےکو تھی....
ہاں میں کرتا آہستہ میں تو کریلا ہوں نا یہی کہ رہی تھی نا اب بول بچووو, عادل بھی اپنی ضد کا پکا تھا اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے پر یقین رکھتا تھا.....وہ دل ہی دل میں ہنس رہا تھا نور کی بےبسی پہ, وہیں ساتھ میں نور کی نمناک آنکھیں آج پھلی بار بے چین کر رہی تھی. ..
عادل نے گھر قریب آتے ہی گاڑی کی رفتار کم کر دی تھی...

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد اُسامہ عارف

Read More Articles by محمد اُسامہ عارف: 13 Articles with 9150 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2017 Views: 422

Comments

آپ کی رائے