جوتی یا جوتا

(Prof Niamat Ali Murtazai, )
(مزاحیہ افسانہ)

 مجھے اس خیال نے آتے ساتھ ہی دبوچ لیا کہ آخراس لسانی مسئلے کا حل کیا ہے:’جوتی‘ ہوتی ہے یا ’جوتا‘ ہوتا ہے؟
کبھی خیال آئے کہ ’ہوتی ‘ہے اور کبھی ذہن بنے کہ’ ہوتا ‘ہے۔ اسی ’ہوتی، ہوتا‘ نے مجھے لغت کھول کر تصفیہ کرنے کا مشورہ دیا۔جب لغت کی عدالت سے اپنے مقدمے کا فیصلہ سنا
 تو اس نے سوال کا ’جواب ‘،’سوال‘ ہی رہنے دیا۔ یعنی کہا کہ جوتی بھی ہوتی ہے اور جوتا بھی ہوتا ہے۔ لیکن لغت کا یہ فیصلہ ہمارے من نہ بھایا، ہر فیصلے سے متفق ہونا ضروری بھی نہیں ، بہت سے فیصلے بڑی عدالتوں میں جا کر غلط ثابت ہو چکے ہیں اور ہوتے بھی رہیں گے۔ ہم نے بھی لغت کا تصفیہ ذاتی بنیادوں پر قبول کرنے سے کھلم کھلا انکار کر دیا، چاہے توہینِ عدالت کا الزام یا جرم ہمارے گرد گھرا تنگ ہی کیوں نہ کر دے ہم اپنے ذہن کی تسلی کے بغیر رہنے والے نہیں آخر فاسٹس(Faustus) پڑھنے کا ہم پر اتنا اثر تو ہونا بنتا ہے

ہم نے اب اپنا مقدمہ لغت جیسی کسی بڑی عدالت میں رکھنے اور پھر سے کسی تذبذب کا شکار ہو کر اس کے فیصلے کو پھر سے رد کر دینے کی بجائے کچھ اور سوچنے کا سوچا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ لغتیں اکثر مکھی پر مکھی ہی مارتی ہیں ہاں کبھی کبھی اگر مکھی نہ ملے تو کوئی کیڑا مکوڑا بھی مار دیتی ہیں۔ لیکن لگتا وہ بھی مکھی کی طرح ہی ہے۔ویسے بھی مکھیاں مارنا کوئی کارنامہ نہیں ہے۔ہم سے یہ فیصلہ اپنے ذہن کی سپریم کورٹ سے لینے کا ارادہ کیا تا کہ ہماری سپریم کورٹ ایک جے آئی ٹی بنائے اور شواہد و حقائق اکٹھے کرے اور ان کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرے جو ذہن کے لئے قابلِ قبول بھی ہو اور اچھا بھی لگے یعنی ہماری مرضی کے مطابق بھی ہو۔

ہماری سپریم کورٹ نے فوراً جے آئی ٹی بنائی اور اس نے جِنو ں جیسی تیزی سے مواد اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ اس نے ایک پر دوسری مثال ہمارے چھوٹے سے ذہن کے دالان میں رکھتے ہوئے ماؤنٹ ایورسٹ سے زیادہ اونچا پہاڑ کھڑا کر دیا۔ کبھی ’چھُری اور چھرا‘ کی مثال سے ہمارے ذہن میں دہشت پیدا کی گئی۔ کبھی ’کنگھا اور کنگھی‘ کی مثال سے روئے دوست مشاطہ نیست کی یاد دلائی۔ کبھی ’گھڑا اور گھڑی‘ کی مثال سے پرانے زمانے کی یاد دلا کر سادگی اختیار کرنے کا درس دیا۔کبھی ’چوہا اورچوہیا‘ کی مثال سے ہمیں اپنا بچپن یاد دلایا جب ’کڑککی ‘ میں پکڑ کر گھر سے چوہوں کی ڈولی باہر لے جا کر چوہوں اور چوہیوں کو خیر باد کہا جاتا تھا۔ الغرض مثال پر مثال کہ ناک میں دم کر دیا لیکن جوتی یا جوتا کا جواب بالکل نہ مل سکا ۔

آخر ہم نے اپنے ذہن کی سپریم کورٹ اور اس کی وضع کردہ جے آئی ٹی کو بھی وقت کا ضیاع سمجھا اور مارکیٹ کو حرفِ آخر قرار دیتے ہوئے وہاں سے درست اور اصل معلومات اور دلائل اکٹھے کرنے کی نیت سے بازار کا رخ کیا۔ جوتوں اور جوتیوں کی بہت سی دکانوں کے مالکان میں کسی قسم کا فرق تلاش کرنے کی کوشش کی، ان کے شو کیسوں کی نمود و نمائش پر غور کیا، دکانوں پر موجود گاہکوں کی زبان سننے کی کوشش کی کہ آخر ’جوتی‘ ہے یا ’جوتا ‘ ہے۔ کوئی جوتی بول رہا تھا اور کوئی جوتے پر زور دیئے جا رہا تھا، خواتین کی صحبت سے فیض یاب ہونے کی سعی بھی کی لیکن وہ بھی جوتی اور جوتا سب کچھ مکس مٹھائی کی طرح آپس میں گڈ مڈ کئے جا رہی تھیں۔ اکثر جوتوں یا جوتیوں جیسے مسائل کا فوری اور دیر پا حل خواتین کی مدد سے جلد مل جاتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں بازار کی خواتین جو کہ ہمیشہ پر کشش لگا کرتی تھیں آج گھرکی خواتین کی طرح غیر دلچسپ جاپ رہی تھیں۔ ان کو کوئی قصور نہ تھا اور نہ ہی ان کا میک اپ کسی طرح سے کم تر تھا اور نہ ہی یہ کہ جوتوں کی دکانوں پر بلبوں کی کوئی کمی تھی۔ رات کودن بنا دینے والی لائیٹیں چہروں کے میک اپ پر ایسا کہ کام کر رہی تھیں جیسا سہاگہ سونے پر کرتا ہے۔ ان کی آنکھوں کا کاجل سردیوں کی رات کوشرما رہا تھا اور ان کے چودہویں کی رات جیسے چہرے چاند پر گرہن لگا رہے تھے۔ لیکن ہمیں آج ان کے چہروں سے زیادہ زبان کی ضرورت تھی کہ وہ کس کو جوتا اور کس کو جوتی بولتی ہیں ، اگر ہمیں خواتین کی گفتگو میں کبھی بھی دلچسپی نہیں رہی اور نہ ہی لینی چاہیئے کیوں کہ وہاں کچھ بھی نہیں ہوتا سننے والے کا بس وقت ہی ضائع جاتاہے اور جلدی پتہ بھی نہیں چلتا۔ شکر ہے کہ ہمیں اس بات کا علم ہے اور ہم آپ کو بھی اس میں شراکت دار بنا رہے ہیں کہ ہمیں آپ سے بہت ہمدردی ہے۔ یہ جوتا یا جوتی کا مسئلہ بھی ہمارا ذاتی نہیں بلکہ پوری اردو کمیونٹی کا مسئلہ ہے اور جب تک اردو زبان ہے یہ مسئلہ رہے گا ۔کیوں نہ ہم آنے والے پوتوں ، پوتیوں نواسوں اور دونواسیوں پر احسان کرتے جائیں اور اگر زیادہ نہیں تو ایک مسئلہ یعنی جوتوں اور جوتیوں کا مسئلہ تو حل کرتے جائیں ۔آنے والی نسلیں ہم پر فخر کریں گی اور ہمارا نام فخر سے لیا کریں گی اور پڑھ کر ہمارے لئے ایصالِ ثواب بھی کیا کریں گی۔اس خیال نے ہمارے ایسے حوصلے بڑھائے کہ ہم سارا بازار بند ہونے تک وہاں ہی پھرتے رہے تا کہ اس مسئلے کا کسی نہ کسی دکان سے حل نکل ہی آئے۔ آج ہمارا دل بالکل نہ چاہتاتھا کہ ہم خالی ہاتھ گھر جائیں، اس سے پہلے ہم بازار سے گھر کے مسائل کا حل خرید کر لایا کرتے تھے آج ہم اپنے ذہنی مسئلے کا حاصل کر کے فاتحانہ انداز میں گھر جانا چاہتے تھے۔ اس مسئلے کا حل ہمارے لئے چیمپیئن ٹرافی جیت لینے کے مترادف تھا چاہے ہمیں ایک کروڑ کیا ،ایک جوتا یا جوتی بھی نہ ملے۔ مسئلہ پھر جوتی یا جوتا میں الجھ گیا اور ساری دکانیں بند اور بازار میں ادھیرا ہونے کے بعد بھی ہماری ریسرچ کے کولمبس کا گھر جانے کو دل نہیں کر رہا تھا ، گھریلو حکومت خلاف نا قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر چکی تھی اور اور اس سارے وقت کی ٹائم ٹریل جمع کروانے کا مطالبہ بھی نشر کر چکی تھی ۔ ہمارے موبائل کی بیٹری بھی ہمارے دل کی ہمت کی طرح تھکاوٹ کا شکا ہو رہی تھی۔

ہم اپنے سوال کا جواب لئے بغیر ہی آخر با دلِ نخواستہ بازار سے باہر تشریف لے آئے، اور تاریک گلیوں سے گزرتے ہوئے گھر کا فاصلہ کم کرنے لگ پڑے۔ ہم اس ڈر میں بھی مبتلا ہو گئے کہ اس تاریکی میں اگر کسی دہشت گرد نے ہمیں اہم سمجھتے ہوئے، جس کا کہ امکان کم تھا، ہمیں اغواکر لیا تو ہمیں جوتی یا جوتا کا سوال نہ صرف بالکل بھول ہی جائے گا بلکہ دونوں میں فرق بھی ختم ہو جائے گا کیوں کہ پھر جوتی یا جوتا کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور صرف جان کا خطرہ پڑ جائے گا۔

آخر ہم خیر خیریت سے گھر شریف میں داخل ہو گئے ، اس قدر حساس اور شدید ریسرچ سے ہماری درگت تو بنی ہی ہوئی تھی لیکن ہم بہت پر اسرار لگ رہے تھے۔ خواتین کو ہمیشہ ایک ہی شک ہوتا ہے کہ کہیں کوئی چڑیل ان کا شوہر تقسیم تو نہیں کرنا چاہتی، اس کے علاوہ خواتین کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا کیوں باقی کوئی خطرہ ہوتا ہی نہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ یہ دیوانے پروفیسر کا پروفیسری کا مسئلہ ہے جو کہ تمام سماجی مسائل و خطرات سے انوکھا ہی ہوتا ہے۔

ہمارے مسئلے کی بابت سننے کے بعد وہ یعنی خاتونِ خانہ صاحبہ ایک دو منزلہ قہقہے سے ہنسے اور پورے تین منٹ تک ہنستے ہی رہے۔ اور ہمیں لگا کہ یا تو وہ یاپھر ہم پاگل خانے کا مال بن گئے ہیں۔ اکثر پاگل خانے مرد ہی جاتے ہیں کیوں کہ ہسپتال زیادہ خواتین چلی جاتی ہیں۔ پاگل خانے کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے اور ہسپتال کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔ خیر یہ بات آپ کو بتانے والی نہ تھی کیوں کہ آپ تو پہلے ہی یہ بات جانتے ہیں ہمیں ابھی پتہ چلی تھی اس لئے ہو گئی چلیں کوئی بات نہیں آپ برا نہیں منائیں گے۔

وہ ہنستے ہنستے رک گئے اور ایک ڈبل پی ایچ ڈی پروفیسر کا سا اعتماد و ایقان اپنے ماتھے پر سجائے بولے کہ یہ بھی کوئی پوچھنے والا سوال ہے۔ ہم یہ مسئلہ ایک سیکنڈ میں حل کر دیں گے۔ ہمارے سارے حواس جو کہ دن بھر کی تھکاوٹ میں اس طرح تھک گئے تھے جیسے انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا ہو، اب یک بار ایسے چونک اٹھے جیسے کوئی حسینہ کسی نوجوان کو انگلی کے اشارے سے اپنی طرف بلا رہی ہو۔

انہوں نے فرمایا کہ جب عورتوں سے متعلقہ ہو تو جوتی اور جب مردوں سے متعلقہ ہو تو جوتا ۔ ہم اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے درمیان لے کر بیٹھ گئے اور پورے دو منٹ تک بیٹھے اس وجد سے محظوظ ہوتے رہے جو اس سوال کا جواب مل جانے پر فوراً آسمان سے اتر کر ہمارے دماغ پر چھا گیا تھا ۔ ہم خوشی سے اچھلنا چاہتے تھے لیکن تھکاوٹ اتنی تھی کہ اب اچھلنا تو درکنار ایک ٹانگ ہلانا بھی مشکل تھا۔ ہم نے محترمہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور ان کے بتائے ہوئے فارمولے پر غور و خوض شروع کر دیا ۔

ہم بار بار اسی نظریئے سے ٹکرائے کہ انہوں نے بات باکل صحیح کہی ہے اور ہم یہ بات کسی جانب داری سے نہیں کہہ رہے کہ یہ دریافت ہمارے گھر کی پیداوار ہے بلکہ اس پر غور کرنے سے بات پائیہ تکمیل کو پہنچی کہ بات ایسے ہی ہے۔

ہمارا سر فخر سے دومنزلہ عمارت سے بھی اونچا ہو گیا کہ ہم نے دنیا کی دو بڑی زبانوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ اکیلے ہی حل کر دیا تھا ۔ آنے والی نسلیں ہمارا نام ادب و احترام سے لیا کریں گی ۔۔۔۔۔

ہم نے اپنے اس دعویٰ کی تا ئیدکے لئے کچھ مثالوں کا سہارا لینے کی کوشش بھی کی کہ ہمارا دعویٰ مذید پختہ ہو جائے ۔

اﷲ کا شکر کہ ہمیں مثالیں بھی مل گئیں۔ مثالوں سے آپ بھی واقف ہوں گے۔ پھر بھی بیان کر دینا زیادہ مناسب ہے ہو سکتا ہے آپ بھول گئے ہوں۔
میر اجوتا ہے جاپانی، یہ پتلون انگلستانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ گیت ایک آدمی کا گایا ہوا ہے اور اس نے اپنے جوتے کو ’جوتا‘ ہی کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جُتی قصوری، پیریں نہ پوری۔۔۔۔۔ہائے ربا وے سانوں ٹرنا پیا
اتفاق سے یہ گیت جس میں ’جوتی‘ یعنی پنجابی میں ’جتی‘ کہا گیا ہے ایک عورت کا گایا ہوا ہے۔

لہٰذا ہمارا دعویٰ بغیر ثبوت کے نہیں رہا ۔ ہم خاتونِ خانہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں گے کہ انہوں نے ایک عالمگیر فارمولا بتا دیا اور اردو اور پنجابی والے ہمارے شکر گزاررہیں گے کہ ہم نے ان کی زبان کا ایک بڑا مسئلہ حل کر دیا کہ آدمیوں کا جوتا ہوتا ہے جبکہ عورتوں کی جوتی ہوتی ہے۔ بچوں کواجازت ہے بارہ سال کی عمر تک کہ چاہے ’جوتا‘ کہیں چاہے ’جوتی‘ کہیں۔اور تیسری جنس والے ساری عمر کے لئے آزاد ہیں !

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 177414 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
23 Oct, 2017 Views: 728

Comments

آپ کی رائے
nice ,,,,
By: Zeena, Lahore on Oct, 24 2017
Reply Reply
0 Like