رات

(Malik Arsalan, Rawalpindi)

رات ایک حسن ہے جسے صرف اہل نظر ہی دیکھ سکتے ہیں . رات اپنے طرز کی ایک منفرد روشنی ہے وہ تمام راز جسے سورج کی روشنی اپنی پناہ میں چھپا لیتی ہے رات سب آیاں کر دیتی ہے . انسان دن بھر اپنا عکس آئینے میں دیکھتا ہے پھر رات ہوتے ہی آئینہ اپنی داستان شکوہ رات کی تنہائی سے بیان کرنا شروع کرتا ہے آئینہ اکثر شکوہ کرتا ہے کے یہ انسان ہمیشہ مجھ سے اپنی مرضی کے مطابق جواب مانگتا ہے اور حقیقت دکھانے پر اسے تسلیم نہیں کرتا . رات فکر حیات کرنے والوں کے لیے شعور کا ایک پیالہ اپنے ساتھ لاتی ہے اور اہل فکر حیات اپنی پیاس کے مطابق جام نوش کرتے ہیں رات ایک سفر ہے جس پہ سبھی سفر کرتے ہیں لیکن ہر ایک کی منزل جدا جدا ہے رات ایک راز ہے جو سب پر آشکارا نہیں ہوتا رات کسی کو بند آنکھ سے دیدار یار نصیب کرتی ہے اور کسی کو کھلی آنکھ سے رات تو ایک خزانہ ہے جسے صرف وسعتوں والے حاصل کر سکتے ہیں رات سب کی پکار سنتی ہے اور سب کو جواب دیتی ہے مگر کوئی سوال کرنے کے بعد اپنی سماعتوں کو گہری نیند سلا دیتا ہے اور کوئی تمام زندگی اپنے جواب کے انتظار میں گزر دیتا ہے اور انعام پا لیتا ہے .یہ رات کسی کی یاد ہوتی ہے کسی کا انتظار اور کسی کا درد. رات کی ایک آہٹ صرف سرمایہ حیات سمیٹنے والوں کی سماعتوں میں داخل ہوتی ہے اس رات میں کوئی آنسو بہاتا ہے اور کوئی آنسو سمیٹتا ہے کوئی ساحل کو تلاش کرتا ہے اور کوئی منزل کو. رات ناممکن کو ممکن اور محدود کو لامحدود بنا دیتی ہے رات پہلے دیکھتی ہے پھر دکھاتی ہے رات پہلے سنتی ہے پھر سناتی ہے رات بلندی والوں کو پستی اور پستی والوں کو بلندی کے لطف اور خوف سے آشنا کرتی ہے اور پھر واپس اپنی منزل پہ لا کھڑا کرتی ہے . رات انسان کو مالک حقیقی کا قرب عطا کرنے کے لئے پکارتی ہے اور خوش نصیب رات کے اندھیرے میں سب کچھ پا لیتے ہیں اور کچھ روشنی کا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں اور جب یہ رات روٹھ جاے تو اہل افکار ، اہل نظر ، اہل قلم اور اہل تصوف کو کرب میں مبتلا کردیتی ہے پھر جب رات کو دل کے ویرانے سے پکارا جاتا ہے روٹھی ہی رات پھر وہی سکون اپنی ٹھنڈی ہوا میں شامل کر کے سب کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے اور سکون قلب کا متلاشی پھر سے خاموشی اور تنہائی سے محو گفتگو ہو جاتا ہے .
ارسلان اختر

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Arsalan

Read More Articles by Malik Arsalan: 6 Articles with 2491 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2017 Views: 450

Comments

آپ کی رائے