کیا یہ عوام کے نمائندے ہیں ؟

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)

آجکل جلسوں کا بڑا شور وغل ہے ،تمام سیاسی جماعتیں خود کو عوام کا حقیقی نمائندہ ثابت کرنے کیلئے میدان عمل میں ہیں،ٹی وی چینلز کی ہیڈ لائز تقریباً سیاستدانوں کے جلسوں کی نظڑ ہو جاتی ہیں ،کیونکہ الیکشن کا دور آنے والا ہے اب ہر جماعت خود کو عوامی جماعت ثابت کرنے کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگائے گی ،ان کا موقف ہوگا کہ ہم سے بڑا عوام کا خیرخواہ کوئی نہیں ،جلسوں میں پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے ،جبکہ دوسری طرف اگر غور کیا جائے تو قومی اسمبلی ، سینٹ ،صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی تنخواہوں میں تقریباً 300 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے ۔یہ نمائندے ایوانوں میں عوام کی نمائندگی کرنے گئے تھے جب عوام نے ووٹ کاسٹ کردئیے تو یہ عوام کو بھول گئے بلکہ اپنے پیٹ ،حلقہ احباب،رشتہ داروں کو ہی عوام سمجھ بیٹھ اور جس عام عوام نے ان کو ووٹ دئیے تھے وہ ان کے نزدیک اچھوت قرار پائے۔اسی لئے عوام کے خون پسینے کی کمائی جب قومی خزانے میں جمع ہو جاتی ہے توہمارے سیاستدان (جن کو عوامی نمائدہ ہونے کا دعویٰ ہے)وہ دیکھتے ہیں کہ کیا اس رقم سے ہماری عیاشی کا سامان پورا ہوجائے گا ؟اگر نہیں تو آئی ایم ایف جیسے عالمی ساہو کار کے پاس جاتے ہیں کہ ہمیں قرضے دئیے جائیں ،آئی ایم ایف قرضہ دیتا ہے مگر کچھ شرائط پر وہ بھی آسان سی کہ جس عوام کے تم نمائندے ہو ان پر نجلی،گیس،پانی کے بلوں میں اضافہ، نئے ٹیکس عائد کرکے ان کی کمر پر چھرا گھونپو ۔تو یہ ہمارے نمائندے فوری جی حضور کہہ کرراضی ہو جاتے ہیں ۔اوپر سے اس سودی قرضے کی قسطیں عوام کے ذمہ ،اس وقت پاکستان کا ہربچہ ،بوڑھا،عورت،مرد اور ہر فرد عوامی نمائندوں کی مہربانی سے تقریباً50 ہزار کا مقروض ہے ۔ سال میں ایک بار بجٹ پیش کیا جاتا ہے مگر اس بار درمیان سال میں منی بجٹ پیش کرکے عوام پر مہنگائی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے ایسی صورت حال میں ایک غریب محت کش اپنا نظام روزمرہ زندگی چلانے کے قابل ہی نہیں رہے گا ،سفید پوش لوگوں کا اپنا بھرم قائم رکھنا مشکل نظر آرہا ہے ۔

قارئین کرام یہ سب کچھ صرف سیاستدان اپنی جیب بھرو،جائیدادیں بناؤ کے تحت کر رہے ہیں آپ مشاہدہ کرلیں جب کوئی آدمی سیاست میں آتا ہے تو کنگلا ہوتا ہے چند سالوں بعد وہ ارب پتی بن جاتا ہے کیسے ؟حقائق بتا رہے ہیں کہ پاکستان کے سیاستدان سیاست کے نام پر کاروبار کر رہے ہیں ،پہلے انویسٹ کرتے ہیں پھر دونوں ہاتھوں سے سمیٹتے ہیں۔بہرکیف قلم کا تقدس تو یہی درس دیتا ہے کہ عوام کو بتایا جائے کہ یہ وہ نظام ہی نہیں جس کو قائم کرنے کی خواہش حضرت قائداعظم ؒ نے کی تھی ،انہوں نے تو خلفائے راشدینؓ کے نظام خلافت کو قائم کرنے کی تلقین اپنے معالج کو آخری وقت میں فرمائی تھی جس میں حکمران حکومت کاروبار سمجھ کر نہیں کرتا بلکہ عوام کو نوکر خادم بن کر کرتا ہے۔

قارئین کرام!اس نظام کا ایک بدترین پہلوانسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا ہے ،ملک بھر میں یہ سلسلہ جمہوریت کی چھتری کے نیچے جاری ہے،اپنے مخالف کو قتل کرنا عام سے بات ہے ،ایم کیو ایم کی قتل وغارت تو منظر عام پر آگئی تو عدالتیں حرکت میں آگئیں ،اسے چور راستہ ملا مگر اتنا نہ ملا ۔اگر عدالت تمام سیاسی جماعتوں کی اس دہشت گردی کے خلاف کمیشن بنا کر تحقیقات کرے تو عوام کی آنکھیں کھول جائیں گی کہ جن کو ہم رہبر سمجھتے رہے وہ تو قاتم اور رہزن ہیں۔

٭ پہلے سرکاری ہسپتالوں میں مریض دھکے کھاتے مر جاتے تھے مگراب صورت حال بہت بہتر ہے،بلکہ اگر پنجاب کے حوالہ سے یہ کہہ دیا جائے کہ علاج معالجہ کی صورتحال خراج تحسین وصول کرنے کے لائق ہے تو بے جا نہ ہوگا ،ایمر جنسی ،آوٹ ڈور اور وارڈ تک مریضوں کو مکمل ریلیف مل رہا ہے ۔ادویات اور علاج مکمل مفت ہو رہا ہے ۔وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کی رات دن محنتوں کے باعث آج غریب کو علاج معالجہ کی معیاری سہولتیں مل رہی ہیں ۔لیکن اب بھی بڑے اور چھوٹے ہسپتالوں میں بہت سے چند E.C.G، ڈائیلائسز و دیگر کی سہولتیں ناکافی ہیں ۔مریضوں کو اس سلسلے میں مہنگے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔میو ہسپتال میں ای سی جی کی سہولت نہیں ہے ،اسی طرح کافی بڑے ہسپتالوں میں یہ سہولت نہیں ہے ۔اسی طرح ڈائیلاسز کی سہولت بھی بہت محدود ہے سمن آباد لاہور کے ایک رہائشی نے راقم کو بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سرپرستی میں سمن آباد میں چلنے والے سمن آباد ہسپتال میں لوگوں کوفری علاج کی سہولت موجود ہے مگر یہاں ڈائیلاسز کی سہولت نہیں ہے ،حکومت کو چاہیے کہ مذکورہ ہسپتال میں اگر ڈائیلاسز کی دستیاب مشینیں ہیں تو ڈاکٹر فراہم کیا جائے اور اگر مشینیں نہیں ہیں تو پھر مشینیں اور ڈاکٹر مہیا کئے جائیں ۔ایسی صورتحال ملک بھر میں موجود ہے حکومت کو علاج معالجہ کیلئے مزید ہنگامی اقدام کرنا ہوں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 159298 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2017 Views: 431

Comments

آپ کی رائے