امید کی کرن

(Asif Khursheed Rana, Islamabad)

تحریر: احمد بخش ، نصیر آباد

فاطمہ کے بھائی کو خوش قسمتی سے اسلام آباد میں پڑھنے کا موقع نصیب ہوا۔ بلوچستان میں تعلیم کا روجحان بہت کم ہے اور بچیوں کی تعلیم تو شاید کسی مقدر والی ہی کے حصے میں آتی ہے۔اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے فاطمہ کے بھائی نے اس کا داخلہ بھی اسلام آباد کے سرکاری تعلیمی ادارے میں کروایا۔ایک پرائمری اسکول کے استاد کی بیٹی جس کا تعلق بلوچستان کے دور افتادہ علاقے ڈیرہ مراد جمالی سے تھا کیلئے اسلام آباد آنا ایک طرف اگرچہ خوشی کا باعث تھا لیکن ساتھ میں مشکلات اور پریشانیوں کا انبار بھی تھا۔ساتویں کلاس کی طالبہ فاطمہ کے لیے گھر والوں سے دور رہ کر اسلام آباد کے ماحول میں رہنا اور یہاں کے انگریزی نظام تعلیم کو سمجھنا خاصہ مشکل تھا ۔بہرکیف تعلیم کے جذبے سے سرشار فاطمہ نے معیاری تعلیم کے حصول کے لیے ہر طرح کی قربانی کا تحیہ کر لیا۔ایسے حالات میں جہاں لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچیسن کالج لاہور اور کیڈٹ کالج حسن ابدال جیسے اعلی اور معیاری اداروں میں پڑھنے کا بلوچستان کارہائشی طالب علم صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے وہاں امید کی ایک کرن کیپٹن سعید شہید ایف سی پبلک سکول کی شکل میں منور ہوتی ہے۔

بلوچستان میں جدید تعلیم کا سہرا یوسف عزیز مگسی، میر جعفر خان جمالی اور قاضی محمد عیسی جیسے عظیم رہنماؤں کا ویژن تھا جنہوں نے یہ سوچ سر سید احمد خان کے علیگڑھ سے حاصل کی۔ یہ وہی علیگڑھ ہے جس کے غوث بخش بزنجو (بلوچستان کے پہلے گورنر) بھی طالب علم رہے ۔ انجمن اسلامیہ کوئٹہ علیگڑھ تحریک کا ایک پرتو انجمن اسلامیہ کوئٹہ درسگاہ تھی جہاں سے چودھری محمد سلطان، مولانا نذیر حسن،مولانا عبدالستار درانی اور قاری نور محمد جیسے اساتذہ دینی اور دیناوی تربیت کا سمان ہوا کرتے تھے۔اسلامیہ اسکول کو بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے چھوٹے علیگڑھ کا لقب دیا لیکن کوئٹہ سے دور دراز اور اس کے وسیع و عریض صوبے سے ستر سال گزنے کے باوصف جہالت کے اندھیرے چھٹ نہ سکے۔ اسی اسکول کے ایک طالب علم جوکہ اپنی دھرتی کی خدمت کا جذبہ رکھتے تھے نے 2001 میں بلوچستان انٹیلکچوئل فورم کی بنیاد رکھی۔ اس فورم نے اسلام آباد کے ایوانوں میں بلوچستان کی تعلیمی پسماندگی کا کیس مسلسل لڑا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب بلوچستان کے لیے تعلیمی پالیسی مرتب کی جارہی تھی تو اس فورم نے اس وقت کے گورنر بلوچستان اویس غنی اور پھر جنرل عبدالقادر بلوچ کو اس بات پر آمدہ کیا کہ بلوچستان کے مسائل کا پہلا اور واحد حل تعلیم اور صرف تعلیم ہے۔بلوچستان میں بلوچستان یونیورسٹی اور انجنیئرنگ یونیورسٹی خضدار کے علاوہ کوئی اور یونیورسٹی نہ تھی۔اس فورم نے آئی ٹی اور خواتین کی یونیورسٹی کی جنگ اسلام آباد میں لڑی اور اب یہ ایک درخشاں حقیقت ہے۔اعلی تعلیم اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اعلی معیار کے تعلیمی ادارے موجود نہ ہوں۔ بلوچستان میں کیڈٹ کالجز کے فروغ کے لیے فورم صف ہراول دستے کے طور پر کار بند جدو جہد رہا اور یوں تحریک پاکستان کے بزرگوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا شروع ہوا۔

تعلیم وہ واحد زیور ہے کہ جس سے اگر بلوچستان کے نوجوان بچے اور بچیوں کو آراستہ کیا جائے تو وہ نہ صرف وطن عزیز پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں بلکہ وہ ملک کو علم کے ہر میدان میں اونچائیوں تک لے جا سکتے ہیں۔کیپٹن سعید شہید ایف سی پبلک اسکول کی بنیاد کی ابتدائی سوچ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ کرنل برکت نے دی اور اس کی بنیاد رکھی۔خصوصا پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان نے بلوچستان کے نوجوانوں کو میعاری تعلیم دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔یہ سکول ایک خواب سے حقیقت کا روپ دھارتے ہوئے جن محب وطن سپوتوں کی کاوششوں سے ممکن ہوا ان میں آئی ،جی ایف سی، کمانڈنٹ اور ونگ کمانڈر ایف سی شامل ہیں۔جب کہ بلوچستان میں تعلیم کے فروغ میں جنرل ناصر جنجوعہ نے بھر پور کردار اد کیا جو کہ ایسٹرن کمانڈ کے کماندار ہوتے ہوئے سرگرم عمل رہے اور اب پاکستان کے موجودہ حالات میں اہم ترین منصب مشیر قومی سلامتی ہیں۔

نصیرآباد کووسیع و عریض تاریخی اور زرعی ڈویثزن ہونے کے ساتھ ساتھ اس کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہاں وہ تاریخی شاہی جرگہ ہوا جس سے بلوچستان پاکستان کا حصہ بنا ۔ وہی علاقہ 2016 تک بین الاقوامی معیار کے تعلیمی ادارے سے محروم رہا۔ اس ضلع کے حکومتی اور نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم صرف برائے نام تھی۔ ان تمام ادااروں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلی معیار کی لائبریری ، جدید دور کے سائنس لیب اور کھیل کے میدان جیسی بنیادی سہولیات سرے سے ناپید تھیں ۔

اب اسلام آبا د کے نواحی علاقوں کے مشکل سفر اور شہر اقتدار میں رہنے کا خرچہ پورا کرنے سے فاطمہ کی جان چھوٹ گئی کیونکہ اسے اس کے گھر کے با لکل قریب ایک ایسا ادارہ میسر آگیا جو کہ اسلام آباد کے اداروں کی طرح معیاری تعلیم کا مرکز ہے بلکہ ایک ابھرتی ہوئی خوبصورت عمارت جس پر سبز ہلالی پرچم لہﷲا رہا ہے۔جہاں مستقبل کے شاہیں تعلیم و تربیت حاصل کر رہے ہیں جی ہاں میری مراد کیپٹن سعید شہید ایف سی پبلک اسکول ہے ڈیرہ مراد جمالی ہے۔فاطمہ کو اس کا بین الاقوامی اقدار کے مطابق جدید تعلیم حاصل کرنے کا خواب کیپٹن سعید شہید ایف سی پبلک اسکول کی شکل میں پورا ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ایف سی بلوچستان کے اس بے مثل اور ڈیرہ مراد جمالی جیسے دور دراز علاقے میں تعلیم کے فروغ کے اقدام کو دل سے سرہاتے ہوئے فاطمہ نے اسلام آباد سے واپسی کا رخت سفر باندھ لیا اور اس تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔

کیپٹن سعید شہید ایف سی پبلک سکول جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور جدید اور معیاری تعلیم کے فروغ میں سرگرم عمل ہے ۔ یہ سکول پاکستان کے دیگر آرمی پبلک سکولوں کے نصاب اور سہولتوں کے عین مطابق ہے، ساٹھ جدید ترین کمپیوٹرز پر مشتمل ڈیجیٹل ایل،ای ،ڈی پر مبنی کمپیوٹر لیب، ساٹھ طلبہ کی گنجائش رکھنے والا جدید ترین سہولیات سے مزین ہاسٹل جس کے اندر ایئر کنڈیشینڈ کامن روم اور ڈائنگ ہال ہے۔ تئیس کے قریب اساتذہ جن میں سات خواتین اساتذہ بھی تدریس میں مشغول ہیں۔شاندار کھیل کے میدان اور ایک ننی منی لائبریری بھی سکول کے احاطے میں اپنے طلبہ اور اساتذہ کی علمی ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔ سکول میں فلٹر پلانٹ بھی نصب ہے جو کہ قوم کے نونہالوں کو صحت مند اور ٹھنڈا پانی بہم پہنچا رہا ہے جو کہ اس علاقے میں ایک بہت بڑی نعمت ہے ، یادش بخیر اس فلٹر پلانٹ کی تنصیب کا ثواب اچ پاور پلانٹ کی انتظامیہ رھین منت ہے۔

اس سکول کے پہلے بلوچستانی منتظم بصیر خان کاکڑدراز قامت شگفتہ مزاج اور پاکستان کی عظیم درسگاہ قائداعظم یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کیے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ دنیا کی ٹاپ پانچ سو یونیورسٹیوں میں پاکستان کی واحد یونیورسٹی ، قا ئد اعظم یونیورسٹی شامل ہے۔ بصیر خان کاکڑ اس وقت باکمال احسن اس ادارے کی بنیادوں کو اپنی محنت اور مشقت سے مضبوط بنانے میں شب و روز مصروف ہیں چونکہ وہ بلوچستان کے ایک اہم قبیلے کے فرد ہیں اس لیے قبائلی رسم ورواج آگاہ ہیں۔سکول کے پرنسپل کے سر اس سکول کو وفاقی تعلیمی بورڈ کے ساتھ ملحق کرنے کا سہرا بھی جاتا ہے۔قبل ازیں بورڈ کے امتحانات کے لئے اس سکول کے بچوں کو کوئٹہ کے قریب بلیلی ایف سی سکول جانا پڑتا تھا۔امید واثق ہے کہ یہ ادارہ ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے میں یک سنگ میل ثابت ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Khursheed Rana

Read More Articles by Asif Khursheed Rana: 87 Articles with 32371 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2017 Views: 550

Comments

آپ کی رائے