فجے کو سدھرنے کا مشورہ

(Kamran Buneri, )

ایک گاؤں میں فجا میراثی رہتا تھا جو اپنی سیاسی پارٹی کا صدر بھی تھا۔ ایک دن بیمار ہو گیا۔ فجا اربوں پتی ہونے کے باوجود بہت کنجوس تھا۔ نہ جانے کن کن ممالک میں اس کی فیکٹریاں، جائیدادیں اور فلیٹس تھے۔ فجا پیٹ کے درد سے مرا جا رہا تھا پر ڈاکٹر کے پاس جانے کو تیار نہ تھا۔ ایک دن جیسے تیسے گاؤں کے ڈاکٹر کے پاس گیا تو ڈاکٹر نے بہت زیادہ فیس مانگ لی۔ بہت منت سماجت کرنے پر بھی ڈاکٹر نے اسے رعایت نہ دی اور فیس پوری لی۔ جب وہ صحت یاب ہوگیا تو ایک رات اس نے فیس کم نہ کرنے والی بات کا غصہ نکالنے کیلئے ڈاکٹر پہ خود سے بنایا جھوٹا قصہ گاؤں بھر میں سنانے کا ارادہ کرلیا کہ صبح سے وہ ڈاکٹر کو بدنام کرنے کی مہم شروع کرے گا اور کارکنوں ودیگر پارٹی رہنماؤں کو بھی ڈاکٹر بشیر کے خلاف مہم چلانے کا کہہ دے گا۔ اسی سوچ میں فجا میراثی سوگیا۔ سونے کے بعد فجے نے خواب دیکھا۔ خواب میں وہ گاؤں میں جہاں بھی جاتا تو کہتا جب میں بیمار ہوا تھا تو میں نے ڈاکٹر بشیر سے علاج کروایا تھا۔ پھر ایک دن میں مر کر اوپر پہنچ گیا۔ وہاں بہت سے لوگ جو اس دن فوت ہوئے تھے سب پہنچے ہوئے تھے۔ جنتیوں اور دوزخیوں کے ناموں کی لسٹ بھی لگی ہوئی تھی۔ لوگ بڑی بے قراری سے اپنا نام پڑھ پڑھ کر جنت اور دوزخ جا رہے تھے۔ فجا جانتا تھا کہ اس نے زندگی میں کوئی ایک بھی نیک کام نہیں کیا تھا اس لیے وہ دوزخ والی لسٹ کی جانب بڑھا اور اپنا نام تلاش کرنا شروع کیا پر اسے اپنا نام فجا میراثی نظر نہ آیا۔ اسے بہت خوشی ہوئی کہ وہ دوزخی نہیں پھر اسی خوشی میں فجا جنتیوں والی لسٹ کی جانب بڑھا لیکن اس وقت اس کے حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس کا نام اس لسٹ میں بھی نہ تھا۔ دونوں لسٹوں میں نام نہ ہونے پر وہ بہت پریشان ہوا اور اسی پریشانی میں اسے گاؤں کے چوہدری صاحب مل گئے جو کافی عرصہ پہلے فوت ہوگئے تھے۔ انہوں نے فجے کو دیکھتے ہی کہا اوئے فجے میراثی تم یہاں کیا کر رہے ہو اس نے چوہدری کو سارا ماجرا سنایا کہ میں آج ہی مر کر یہاں آیا ہوں لیکن میرا نام نہ جنت اور دوزخ دونوں لسٹوں میں نہیں۔ اس لئے پریشان ہوں کہ اب میرا کیا بنے گا، مجھے کس جگہ بھیجا جائے گا۔ فجے کی بات سن کر چوہدری جی مسکرانے لگے اور کہا اوئے فجے تم نے بھی کہیں ڈاکٹر بشیر سے کوئی پنگا تو نہیں لے لیا تھا۔ وہ کچھ دیر سکتے کی حالت میں چپ رہا اور پھر بولا جی میں نے ڈاکٹر بشیر سے علاج کروانے کے بعد ان کے متعلق جھوٹی کہانی بنا کر انھیں بدنام کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ چوہدری جی بولے آؤ ایک جگہ ایسی لسٹ لگی ہے جہاں ہر انسان کا لکھوڑی رکھا ہے کہ اس کا دانا پانی کب ختم ہوگا۔ جب دونوں متعلقہ مقام پر پہنچے تو وہاں لسٹ میں فجے میراثی کا نام مارچ 2018 میں درج تھا۔ نام دیکھ کر چوہدری جی بولے اوئے فجے تو بہت خوش قسمت ہے تجھے تو ڈاکٹر بشیر نے اسے بدنام کرنے کا ارادہ کرنے پر صرف 7، 8 ماہ پہلے جان سے مار دیا۔ میں نے تو اسے ایک دن سلام نہیں کیا تھا اس نے مجھے 4 سال پہلے اوپر بھیج دیا تھا۔ چار سال تک میں بھی روز ان لسٹوں کو دیکھنے آیا کرتا تھا پھر ایک دن ایک شخص نے یہاں لاکر مجھے یہ والی لسٹ دکھائی تو اس میں نام اور تاریخ دیکھ کر میرے دل کو کچھ سکون ملا کہ چلو 4 سال بعد میرا نام دوزخ کی لسٹ میں آئے گا کیونکہ میں نے دنیا میں گاؤں والوں پر ظلم و ستم اور ان کی حق تلفی کے سوا کوئی نیک کام نہیں کیا تھا۔ پھر ایک دن مجھے وہی شخص ملا اور کہنے لگا چوہدری جی اگر آپ نے اپنے اعمال کے حساب سے پکا پکا دوزخ میں ہی جانا ہے تو ابھی آپ کے پاس کافی وقت ہے اللہ پاک سے توبہ کرلو۔ اللہ پاک معاف کرنے والا ہے ہو سکتا ہے تمھیں دوزخ کے بجائے جنت مل جائے۔ چوہدری جی کی بات پوری ہونے پر فجا بولا میں نے تو اپنے مفاد میں بہت بڑی حماقت اور گناہ کبیرہ کیا ہے۔ مجھے تو معافی ملنے کی امید ہی نہیں۔ چوہدری جی بولے فجے ایسا کیا کرلیا تو نے۔ فجا بولا میں نے اقتدار کی خاطر امریکہ کے کہنے پر ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم قانون میں ترمیم کی ہے۔ یہ سن کر چوہدری جی بولے تیری معافی کے چانسز تو بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن کوئی گل نہیں اللہ پاک اپنے بندوں سے بڑی محبت کرتا ہے تو دل سے توبہ کر لے اور اسی مقام پر جہاں سے دنیا میں واپس جانا ممکن نہیں نیکی کے کام شروع کر دے۔ چوہدری جی کی بات مکمل ہوتے ہی فجے کی آنکھ کھل گئی اور اس نے سب سے پہلے ختم نبوت صلی للہ علیہ وسلم قانون میں کی گئی ترمیم کو واپس کرنے کیلئے پارٹی کا اجلاس طلب کیا اور سجدے میں جاکے اپنی گستاخی کی معافی مانگی اور ڈاکٹر کے خلاف بھی مہم نہ کرنے کا تہیہ کرلیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kamran Buneri

Read More Articles by Kamran Buneri: 4 Articles with 1270 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Nov, 2017 Views: 378

Comments

آپ کی رائے