کیا هماری سمت درست هے.....

(محمد یوسف راهی, karachi)

آج جمعہ ہے اور نومبر کی 3 تاریخ ہے آج سابق اور نا ہل وزیر اعظمم میاں محمد نواز شریف کی نیب ریفرینس کیس میں پیشی تھی اور یوں آج اخبار ہوں یا ٹیلی وژن یا سوشل میڈیا ہر طرف ایسا لگ رہا تھا جیسے اس وقت پاکستان میں صرف یہی ایک مسئلہ ہے اور ہرکوئی اس انتظار میں ہے کہ شریف فیملی کے ساتھ کیا ہوگا لیکن جناب اس ملک میں اور بھی کئی مسائل ہیں جن کی طرف کسی کا دھیان نہیں-

آئے دن ٹیلی وژن اور اخباروں میں غریب لوگوں کے ساتھ ہونے والے مظالم اور چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کی کہانیاں اور پہر انصاف نہ ملنے کی داستانیں سننے کو ملتی ہیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس وقت اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں انصاف صرف بڑے لوگوں کے حصے میں آتا ہے اور غریب ہمیشہ اس کے لئے ترستا رہتا ہے -

میں انتہائی دکھی دل کے ساتھ آپ سب سے یہ سوال کرتا ہوں اور آپ لوگ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر مجھے بتائیں کہ جس پاکستان کا خواب اقبال نے دیکھا تھا اور جس کی تعبیر ہمارے قائد نے ہمیں دی کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کو حاصل کرنے کی خاطر ہمارے آباؤاجداد نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کی تعمیر و ترقی کے بڑے بڑے دعوے لوگوں نے کئے کیا یہ وہی پاکستان ہے کیا یہ وہی پاکستان ہے جو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا تھا شاید میرے ان سوالوں پر ہر شخص کا سر شرم سے جھک جائے گا -

کرپشن کے کیس میں جب تک بڑے بڑے لوگوں کو سزا نہیں ہوگی تب تک انصاف کی توقع کرنا ایک عام پاکستانی کے لئے ممکن نہیں اس وقت اس پورے ملک کو ایک غلط سمت کی طرف لے جایا جا رہا ہے اور یہودی اور قادیانی لابی پوری قوت اور طاقت کے ساتھ اپنا کام کررہی ہے ناموس رسالت کے معاملے پر پچھلے کئی دنوں سے جاری دھرنے کا کوئی پرسان حال نہیں وہ اسلامی ملک جس میں یہ سب کچھ ہوتا ہو وہ کیسے ترقی کرے گا -

اس ملک کو ایک ایسے ایماندار اور کرپشن سے پاک لیڈر کی ضرورت ہے جو اس ملک کو صحیح سمت پر لیجائے اور انصاف پر مبنی قوانین جس کا اولین مقصد ہو اور ایسا لیڈر کوئی اور نہیں ہمیں ہی تلاش کرنا ہوگا یہ ہماری ہی ذماداری ہے ہم اور کچھ نہیں چہتے صرف یہ چہتے ہیں کہ اس ملک کو صحیح سمت پر چلایا جائے ہم نے اپنے بچوں کو جا روشن مستقبل کے خواب دکھائے ہیں وہ سچ ثابت ہوں اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کے سامنے شرمندہ نہ ہوں-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد یوسف راهی

Read More Articles by محمد یوسف راهی: 5 Articles with 1904 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Nov, 2017 Views: 429

Comments

آپ کی رائے