اپنوں کے ساتھ

(Shakira Nandini, Oporto)
ویسے تو پرتگال میں کوئی پریشانی نہیں ہے، امن و سکون ہے، قانون کی پاسداری ہے، سب اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں اور کھل کر اپنی پرسنل لائف جیتے ہیں، مگر کہتے ہیں ناں کہ جہاں کا ٹاٹ ہوگا تو پیوند بھی وہیں کا لگے گا. کبھی کبھار بچپن ستانے آجاتا ہے تو پاکستان تی یادوں میں کھو جاتی ہوں. آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج کیا ہوگیا ہے مجھے، دراصل مطالعہ کرتے ہوئے ایک واقعہ میری نظر سے گزرا جسکی آخری تحریر نے مجحے میرے بچپن کی جانب لوٹا دیا. واقعہ یوں ہے کہ

بشکریہ: ہماری ویب

ایک دن کی بات ہے کہ رفیق اپنے والد کے ساتھ امرود توڑنے جنگل گیا ۔ لال پیلے امرود توڑتے توڑتے وہ جنگل سے کافی دور نکل گیا ۔ اچانک اسے جھاڑیوں میں سے کسی کے رہنے کی آواز سنائی دی، رفیق آہستہ آہستہ جھاڑیوں کے قریب گیا ۔ پہلے تو ڈرا پر غور سے دیکھا تو جھاڑی کے پاس ایک ہرن کا بچہ دکھائی دیا ۔ ہرن زخمی تھا رفیق کو اس پر ترس آیا ۔ والد سے اجازت لے کر ہرن کے رہنے کے لئے ایک ڈبہ اور اس میں گرم کپڑے رکھے گئے ۔ رفیق نے اس کا نام راجہ رکھا ۔

جب رفیق اسکول جاتا تو راجہ بھی اس کے ساتھ جاتا کلاس میں داخل ہونے پر راجہ انتظار کرتا ۔ لیکن جب بارہ بجے کی گھنٹی بجتی تو رفیق کے دوست راجہ کے ساتھ کھیلتے تو راجہ بھی ان سے خوب لطف اُٹھا تا تھا ۔ ایک روز جب رفیق اسکول سے لوٹا تو راجہ نظر نہیں آیا ۔ اسے اس کے ابو نے بتایا کہ وہ واپس جنگل میں چلاگیا ہے ۔ دن مہینے گزرتے گئے رفیق کو راجہ کی یاد نہیں آئی ۔ ایک روز وہ اپنی کلاس میں بیٹھا تھا کہ اس کی کلاس کے سامنے ایک بڑا جاندار کھڑا ہوگیا ۔ رفیق نے پہچان لیا کہ یہی راجہ ہے ۔ ایک دن اس کے والد نے کہا بیٹا ہر کوئی اپنوں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہے ۔ غیروں کے درمیان رہنا ہر کسی کے لئے بہت مشکل ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Shakira Nandini

Read More Articles by Dr. Shakira Nandini: 172 Articles with 102871 views »
I am settled in Portugal. My father was belong to Lahore, He was Migrated Muslim, formerly from Bangalore, India and my beloved (late) mother was con.. View More
05 Nov, 2017 Views: 437

Comments

آپ کی رائے