رشتہ ـ ـ ـ آیا ہے !

(Arbab Latif, )

شام کا وقت تھا ،میں سفیدہ رنگ کا لباس پہنے اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی ،سانس اتنی مدھم چل رہی تھی کہ مجھے محسوس بھی نہیں ہو رہی تھی ،گھبراہٹ کی وجہ سے ہاتھ پاؤں برف کی طرح ٹھنڈے ،جب کہ آنکھوں میں عجیب سی گرمی تھی جس کی تپش باہر نکلتی محسوس ہو رہی تھی کہ اچانک میرے کمرے کا دروازہ کھلتا ہے میری خالہ کہتی ہیں بیٹا امّی آپکو بلا رہی ہیں آپ چاۓ لے کر جاؤـ
گھرکی بڑی بیٹی ہونے کی وجہ سے باورچی خانہ کی زیادہ ترذمہ داریاں میری رہی ہیں لیکن اس بار باورچی خانے کا منظر بہت منفرد تھا میری چھوٹی بہن نے چاۓ کھانے کا انتظام کیا "چہرہ تروتازہ رہے ،اس لیے چولھے کے قیرب جانا منع تھا "
میں چاۓ لے کے بھیٹک کے داروزے تک پہنچی ،اندار داخل ہونا کسی مسئلہ کشمیر سے کم نہ تھا ،اندر جانے کی ہمت بھی نہ تھی اور جانا ضروری بھی تھا، بھیٹک میں پاپا بھی تو موجود ہوں گے! یہ خیال ہی مارۓ جارہا تھا آخر اندار داخل کیسے ہوا جاۓ ؟
اللہ کا نام لیا اوربس یکدم اندار داخل ہوگئ چاۓ میز پر رکھئ ہی تھی کہ آنٹی نے اپنے پاس بلا لیا ،آنٹی انکل سے تین منٹ کی مختصر ملاقات ہوئ،انکل آنٹی کے بارے میں قائم ہونے والی میری راۓ کافی مثبت تھی اور گھر والے بھی مطمئین تھےـ
اگلے دن انکا جواب ہاں میں آیا ،پر ساتھ میں ایک انکشاف بھی کیا کہ ان کا بیٹا طلاق یافتہ ہے ،یہ بات سن کر والدہ تو آگ بگولاہوگئی اور رشتے سے انکار کر دیاـ
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی جب لوگ اچھے ، استخارہ اچھا اور سامنے سے سچ بھی بول رہے ہیں تو انکار کیوں؟ والدہ کا کہنا تھا کہ "میری بچی میں کوئی کمی ہے؟" جو کسی طلاق یافتہ سے کر دوں شادی اور مرد اگر ایک کو طلاق دے دے تو دوسری کو طلاق دینے میں وقت نہیں لگاتا ـ
دوسری وجہ کافی حدتک ٹھیک لگی کیوںکہ اس کی زندہ مثال خود دیکھ چکی ہوں ،لیکن کچھ سوال اب بھی ذہن میں موجود ہیں کیا کسی لڑکی یا لڑکے میں کوئی کمی، خامی ہو، تو ہی دوسری بیوی یا شوہر بنے گآ ورنہ نہیں ؟ کیا انسانیت ،خلوص،اعتبار کوئ معنی نہیں؟ معاشرے میں موجود تنگ نظری کیا اس رویہ کی ذمہ دارہے ؟ـ
اگر لوگوں نے بعد میں حقیقت بتانی ہی ہے تو لڑکی کے گھر جانے سے پہلے بتادیں تاکہ دوسروں کی بیٹیاں شوپیس نہ بنے اور ہاں، نہ کا فیصلہ پہلے ہی ہوجاۓ ـ
انسان ہونا،ہمارا انتخاب نہیں،قدرت کی عطا ہے
لیکن ـ ـ ـ!!!
اپنے اندر انسانیت بناۓرکھنا ہمارا انتخاب ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arbab Latif

Read More Articles by Arbab Latif: 2 Articles with 1644 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Nov, 2017 Views: 608

Comments

آپ کی رائے
bohat hi aala tehrir hy.aurat aik jins nahi jisay khareda jay bal k aik " insaan" hy jisy apnaya jay.......aur.......اپنے اندر انسانیت بناۓرکھنا ہمارا انتخاب ہے
By: rizvi, karachi on Nov, 17 2017
Reply Reply
0 Like