قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے!!!

(Shafqat Ullah, )

عشق وہ والہانہ جذبہ ہے جو حضرت انسان کو دوسری اقوام سے ممتاز کرتا ہے۔یہ جذبہ بناوٹ، عیاری ،امید ،لالچ سے ماورا ہوتا ہے۔یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اس بلندی اور آفاقیت پر لے جاتا ہے جس کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ اس قوت سے یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے اور اسی جذبہ کے تحت ایمان بل غیب پر یقین آتا ہے۔حضرت سید محمد ذوقی شاہ کہتے ہیں :
’’عشق ایک مقناطیسی کشش ہے ، کسی کو کسی کی جانب ایذاََ پانا، وصال سے سیر ہونا ، اس کی بستی میں اپنی ہستی گنوانا ،سب عشق کے کرشمے ہیں‘‘۔

یہ جذبہ ،یہ تعلق یا کشش محبوبِ خدا ﷺ سے ہو تو پھر تو دونوں جہاں کی کامرانیاں انسان کے قدموں میں آ جائیں۔ان کی ہستی تو ایک بحر زخار کی مانند ہے جس کی موجیں آسمان کو چھوتی ہیں ۔جس کی تعلیمات محبت ، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس دیتی ہیں ۔ لوگوں کو حیات نو عطا کرتی ہیں ۔ ان کے اخلاق کے بارے میں اﷲ خود فرماتا ہے:
’’اے حبیب بے شک تو اخلاق کے بلند درجے پر ہے‘‘۔

جن کو نبوت سے پہلے امین اور صادق کے خطاب دیئے گئے رشک کی بات ہے کہ میں ان کا امتی ہوں اور اس عظمت والی شخصیت کی وجہ سے آج بھی دنیا منور ہے ۔علامہ محمد اقبال حضور ﷺ سے اپنے والہانہ عشق کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی ذاتِ با برکت جامع الحثیات ہے تمام کمالات ظاہر و باطن کی ، اور سرچشمہ ہے تمام مظاہر حقیقت و مجاز کا۔عشق کا یہ مرتبہ ایمان کا خاصہ و خلاصہ ہے ۔اتباعِ رسول کے بغیر محبت رسول ناممکن ہے آپ ﷺکی ذات گرامی رحمۃ اللعالمین ہے ۔اس لئے مؤمن کو بھی رحمت و شفقت کا آئینہ ہونا چاہئے ۔ مسلمان کی سرشت ایک موتی کی طرح ہے جس کو آب و تاب بحرِ رسول ﷺ سے حاصل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اقبال اسوہ ٔ حسنہ کی تقلید کا سبق دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے مؤمن تو باغِ مصطفوی کی ایک کلی ہے ،بہار مصطفی کی ہواؤں سے کھل کر پھول بن جا۔خالق ِ کائنات نے جب اس دنیا میں اپنی کاریگری کا آغاز کیا اور حضرت انسان کی شکل میں اپنے چھپے ہوئے خزانے کو عیاں کیا پھر جب ارتقاء کی منازل طے ہوئیں اور قوائے انسانی اپنے پورے کمال پر آگئے تو رب العالمین نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا جو سب کیلئے رحمت، ہادی ،راہ نما اور مہربان تھے ۔ آنحضور ﷺ کے ہم امتی ہیں ، یہ ایک کارواں ہے اور مجتبیٰ ﷺ اس کے سالار ہیں جن کی تقلید میں ہمارا تن ، من، دھن قربان کرنے کو اولیت دینی چاہئے اور انہی کی راہ نمائی میں اپنی جان اور مال و اولاد کی قربانی کو ترجیح دینی چاہئے ۔صحابہ کرام ؓ جب کبھی آپ ﷺ سے مخاطب ہوتے تو پہلے فرماتے اے محبوب ِ خدا آپ پر میں ،جان و مال ، میرے ماں ، باپ اور اولاد سبھی قربان جائے ۔اسوہ نبویﷺ کے اتباہ کی بدولت ہی ہم مکارم الاخلاق سے آراستہ ہو سکتے ہیں اسی وجہ سے ہمارے دلوں میں کشادگی اور نو ر و تجلیات ِ خداوندی جگہ پا سکتی ہے ۔اس دنیا کی تخلیق کی اصل ذاتِ نبی ﷺ ہے، کیونکہ آپ ہی کی وجہ سے اس دنیا میں خالقِ حقیقی کی ذات کی پہچان صحیح معنوں میں ممکن ہو پائی ۔آپ ؑﷺ ہی تھے جنہوں نے خدا تعٰلیٰ کی حقیقت کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا اور ان کے راز آشکار کئے۔حضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ کا اخلاق کیا ہے ؟ تو ام المؤمنین ؓ نے فرمایا کہ قرآن پڑھ لو سارے کا سارا ہی آپ ﷺ کے اخلاق پر مبنی ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کر دیا ۔ابو سفیان اور ہندہ کو بھی بخش دیا لیکن ہم ہیں جو خود کو عاشق رسول کہلواتے ہیں ۔کسی سے عشق و محبت کا نبھانا یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا ہر لمحہ محبوب کے رنگ میں رنگ جائے۔ اگر ہم محبوبِ خدا کے ساتھ عشق کے دعویدار ہیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم ان کی اطاعت کریں ان کے اصحاب کی اطاعت کو زندگی کا مقصد بنا لیں جو ان تک رسائی کا ذریعہ ہے ۔آنحضور ﷺ کی زندگی سے بے شمار ایسی مثالیں ملتیں ہیں جو نوعِ انسانی کی زندگی کیلئے مشعل راہ ہیں ۔ لیکن ہم ایسے عاشق رسول ﷺ ہیں جن کی زبان ، ہاتھ اور پاؤں سے دوسرا مسلمان یہاں تک کہ اپنے عزیز بھی محفوظ نہیں اور ہم دھرنے دیتے ہیں جس میں ہمارا کلام گالیوں سے شروع ہو کر غلاظت پر ختم ہوتا ہے ۔ ہم کیسے عاشق رسول ﷺ ہیں کہ درگزر کرنے کی بجائے فتنہ و فساد بپا کرتے ہیں اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے در پے ہو جاتے ہیں ۔ دعوے تم ہم آپﷺ کی ناموس پر مر مٹنے کے کرتے ہیں اور معصوم عوام کی اولادوں اور انہیں ورغلاتے ہیں کہ ناموس رسالت ﷺ پر قربان ہو جاؤلیکن ہماری اولادیں مغرب کی رعنائیوں میں گم زندگی گزارتی ہیں ۔ہم تن ، من ، دھن سے تحفظ ناموسﷺ کے نعرے لگاتے ہیں لیکن خود دوسرے ممالک سے امداد لے کر کھاتے ہیں ۔ایک طرف صحابہ کے دیوانے ہیں تو دوسری طرف خدا کی زمین پر خدا کا نظام نافذ کرنے والے دعویدار ! لیکن دونوں کا رویہ ایسا ہے کہ جس سے کسی فاحشہ کا دلال بھی کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جائے۔بد اخلاقی اور گالم گلوچ صحابہ کی غلامی ہے نہ اس سے نفاذ نظام اسلام ہو گا اگر آپ دعوؤں میں صادق ہیں تو انہی کے تقاضوں کے مطابق اپنے کردار کو بھی پیش کیجئے ،مشاجرات صحابہ میں صحابہ کرام ؓ کے باہمی تعلقات یقیناََ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔علامہ اقبال نے کیا خوب کہا:
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد ﷺ سے اجالا کر دے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 209 Articles with 88492 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
21 Nov, 2017 Views: 470

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ