ادھوری صبر کرنا ہی پڑتا ہے

(UA, Lahore)

دل ریت بن کر بکھر گیا ،
اور آنسو ریت میں جذب ہو گئے ۔
نہ سینے میں دل رہا نہ آنکھوں میں اشک باقی رہے
آنکھوں میں نمی اور سینے میں دل نہ ہو تو انسان بھی انسان نہیں رہتا ---
لیکن جب تک جسم سے روح کا تعلق قائم ہے زندگی قائم ہے
اور جب تک زندگی قائم ہے انسانوں کی بستی میں زندہ انسانوں کی طرح رہنا ہی پڑتا ہے
چاہے دِل پر جبر ہی کیوں نہ کرنا پڑے
اگرچہ دِل ریزہ ریزہ ہو جائے صبر کرنا ہی پڑتا ہے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: uzma ahmad

Read More Articles by uzma ahmad: 32 Articles with 12240 views »
sb sy pehly insan phr Musalman and then Pakistani
broad minded, friendly, want living just a normal simple happy and calm life.
tmam dunia mein amn
.. View More
22 Nov, 2017 Views: 406

Comments

آپ کی رائے