مسلم پیپلز موومنٹ اور تحفظ ناموس رسالت ۔۔۔!!

(جاوید صدیقی, کراچی)

مسلم پیپلز موومنٹ کی بدمعاشی نہ رک سکی، اندرون خانہ اتحاد کھل کر سامنے آگئے ،ملک پاکستان کی ریاست اور اداروں کو تباہ و برباد کرنے کے عوامل اب پوشیدہ نہ رہ سکے، حتیٰ کہ اپنی ناجائز دولت کو چھپانے اور جرموں پر پردہ ڈالنے کیلئے کوئی راستہ نہ چھوڑا، جب اللہ کی پکڑ آن پہنچتی ہے تو دنیا کے بڑے سے بڑے، چالاک سے چالاک لوگ اندھے منہ گرتے ہیں اوراپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں خود پھنس کر رہ جاتے ہیں، یہی حال مسلم پیپلز موومنٹ یعنی مسلم لیگ نون ،پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کا ہوا ہے،پاکستان پیپلز پارٹی کےسربراہ سابق صدر آصف علی زرداری،پاکستان مسلم لیگ نون کےسربراہ نا اہل و سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ایم کیو یم (چاروں دھڑے)نے تیس سے چالیس سالوں میں اقتدار میں رہنے ہوئے جس بے پناہ انداز میں قومی دولت کو لوٹا اور منی لانڈرنگ، زمینوں اور دیگر املاک پرقبضہ گیری ، بھتہ خوری، قتل و غارت گری کا بازار گرم کیئے رکھا وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا، ذاری خواہشات اور ہوس دولت میں اس قدر اندھے رہے کہ دشمنان پاکستان ممالک سے اپنی وفا داری کا عہد ثابت کرنے کیلئے ملک بھر میں انارکی، لاقانونیت، غیر آئینی اختیارات کا بھرپور استعمال کیا گیا، نا اہل سابق وزیر اعظم کی سیاسی زندگی ا ور جرائم کو پوشیدہ کرنے کیلئے مسلم پیپلز موومنٹ نے منفی کردار ادا کیا کیونکہ یہ تینوں نام نہاد سیاسی جماعت جرائم و کرائم کے مرتکب ہوئے، سیاسی جرائم کے تین یکوں نے یکجا ہوکر اپنے اپنے جرائم کو چھپانے کیلئے پوشیدہ اتحاد قائم رکھا اور اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی نے فرینڈ اپوزیشن ہمیشہ کی، حدیبہ کیس ہو یا وکی لیکس یا پھر پاناما لیکس گویا تمام لیکس بیرون ملک نے اوپن کیں اور ان کے کالے دھندے بے نقاب کیئے،مسلم پیپلز موومنٹ کے سربراہ اور اراکین ایک مکمل سیاسی مافیا ہے اسی لیئے انھوں نے اپنے ووٹروں کو ایک بار پھر دھوکہ دینے کی کوشش کی ، عدالت کی توہین اور اداروں پر تنقید ان کا مشغلہ بن گیا، سپریم کورٹ اور افواج پاکستان پر منفی تنقید کیساتھ ساتھ توہین کرنا ان کے گویا نصاب کا حصہ ہو،بار ہا بار توہین کے مرتکب سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہوتے رہے تاکہ انہیں عدالت اور افواج کی جانب سے کوئی راہ فرار نصیب ہوجائے، ان تینوں کی کوشش رہی کہ ان کے خلاف عدالت اور افواج رد عمل ظاہر کرے اور یہ تینوں خود کو سیایس شہید کرلیں لیکن یہ خواب ان کا خواب ہی رہ گیا، الیکشن کمیشن ہو یا احتساب کا ادارہ یا پھر نا اہل وزیر اعظم کے حق میں آئین میں تبدیلیوں کیلئے مسلم پیپلز موومنٹ سمیت ان کی حمایتی جماعتوں نے بھرپور ساتھ دیا جس سے مسلم پیپلز موومنٹ کے حوصلے بلند ہوگئے لیکن یہ بھول گئے کہ اصل اپوزیشن کرنے والے ابھی زندہ ہیں، پی ٹی آئی، اے ایم ایل ،پی ایم ایل فنگشنل ، جے آئی ، اے پی ایم ایل اور پی ایم ایل قاف نےبھرپور انداز میں اپوزیشن کا کردارادا کیا ان جماعتوں میں پی ٹی آئی سب سے زیادہ مضبوط اور بھرپور انداز میں مسلم پیپلز موومنٹ کے سامنے آہنی دیوار بن کر سامنے آکھڑی ہوئی یاد رہے کہ اے پی ایم ایل ابھی کسی بھی الیکشن میں شریک نہیں ہوئی ہے وہ اپوزیشن کا ایوان سے باہر کردار ادا کررہی ہے۔۔۔معزز قارئین!! ایم کیو ایم کی منفی سرگرمیوں کے ثبوت خفیہ اداروں کے پاس جمع ہوگئے اور مخالف ریاست، مخالف ملک اور دشمنون کی سہولت کاری کی سرگرمیوں پر بالآخر پاکستان رینجرز نے مکمل ہوم ورک کرکے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا اور مطلوب لوگوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور انتہائی ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلرز کو پے در پے گرفتار کرکے انسداد دہشت گردی کی عدالت مین پیش کیا یہی نہیں بلکہ گزشتہ بیس تیس سالوں کا ریکارڈ بھی جمع کیا اور منفی سرگرمیوں پر کاری ضرب لگائی، زمانے نے دیکھا کہ یہ وہی کراچی ہے جہاں سکون و امن کا وجود دم توڑ گیا تھا جہاں اے این پی کی بھی منفی سرگرمیاں عروج پر تھیں جس کا حساب کتاب ابھی باقی ہے، ایم کیو ایم کے منفی کنکشن کو کاٹ کر پاک افواج اور اس کے زیلی ادارے پاکستان رینجرزنے پاکستان مسلم لیگ نون کی بھی منفی سرگرمیوں پر جب ہاتھ ڈالا تو اقتدار میں رہنے کی وجہ سے بڑی رکاوٹوں کا سامنے کرنا پڑرہا ہے جبکہ تیسری الحاق سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے منفی سرگرمیوں کی بہت بڑی فہرست جمع ہوچکی ہے جو پائے تکمیل تک پہنچ چکی ہے اور بہت جلد سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف گرینڈ آپریشن ہونے والا ہے، مسلم پیپلز موومنٹ میں مسلم لیگ نون جماعت حکمران جماعت ہے اسی لیئے اس جماعت نے پاکستان میں معاشی بد حالی میں بڑا کردار ادا کیا ہے ، خاص کر بے شمار وزرا کی کرپشن کو بچانے کیلئے انتہائی قدم اٹھا لیا گیا ہے ،یہ قدم از خود جان بوجھ کر اٹھا یا ہے کہ دنیا کو بتا سکیں کہ عدالت اور افواج کی مداکلت کے سبب کشھ نہ کرسکے، اپنے وجود کو صاف و شفاش بنانے کیلئے مسلم پیپلز موومنٹ نے اپنے حواریوں کیساتھ آئین کو توڑ موروڑنے کا بھرپور کردار ادا کیا یہی نہیں بلکہ انتخابات کی شق کے حصے ختم نبوت میں چھیڑ چھاڑ کی اور مجرموں کو مسلسل بچانے کیلئے حیلے بہانے کرتے رہے ، اس عمل سے پاکستانی قوم کا ایمان جوش مارنے لگا اور کثیر تعداد لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے قافلے تلے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں دھرنا شروع کیا مسلسل دھرنے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی شاہراہ بلاک ہوگئی جس پر عدالت عظمیٰ نے وزیر داخلہ کو ھکم دیا کہ راستے کلیئر کرائیں جس پر دونوں جانب سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا لیکن حکومت تو چاہتی ہی یہی تھی کہ ہنگامہ ہو اور وہ سیاسی شہید بن جائیں ، حکومت نے دکھاوے کے طور پر مذراکرات کا سلسلہ شروع تو کیا لیکن ان مذاکرات میں کبھی بھی وزیر داخلہ، وزیر مواصلات یا ذمہ دار و سنجیدہ ممبر شریک نہ ہوئے، حکومت کی بد نیتی کے سبب دھرنا مزید طول پکڑتا چلا گیا، دھرنے کے شرکا کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ وزیر قانون کو مستعفی کیا جائے لیکن حکومت کی مسلسل ہٹ دھرمی کے سبب مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے اگر حکومت لچک دکھاتی تو ملک کے حالات نہیں بگڑتے، حکومت وقت نے مکمل سوچ لیا تھا کہ حالات کو خراب کیا جائے اور تمام تر ذمہ داری عدالتی احکامت کے تحت عدالت پر وارد کردی جائے گی اگر حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے تو افواج پاکستان کو شامل کردیا جائیگا اور پھر تمام ذمہداری ان دونوں ہم ترین اور با عزت اداروں کو مورد الزام ٹھہرایا جائیگا گویا مسلم لیگ نون نے وزیر داخلی احسن اقبال، وزیر اعظم خاقان عباسی ، وزیر مواصلات مریم اورنگزیب اور دیگر وزرا نے اپنے آقا نا اہل سابق وزیر اعظم اور ان کی بیٹی مریم نواز کی چاپلوسی کی انتہا کو پہنچ کر ان کے سازشی عناصر کو پائے تکمیل پہنچایا، یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ جس انتہائی معاملہ کو یہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے وہ پاکستان کی سلامتی و بقا کیلئے انتہائی مضر ثابت ہوسکتا ہے اور ان کے منفی کردار سے جمہوریت کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے لیکن سلام ہے پاک آرمی کے چیف قمر جاوید باجوہ اور ان کے رفقائے کار کور کمانڈروں کو انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ پیش کیا اور اس معاملات کو آئینی و قانونی طریقہ کار سے نرم رویہ کیساتھ حل کرنے کا مشورہ دے ڈالا، دوسری جانب عدالت عظمیٰ مین جاری ان کے خلاف کیسس پر منفی اثر ڈالنے کیلئے بھی یہ عمل از خود کیا گیا، نا اہل وزیر اعظم میاں نواز شریف بھول گئے ہیں کہ وہ اب اپنے جرم کے دلدل مین بری طرح پھنس گئے ہیں سوائے جرم کا اعتراف کرنے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے کوئی حل نہیں، یہی حال پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی ہے ،ملکی مفاد میں بہتر ہوگا کہ مسلم پیپلز موومنٹ خود کو سریندر کرکے اپنے جرموں کی سزا بھگتے تاکہ ان جماعتون کا مورل پھر سے قائم ہوجائے بصورت ان کا وجود ہستی سے غائب ہوجائیگا۔۔۔۔۔معزز قارئین!! دنیا نے دیکھا کہ جمہوری آلاپ لادنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون نے لیبک یا رسول اللہ کے دھرنے پر آپریشن کے دوران تمام چینلز بشمول انٹرنیٹ پر فی الفور بندش کرکے یہ سہولت عوام سے چھین لی جس کی قانونی و آئینی خلاف ورزی کی گئی ہے اور عوام کو اس حق سے محروم کرکے ایک اور جرم کے مرتکب ہوئے دوسرا یہ کہ صحافت پر قدغن لگا کر یہ حکومت کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتی ، اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم پیپلز موومنٹ اپنے رویئے تبدیل کرتے ہیں کہ نہیں ورگرنہ عوام ان کیلئے یہ سرزمین پاکستان تنگ کردے گی اور خود عوام ان کا ایسا محاسبہ کریگی کہ دنیا کی تاریخ میں یاد رکھا جائیگا ، مسلم پیپلز موومنٹ درحقیقت دشمنوں کی ایما پر کام کررہے ہیں اسی لیئے پاکستان مخالف قوتوں کی سہولت کاری ان کا منصب اور منشور بن چکا ہے، اب لازم و ملزوم بن گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر فی الفور عمل کیا جائے اور پاکستان مخالف قوتوں کو کچل دیا جائے کیونکہ را، موساد، سی آئی اے، ایم سیکس نہیں چاہتی کہ پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہو اسی لیئے مسلم پیپلز موومنٹ ان کے بہترین رفیق ثابت ہوئے ہیں ، آئندہ الیکشن میںعوام مسلم پیپلز موومنٹ کو مکمل رد کردیں گے اور نئی قیادت کیساتھ ساتھ اے ایم ایل،پی ٹی آئی اور پی ایم ایل، پی ایم ایل قاف، فنگشنل کو ترجیح دیں گے تاکہ پاکستان میں صاف ستھری جمہوریت کا باب شروع کیا جاسکے۔معزز قارئین!! اس وقت تمام مسلک کی دینی و سیاسی جماعتیں تحفظ ناموس رسالت پر متحد ہوچکی ہیں جبکہ اس معاملہ میں پی ٹی آئی ، پی ایم ایل، پی ایم ایل قاف، فنگشنل کا بھی ساتھ شامل ہے، اب دیکھنا ہے کہ حکومت اس معاملے کو کس طرح ہنڈل کرتی ہےاگر اب بھی مزید طاقت کا استعمال کیا گیا تو یہ ملک کیلئے انتہائی سنگین ثابت ہوسکتا ہے جو تمام تر ذمہ داری حکومت وقت اور ان کے حمایتی سیاسی جماعتوں پر ہوگی ۔۔۔معززقارئین!! جب میں کالم لکھ رہا ہوں اس وقت ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اس احتجاج کی شدت کم کرنے کیلئے حکومت وقت کو بلا تاخیر بلا تعطل اس مسلہ کو حل کرنا چاہیئے اس کیلئے دھرنے والوں کے بنیادی مطالبات جن میں زاہد حامد کا استعفیٰ، راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لانا اور ناموس رسالت کے مجرموں کو بے نقاب کرکے اس مسلہ کو حل کیا جاسکتا ہے بسورت دو نتیجہ سامنے آجائیں گے ایک عدالت عظمیٰ از خود نوٹس لیکر ھکومت کو تحلیل کردی گی یا پھر ملک مین مارشل لا آجائیگا یہ مارشل لا پچھلے مار شل لا جیسا نہیں ہوگا بلکہ حقیقت مین ایسا مارشل لا ہوگا جس میں تمام بدمعاشیہ ، مافیا کا جڑ سے خاتمہ کیا جائیگا تاکہ مسقبل مین پھر کبھی بھی بد معاشیہ ، مافیا سر نہ اٹھا سکے ،دیکھتے ہیں ھکومت وقت نے اپنے لیئے کیا سوچ رکھا ہے ۔۔ ۔۔۔۔اللہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے آمین ثما آمین ۔۔۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی

Read More Articles by جاوید صدیقی: 308 Articles with 157354 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Nov, 2017 Views: 493

Comments

آپ کی رائے