بلوچستان عالمی قوتوں کے نرغے میں

(Ansar Usmani, )

پاکستان اور چین جب سے بوجہ سی پیک دوستی کی مضبوط شاہراہ پر گامزن ہوئے ہیں ، عالمی قوتیں انھیں مغلوب کرنے پر جُت گئی ہیں۔بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیمیں ہمارے حکمران طبقے کی فراموشی کو سراسر بلوچستان کے ساتھ ناانصافی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ جو کہ ایک نڈر اور بہادر قوم مانی جاتی ہے ، اپنے جائز حقوق کی حق تلفی سے دل برداشتہ ہو کر عالمی قوتوں کی مضبوط آلہ کار بنتی جا رہی ہے ۔

ایک لاکھ 47 ہزار مربع میل پر محیط صوبہ بلوچستان کئی لحاظ سے بہت منفرد صوبہ ہے۔لیکن ایک کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 نفوس پر مشتمل صوبہ بلوچستان کی عوام، ملک کے دیگر صوبوں کی بانسبت بہت پسماندہ اور غریب ہیں ۔ بلوچستان کو اس لحاظ سے بھی انفرادیت حاصل ہے کہ یہ کبھی بھی انگریز سرکار کے زیرِ تسلط نہیں رہا ۔مشرقی بنگال،سندھ ، پنجاب ، سرحد کی طرح بلوچستان ،قلات،مکران،خاران، اور لسبیلہ ریاستوں پر مشتمل تھا۔قلات بڑی ریاست کہلاتی تھی۔جس کے حکمران خان قلات میراحمد خان تھے۔قیامِ پاکستان سے دو روز قبل یعنی 12 اگست 1947 ء کو،خان قلات میر احمد خان نے پاکستان کے ساتھ اپنے انضمام کی نفی کی، اور الگ ریاست کے قیام کا اعلان کیا،اورپاکستان سے مخصوص شرائط پر مذاکرات کی پیشکش کی۔قلات کو الگ ریاست ڈکلیئر کروانے میں کئی بلوچ سرداروں کی حمایت ملنے کے بعد قلات میر احمد خان مذاکرات میں ناکام ہوئے ، اوریوں بلوچستان میں پہلی فوج کشی کا آغاز ہوا، جوکہ بلوچوں کے خلاف پہلی فوجی کاروائی تھی۔

1956 میں ایوب خان کے دور میں فوجی کاروائی عمل میں لائی گئی ،جس کا بنیادی مقصد بلوچستان کو مغربی پاکستان کے ساتھ ضم کرنے کے خلاف جاری تحریک کو کچلنا تھا ، جو کہ ایک خالص نظریاتی تحریک تھی ۔1970 جنرل یحیٰ خان نے مغربی پاکستان کا ون یونٹ توڑ کر بلوچستان کو الگ صوبہ کی حیثیت دی ، اور عوم نے اپنے ووٹوں سے منتخب نمائندے چنے، نیشنل عومی پارٹی فاتح رہی،اور بلوستان میں منتخب حکومت قائم ہوئی ،مگر یہ حکومت بھی کچھ عرصہ ہی چل سکی۔

حکمرانی اور سیاست فوجیوں کا کام نہیں ،بد قسمتی سے بلوچستان اور بلوچ قوم پر کئے گئے مظالم دور آمریت میں ہوئے۔ جتنے بڑے بڑے سانحات ملک کے اندر فوجی آمریت میں ہوئے ،سیاسی حکمرانی میں ان کا وقوع پذیر ناممکن سی بات لگتی ہے۔ اگر ملک میں سیاسی حکومت ہوتی تو نواب اکبر بگٹی کا سانحہ پیش نا آتا،فاٹا میں لشکر کشی نا ہوتی ،لال مسجد و جامع حفصہ میں دو ہزار طلبا ء وطالبات شہید نا ہوتے،خود کش حملوں کا سلسلہ شروع ناہوتا،بلوچستان سے لوگ اغوا نا ہوتے ،مزدوروں کا کھلے عام قتلِ عام نا ہوتا،علیحدگی پسند تنظیمیں نا بنتیں،اور یہی بلوچ عالمی قوتوں کے اشاروں پر نا چنے کی بجائے سی پیک کے خلاف کی گئی سازشوں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوتے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکمرانوں کی بے وقوفیوں سے پیدا ہونے والے چھوٹے مسائل عالمی طاقتوں کے لئے آسان ہدف بنتے جارہے ہیں ۔

بلوچستان قدرتی وسائل سے لبریز ،قدرت کی نعمتوں سے مالامال زمین کا حامل صوبہ ہے۔ارضِ وطن کی اس بلوچ قوم پر جب بھی برا وقت آیا انھوں نے آنکھیں وفاق کی طرف لگا لیں ۔دنیا میں جب بھی کسی قوم ،خاندا ن پر برا وقت آتا ہے،تو وہ اپنے قریب والوں سے قربانی ،تعاون اور مدد کی آس لگا لیتے ہیں لیکن ہمارے حکمران طبقے کا رویہ اس کے برعکس رہا،حکمرانوں نے رومن ایمپائیر کا طرز عمل اپنایا ،سلطنت اور اقتدار کے نشے میں چوررومن ایمپائیر جن خرابیوں نے انھیں تاریخ کے اوراق میں جذب کردیا ،وہی خرابیاں ،کوتاہیاں ہیں کہ جن کی وجہ سے بلوچستان عالمی طاقتوں کی طرف جھکنے پر مجبور ہوگیا۔

آج بلوچ علیحدگی پسند اور ان کے گارڈ فادر پاکستان کو عالمی سطح پر دباؤ میں لینے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں ۔اور ان کے آقا ؤں کی ایما پر سی پیک کو ثبوتاژکرنے کی مہمیں جاری ہیں ۔بلوچستان کو ایشو بنا کر ملک کے اندر انتشارکی فضا ء اور بلوچستان میں دہشت گرد کاروایاں کرکے ،بھارت اور ایران اپنے مذموم مقاصد پورے کررہے ہیں۔یورپ کے مختلف ممالک میں ’’فری بلوچستان ‘‘ کے اشتہارات لگوائے جا رہے ہیں ،جس کے پس پردہ گہری سازش کارفرما ہے۔بلوچسان کو عالمی میڈیا میں تنہا ثابت کرکے عالمی قوتیں بلوچستان کو اپنے نرغے میں لینا چاہتی ہیں ،جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، انشاء اﷲ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ansar Usmani

Read More Articles by Ansar Usmani: 98 Articles with 46836 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2017 Views: 405

Comments

آپ کی رائے