70 ء کی دہائی میں پی ٹی وی اتوار کو چُھٹی والے دن صبح کی نشریا ت خصوصی طور پر پیش کرتا۔ جس میں حالات حاضرہ پر "ترجمان" کے عنوان سے دلچسپ معلوماتی پروگرام پیش کیا جاتا اور بعدازاں ایک "اُردو فیچر فلم " پیش کی جاتی ۔پھر جنوری 1988ء میں ادارے نے روزانہ کی بنیاد پر صبح 7بجے سے9بجے تک "صبح بخیر پاکستان" کے نام سے باقاعدہ نشریات کا آغاز کر دیا۔۔۔۔" />

پاکستان ٹیلی ویژن : رفاقتوں کا سفر "ناظرین کیلئے ناقابلِ فراموش" حصہ اول

(Arif Jameel, Lahore)
پی ٹی وی کے 50 سے زائدسالوں کا تذکرہ کرنے سے پہلے اس بات کا اعتراف کر لینا چاہیئے کہ شاید کسی کے پاس بھی وہ الفاظ نہ ہونگے جو اس ادارے کی تعریف اُن خوبصورت الفاظ میں کر سکے جسکا وہ حق رکھتا ہے۔ دوسرا ان 50سالوں میں اُسکا وہ کونسا شعبہ ہو گا جو تعریف کے قابل نہیں ہو گا۔ لہذا فی الحال وہاں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں تک ماضی کے ناظرین کی یادیں تو ضرور وابستہ ہیں اور اس ہی لیئے اُس دور کی میڈیا پالیسی کی تعریف بھی کرتے ہیں جس میں شائستگی کا عُنصراور اخلاقیات کی حدود قائم رکھی گئی تھی۔یہی خوبی "پی ٹی وی "کا سنہرا دور بنا ۔۔۔۔26ِ نومبر1964ء کوپی ٹی وی نے ا پنی براہِ راست" بلیک اینڈ وائٹ" نشریات کا آغاز لاہور سے کیا۔۔۔۔ آغاز کے چند سال "پیر "والے دن " پی ٹی وی " کی "چھٹی "ہوتی اور اُس دن لوگ اُداس نظر آتے ۔
70 ء کی دہائی میں پی ٹی وی اتوار کو چُھٹی والے دن صبح کی نشریا ت خصوصی طور پر پیش کرتا۔ جس میں حالات حاضرہ پر "ترجمان" کے عنوان سے دلچسپ معلوماتی پروگرام پیش کیا جاتا اور بعدازاں ایک "اُردو فیچر فلم " پیش کی جاتی ۔پھر جنوری 1988ء میں ادارے نے روزانہ کی بنیاد پر صبح 7بجے سے9بجے تک "صبح بخیر پاکستان" کے نام سے باقاعدہ نشریات کا آغاز کر دیا۔۔۔۔

چند یادگار تصاویر

2014ء کا سال پاکستان ٹیلی ویژن کی گولڈن جوبلی کا سال قرار دیا گیا تھا۔ لہذا پی ٹی وی کے 50 سے زائدسالوں کا تذکرہ کرنے سے پہلے اس بات کا اعتراف کر لینا چاہیئے کہ شاید کسی کے پاس بھی وہ الفاظ نہ ہونگے جو اس ادارے کی تعریف اُن خوبصورت الفاظ میں کر سکے جسکا وہ حق رکھتا ہے۔ دوسرا ان 50سالوں میں اُسکا وہ کونسا شعبہ ہو گا جو تعریف کے قابل نہیں ہو گا۔ لہذا فی الحال وہاں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں تک ماضی کے ناظرین کی یادیں تو ضرور وابستہ ہیں اور اس ہی لیئے اُس دور کی میڈیا پالیسی کی تعریف بھی کرتے ہیں جس میں شائستگی کا عُنصراور اخلاقیات کی حدود قائم رکھی گئی تھی۔یہی خوبی "پی ٹی وی "کا سنہرا دور بنا ۔

26ِ نومبر1964ء کوپی ٹی وی نے ا پنی براہِ راست" بلیک اینڈ وائٹ" نشریات کا آغاز لاہور سے کیا اور پھر مختلف اوقات میں بالترتیب ڈھاکہ،راولپنڈی ا ور کراچی سے کیا ۔لہذاآج بھی پاکستان کی تاریخ کا وہ اہم دور سمجھا جاتا ہے۔ بعدازاں 1974ء میں کوئٹہ و پشاور میں بھی اس ادارے کا قیام عمل میں آگیا۔ آغاز کے چند سالوں میں کسی کسی گھر میں ٹی ۔وی ہوتا تھااور وہ بھی ٹیوبوں والا۔ زیادہ تر "فلپس"کمپنی کا۔ بلکہ جسکی چھت پر اُس کا اینٹینالگ جاتا تھا وہاں کے محلے دار شام کے وقت اُس گھر میں اکٹھے ہو کر ٹی۔وی پر نشر ہونے والے پروگرام دیکھتے۔

پی ٹی وی کی نشریات کا آغاز تقریباً 25سال تک تو شام 5اور6بجے کے درمیان ہوتا رہا۔ سب سے پہلے چند منٹ کیلئے ایک مخصوص موسیقی کے ساتھ علامتی تصویر پیش کی جاتی اور پھر مختلف نوعیت کے پروگرام کم و بیش رات 12بجے تک جاری رہتے۔ اختتام پر پاکستان کا "قومی ترانہ" بجا کر نشریات بند کر دی جاتیں۔ قاری کیلئے یہ بڑی لچسپ معلومات ہو گی ،بلکہ بہت سے لوگ جانتے بھی ہیں کہ آغاز کے چند سال "پیر "والے دن " پی ٹی وی " کی "چھٹی "ہوتی اور اُس دن لوگ اُداس نظر آتے ۔

70 ء کی دہائی میں پی ٹی وی اتوار کو چُھٹی والے دن صبح کی نشریا ت خصوصی طور پر پیش کرتا۔ جس میں حالات حاضرہ پر "ترجمان" کے عنوان سے دلچسپ معلوماتی پروگرام پیش کیا جاتا اور بعدازاں ایک "اُردو فیچر فلم " پیش کی جاتی ۔پھر جنوری 1988ء میں ادارے نے روزانہ کی بنیاد پر صبح 7بجے سے9بجے تک "صبح بخیر پاکستان" کے نام سے باقاعدہ نشریات کا آغاز کر دیا جسکے میزبانی کے فرائض مستنصر حسین تارڑ اور قراتعین حیدر نے ادا کیئے۔

بصیرت کے نام سے روزانہ کی ترتیب میں سب سے پہلے حمدو نعت کا پروگرا م پیش کیا جاتا تھا۔ اسکے علاوہ ہفتے بھر کے مختلف اوقات میں بھی تربیتی و معلوماتی نوعیت کے دینی پروگرام پیش کیئے جاتے ۔70ء کی دہائی کے آخری سالوں میں "اقراء" کے نام سے پروگرام کا آغاز کر دیا گیا اور ساتھ میں عشاء کی اذان نشر کی جانے لگی۔ "فرمانِ الہی" پی ٹی وی نشریات کا آخری پروگرام ہوتا ۔اس ہی طرح ماہِ رمضان المبارک و محرم الحرم کے پہلے عشرے میں خصوصی دینی پروگرام پیش کر کے یہ ادارہ عوام کودلی و ذہنی سکون بہم پہچانے کا باعث بنتا۔

بچوں کیلئے ہفتے کے مختلف دنوں میں مشہورِ زمانہ کارٹون"پوپائی دی سیلر" دکھایا جاتا تھا۔گو گہ اُس وقت کارٹون کا دورانیہ صرف 5منٹ کے قریب ہوتا تھا لیکن بچے سارا دن انتظار کرتے تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ مزید مشہور کارٹون بھی پیش کیئے جانے لگے جن میں سرفہرست " پنک پنتھر"اور" ٹام اینڈ جیری" رہا۔ساتھ میں بچوں کیلئے 30منٹ دورانیئے کے ترتیب دیئے ہوئے اُردو کے دلچسپ پروگرانشر کیئے جاتے ۔جن میں سے چند کانام آج بھی لیا جاتا ہے۔مثلاًشعیب ہاشمی کا اکڑ بکڑ، سچ گپ،ٹال مٹول،انکل سرگم ،ہیگا و مائی مصیبتے کے کردار میں ڈھلا ہوا فاروق قیصر کا کلیاں ، زینت حق کی میزبانی میں" نئی پرانی ایک کہانی، ا لف لیلیٰ ،عینک والاجن ، "وغیرہ۔

پی ٹی وی ڈراموں کی دُھوم تو ہمارے ہمسایہ ملک میں ہم سے بھی زیادہ رہی بلکہ بعدازاں دوسرے ممالک میں بھی اُنکی ویڈیوز سے ہمارے ملک کے اس شعبے کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔آغاز میں مشہور ہونے والا ڈرامہ"اُچے برج لاہور دے " رہا جس میں اہم کردار محمد قوی نے ادا کیا۔70ء کی دہائی کے آغاز میں اداکار خالد عباس ڈار کے دلچسپ جملے " متے کے نال دے کے لیکن" سے مشہور ہونے والا ڈرامہ" جزیرہ "اور پھر" جھوک سیال" جسکا یہ ڈائیلاگ بہت مشہور ہوا " پیر سائیں آنداہ اے میٹھے چول کھاندہ اے" بہت پسند کیئے گئے۔ اس ہی دہائی میں آگے بڑھیں تو مصنفہ حسینہ معین کے لکھے ہوئے ڈراموں میں سے نیلو فر علیم کا مشہورِزمانہ " شہزوری" اور رو حی بانو کا "کرن کہانی" جس میں اپنے وقت کی مشہور فلمی ہیرؤئن بابرہ شریف بھی نظر آئیں اہم ڈرامے رہے۔

اُن ہی کے تحریر کردہ ڈرامے " زیر زبر پیش اور انکل عُرفی" جس میں مشہور اداکار شکیل نے اہم کردار ادا کیئے ناظرین کی مزید تفریح کا باعث بنے۔نہ بھولنے والا ڈرامہ " خدا کی بستی" نے اپنا ہی رنگ جمایا۔ "آخری شب" کے عنوان سے مختلف تاریخی ڈرامے معلومات میں اضافے کا باعث بنے ۔ ریاض بٹالوی کی کہانیوں پر مبنی " ایک حقیقت ایک فسانہ " کے عنوان سے ڈرامے زندگی سے تعلق رکھنے والے واقعات کی وجہ سے ایک نئی کڑی ثابت ہوئے۔بعدازاں80کی دہائی میں اشفاق احمد کے" ایک محبت سو افسانے" کے نام سے مختلف موضوعات پر بھی دلچسپ ڈرامے پیش کیئے جاتے رہے جنکا تسلسل "اور ڈرامے" کے عنوان سے بھی نشر کیا گیا۔پھر انہی کا ایک اور ڈراموں کا سلسلہ "توتا کہانی" بہت مشہور ہوا۔شاید اسکی ایک وجہ یہ تھی کہ' طوطا" کی بجائے" توتا " کا لفظ لُغت کے مطابق استعمال کیا گیا۔ افشاں،انا،شمع،سمندر،دُھند،دِن اور خصوصی طور پر پاکستانی فوج کے نشانِ حیدر پانے والی فوجی شخصیات پر ڈرامے بھی اپنی مثال آپ رہے۔ زیادہ تر ڈرامے قسط وار ہوتے اور ہفتے کے کسی ایک مقررہ دن میں 8سے 9 کے درمیان نشر کیئے جاتے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 170271 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
29 Nov, 2017 Views: 1277

Comments

آپ کی رائے
بہت شاندار!

By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Dec, 05 2017
Reply Reply
0 Like
بہت ہی شاندار مضمون -- پرانی یادوں میں کھو گیا -- آپ نے ریاض بٹالوی کا تذکرہ کیا ہے کہ ریاض بٹالوی کی کہانیوں پر مبنی " ایک حقیقت ایک فسانہ " کے عنوان سے ڈرامے زندگی سے تعلق رکھنے والے واقعات کی وجہ سے ایک نئی کڑی ثابت ہوئے -
ریاض بٹالوی کے بارے میں میرا ایک کالم اسی ہماری ویب پر چھپا تھا
ملاحظہ کیجئے
ریاض بٹالوی کی کہانیوں پر مبنی " ایک حقیقت ایک فسانہ " کے عنوان سے ڈرامے زندگی سے تعلق رکھنے والے واقعات کی وجہ سے ایک نئی کڑی ثابت ہوئے
ملاحظہ کیجئے
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=78548
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Dec, 01 2017
Reply Reply
0 Like
شکریہ! ضرور پڑھوں گا۔
By: Arif Jameel, Lahore on Dec, 02 2017
0 Like