" میلاد "

(پلوشہ نیلم, کراچی)
اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔

شکروتعریف اللّہ ہی کےلئے ھے،ھم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ھیں اور ھم اپنے نفس کی شرارتوں اور برائیوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو اللّٰہ کی پناہ میں دیتے ھیں۔

جسے اللّہ سیدھی راہ پر چلائے (اور وہ اسی کو سیدھی راہ پر چلاتا ھےجو چلنے کا واقعی ارادہ رکھتا ھو )تو اسے کوئی بھٹکا نہیں سکتا اور جسے اللّہ گمراہ کرتاھے (اور وہ اسی کو گمراہ کرتا ھے جو گمراہ ھونا چاھئے)تو اسے کوئی سیدھی راہ پر لا نہیں سکتا.

اے اللّہ میرا سینہ کھول دے،اور میرا کام آسان کردے،اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔
سورت طہ 25-28

ارشاد باری تعالیٰ ھے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُوْلِ اللَّهِ أُسْوَةُُ حسنةُ ُ.

یقینا تمھارے لئے رسول اللہ ﷺ بہترین نمونہ ھیں۔

اب نبی ﷺ سے بڑھ کر کسی کی ذات ھمارے لیے نمونہ ھو سکتی ھے؟؟؟
نہیں کیونکہ نبی ﷺ کی زندگی سب سے بہتر ھے عمل کرنے کےلئے۔
اور ان کی زندگی بھی قابل عمل ھے جنہوں نے نبیﷺ کے نمونے پر عمل کیا۔۔۔۔۔یعنی
صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم

اب نبیﷺ نے اپنی پوری زندگی میں میلاد نہیں منایا ،نہ صحابہ نے تو پھر ھم کیوں منائیں جبکہ
ارشاد باری تعالیٰ ھے کہ
" یقینا تمھارے لیئے رسول اللہﷺ بہترین نمونہ ھیں"

اب ھم اللّہ سبحان وتعالی کے ارشاد مبارک کو چھوڑ کر اس پر عمل کر رہے ھیں:

👈جو ھمارے مولانا نے بتایا۔
👈جو ھمارے بزرگوں نے بتایا۔
👈جو ھمارے پیر صاحب نے بتایا۔
👈جو ھمارے مسلک نے بتایا۔
👈جو ھمارے مرشد نے بتایا۔
👈جو ھمارے شیخ صاحب نے بتایا۔
👈جو ھمارے والدین نے بتایا۔
یا
👈جو ھمارے " بڑوں" نے بتایا۔

نبی ﷺ نے کیا بتایا اس پر عمل نہیں لیکن پیر صاحب ،مرشد جی، عالم، مولانا صاحب، شیخ صاحب اور بزرگوں کی سب باتوں پر عمل ھو رہاھے۔

جبکہ نبی ﷺ کی پوری زندگی ھمارے لئے نمونہ عمل ھے۔قابل تقلید ھے۔کسی قسم کا شک نہیں۔۔۔۔۔ پھر بھی ان کی اور اللّہ سبحان وتعالی کی بات کو چھوڑ کر ھم
" اس کی اور ان کی " بات مان رہے ھیں۔

اللہ سبحان وتعالی ھم سب کو نبی ﷺ کی سنت مبارکہ ،نبی ﷺ کی سیرت مبارکہ اور قرآن مجید پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔اور ھم سب مسلمانوں کو بدعت ،شرک اور منافقت سے بچائیں۔ آمین

(پلوشہ نیلم)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: پلوشہ نیلم

Read More Articles by پلوشہ نیلم: 15 Articles with 16638 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Nov, 2017 Views: 328

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ