عید میلادالنبی صلی الله علیه وآله وسلم

(Muhammad Yousuf Rahi, Karachi)
جشن ولادت بسعادت حضور صلی الله علیه وأله وسلم کے موقع پر ایک معلوماتی اور یادگار مضمون جسے پڑھکر آپ کو علم ھوگا که میرے اور آپ کے آقا اور مولا سرور کائنات سرکار مدینه صلی الله علیه وآله وسم کی ذات اقدس کیا تھی اور ان کی خصوصیات کیا تھی .
میرے اور سب کے خالق حقیقی نے جب یه دنیا بنائی اور اپنی ایک مخلوق جسے اشرف المخلوقات کا درجه دیا تو فرشتوں نے عرض کیا که باری تعالی کیا هم تیری عبادت کے لئیے کافی نهیں تھے تو الله تبارک و تعالی نے فرمایا که جو میں جانتا هوں وه تم نهیں جانتے اور اس طرح الله تبارک وتعالی نے حضرت آدم علیه السلام کو پهلے انسان کے روپ میں اس دنیا میں بھیجا جب حضرت آدم علیه السلام نے دنیا میں قدم رکھا تو ایک چمکتا هوا نور دیکھا عرض کیا یا الله یه کیا هے باری تعالی نے فرمایا یه میرے حبیب کا نور هےجو انسانی روپ میں پیدا هوگا اور یه تمھاری نسل سے هوگا اور میرا حبیب هوگا .یه وهی نور هے جو وجه تخلیق کائنات هے اور دونوں جهاں کے لئے رحمت بھی.

سرکار مدینه صلی الله علیه وآله وسلم 21 اپریل 571 عیسوی بمطابق 12 ربیع الاول بروز پیر صبح 4.45 پر مکه مکرمه میں پیدا هوئے آپ صلی الله علیه وسلم کے والد کا نام عبدالله اور والده کا نام آمنه تھا , دادا کا نام عبدالمطلب اور دادی کا نام فاطمه بنت عامر تھا ,نانا کا نام وهاب اور نانی کا نام بررا تھا , آپ صلی الله علیه وسلم کی ازواج مطھرات کی کل تعداد 11 تھی جن سے 3 شهزادے اور 4 شهزادیاں تھیں.

آپ صلی الله علیه وآله وسلم کے 14 چچا 6 پهوپهیاں,6 دودھ شریک بھائی جبکه 3 دودھ شریک بهنیں تھیں ,3 داماد , 5 نواسےاور 3 نواسیاں تھیں جبکه 4 مؤذن , 9 پهرےدار اور 40 غلام تھے آپ صلی الله علیه وآله وسلم کی زندگی 22330 دن کم و بیش اور عمر 63 سال 04 دن تھی آپ صلی الله علیه وآله وسلم کی رسالت کا عرصه 8156 دن یعنی 23 سال کم و بیش رها. یه هے میرے اور آپ کے سرکار مدینه راحت قلب وسینه معطر معطر پسینه حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلم کی زندگی اور آپ صلی الله علیه وسلم کے آباؤاجداد اور قریبی رشته داروں کے بارے میں وه معلومات جس کا علم همیں ,همارے دوستوں , همارے رشته داروں, همارے بچوں اور همارے تمام عزیز و اقارب کو مسلمان اور آپ صلی الله علیه وآله وسلم کے امتی هونے کے ناطے هونی چاهئیے .

سرکار مدینه حضرت محمد مصطفی صلی الله علیه وآله وسلم کی ذات اقدس کے بارے میں جو کها جائے جو لکھا جائے وه کم هے لیکن آپ صلی الله علیه وسلم کی ولادت بسعادت کی خوشی اور موقع پر میں آپ صلی الله علیه وآله وسلم کی وه خصوصیات اور معجزے بتانا ضروری سمجھتا هوں جن کے بارے میں کئی لوگوں کو علم نهیں سب سے پهلے تو یه که آپ صلی الله علیه وآله وسلم کا سایه کبھی بھی زمین پر نهیں پڑتا تھا ,کبھی بھی کوئی مکھی آپ صلی الله علیه وآله وسلم پر نهیں بیٹھی , آپ صلی الله علیه وآله وسلم کو کبھی بھی جمائی نهیں آئی ,آپ صلی الله علیه وآله وسلم جیسے آگے دیکھتے تھے ویسے هی پیچھے دیکھ سکتے تھے , آپ صلی الله علیه وآله وسلم جس جانور پر سوار هوتے وه کبھی بھاگتا نهیں تھا , آپ صلی الله علیه وآله وسلم کے پسینے میں همیشه خوشبو آتی رهتی تھی اور آپ صلی الله علیه وآله وسلم جس پانی میں اپنا لعاب دهن ڈال دیتے وه پانی میٹھا هوجاتا تھا .

یه هماری خوش قسمتی هے که همیں اس دنیا میں الله تبارک وتعالی نے اپنے حبیب اپنے محبوب کا امتی بنا کر بھیجا اور محشر میں بھی آپ صلی الله علیه وآله وسلم کے سائے تلے الله کے حضور پیش هونگے
همیں چاهئیے که هم صرف عاشق رسول هونے کا دعوه نه کریں بلکه آپ صلی الله علیه وآله وسلم کی سنتوں پر عمل کرکے الله تبارک و تعالی کے بتلائے هوئے احکامات اور ان پر عمل کرکے سچے عاشق رسول بن کر دکھائیں اور آپ صلی الله علیه وآله وسلم کے آمد کی خوشی میں گھر گھر گلی گلی اور بازاروں کو سجاکر اس بات کا ثبوت دیں که هم بھی صحابه کرام اورانبیأ کرام کی طرح سرکار علیه سلام کی ولادت بسعادت کا جشن شایان شان طریقے سے مناتے هیں اور هم بھی اس خوشی میں اپنا سب کچھ لٹا دیں گے .الله سے دعا هے که الله همیں سچا عاشق رسول بنائے اور سرکار کی آمد کا جشن شایان شان طریقے سے منانے کی توفیق عطا فرمائے . آمین
میرے سرکار سے حسین نه کوئی تھا نه هے نه هوگا
میرے آقا کا کهیں ثانی نه کوئی تھا نه هے نه هوگا
یوں تو دیکھے هیں کئی گمبندومینار جهاں بھر میں
میرے آقا کے سبز گمبند سا نه کوئی تھا نه هے نه هوگا
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Yousuf Rahi

Read More Articles by Muhammad Yousuf Rahi: 23 Articles with 12040 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Nov, 2017 Views: 455

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ