سیرت نبوی کی روشنی میں ٹریفک کنٹرول سسٹم اور حادثات سے محفوظ رہنے کی تدابیر

(Ata Ur Rehman Noori, India)
عید میلادالنبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے موقع پر قارئین شامنامہ کی خدمت میں سالانہ ساتویں قسط
بحمدہ تعالیٰ!گزشتہ چھ سالوں سیعید میلادالنبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پُرمسرت موقع پر شہر مالیگاؤں کے مؤقراخبار’’شامنامہ‘‘میں راقم کاسیرت نبوی کے مختلف گوشوں پر سلسلہ وار مضمون شائع ہورہاہے۔قسط اوّل ودوّم میں حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاق وعادات،سراپائے اقدس اور اوصاف وخصائص کاذکر کیاگیاتھا۔ تیسری قسط ’’منسوباتِ بارگاہِ نبوی کی شان وعظمت کا اجمالی تعارف‘‘پر مشتمل تھی ،چوتھی،پانچویں اور چھٹی قسطوں میں عالمی ایّام کے تناظر میں یوم ولادت رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کاذکر کیاگیاتھا،یہ قسطیں مع اضافہ کے عنقریب کتابی صورت میں شائع ہونے والی ہیں ۔شہر میں بڑھتی ہوئی بد نظمی،حادثات ،بے جا ٹریفک،سیر سپاٹے کے نام پر جان سے کھیل جانا وغیرہ کو دیکھتے ہوئے امسال سیرت مبارکہ کا ایک اہم گوشہ جوکہ راستہ چلنے کی احتیاط اورتدابیر پر مشتمل ہے اسے قلم بند کیا جارہا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے حادثات اور بے راہ روی پر کچھ روک لگ سکے۔اُمید قوی ہے کہ ہر سال کی طرح اس مضمون کو بھی قارئین کرام پسند فرمائیں گے اور اپنی قیمتی آراونظریات سے نوازیں گے۔

راستہ اور سواری اﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے۔جس سے ہرایک آمدورفت کی ضرورت پوری کرتاہے۔جب بھی ہم سواری پرسوار ہوں جواس پاک پروردگار کی نعمت ہیں تورب تعالیٰ کاشکربجالائیں،اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:’’اور جس نے سب جوڑے بنائے اور تمہارے لئے کشتیوں اور چوپایوں سے سواریاں بنائیں کہ تم ان کی پیٹھوں پرٹھیک بیٹھو،پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو،جب اس پر ٹھیک بیٹھ لواور یوں کہوپاکی ہے اسے جس نے اس سواری کوہمارے بس میں کردیااور یہ ہمارے بوتے کی نہ تھی۔‘‘(سورہ الزخزف، پ ۲۵ ، آیت۱۲، کنزالایمان) لہٰذا ہم سب پر راستے کے حقوق کی ادائیگی لازم ہے،شاہکارِ دستِ قدرت مصطفی جان رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:راستے کاحق اداکیاکرو۔(بخاری) اس حدیث پاک سے معلوم ہوتاکہ راستے کے بھی کچھ حقوق وآداب ہیں جن کی ادائیگی بہت ضروری ہے۔انہی حقوق میں سے ایک راستہ کا حق بھی ہے ۔اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ٹریفک کے قوانین کوجانیں اور ان کی مکمل پاسداری کریں۔بالخصوص ہر مسلمان پرلازم ہے کہ وہ سفرکے آداب سیکھے اور اس پر عمل پیرابھی ہو۔سفر کی ابتداء میں’’ بسم اﷲ‘‘ اور سواری پرسوار ہوتے وقت کی دعاپڑھے۔سواری کی اس عظیم نعمت پر اﷲ تعالیٰ کاشکراداکرے۔دوران سفر ملکی قوانین کی پابندی کرے،قانون کی خلاف ورزی کرکے اپنے اوردوسروں کے لیے تکلیف وپریشانی کاباعث نہ بنے تاکہ خود بھی سلامت رہے اور دیگرلوگ بھی سلامتی کے ساتھ اپنی منزل مقصود تک بآسانی پہنچ سکیں،اس لیے اپنی ذاتی سواری والاشخص سفرکی ابتداء سے پہلے اپنی گاڑی میں چھوٹی یابڑی خرابی ہوتواسے ضروردرست کروالیں ،اس لیے کہ اگرگاڑی کسی چھوٹی یابڑی خرابی کی وجہ سے قابلِ استعمال نہ ہوئی توسب کے لیے تکلیف کاباعث بنے گی،مصطفی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے آپ کواور دوسروں کوتکلیف پہنچانے سے منع فرمایا۔آقاعلیہ السلام فرمایا:’’لاضررولاضرار‘‘کسی کوابتداعاًیاانتقامی طور پر تکلیف پہنچاناجائزنہیں۔(ابن ماجہ)

ٹریفک کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ گاڑی چلاتے وقت غصے اور بے جاجلدبازی کامظاہرہ نہ کیاجائے کیوں کہ غصے اور بے جا عجلت پسندی کاانجام ونتیجہ انتہائی خراب ہوسکتاہے۔اسی بات کے پیشِ نظر غیب داں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:اے لوگو!وقار وآہستگی سے چلاکرو۔(صحیح مسلم)لفظ آہستہ بنیاد ہے۔جسے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سفرمیں لوگوں کی رفتارکنٹرول کرنے کے لیے فرمارہے ہیں،خاص طورپر جب سڑک پرگاڑیوں کااژدہام اور رَش زیادہ ہو،ایسے موقع پر چلنے میں آہستگی اختیار کرنااور بے جاجلدبازی سے بچنامسلمان کے عمدہ اخلاق میں سے ہے۔رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے وقاروآہستگی کواختیار کرنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا:وقاروآہستگی اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی جانب سے ہے۔ٹریفک حادثات کے اسباب میں سے ایک اہم سبب تیزرفتاری اور غلط سمت سے گاڑی چلانا بھی ہے۔قارئین کرام!اﷲ ورسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں تواضع وانکساری کاحکم فرمایاکہ ہم راستہ چلتے ہوئے بھی اس کاخیال رکھیں،غروروتکبراور راستوں میں چلتے ہوئے اکڑکرنہ چلیں،بلاوجہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑمیں حصہ نہ لیں،کسی کے لیے تکلیف وپریشانی کا سبب نہ بنیں۔رب ذوالجلال ارشاد فرماتاہے:اور زمین میں اتراتانہ چل،بے شک توہرگز زمین نہ چیرڈالے گااور ہرگز بلندی میں پہاڑوں کونہ پہنچے گا۔(سورہ بنی اسرائیل،پ ۱۵،آیت ۳۷،کنزالایمان)معنی یہ ہیں کہ تکبر و خود نمائی سے کچھ فائدہ نہیں۔

ہم میں سے ہرایک پرلازم وضروری ہے کہ خودعمل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی بھی تربیت کریں کہ وہ راہ چلتے ہوئے راستے کے آداب کاخاص خیال رکھیں،چلتے ہوئے نگاہیں نیچی ہونی چاہیے اور اپنی راہ کے ایک طرف سے چلناچاہیے،راستے کے بالکل درمیان سے نہ چلیں۔حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کوکتنے پیارے اندازمیں نصیحت کی،اس کاذکرقرآن مجید میں ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور میانہ چال چل۔‘‘(سورہ لقمان،پ۲۱،آیت ۱۹)نہ بہت تیز نہ بہت سُست کہ یہ دونوں باتیں مذموم ہیں۔ ایک میں تکبر ہے اور ایک میں چھچھورا پن۔ حدیث شریف میں ہے کہ بہت تیز چلنا مومن کا وقار کھوتا ہے۔

دنیابھرمیں متعلقہ ادارے انتہائی محنت سے ٹریفک کے قوانین وضوابط بناتے ہیں اور سرِ راہ رہنمائی وسلامتی کے لیے مختلف علامات بھی نصب کی جاتی ہیں تاکہ لوگ راستے کی پریشانی،تکالیف اور جانی ومالی نقصانات سے محفوظ رہیں۔ان قوانین وضوابط کاخیال نہ رکھاتوانتہائی خطرناک حادثات رونماہوسکتے ہیں،جس میں ہمیں بھی نقصان کاسامنا کرنا پڑسکتاہے اور دیگرلوگ بھی مشکلات کاشکار ہوسکتے ہیں،جو کسی طرح بھی عقل مندی اور اخلاق کاتقاضا نہیں۔کامل وبہترین مسلمان کے بارے میں حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:سب سے اچھا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحیح مسلم)اس حدیث میں رسول گرامی وقارصلی اﷲ علیہ وسلم نے اُمت مسلمہ کویہ تاکیدفرمائی ہے کہ دوسروں کے لیے پریشانی وتکلیف کاباعث مت بنوبلکہ ہوسکے تولوگوں سے تکلیف کودور کیاجائے کہ یہی کامل مومن کی نشانی ہے۔ہرمسلمان پرلازم ہے کہ وہ راستے کے معاملے میں بھی لوگوں کوتکلیف دینے سے بچے،بلکہ جس قدر ہوسکے لوگوں کے لیے آسانی مہیاکرنے کی کوشش کرتارہے،اگرراستے میں کوئی ایذادینے والی چیزہوتواسے دورکردیاجائے کہ یہ بھی ایمان کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ فرمان نبوی ہے:ایمان کے ستریاساٹھ سے زیادہ شعبے ہیں ان میں سب سے افضل شعبہ کلمۂ طیبہ پڑھنااور سب سے کم درجہ شعبہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کودور کردیناہے۔(صحیح مسلم شریف)بسا اوقات والدین اپنے بچوں کی خوشی کے لیے گاڑی ان کے حوالے کرنے میں جلدی کرجاتے ہیں،حالانکہ وہ قانونی طورپراس کے اہل نہیں ہوتے ،ایساکرنابسااوقات حادثات کا باعث بھی ہوتاہے۔گاڑی چلانے کی بچوں کواجازت اس وقت دے جب وہ قانونی طورپراس کے اہل ہوجائے،نیزان کی کڑی نگرانی بھی کرتے رہیں اور انھیں وقتاًفوقتاًٹریفک کے اُصولوں کی طرف توجہ دلاتے رہیں اور یہ بھی بتاتے رہیں کہ بڑی سڑکوں پرکس اندازسے گاڑی چلائی جاتی ہے اور ملکی قوانین کی پاسداری کا بھی درس دیتے رہیں تاکہ آپ کی پیار بھری نصیحتیں حادثات سے محفوظ رہنے میں ان کے لیے مددگار ثابت ہوں اور وہ اپنے اپنے والدین کے لیے کسی مصیبت وپریشانی کاباعث نہ بنیں۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ ٹریفک قوانین کے متعلق ہم پر بھاری ذمہ داری عائدہوتی ہے۔ان قوانین پر عمل کریں تاکہ راستے کا حسن وجمال اور تمام لوگوں کی جان ومال محفوظ رہے ۔اس سلسلے میں پولس اہل کاروں سے بھی بھرپورتعاون کرناچاہیے۔ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنے والااپنی جان ومال اور اولادکی حفاظت کرتاہے جب کہ ان قوانین کوپامال کرنے والاشخص قانون اور پورے معاشرے کی توہین کامرتکب ہوتاہے۔پورے معاشرے کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتاہے لہٰذاعقل مندوہی ہے جوخوداپنااور اپنے اہل وعیال کامحافظ ہو۔اے اﷲ!ہمیں راستوں کاحق اداکرنے،ان سے تکلیف دہ چیزیں دور کرنے،جلدبازی ،غروروتکبراور اکڑپن سے بچنے،نیکی کاحکم کرنے،برائی سے روکنے،دورانِ سفرنرمی،وقار،ڈسپلن اور تواضع وانکساری کامظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 402501 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
30 Nov, 2017 Views: 1044

Comments

آپ کی رائے