چشتیاں کی سیاسی ڈائری

(Muhammad wajid aziz, Chishtian)
چشتیآ کی مکمل سیاسی رپورٹ

جنوبی پنجاب کا ضلع بہاولنگر پنجاب کے پسماندہ ترین اضلا ع میں شامل ہوتا ہے اس ضلع کی خوش قسمتی یہ رہی کے اس ضلع سے بہت سے سیاسی لیڈران وزارتوں کے قلمدان تک پہنچے مگر بد قسمتی یہ ر ہی کے یہ ضلع آج بھی پسماندہ ترین ہے اور آج بھی یہاں غربت و افلاس ان سیاسی مداریوں کو منہ چڑھاتی نظر آتی ہے آج میں آپکو ضلع کے سب سے اہم شہر چشتیاں کی سیاسی تاریخ اور موجودہ سیاسی صورتحال سے متعلق کچھ تفصیلات بیان کرونگا اگر میرے اس کالم میں کوئی سیاسی تاریخ یا لکھنے میں غلطی پیش آئی ہو تو براہ کرم مجھے آگاہ کریں لیکن میں کالم مکمل تحقیق کے بعد لکھ رہا ہوں لیکن پھر بھی آپکی آراہ کا منتظر رہوں گا ،
چشتیاں دریاے ستلج کے کنارے آباد ضلع بہاولنگر کا ایک اہم شہر ہے چشتیاں 29 یونین کونسلز پہ مشتمل ہے اور اسے سب ڈویزن بھی کہا جاتا ہے ، اسکی موجودہ آبادی 691,221 اٖفراد پہ مشتمل ہے ، یہاں بزرگ ہستیوں بابا تاج سرکار اور خواجہ نور احمد مہاروی ، بابا کالیا شاہ کے مزارات بھی ہیں ۔ اسے ضلع میں کاروباری لحاظ سے بھی بڑی اہمیت حاصل ہے ہال ہی میں چشتیاں کی ایک سب تحصیل ڈہرانوالہ کو تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے ، اس شہر میں ملک قاسم ، میاں عبدلستار لالیکا ( صدا بہار وفاقی وزیر ) ، چوہدری عبدلغفور ( سابقہ وزیر قانون اور تعلیم ) ، اعجاز الحق ( سابقہ وفاقی وزیر مذہبی امور ) چوہدری پرویز الہی ( سابقہ وزیر اعلی پنجاب ) الیکشن لڑتے رہے ہیں ، 1977 میں جب بھٹو صاحب عروج پہ تھے تو یہاں سے پیپلز پارٹی کے ہی افضل وٹو کامیاب ہوئے تھے ،
1985 میں میاں عبدلستار لالیکا نے جنرل ضیا کے کروائے گئے غٰیر جماعتی الیکشن میں حصہ لیا اور پہلی کامیابی حاصل کی ، 1988 میں میاں عبدلستار لالیکا کا مقابلہ علاقے کی مشہور سیاسی شخصیت ملک قاسم سے ہوا ستار لایکا اسلامی جمہوری اتحاد جبکہ ملک قاسم مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ رہے تھے ستار لالیکا نے یہ مقابلہ 62940 ووٹ حاصل کر کے جیت لیا جبکہ ملک قاسم نے 55052 ووٹ حاصل کیئے یہاں سے اس الیکشن میں خالد لالیکا ، صاحبزادہ نور حسن اور طیب وٹو نے بھی الیکشن میں حصہ لیا مگر سب کی ضمانت ضبط ہوئی ، 1990 میں مقابلہ ستار لالیکا کا پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کے میاں ممتاز احمد متیانہ سے ہوا اس مقابلے میں بھی میاں ستار لالیکا نے تیسری مرتبہ الیکشن جیت کر ہیڑک مکمل کی انہوں نے 81088 جبکہ ممتاز احمد متیانہ نے 60521 ووٹ لیئے۔
1993 میں جب میاں نواز شریف کی حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے کرپشن کے الزام لگا کر برطرف کر دیا تو مسلم لیگ ن کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا جسکا فائدہ پیپلز پارٹی نے پورے ملک حتی کے پنجاب جو نواز شریف کا گڑھ سمجھا جاتا ہے وہاں بھی اسے کافی نقصان اٹھانا پڑا اور اسکا اثر میاں ستار لالیکا پر بھی پڑا لگاتار تین الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والے میاں ستار لالیکا کو اس بار انکے حریف پیپلز پارٹی کے ممتاز متیانہ نے بری طرح مات دی ممتاز متیانہ نے 82480 ووٹ جبکہ ستار لالیکا نے 65077 ووٹ لیئے۔
سال 1997 کے جنرل الیکشن میں قومی اسمبلی کے حلقہ میں مقابلہ پھر ایک بار مسلم لیگ ن کے ستار لالیکا اور پیپلز پارٹی کے ممتاز متیانہ میں ہوا اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کا پورے ملک سے صفایا ہو گیا تھا اور پورے پاکستان سے صرف 17 سیٹیں جیت سکی تھی
یہاں بھی ستار لالیکا نے پیپلز پارٹی کے ممتاز متیانہ کے ساتھ وہی کیا جو باقی شہروں میں مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا
ستار لالیکا نے 72440 ووٹ لیکر میدان مار لیا جبکہ ممتاز متیانہ نے 49000 ووٹ لیئے ۔
صوبائی اسمبلی کے کے حلقہ pp 228 سے 1988 میں پیپلز پارٹی کے میاں ممتاز احمد مہاروی نے کامیابی حاصل کی انہوں نے آزاد امیدوار حاجی طاہر محمود کو ہرایا ممتاز مہاروی نے 18782 جبکہ طاہر محمود نے 13292 ووٹ لیئے جبکہ 1990 میں یہاں سے اسلامی جمہوری اتحاد کے حاجی طاہر محمود نے پیپلز پارٹی کے ممتاز مہاروی کو ہرا دیا حاجی طاہر نے 29629 جبکہ ممتاز مہاروی نے 26603 ووٹ لیئے یہ ایک انتہا ئی سخت مقابلہ تھا جس میں کامیابی حاجی طاہر کے حصہ میں آئی ، 1993 میں ممتاز مہاروی نے دوسری مرتبہ
پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پہ اسلامی جمہوری اتحاد کے حاجی طاہر محمود کو مات دہ انہوں نے 33704 ووٹ لیئے جبکہ حاجی طاہر صرف 16292 ووٹ لے سکے تھے ۔ جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ میں 1997 میں مسلم لیگ نے اپنا امیدوار بدل دیا حاجی طاہر کی جگہ یہاں سے شہر کی مشہور کاروباری شخصیت چوہدری جمیل کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ملا یہاں انکا مقابلہ پیپلز پاڑٹی کے سابقہ ایم پی اے ممتاز مہاروی سے ہی پڑا جس میں چوہدری جمیل نے پیپلز پارٹی کے ممتاز مہاروی کو شکت دے دی جمیل نے 26843 جبکہ ممتاز مہاروی نے 17776 ووٹ لیئے ، دوسری صوبائی سیٹ pp 231 سے 1988 میں اسلامی جمہوری اتحاد کے صوفی اکرم نے کامیابی حاصل کی انہوں نے 20174 ووٹ لیئے جبکہ پیپلز پارٹی کے علی عبداللہ نے 14488 ووٹ حاصل کیئے سال 1990 میں یہاں پھر اسلامی جمہوری اتحاد کے صوفی اکرم نے کامیابی حاصل کی اس بار انہوں نے یہاں پیپلز پارٹی کے طاہر بشیر چیمہ (موجودہ ایم این اے چشتیاں ) کو ہرایا صوفی اکرم نے 31060 جبکہ طاہر چیمہ نے 24224 ووٹ لیئے ، 1993 میں پیپلز پارٹی کے طاہر بشیر چیمہ نے مسلم لیگ ن کے صوفی اکرم کو ہرا کے اپنی گزشتہ شکست کا بدل چکا دیا انہوں نے 36912 جبکہ صوفی اکرم نے 23154 ووٹ لیئے 1997 میں ایک بار پھر صوفی اکرم اور طاہر بشیر چیمہ کا آمنا سامنا ہوا اس بار صوفی اکرم نے طاہر بشیر چیمہ کو دوسری مرتبہ مات دیکر تین مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی بننے کے اعزاز حاصل کیا انہوں نے 30623 ووٹ لیئے جبکہ پیپلز پارٹی کے طاہر بشیر چیمہ نے 22518 ووٹ حاصل کیئے
1999 میں ملک میں جنرل پرویز مشرف نے مارشل لا نافظ کر دیا جس کی وجہ سے سیاستدان اپنی سیاست بچانے کے لیئے دوسری پارٹیوں کا صہارا لینے لگے وفاق میں مسلم لیگ ن کو توڑ کر سابقہ گورنر پنجاب میاں اظہر کی قیادت میں مسلم لیگ ق کی بنیاد رکھ دی گئی تھی اور اس پارٹی کو جنرل پرویز مشرف کی مکمل آشیرباد حاصل تھی اسلیئے مسلم لیگ ن کے 70 فیصد لوگوں نے مسلم لیگ ق کی چھتری تلے پناہ لی اور خود کو کرپشن کے کیسز سے بچایا ان میں میاں ستار لالیکا اور حاجی طاہر محمود بھی شامل تھے جنہوں نے مسلم لیگ ق میں شامل ہو کے سال 2002 کو ہونے والے جنرل الیکشن میں مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پہ کامیابی حاصل کی یہاں انکا مقابلہ اس بار پیپلز پارٹی کے سجاد احمد جھٹول سے تھا ستار لالیکا نے 58836 ووٹ لیئے جبکہ سجاد احمد نے 54659 ووٹ حا صل کیئے جبکہ سابقہ برسراقتدار مسلم لیگ ن کے میاں رفیع صرف 13881 ووٹ حاصل کر سکے تھے جبکہ صوبائی اسمبلی کی چشتیاں سے سیٹ مسلم لیگ ق ہی کے حاجی طاہر محمود نے جیت لی انہوں پیپلز پارٹی کے ملک عبدلغفار اعوان کو ہرایا حاجی طاہر نے 31109 جبکہ غفار اعوان نے
25840 ووٹ حاصل کیئے مسلم لیگ ن کے حسن مرتظی صرف 3795 ووٹ لے سکے تھے جبکہ دوسری سیٹ سے بھی مسلم لیگ کے عبداللہ وینس نے مسلم لیگ ن کے سابقہ ایم پی اے صوفی اکرم کے بیٹے شاہد اکرم (مرحوم) کو بہت سخت مقابلہ کے بعد ہراہا ،
عبداللہ وینس سابقہ ایم این اے ہارون آباد اور ضلع ناظم بہاولنگر علی اکبر وینس کے بیٹے ہیں انہوں نے 30543 ووٹ جبکہ شاہد اکرم نے 26351 ووٹ لیئے جبکہ پیپلز پارٹی کے سردرار افضل تتلہ نے 14944 ووٹ حاصل کیئے ، مشرف نے جب بلدیاتی الیکشن کروائے تو چشتیاں شہر میں ایک نیا اتحاد وجود میں آیا جس میں سابقہ حریف حاجی اکرم اور طاہر بشیر چیمہ نے آپس میں اتحاد کر لیا
جس سے وہ تحصیل ناظم چشتیاں بنے جبکہ پیپلز پارٹی کے 2002 میں بہاولنگر سے ممبر قومی اسمبلی ممتاز متیانہ نے استعفی دے کر
بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا اور ضلع ناظم بہاولنگر منتخب ہوئے لیکن سال 2006 میں وفاقی وزیر عبدلستار لالیکا کی وفات کے بعد طاہر بشیر چیمہ نے پیپلز پارٹی چھوڑ کے اپنے مکمل گروپ کے ساتھ مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کر لی اور مسلم لیگ ق نے انہیں قومی اسمبلی کا ٹکٹ دے دیا جس میں وہ ضمنی الیکشن میں ممبر قومی اسمبلی بنے جبکہ سابقہ امیدوار صوبائی اسمبلی پیپلز پارٹی ملک عبدلغفار اعوان کو تحصیل ناظم چشتیاں بنا دیا گیا ۔ 2008 میں ہونے والے جنر ل الیکشن میں پیپلز پارٹی نے محترمہ بنظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہمدری کا ووٹ حاصل کیا ، پیپلز پارٹی نے چشتیاں سے سابق وزیر قانون چوہدری عبدلغفور کو ٹکٹ دیا جو کہ انکا پہلا الیکشن تھا اس حلقہ میں کیونکہ وہ ہارون آباد سےالیکشن لڑتے رہے ہیں لیکن وہاں سے پیپلز پارٹی نے اپنے پرانے درینہ کارکن افضل سندھو کو ٹکٹ دیا تھا جسکی وجہ سے چوہدری غفور کو چشتیاں سے ٹکٹ دیا جہاں انکا مقابلہ مسلم لیگ ق کے طا ہر بشیر چیمہ اور مسلم لیگ ن کے عابد عظیم سے تھا چوہدری غفور نے 77664 ووٹ لیکر میدان مار لیا جبکہ مسلم لیگ ق کے طاہر بشیر چیمہ نے 70081 ووٹ لیئے جبکہ مسلم لیگ نے کے عابد عظیم صرف 2800 ووٹ لے سکے تھے جبکہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ pp 281 چشتیاں سے پیپلز پارٹی کے میاں محمد علی لالیکا نے بڑے سخت مقابلہ کے بعد مسلم لیگ ق کے چوہدری اصضر کو ہرا دیا محمد علی لالیکا نے 29078 جبکہ چوہدری اصضر نے
27797 ووٹ لیئے جبکہ سابقہ ایم پی اے حاجی طاہر کے بھانجے جو اپنے ماموں کی سیٹ پہ انکی وفات کے بعد ممبر پنجاب ا سمبلی بنے تھے وہ اپنی نشست نا بچا سکے اور صرف 9718 ووٹ حاصل کر سکے جبکہ دوسری سیٹ ڈہرانوالہ سے پیپلز پارٹی کے سردار افضل تتلہ نے سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کو اپ سیٹ شکست دی افضل تتلہ نے 42432 جبکہ پرویز الہی نے 35000 ووٹ لیئے تھے
سال 2013 کے الیکشن سے پہلے بدلتی سیاسی صورتحال دیکھ کر طاہر بشیر چیمہ نے ایک بار پھر پارٹی بدلی اور سابقہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کے ریفرنس سے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر کے پارٹی ٹکٹ حاصل کی یاد رہے طاہر بشیر چیمہ کے ایک بھائی طارق بشیر چیمہ مسلم لیگ ق کے جنرل سیکڑی اور منڈی یزمان سے ممبر قومی اسمبلی ہیں ۔ 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے طاہر بشیر چیمہ کا مقابلہ مسلم لیگ (ضیا ) کے اعجاز الحق اور پاکستان تحریک انصاف کے ملک مظفر اعوان اور پیپلز پارٹی کے کے ظفر اقبال چوہدری سے ہوا جو کے سا بقہ وزیر چوہدری غفور کے بیٹے ہیں مسلم لیگ ن کے طاہر بشیر چیمہ نے یہاں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی
انہوں نے 83353 ووٹ حاصل کیئے دوسرے نمبر پر جناب اعجاز الحق تھے جنہوں نے 49170 جبکہ تحریک انصاف کے ملک مظفر نے اپنے پہلے ہی الیکشن میں 40225 ووٹ لے کر سب کو حیران کر دیا جبکہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ چشتیاں سے مسلم لیگ ن ہی کے
پہلا الیکشن لڑنے والے احسان الحق باجوہ نے کامیابی حاصل کی انہوں نے 36704 ووٹ جبکہ دوسرے نمبر پہ پاکستان تحریک انصاف کے سکندر فیاض بھڈیرہ تھے جنہوں نے 20222 ووٹ لیئے مسلم لیگ ضیا کے عمران فیصل نے 7820 جبکہ پیپلز پارٹی کے پیر فاروق چشتی نے 6341 ووٹ لیئے جبکہ صوبائی اسمبلی کی دوسری سیٹ بھی مسلم لیگ ن کے سابقہ ایم پی اے صوفی اکرم کے بیٹے زہد اکرم نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پہ جیت لی انہوں نے 36993 ووٹ حاصل کیئے۔ ،مسلم لیگ ضیا کے عبداحد نے 23895 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے عبداللہ وینس نے 21240 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پہ آئے ،
اب ہم شہر کی موجودہ سیاسی حالات پہ بات کریں تو اب پاکستان تحریک انصاف آگئے دکھای دیتی ہے مسلم لیگ ن نے ان پانچ سالوں میں جتنے کام کروائے عین ممکن تھا کے آئندہ الیکشن بھی مسلم لیگ ن بھاری اکشریت سے جیت جائے گی اور اس بات کا اعتراف انکے درینہ حریف پرویز مشرف اور عمران خان اپنے انٹرویر میں کر چکے ہیں مگر گزشتہ سال سامنے آنے والے پانامہ کیس نے مسلم لیگ ن کی ساکھ کو بہت متاثر کیا لیکن لگ رہا تھا کے مسلم لیگ ن اس پہ کسی نی کسی طرح قابو پا سکتی ہے کیونکہ اگر عدالت عمران خان اور جہانگیر ترین کو بھی نااہل قرار دے دیتی تو مسلم لیگ ن کے لیئے اور بھی رستہ صاف ہو جاتا کیونکہ مسلم لیگ ن کے پاس نواز شریف کے بعد بھی شہباز شریف ، مریم نواز موجو د ہیں لیکن تحریک انصاف کے پاس عمران خان کے علاوہ کو ئی آپشن نہیں ہے کیونکہ تحریک انصاف کے ووٹر کی امیدوں کا مرکز صرف عمران خان ہے اب مسلم لیگ ن کے لیئے ایک اور بڑا مسئلہ ختم نبوت بل میں تبدیلی کا پیدا ہو گیا
اب یہ بھی ایک سوچی سمجھی سازش لگتی ہے کہ مسلم لیگ ن کی گرتی ہوئی دیوار کو د دکھا دینے کی کوشش کی گئی ہے ، اب جو ووٹ آج تک مسلم لیگ ن کو جماعت اہلسنت یا دیو بندی کا پڑتا آرہا تھا وہ اب مشکل ہی پڑے گا اور عین ممکن ہے کے تحریک لبیک اور ملی مسلم لیگ ن چشتیاں سے اپنے امیدوار کھڑے کرے جس سے مسلم لیگ ن کا ووٹ بینک اور کم ہو جاے گا جسکا سارا فائدہ تحریک انصاف لے گئی ، اب مسلم لیگ ن کے موجودہ ایم این اے نے نواز شریف کو دوبارہ مسلم لیگ ن کا صدر بنانے کے بل میں حکومت کو سپورٹ نہیں کیا وہ اسمبلی ا جلاس میں شریک نہیں ہو ئے صرف وہی نہیں پورے ضلع کے تمام کے تمام چار ایم این اے نے مسلم لیگ ن سے بغاوت کر دی ممکن ہے کے طاہر بشیر چیمہ مسلم لیگ ن سے علیحدگی کا اعلان جلد کر دیں کیونکہ اس بات کا اشارہ انکے بھائی طارق بشیر چیمہ بھی دے چکے ہیں کے وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پہ الیکشن نہیں لڑیں گے اب اسکی دوسری وجہ موجودہ ایم پی اے جناب احسان الحق باجوہ صاحب جو چیمہ صاحب کے درینہ مخالف ہیں 2008 میں وہ ایک ہی پارٹی سے الیکشن لڑ رہے تھے لیکن طاہر بشیر چیمہ نے احسان باجوہ کی سپوڑٹ کی بجائے اپنے آزاد امیدوار چوہدری اصضر کو کھلم کھلا سپورٹ کیا جبکہ احسان باجوہ نے یہاں چیمہ کی بجائے مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق کو سپورٹ کیا تھا اب یہاں احسان الحق باجوہ مسلم لیگ ن سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑتے نظر آرہے ہیں کیونکہ باجوہ کے مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ سے قریبی مراسم ہیں جسکا فائدہ لیتے ہوئے وہ آئندہ الیکشن میں ایم این اے کے امیدوار ہونگے چیمہ صاحب مسلم لیگ ن کبھی نہ چھورتے انکی مسلم لیگ ن چھوڑنے کی وجہ احسا ن باجوہ ہیں وہ انے قومی اسمبلی کی سیٹ نہیں لینے دیتے کیونکہ چیمہ صاحب کے پاس دوسری آپشن نہیں ہے وہ تحریک انصاف میں جا تے بھی ہیں تو انہیں وہاں سے ٹکٹ ملنا بہت مشکل ہے کیونکہ تحریک انصاف ضلع بہاولنگر کے صدر اور ممبر سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی ملک مظفر اعوان یہاں سے امیدوار ہیں اور میرا نہیں خیال پارٹی انکی جگہ چیمہ کو ٹکٹ دے گی اگر وہ ایسا ہوتا بھی ہے تو بہت سے لوگ جو اس امید سے تحریک انصاف کو ووٹ دے رہے کے نئے لوگ آگے ائیں وہ سوچنے پہ مجبور ہو جائنگے ، اب تحریک انصاف اس وقت مظبوط پوزیشن میں ہے کیونکہ شہر کی بہت سی اہم سیاسی شخصیات نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور دن بدن انکی پوزیشن مظبوط ہو تی جا رہی ہے
پاکستان تحریک انصاف کے پاس چشتیاں میں صوبائی اسمبلی کے لیئے سکندر فیاض اور اسعداللہ مظبو ط امیدوار ہیں سکندر فیاض کا زاتی ووٹ صرف ہتھاڑ کے علاقے میں ہے جبکہ ملک مظفر کا بھی کو ئی خاص زاتی ووٹ بنک نہیں ہے لیکن جو ایک تبدیلی کی ایک ہوا چلی ہے اسکا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں نوجوان نسل کا زیادہ تر وزن تحریک انصاف کی طرف ہے جبکہ بڑی عمر کے لوگ آج بھی مسلم لیگ ن کے لیئے اچھی رائے رکھتے ہیں اب یہاں برادری فیکٹر بھی بہت زیادہ ہے یہاں آرائیں اور جٹ برادری کا بہت بڑا بنک ہے
جبکہ رانا برادری کا بھی کافی ووٹ بنک یہاں موجود ہے اور اس بار رانا برادری سے دو امیدوار رانا انتظار حسین اور چشتیاں کی مشہور سیاسی شخصیت مرحوم سیٹھ عابد حسین کے بیٹے رانا علی رضا عابد بھی صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ کے لیئے کوشش کر رہے ہیں تحریک انصاف کو اگر یہاں سے واضع کامیابی حاصل کرنی ہے تو اسے اپنا صوبائی اسمبلی کا امیدوار آرائیں برادری سے لینا چاہیے کیونکہ آج بھی لوگ زات پات کو اہمیت دیتے ہیں اور برادری بیس پہ زیادہ ووٹ دیتے ہیں یہ بات ٹھیک ہے کے ملک مظفر اس وقت اچھی پوزیشن میں ہیں لیکن انہیں ایک سیاسی حکمت عملی کے تحت بھی سوچنا پڑے گا کیونکہ اگر یہاں سے اعجاز الحق کھڑے ہوتے ہیں تو وہ آرائیں برادری کا ووٹ کسی صورت نہیں جانے دیں گے اسکی بڑی وجہ اعجاز الحق کی بہ داغ سیاست بھی ہے جس وجہ سے وہ اکثر حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کے احسان باجوہ اعجاز الحق سے اتحاد کر کے انہیں قومی اسمبلی اور خود پھر صوبائی اسمبلی کی سیٹ پہ الیکشن لڑیں کیونکہ اس سے آرائیں اور جٹ برادری کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے چیمہ صاحب اب مسلم لیگ ن کے بعد کدھر جاتے ہیں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے سیاست میں کو ئی چیز حرف آخر نہیں کیا پتا وہ تحریک انصاف کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں کیونکہ وہ سیاست کے ماہر سمجھے جاتے ہیں ایک بار ایم پی اے ، تحصیل نا ظم ، اور دو بار رکن قومی اسمبلی بن چکے ہیں تو ہو سکتا وہ تحریک انصاف کی قیادت کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو جائیں اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر انکی منزل مسلم لیگ ق ہو سکتی ہے اس وقت شہر میں باجوہ گروپ اور چیمہ گروپ کا اچھا خا صہ ووٹ بنک موجود ہے موجودہ سٹی چیرمین عبدلرزاق رامے کا تعلق بھی باجوہ گروپ سے ہے جبکہ سابقہ چیرمین بلدیہ حمید احمد صدیقی بھی اس وقت باجوہ گروپ میں شامل ہیں جب کے سننے میں آرہا ہے سابقہ امیدوار چیرمین چشتیاں عاطف متیانہ جو کے تحریک انصاف کے امیدوار ملک مظفر کے اور ممتاز متیانہ کے قریبی عزیز ہیں وہ باجوہ گروپ میں شمولیت اختیار کر کے چشتیاں یا پھر بہاولنگر سے مسلم لیگ ن کی صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ کے امیدوار ہیں جہاں سے تحریک انصاف کے ممتاز مہاروی موجودہ ایم پی اے ہیں اور یہاں سے ہی مسلم لیگ ن کے سجاد احمد جھٹول بھی امیدوار ہیں دیکھتے ہیں مسلم لیگ ن کسے ٹکٹ دیتی ہے ڈہرانوالہ میں بھی بڑا سخت مقابلہ ہونے کا امکان ہے اگر مسلم لیگ ن کے موجودہ ایم پی اے زاہد اکرم مسلم لیگ ن نہیں چھوڑتے تو ائندہ الیکشن میں بھی وہی امیدوار ہونگے جب پاکستان تحریک انصاف یہاں سے عبداللہ وینس کو ٹکٹ دے سکتی ہے جو پہلے بھی یہا ں سے ایم پی اے رہ چکے ہیں لیکن اگر وہ ہارون آباد سے ایم این اے کا ٹکٹ حاصل کر لیتے ہیں تو پھر کو ئی نیا امیدوار لایا جا سکتا ہے جبکہ مسلم لیگ ضیا یہاں سے پھر عبدلواحد کو ہی ٹکٹ دے گی یہاں کافی سخت مقابلہ متوقع ہے کیونکہ صوفی اکرم کا سیاسی تجربہ بہت زیادہ ہے اور پھر وہ اپنے موجودہ حلیف طاہر بشیر چیمہ کا ووٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یہ بات تو کنفرم ہے زاہد اکرم مسلم لیگ ن چھوڑتے ہیں یا نہیں لیکن وہ اور طاہر بشیر چیمہ آئندہ الیکشن میں ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گے کیونکہ دونوں کا تعلق جٹ اور آرائیں برادری سے ہے اور دونوں برادری ووٹ پہ ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ آنے والے الیکشن میں اگر کہا جائے کے پاکستان تحریک انصاف جیت جائے گی تو یہ بات کہنا قبل ازوقت ہوگا کیونکہ ابھی الیکشن میں کافی وقت ہے اور عین ممکن ہے کے الیکشن اپنے وقت پہ نا ہوں اور ملتوی کر دیے جا ئیں جسکا فائدہ مسلم لیگ ن اٹھا سکتی ہے اسی لیئے عمران خان جلد اس جلد انتحابات کا انعقاد چاہئے ہیں کیونکہ نواز شریف سیاست کے ماہر کھلاڑی ہیں وہ بدلتے ہوئی ہوا کو اپنی جانب موڑنے کا رخ اچھی طرح سے جانتے ہیں پاکستان تحر یک انصاف اس وقت اچھی پوزیشن میں ہے اس بات میں کوئی دو راہے نہیں ہیں لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کے جتنے بھی اس پارٹی میں لوگ ہیں وہ سب کے سب مفاد پرست لوگ ہیں جنہوں نے کبھی پیپلز پارٹی کبھی مسلم لیگ ق کبھی مسلم لیگ ن تو کبھی تحریک انصاف کا صہارہ لیا انکا کوئی نظریہ نہیں ہوتا انکا مقصد صرف اپنی زات کو فائدہ دینا ہوتا ہے انکو پارٹی ٹکٹ ملے گی تو یہ اپنے لیڈر کے گن کاتے نظر آئیں گے نہیں تو اگلے ہی دن کسی اور جماعت میں شامل ہو کے اسی لیڈر پہ تابڑ توڑ حملے کر رہے ہونگے ہماری دعا ہے اس بار جو بھی جیتے وہ اس ضلع کی عوام کے بارے ضرور سوچے
خدا اس وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور ان سیاسی لیڈروں کو عوام کی خدمت کرنے کی ہدایت دے آمین

میرے اس کالم میں کوئی غلطی ہو تو آپ مجھے مطلع کر سکتے ہیں لیکن سیاسی ریکاڈ کو مکمل چھان بین کے بعد لکھا گیا ہے

تحریر (محمد واجد عزیز چوہدری ) آئندہ رپوٹ ۔ ہارون آباد کی سیاسی ڈائری

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad wajid aziz

Read More Articles by Muhammad wajid aziz: 17 Articles with 8392 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Dec, 2017 Views: 731

Comments

آپ کی رائے