پلانٹڈ مگر ناکام فیض آباد دھرنا آپریشن اور معاہدہ کلین اَپ . . . .!!

(Muhammad Azam Azim Azam, Karachi)
کہیں اشرف اور خادم کو یہ نہ کہنا پڑ جا ئے ’’چلو گدھا بھی گیا رسی بھی گئی‘‘
کہیں خا دم حُسین رضوی اور ڈاکٹر اشرف آصف جلالی دھرنا نتا ئج سے ہا تھ ہی نہ دھو بیٹھیں....

 پہلے تو اِس نقطے پر یقین کرنا لا زمی ہے کہ اگر سیاست سے مذہب کو نکال دیا جا ئے تو صرف ہر جا تی ہے چنگیزی... اور ایسا آج میرے دیس پا کستان میں جا بجا ہوتا دِکھا ئی دے رہا ہے کچھ لوگ پہلے ہی مذہب کو سیاست سے علیحدہ رکھ چکے ہیں اور کچھ لوگ مذہب کے نام پر سیاست شروع کرکے پھر خود ہی مذہب کو سیاست سے لگ کررہے ہیں اِسے لوگوں کے لئے بس اتنی سی عرض ہے کہ خدارااپنی مفاداتی اور مفاہمتی سیاست اور سیاسی حصولوں کے خا طر سیاست کو مذہب سے علیحدہ رکھ کر اپنے لئے پریشا نیوں کا سا مان نہ پیدا کریں ورنہ کبھی بھی تم نہ پورے کے پورے مذہبی رہ سکو گے اور نہ ٹھیک طرح سے سیاست کے میدان کے سیا سی کھلاڑی کہہ لا سکو گے۔

بہر حال ،اِس میں کو ئی شک نہیں کہ حکومتی پلا نٹڈ مگرناکام فیض آباد دھرنا آپریشن حکومتی جلد بازی اورنا قص حکمتِ عملی کا نتیجہ تھا اور ناکام آپریشن کے بعد فیض آباد کے دھرنے کی شدت جیسی شکل اختیار کرتی جارہی تھی اُس کی نزاکت کوآرمی چیف جنرل قمرجاوید باوجوہ نے بھانپ لیا تھااور اِسی بنیاد پر پاک فوج کے سربراہ جنرل باجودہ کی بروقت مداخلت سے مُلک ایک نا رکنے والی مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر اشتعال انگیزی اور انارگی کی نظر ہونے سے بچ گیاہے،اِس موقع پریہ مسئلہ پاک فوج ، سول حکومت اپنی انتظامیہ کے ساتھ مل کرحل کرتی یااَب جو اکیلی فوج ہی نے افہام و تفہیم سے اپنوں کا کو ئی مسئلہ حل کرلیاہے تو ہمیں دونوں ہی کی اپنے اپنے لحاظ سے خدمات کو قا بل ستا ئش تصور کرناچا ہئے اور ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سمجھنا اور دیکھنا چا ہیئے کہ بعض دفعہ جب اپنے رابطوں کی فقدان یا کسی اور وجہ سے سول حکومت اپنے مسائل اوردیگر معا ملات کوبگاڑدیتی ہے اور اپنی جلد بازی ، ناقص حکمتِ عملی اور ناکام آپریشن فیض آبا د کی وجہ سے خود سے مشکلات میں پھنستی چلی جا تی ہے اور مسئلے کو حل کرنے سے رہ جا تی ہے تو پھرلا محالہ مسئلے یا مسا ئل کے فوری حل کے لئے سول حکومت آئین کی رو سے فوج سے بھی مدد لیتی ہے مگریہ کو ئی ضروری بھی تو نہیں ہے کہ جب فوج سول انتظامیہ کی مدد کے لئے آئے تو وہ ا پنوں کے درمیان پیدا ہونے والے ہر مسئلے کا حل اپنی طاقت کے ذریعے ہی نکالے،فوج بھی ہماری ہے ہم اِس سے ہیں اور یہ ہم سے ہے حکومت بھی فوج ہے اور فوج بھی حکومت ہے جیسے جسم سے خون اور خون کو جسم سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے اِسی طرح ہم فوج سے اور فوج ہم سے علیحدہ نہیں رہ سکتی ہے مگر پھر بھی کسی کی جا نب سے فوج کی مداخلت اور مدد سے دھرنا فیض آبادی کے خا تمے کے لئے معا ہدے کا سہارا لینا کسی بھی صورت میں قابلِ اعتراض ہے تو ایسا نہیں ہونا چا ہئے اور جو فیض آبادی دھرنے میں فوج کے مثبت کردار اور افہام و تفہیم سے معا ہدے سے دھرنے کے خاتمے کو کسی اور نظر سے دیکھ رہے ہیں اور فوج کے اِس عمل کو مشکوک بنا کر فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں اِن سے بس اتنی سے درخواست ہے کہ وہ حکومت کے پلا نٹڈ دھرنا آپریشن کو معاہدہ کلین اَپ... کی بنیادوں پر دیکھیں تو سب کچھ خود بخود دودھ اور پا نی کی طرح علیحدہ علیحدہ ہو کر صاف و شفاف ہو کر سا منے آجا ئے گا، سوچنا چا ہیئے کہ آج اگر فوج چند آزاد خیال افلاطوں کی جا نب سے حلف نا مے کی تبدیلی کے بعد فیض آباد کے مقام پرختم نبوتﷺ اور حُرمتِ رسول ﷺ پر بیس با ئیس روز سے بیٹھے دھرنیوں سے مُلک کے طول و ارض میں پیدا ہونے والی سنگین صورتِ حال کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنا کردارادا نہ کرتی تو عین ممکن تھا کہ دھرنا قصہ کہیں کا کہیں نکل جاتا تب انگشت بدندان اور کفِ افسوس کے کسی کے ہاتھ کچھ نہ آتا ،پاک فوج نے دھرنے کوایک معا ہدے کے بعد جس طرح ختم کیا یہ مُلکی تا ریخ کا سُنہرابا ب ہے۔

جبکہ یہاں معا ہدے کے بعدبا لخصوص اسلام آباد اور بالعموم پورے مُلک کی تیزی سے کنٹرول میں آتی صورت حال پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبائی حکومتوں اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کے ذمہ داران کو بھی سُکھ اور چین کا سا نس لینا چا ہئے تھامگر ایسا نہیں ہوا اُلٹاتب سے (سطور کے رقم کرنے تک ) اِنصاف فر اہم کرنے والے اداروں میں سے ایک ادارے کے ایک قا ضی صاحب نے ہی معاہدے میں اہم کردار ادا کرنے والے سیکیورٹی کے ایک اہم ترین ادارے کو ایک دائرے کار میں رہتے ہوئے انتہا ئی سخت ترین الفاظ اور جملوں کے ساتھ ادارے سے ہی باز پرس کرنی شروع کردی ہے، جس نے وفاقی حکومت، مقا می انتظامیہ ،سیکیورٹی ادارے اور دھرنیوں کے ظا ہر اور با طن کردار پر سوا لیہ نشان لگا تے ہوئے سارے معاہداتی عمل کو مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے۔

اگر چہ ، اِس سے پہلے عدلیہ کا کبھی بھی اِس سمیت کسی بھی سیکیورٹی کے ادارے سے متعلق ایسا رویہ اِس کی کارکردگی پر اُٹھا ئے جا نے والے سوالات اور اِن سے پیداہو نے والی غیریقینی کی صورتِ حال دیکھنے اور پڑھنے میں نہیں آئی ہے آج جیسی سخت زبان افواج پاک سے متعلق عدلیہ کی جا نب سے ن لیگ کے تیسرے دورِ حکو مت کے اختتام کے آخری چند ماہ سے قبل دیکھنے اور سُننے کو مل رہی ہے گمان ہے کہ کہیں ن لیگ کی طرح سیکیورٹی کے اِس ادارے(اور اداروں ) سے انصاف فرا ہم کرنے والے ادارے کے قا ضی صا حبان بھی تو نا راض نہیں ہو گئے ہیں جبکہ ن لیگ والے تو اِس قومی ادارے(اور اداروں) سے اپنے رواں اقتدار کے پہلے ہی رو ز سے خا ئف ہیں۔

یقینااَب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ’’ حلف نامے میں تبدیلی سے لے کر تبدیلی تک‘‘ فیض آبا د انٹر چینچ پر پو نے ایک ماہ(بیس ، بائیس روز) تک بیٹھے تحریک لبیک یارسول ﷺوالے دھرنیوں کے دونوں دھڑوں کا مقصدعقیدے اور مذہبی جذبات کی گُھٹی کی چاشنی سے تر تھا مگر اَب اِس میں دونوں ہی نے سیاست کی آمیزش خود ہی شا مل کرکے اپنے سارے دھرنے اور اپنے جیسے بھی( اچھے یا بُرے) عمل کو خالصتاََ سیاسی اور بس سیا سی بنا نے میں کو ئی کسر نہیں رکھ چھوڑی ہے آج بھی ایک دھڑا (گروپ) اپنے مقاصد کے حصول تک لاہور میں دھرنے پر بیٹھا سردی کے موسم میں اپنے جسم میں گردش کرتے خون کو جما رہا ہے جبکہ دوسراخا دم حُسین رضوی کا گروپ برگینگ کرکے اپنا دھرنا ختم کرکے سورہاہے اور گا ہے بگا ہے دھرنے پر بیٹھے ڈاکٹر اشرف آصف جلا لی کے قول و فعل اور کردار کو ہدف تنقید بنائے جا رہا ہے پھر بھی دونوں کی یہ ضد ہے کہ ہم اہلسُنت اور بریلویوں کے ووٹ کو تقسیم نہیں ہو نے دیں گے جبکہ اِس کا یقین ہے کہ اَب اگر اِن کا یہی عمل جاری رہاتو کو ئی شک نہیں کہ بہت جلد ہی یہ خود کہتے پھریں گے کہـ’’ چلوگدھا بھی گیا اور رسی بھی گئی‘‘۔ جبکہ یہاں یہ امر قا بل ذکر ضرور ہے کہ پا نٹڈ دھرنا آپریشن اور معاہد کلین اَپ یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت عوام اور فوج کو لڑاناچا ہتی تھی جس میں یہ نا کام ہو ئی ہے اور اِس میں بھی کو ئی شک نہیں کہ قبل و بعداز دھرنا حکومت دھرنیوں کے عملے پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی رہی اِسی لئے یہ دھرنا بیس ، با ئیس روز تک زوروں پر رہا اگر حکومت اور دھرنی روزِ اول سے ہی ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے اور اپنے نکات پر مذاکرات جاری رہتی تو ممکن ہے کہ آج دونوں میں سے کسی کی بھی یوں سُبکی نہ ہوتی جیسی کہ آج دھرنیوں اور حکومت کی جا بجا ہورہی ہے ۔

بہر کیف ،پیر 26نومبر کی دوپہر فیض آباد انٹر چینچ پر بیس ، با ئیس روز سے دھرنے پر بیٹھے تحریک لبیک یا رسول ﷺ کے ایک دھڑے جس کی سربراہی خا دم حُسین رضوی کررہے تھے ایک تحریری معا ہدے کے بعد اِن کا دھرناتو اختتام پذیرہوگیامگردورانِ دھرنا (قبل از اختتام فیض آباد دھرنا)بعض بنیا دی اصولوں اور نکات کی بنا پر اختلافات کے باعث علیحدہ ہونے والے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کا دھرنا ابھی لاہور میں جا ری ہے اَب جیسے جیسے دن چڑھتے جا رہے ہیں اِس معاملے کی بھی سنگینی کی بو شدت اختیار کرتی جا رہی ہے،قبل اِس کے کہ نو بت کسی آ پریشن کی جا نب جا ئے اِس معا ملے کو بھی جلد از جلد افہام و تفہیم سے پا یہ ء تکمیل تک پہنچایا جا ئے ۔تا ہم ،ہم اپنی زندگی کی پانچ دہا ئیوں سے اکثر معاملاتِ زندگی میں پیش آنے والے حالات اور واقعات سے متعلق بال کی کھال نکالنے والوں کے بارے میں سُنتے اور پڑھتے تو آئے ہیں مگرراقم الحرف نے حیرت انگیز طور پر پچھلے کچھ مہینوں سے سپُریم کورٹ سے آنے والے نا اہلی کے فیصلے اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی جا نب سے بغیر لاٹھی ڈنڈا اور گولیاں چلا ئے سیکیورٹی فرا ہم کرنے والے ایک اہم ادارے کی طرف سے پُر امن طریقے سے شرکا ئے دھرنافیض آباد کے معاہدے سے دھرنا کے خاتمے کے بعد معا ہدے کی کھال نکالنے والے بھی دیکھ لیئے ہیں۔(ختم شُد)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Azim Azam Azam

Read More Articles by Muhammad Azim Azam Azam: 1230 Articles with 608811 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Dec, 2017 Views: 757

Comments

آپ کی رائے